»
جمعه 26 آبان 1396

 باسمہ تعالی

کہتے ہیں ؛سارے جہاں سے اچھا ہندوستان  ہمارا

از :  عبدالحسین

               علّامہ اقبال مرحوم نے ہندوستان کی کیا خوب تصویر کھینچی ہے جسے ہندوستانی قومی ترانے کے طور پر گایا جاتا ہے اور جس بیچ چین زیر انتظام کشمیر ،پاکستان زیر انتظام کشمیر کو چھوڑ کرہم  ہندوستان زیر انتظام کشمیر کے لوگ دنیا میں  سب سے زیادہ  اس گیت کو گانے کا حق رکھتے ہیں کیونکہ ہندوستان نامی عظیم تاریخی اور جمہوری ملک نے اپنے زیر انتظام کشمیر میں چھے دھایوں سے زائد عرصے سے کمال دانشمندی کے ساتھ یہاں کے کشمیریوں کے لئے جمہوریت اور تاریخ کا گلا گھونٹ کر رکھا ہے اور جس پر ہمیں بچپن سے پڑھاپے تک کہنا پڑھتا ہےکہ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا۔

 یہ بھی حق بہ جانب  بات ہے کہ ہندوستان زیر انتظام کشمیر کے لوگ کہیں؛ ہم بلبلیں ہیں اسکی یہ گلستان ہمارا ۔ کیونکہ اگر ہندوستان زیر انتظام کشمیر کے لوگ ہندوستان کے بلبل نہ ہوتے وہ ہمیشہ یہاں کے کشمیریوں کے  پر وبال  کاٹ  نہیں سکتا تھا، اپنے زیر انتظام کشمیر میں کشمیریوں کی  طرح طرح کی قبریں نہیں کھود سکتا تھا جس سے یہ بہشت ارضی کہلانے والا جنت کے بجائے گلستان بن کے رہ گیا ہے، جس گلستان کے پھولوں کا رنگ کشمیری عوام کے سیاسی ، انسانی ، سماجی ، ثقافتی ،تہذیبی اور خاص کر امن و ترقی کا خون کرکے رنگا رنگ بنایا گیا ہے ۔ایک طرف دنیا اس کا نظارہ کر رہا ہے دوسری طرف ہندوستان زیر انتظام کشمیر کے لوگ اس پر کہتے ہیں؛ ہم بلبلیں ہیں اسکی یہ گلتسان ہمارا ہمارا ہمار ۔

کبھی کسی نے پوچھا کہ آپ کا پاسپورٹ تو ہندوستانی ہے تو آپ کیسے اپنے آپ کو ہندوستان سے الگ مانتے ہو ، جسکا میں نے برجستہ جواب دیا کہ جس طرح ہندوستانی  اپنے قومی ترانے میں کہتے ہیں " غربت میں ہوں اگر ہم رہتا ہے دل وطن میں سمجھو وہی ہمیں بھی دل ہو جہاں ہمارا ۔ ہندوستان کی حاکمیت میں ہم اگر چہ اپنے گھروں میں   فوجی حصار کے سایے میں احساس غربت کرتے ہیں اسکا معنی یہ نہیں کہ ہم اپنے گھر میں ہونے کی حقیقت سے انکار کئے ہوئے ہیں۔ اور جس اونچے پربت کی ہندوستانی قومی ترانے میں ذکر کرتے ہیں وہ سب سے اونچا  پربت تو ہندوستان کو کشمیر سے قدرتی طور الگ کرتا ہے اور ہندوستان کے لئے سنتری بن کے پاسبانی کرتا ہے۔ ہندوستان پھر  بھی کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہے اور ہم اس ظالمانہ جرئت پر کہیں گے ؛ سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا ۔ پربت وہ سب سے اونچا ہمسایہ آسمان کا ؛ وہ سنتری ہمارا وہ پاسبان ہمارا۔  کیونکہ اس اونچے پربت کو ایک نہ ایک دن ہندوستان اور کشمیر کے بیچ سنتری بن کے پاسبانی کرنے کا قدرتی فریضہ کے ساتھ ساتھ ، قومی اور بین الاقوامی قانون کے تحت پاسبانی کرنے کا فریضہ انجام دینا ہوگا ۔ پہاڑوں میں سرنگ بنانے سے  سڑکیں جوڑی جاسکتی ہیں لیکن دلوں کو اسطرح نہیں جوڑا جاسکتا  ہے ۔

ہندوستان کی گودی میں کتنی ندیاں کھلتی ہیں صحیح نہیں معلوم البتہ کشمیر میں جتنی بھی ندیاں کھلتی ہیں اور اگر ان میں سے چند ایک ندیوں سے نور حاصل کرکے بہشت ارضی کی راتوں کو چراغاں کرنے کی ٹھان لی گئ اس نور اور بجلی کا اکثر حصہ خود ہندوستان لے گیا اور اپنے زیر انتظام کشمیر بہشت ارضی کی راتوں کو چراغاں کرنے  کے بجائے جن اور جنات کی اندھیری فضاوں کے لئے محفوظ کردیا  اور حقیقی رشک جنان کو  رشک جنان بنا ڈالا ۔اور یہ ہنر صرف ہندوستان میں ہی ہے جو رشک جنان کو رشک جنان بنانے میں فخر کرتا ہے جس پر ہم اتنا ہی کہہ سکتے ہیں، سارے جہاں اچھا ہندوستان ہمار ا ہے ۔

