»
سه شنبه 2 آبان 1396

ام المومنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا توحیدی علم و عمل کی پیکر

بسمہ تعالی

ام المومنین حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا توحیدی علم و عمل کی پیکر

کنون آسیہ را خدای جلال                  زند بھرافراد مؤمن مثال

از:عبدالحسین

خدا نے قرآن مجید میں سورہ تحریم کی آیت گیارہ میں مومنین کیلئے ایک خاتون کو شاھد مثال اور نمونہ عمل کے طور پر پیش کیا ہے جس کا شوھر فرعون ہے اور خدا ہونے کا دعویدار ہے لیکن خدا اپنے سب بڑے منکر کی شریک حیات کو مومنوں کیلئے مثال قرار دیکر چراغ راہ کے طور پر بیان کرتا ہے کہ خدا پر ایمان رکھنے والوں کیلئے حضرت آسیہ میں نمونہ عمل ہے۔ اور یہ خاتون صرف خواتین کیلئے نمونہ عمل نہیں ہے بلکہ ہر اہل ایمان کیلئے جن میں تمام مومن خواتین و حضرات شامل ہیں۔

حضرت آسیہ میں ایسی کیا بات ہے جو کہ مومن خواتین و حضرات کیلئے  امام بن گئ ہے؟۔ سورہ تحریم کی گیارہویں آیت میں ہی اسکا جواب ملتا ہے کہ آسیہ خدا سے درخواست کرتی تھی کہ مجھے فرعون سے نجات دے، مجھے محل و سلطنت نہیں چاہئے، مجھے ذر و زیور نہیں چاہئے ، مجھے ظالم کی طرف سے فراہم کی گئ عیش وآرام  نہیں چاہئے ، جاگیر وحشمت نہیں چاہئے مجھے ظالم قوم سے نجات دیدے۔

ہمارے درمیان عام بات ہے ماحول اثر رکھتا ہے، مذھبی ماحول میں مذھبی رغبت زیادہ رہتی ہے اورغیر مذھبی ماحول میں وہ کچھاو  اور رغبت نہیں رہتا۔ یا زندگی کے کسی دوسرے پہلو کی مثال لیں تو بات ماحول کی سامنے آئے گی کہ ماحول اثر رکھتا ہے، لیکن خدا نے حضرت آسیہ کی مثال بیان کرکے اپنی رضا کی انتہا بیان کی ہے کہ جو کوئی برے ماحول سے متاثر نہ ہو ،انسان کی رضا کے مقابلے میں خدا کی رضا کو ترجیح دے وہ  خدا کے نزدیک کسقدر عزیز بن جاتا ہے سورہ تحریم کی گیارہویں آیت سے معلوم ہوتا ہے۔ حضرت آسیہ نے صبر آزما مراحل طے کئے ،فرعون کے ماحول سے متاثر نہیں ہوئی ، اپنے رہبر کو انتخاب کرنے میں غلطی نہیں کی ، حضرت موسی علیہ السلام پیغمبر زماں تھے زندگی بھر انکی حامی رہی ، اور آخر کار فرعون نے انہیں  شہید کیا۔زندگی بھر پیغمبر کی حامی رہی اور خدا نے اسکا مرتبہ بلند کرکے مثالی خاتون کے طور پر بیان کیاہےاور اس آیت کے پیش نظر پھر حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا  مقام ہوگا آسانی کے ساتھ تصور کیاجاسکتاہے ۔

حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا ایک ایسی خاتون کہ جسے خدا نے ایسی بینائی سے نوازا جسکی کوئی نظیر نہیں ملتی ہے۔خدا کا نور زمین پر موجود تھا لیکن دنیا کی آنکھیں اس نور کو دیکھنے سے قاصر تھی ، نور الہی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نبوت ازل سے مقرر تھی اور خاتم النبین لقب حاصل کرچکے تھے گرچہ  خانہ کعبہ کے دوبارہ تعمیر کے پانچ سال بعد جب آنحضرت کی عمر مبارک چالیس سال کی تھی ستائیس رجب کو پہلی وحی نازل ہوکر مبعوث بہ رسالت کا رسمی اعلان ہوا، لیکن حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نے پہلے سے ہی اس نور کو سمجھا اور جانا تھا۔اسکی حمایت کیلئے اپنی جان و مال پیش کش رکھی۔ دنیا والوں کے نظروں میں آنحضرت ایک غریب شخص تھے، یتیم تھے، چرواہا تھے،لیکن حضرت خدیجہ کے نزدیک کائنات کی سب سے بلند مرتبت  شخصیت تھے  اور دنیا کی  مالدار ترین خاتون ہونے کی حیثیت  کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسم کی زوجیت میں آنے کی خواہش ظاہر کی اور اپنی ساری  جاگیرآپ کے قدموں میں ڈالدی اور کہا میں اپنی ساری دولت آپکو بخشتی ہوں اور خود آپکی کنیز بن جاتی ہوں  اور قیامت میں میری شفاعت کرنا۔

