»
سه شنبه 2 آبان 1396

ازقلم؛عبدالحسین :

انیس رمضان المبارک کو حضرت علی علیہ سلام پر مسجد کوفہ میں قاتلانہ حملہ

باسمہ تعالی

انیس رمضان المبارک  سن 40 ہجری قمری کو حضرت علی علیہ سلام پر مسجد کوفہ میں قاتلانہ حملہ۔

سن 40 ھ ق : حضرت علی علیہ سلام مسجد کوفہ میں قاتلانہ حملہ سے شدید زخمی ہوۓ ۔
 
عبد الرحمن بن ملجم مرادی ، خوارج میں ان تین آدمیوں میں سے تھا کہ جنہوں نے مکہ معظمہ میں قسم کھا کر عہد کیا تھا کہ تین بڑی اسلامیشخصیتوں یعنی امام علی بن ابیطالب (ع) معاویہ بن ابی سفیان اور عمرو عاص کو قتل کرڈالیں گے میں سے ایک تھا ۔
 
ہر کوئی اپنے منصوبے کے مطابق اپنی جگہ کی طرف روانہ ہوے اور اس طرح عبدالرحمن بن ملجم مرادی کوفہ آیا اور بیس شعبان سن چالیس کو شھر کوفہ میں داخل ہوا۔ [ بیس شعبان سن چالیس کابھی مطالعہ کریں ]۔
 
وہ شبیب بن بجرہ اشجعی ، جو کہ اسکے ہمفکروں میں سے تھااور دونوں کو » قطاب بنت علقمہ» نے اکسایا اور للچایاتھا اور اس طرح انیسویں رمضان سن چالیس کی سحر کو کوفہ کی جامعہ مسجد میں کمین میں بیٹھ کر امیرالمومنین علی علیہ السلام کے آنے کاانتظار کر رہا تھا ۔(1) دوسری طرف قطام نے » وردان بن مجالد» نامی شخص کے ساتھ اسکے قبیلےکے دو آدمی اسکی مدد کیلۓ روانہ کۓ تھے ۔(2)
  
اشعث بن قیس کندی جو کہ امام علی (ع) کے ناراض سپاہیوں اور اپنے زمانے کا زبردست چاپلوس اور منافق آدمی تھا ،اس نے امام علی (ع) کو قتل کرنے کی سازش میں ان کی رہنمائی کی اور انکا حوصلہ بڑھاتا رہا ۔(3)
 
حضرت علی علیہ السلام انیسویں رمضان کے شب بیٹی ام کلثوم کے ہاں مہمان تھے اور یہ رات نہایت عجیب اور آنحضرت کے حالات غیر عادی تھے اور ان کی بیٹی ایسے حالت کا مشاھدہ کرنے سے نہایت حیران اور پریشان تھی  ۔
 
روایت میں آیا ہے کہ آنحضرت اس رات بیدار تھے اور کئی بار کمرے سے باہر آکر آسمان کی طرف دیکھ  کر فرماتے تھے :خدا کی قسم ، میں جھوٹ نہیں کہتا اور نہ ہی مجھے جھوٹ کہا گيا ہے ۔ یہی وہ رات ہے جس میں مجھے شھادت کا وعدہ دیا گيا ہے ۔(4)
 