رود گنا سے کیا شکایت کریں ؛ ہم تو حقیقت بھی بیان نہیں کرپا رہیں ہیں کہ جب کشمیر کسی بھی اعتبار سے ہندوستان کے ساتھ  کبھی بھی نہیں جڑ سکا ہے آپ ، سعی لا حاصل کیوں کرتے ہو ۔ اشوکا دور سے لیکر ہری سنگھ کے دور تک کشمیر ، ہندوستان کا سیاسی حصہ  بن کے نہیں رہ سکا ہے جس کا اعتراف ہندوستان نے بین الاقوامی برادری اقوام متحدہ کے سامنے بھی کیا ہے اور اپنے آئین اساسی کے دفعہ  370 میں بھی اسکا مسودہ  بنا کے قانونی اور سیاسی اعتراف بھی کیا ہوا ہے اگر چہ اس سے بھی صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ کشمیری عوام کو سبز باغ دکھا کر غفلت کی نیند سلانے کا حربہ ہے اور در اصل کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ نہ جڑنے کا قانونی اعتراف ہے ۔ اس لئے اگر ہم بھی ہندوستانی قومی ترانے کی طرح انہونی باتیں کریں تو کیا مضایقہ ہے ۔ استعمار نے ہندوستان کو توڑ کر بر صغیر کی عظیم عوامی طاقت کو کمزور کردیا اور  نئے جنم لینے والا ملک پاکستان سیکڑوں خامیوں کے باوجود ساٹھ سالہ دور میں ایک اٹمی طاقت بن کر دینا میں ایک خاص مقام بنانے میں کامیاب ہوا ہےاور اسکے مقابلے میں تین ہزار سالہ ملک کشمیر  کی تو علاقائی شکل بھی مسخ کرنے کی کوششیں جاری ہیں ۔ ہندوستان ، پاکستان اور چین نے بندر بانٹ کرکے تین ھزار سالہ ملک کو نابود کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے ۔ یہ سب رود گنگا کو یاد ہو یا نہ ہو ہمیں اور ہمارے جھلم کو اچھی طرح یاد ہے۔

مذہب کے بارے میں تو کمال کی عکاسی ہے؛ کہ مذہب نہیں سکھاتا آپس میں بیر رکھنا ۔ ماننا پڑے گا کہ اس جملے کے اعتبار سے ہندوستان کا قومی ترانہ ایسی ہی حقیقت کی ترجمانی کرتا ہے ۔ کہ جو  ہندوستان خود ہی مذہب کے نام پر تقسیم کیا گیا وہی مذہب کے نام پر نہ بٹنےکا گیت گاتا رہتا ہے ۔ جمہوریت کا خون مذہبی اختلافات ، قومی ، لسانی اور علاقی ہتکنڈوں سے حکومت کرکے اپنے آپ کو عظیم جمہوری ملک ثابت کرنے کا ڈھنڈورا پیٹتا ہے  البتہ  خود بھی اس سیاست سے زخمی اور داغدار ہواچلا  ہے اسکے باوجود اسے  قومی گیت کے طور پر بیان کرتے ہیں تو اگر ہم کشمیری بھی کہیں کہ ہندی ہیں ہم وطن ہے ہندوستان ہمارا ہمارا ہمارا ہمارا ، کوئی مغالطہ نہیں ہو گا۔

جس طرح علامہ اقبال مرحوم نے بے مثال انداز میں جس عظیم ہندوستان  کی عظیم حقیقت  { یونان مصر رومان سب مٹ گئے جہاں سے ؛ اب تک مگر ہے باقی نام و نشان ہمارا}{کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری؛صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا} کو بیان کیا ہے اسے آج کل کے ہندوستانی حکام مٹانے کے در پے ہیں ۔ کبھی کوئی حالات ایسے ایجاد کرتا ہے کہ خود بھی اس کے قہر سے نجات حاصل نہیں کرپا تا ہے ۔ کیا حالات نے اسی علامہ اقبال کو اس ہندوستان سے جدا نہیں کیا ۔ کیا ان کا یہ گیت پڑ کر تصور کیا جاسکتا ہے کہ وہ خود  بھی اپنے محبوب ہندوستان سے جدا ہو جائے گا ۔ جس طرح اپنا محرم راز نہ پانے کے سبب اپنے درد نہاں کو بیان نہیں کر سکا ہے اسی طرح ہندوستان کی موجودہ سیاست بنی ہوئی ہے ۔ہندوستان کو اگر  اس بات کا یقین ہے کہ کشمیری عوام ہندوستان کا سیاسی حصہ بن کے رہنا چاہتے ہیں تو اسے چاہئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر  ایک مسلمہ ہمہ پرسی(ریفرنڈم) کا اہتمام کرے جس سے ہندوستان دشمن دور زماں کے ساتھ مضبوطی کے ساتھ نبرد آزما ہوسکے اور خطے کے لئے انصاف ، امن اور ترقی کے دریچے کھول دے۔

اللہ کی بارگاہ میں دعا کریں کہ شعر و شاعری یا کسی بھی طریقے سے حقیقت سے انکار کرنے کے بجائے  ہم سب کو حقیقت تسلیم کرنے اور  نافذ کرنے کی توفیق نصیف فرمائے ۔آمین یا رب العالمین

عبدالحسین کشمیری

‏پیر‏، 17‏ اگست‏، 2009


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
قدرت گرفته از سایت ساز سحر