حضرت خدیجہ نے نہ دنیا کی پرواہ کی اور نہ ہی دنیا والوں کی صرف اور صرف خدا کی رضا حاصل کرنے کی تمام تر کوشش کرتی رہی ۔ لوگوں کی تانے سنتی رہی یہاں تک کہ ایک ایسا دن بھی دیکھنا پڑا کہ جب حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی ولادت کا وقت ہوا تو عورتوں نے  حضرت خدیجہ کا گھر آنے سے انکار کیا کہ خدیجہ فقیر ہو گئی ہے اسے اس کا مزہ چکھنا چاہئے تاکہ اسی حالت میں مر جائے۔لیکن حضرت خدیجہ نے ہمت نہ ہاری اپنی تجارت پر نازاں تھیں۔ حضرت خدیجہ کو اپنے مال و دولت کے بدلے جو کہ اسلام کیلئے دیا تھا کوثر حاصل ہو گیا۔

حضرت آسیہ کو حق کا راستہ انتخاب کرنے کیلئے  بہت سارے مواقع فراہم تھے،ایک طرف فرعون کا دعوی خدایی اور دوسری طرف فرعونی حکومت اور عوامی حالات اور اس بیچ حضرت موسی علیہ السلام کا پیغام تھا  اور سب کا موازنہ کرکے حقیقی رہبر کا انتخاب کرکے قرب الہی حاصل کیاتھا لیکن حضرت خدیجہ  کیلئے صرف اور صرف قرب الہی مقصود تھا  حضرت آسیہ کے مانندترازو کا کوئی پیمانہ نہ تھا کہ جن سے نور الہی اور قرب الہی کو حاصل کرنے  کا ذریعہ تلاش کیا جاسکتا تھا ،گویا حضرت خدیجہ نے آسمانی بشارتوں یعنی تورات و زبور کے ذریعہ نور میں نور کو تلاش کیا جس کیلئے ایک آفاقی بینائی کا ہونا لازمی ہے جو کہ حضرت خدیجہ کو حاصل تھی۔ حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا نےحضرت رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یوں ہی انتخاب نہیں کیا بلکہ پہلے اسکی معرفت حاصل کرنا چاہی ، چونکہ انسان کو یا معاملات میں یا سفر میں پہچانا جاسکتا ہے ۔ حضرت خدیجہ نے دونوں حالتوں کو ذریعہ قرار دیا اپنا مال التجارہ آنحضرت کے سپرد کرکے شام کیلئے روانہ کیا اور سفر سے واپسی پر تجارت اور سفر کے دوران واقعات سے باخبر ہوئی تو اپنے رہبراور مقصود کو انتخاب کرنے میں درنگ نہیں کیا۔شام سے واپسی کے بعد حضرت محمد مصطفی  صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا اور علی ابن ابیطالب کے والدجناب حضرت ابوطالب علیہ السلام حضرت خدیجہ کے گھر جاتے ہیں تاکہ آنحضرت کے حصہ وصول کریں، اس پر حضرت خدیجہ نے کہا کہ میں تو منافع کا حصہ دوں گی لیکن ان پیسوں سے کیا کرنا چاہتے ہیں۔کہا میں انہیں دولہا بنانا چاہتا ہوں۔کہا کہ میں اسکی بیوی بننے کیلئے تیار ہوں ، خود اسکا مہریہ ادا کروں گی۔دنیا کی سب بڑی دولتمند خاتون خدیجہ بڑے تاجروں کی درخواست کو ٹھکراکر، بظاہر ایک خالی ہاتھ نوجوان کی بیوی بننے کی خواہش ظاہر کرتی ہے  یہ ایک پر اسرار واقعہ ہے ۔ حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پچیس سال کے اور حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا چالیس سال کی ہیں اور دونوں  ازدواج کے رشتے میں بند جاتے ہیں۔چالیس سالہ امیر ترین لڑکی کاپچیس سالہ غریب اور یتیم نوجوان کے ساتھ شادی کرنا لطف سے خالی نہیں ہے۔(معلم قرآن استاد شیخ محسن قرائتی کے بقول تحقیق سے ثابت ہے کہ حضرت خدیجہ نے آنخصرت سے پہلے شادی نہیں کی تھی )۔

ام المؤمنین حضرت خدیجہ کبری سلام اللہ علیہا کے بارے میں حضرت رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے  ایک جامع جملہ بیان فرمایا ہے  کہ جسے تذكره الخواص، ص 273؛ رمضان در تاريخ، ص 76؛ كشف الغمه، ج2، ص 78 میں نقل کیا گیاہے کہ آنحضرت نے فرمایا:»قسم خدا کی ،پروردگار نے مجھے خدیجہ سے بہترکسی کو بھی عطا نے  نہیں کیا ہے،کیونکہ جب لوگ کافر تھے  اس (خدیجہ)نے مجھ پر ایمان لایا، جبکہ لوگ مجھے جھٹلا رہے تھے اس (خدیجہ ) نے میری تصدیق کی، جب لوگوں نے مجھے محروم رکھا تھا، اس (خدیجہ)نے اپنی تمام دولت میرے  ساتھ مساوات کی اور خدا نے مجھے اسکے ذریعہ اولاد عطا کئے جبکہ کسی اور شریک حیات سے ایسی عنایت  نصیب نہیں ہوئی ہے۔»یعنی حضرت رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سرازیر ہونے والی تمام برکتوں اور رحمتوں کا سرچشمہ حضرت خدیجہ کبری سلام اللہ علیہا ہیں  یعنی سورہ کوثر کا سرچشمہ آپ ہیں۔حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کے ساتھ محبت اور اردتمندی کا اظہار حضرت رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قرب کا ذریعہ ہے ۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ ہم جب آنحضرت کے ساتھ قرب چاہتے تھے تو حضرت خدیجہ کی تعریف اور تجلیل بجا لاتے ۔ایک دن ایک بوڑھی عورت آنحضرت کی خدمت میں حاضر ہوئی تو لوگ یہ دیکھ  کرحیران ہو گئے کہ آنحضرت نے بوڑھی عورت کا نہایت احترام کیا  اسلئے پوچھا۔ یا رسول اللہ ؛ یہ خاتون کون تھیں ، فرمایا یہ خدیجہ کے دوستوں میں تھیں۔ اس سے بھی اندازہ ہوتا ہے کہ آنحضرت کے نزدیک حضرت خدیجہ کی کیا قدر و منزلت تھی۔

          جب حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا  بستر مرگ پر تھیں  اور آنحضرت سراہنے حاضر تھے کچھ وصیتیں کی مگر ایک وصیت جسے بیان کرنے میں حیا محسوس کیا اور عرض کیا کہ میں فاظمہ زہرا سے کہتی ہوں وہ آپ سے کہیں گے۔حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے آنحضرت کی خدمت عرض کی کہ ماں کی خواہش ہے کہ جب آپ پر پہلی وحی نازل ہوئی اوراسوقت آپنے جو قمیض پہنی تھی اسی میں دفن کرنا۔ یہاں پر بھی حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کا توحید محور ہونا اور ہر رنگ میں خدائی رنگ ظاہر ہوتا ہے۔ملائکہ حضرت خدیجہ پر رشک کرتے تھے جب آنحضرت معراج سے لوٹے تو حضرت جبرئیل امین نے آنحضرت کے ذریعہ پیغام بھیجا کہ حضرت خدیجہ کو میرا سلام کہئے گا۔ائمہ معصومین حضرت خدیجہ پر ناز کرتے ہیں امام زین العابدین علیہ السلام نےمسجد شام میں فخرا کہا ان ابن الخدیجۃ الکبری۔ ہم جب امام حسین علیہ السلام کی زیارت کرتے ہیں تو کہتے ہیں السلام علیک یا اباعبداللہ و بن خدیجۃ الکبری ۔ امام زماں عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف حضرت خدیجہ پر ناز کرتے ہیں۔ کیوں ؟ کیونکہ  آپ کی زندگی مؤمنین کیلئے شمع ہدایت ہے۔

          حضرت خدیجہ سلام اللہ علیہا کی حیات طیبہ سے یہ سبق ملتا ہے کہ انسان کو عمل سے مقام  ومنزل حاصل ہوتا ہے نہ مال سے ، نہ منصب سے،نہ نسبت سے، نہ ہی حسب سے بلکہ کردار و عمل کی بنیاد پر انسان کو حاصل ہوتا ہے جس کی طرف قرآن اشارہ کرتا ہے کہ انسان اپنی کوشش سے انسانیت کا مقام حاصل کرتا ہے ۔جسے فرشتوں کے مقام سے افضل تسلیم کیا جاتا ہے۔اور یہ کوشش تبھی بار ور ثابت ہوتی ہے جب الہی رہبر کی رہبری میں  طی کی جائے اور آج جو کوئی امام زماں عج کے جاننے اور سمجھنے میں کامیاب ہوتا ہے اور اسکی یاری کرنے میں جھٹ جاتا ہے وہ حضرت خدیجہ کی طرح کامیاب و کامران ہوجاتا ہے۔

          اللہ کی بارگاہ میں دست بدعا ہیں  کہ  ہمیں حضرت خدیجہ کے مانند بصریت عطا کرے تاکہ ہم امام زماں عج کو پہچان سکیں اور طاغوت ، اسرائیل اور امریکا سے نبرد آزما انکے اعوان و انصاروں کے حامیوں میں شامل ہوسکیں تاکہ کل ظہور کے بعد آنحضرت  ہمارے حامی و ناصر ہونے کی تصدیق کرسکیں ۔ آمین

عبدالحسین کشمیری

‏05‏/08‏/2011


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
قدرت گرفته از سایت ساز سحر