بہر حال نماز صبح کیلۓ آنحضرت کوفہ کی جامعہ مسجد میں داخل ہوے اور سوۓ ہوے افراد کو نماز کیلۓ بیدار کیا، من جملہ خود عبد الرحمن بن ملجم مرادی کوجوکہ پیٹ کے بل سویا تھا کو بیدار کیا۔اور اسے نماز پڑھنے کوکہا ۔
جب آنحضرت محراب میں داخل ہوے اور نماز شروع کی ، پہلے سجدے سے ابھی سر اٹھا ہی رہے تھے کہ شبث بن بجرہ نے شمشیر سے حملہ کیا مگر وہ محراب کے طاق کو جالگی اوراسکے بعد عبد الرحمن بن ملجم مرادی نے نعرہ دیا :» للہ الحکم یاعلی ، لا لک و لا لاصحابک » ! اور اپنی شمشیر سے حضرت علی علیہ السلام کے سر مبارک  پر حملہ کیااور آنحضرت کا سر سجدے کی جگہ( ماتھے ) تک شگاف ہوا ۔(5)
حضرت علی علیہ السلام محراب میں گر پڑے اسی حالت میں فرمایا : بسم اللہ و بااللہ و علی ملّۃ رسول اللہ ، فزت و ربّ الکعبه ؛ خدای کعبہ کی قسم ، میں کامیاب ہو گيا ۔(6)
کچھ نمازگذار شبث اورا بن ملجم کو پگڑنے کیلئےباھر کی طرف دوڑپڑے اور کچھ حضرت علی (ع) کی طرف بڑے اور کچھ سر و صورت پیٹتے ماتم کرنے لگۓ ۔
حضرت علی (ع) کہ جن کے سر مبارک سے خون جاری تھا فرمایا: ھذا وعدنا اللہ و رسولہ ؛(7) یہ وہی وعدہ ہے جو خدا اور اسکے رسول نے میرے ساتھ کیاتھا ۔
حضرت علی (ع) چونکہ اس حالت میں نماز پڑھانے کی قوت نہیں رکھتے تھے اس لۓ  اپنے فرزند امام حسن مجتبی (ع) سے نماز جماعت کو جاری رکھنے کو کہا اور خود بیٹھ کر نماز ادا کی ۔
روایت میں آيا ہے کہ جب عبدالرحمن بن ملجم نے سرمبارک حضرت علی (ع) پر شمشیر ماری زمین لرز گئ ، دریا کی موجیں تھم گئ اور آسمان متزلزل ہوا کوفہ مسجد کے دروازے آپس میں ٹکراۓ آسمانی فرشتوں کی صدائيں بلند ہوئيں ، کالی گھٹائيں چھا گئ ، اس طرح کہ زمین تیرہ و تار ہو گی اور جبرئيل امین  نے صدا دی اور ھر کسی نے اس آواز کو سنا وہ کہہ رہا تھا: تھدمت و اللہ اركان اللہ ھدي، و انطمست اعلام التّقي، و انفصمت العروۃ الوثقي، قُتل ابن عمّ المصطفي، قُتل الوصيّ المجتبي، قُتل عليّ المرتضي، قَتَلہ اشقي الْاشقياء؛(8) خدا کی قسم ھدایت کے رکن کو توڑا گیا علم نبوت کے چمکتے ستارے کو خاموش کیا گيا اور پرہیزگاری کی علامت کو مٹایا گيا اور عروۃ الوثقی کو کاٹا گيا کیونکہ رسول خدا(ص) کے ابن عم کو شھید کیا گيا۔ سید الاوصیاء ، علی مرتضی کو شھید کیا گيا، اسے شقی ترین شقی [ابن ملجم ] نے شھید کیا۔
اس طرح بھترین پیشوا ، عادل امام  ، حق طلب خلیفہ ، یتیم نواز اور ھمدرد حاکم ، کاملترین انسان ، خدا کا ولی ، رسول خدا محمد مصطفے (ص) کا جانشین، کو روی زمین پر سب سے شقی انسان نے قتل کرڈالا اور وہ لقاء اللہ کو جاملے ، الھی پیغمبروں اور رسول خدا (ص) کے ساتھ ہمنشین ہوے اور امت کو اپنے وجود بابرکت سے محروم کر گۓ ۔

مدارک اور مآخذ:
1-
الارشاد (شيخ مفيد)، ص 20؛ الجوہرہ في نسب الامام علي و آلہ (البري)، ص 112
2-
وقايع الايام (شيخ عباس قمي)، ص 41؛ تاريخ ابن خلدون، ج2، ص 184
3-
الارشاد، ص 21؛ وقايع الايام، ص 41؛ منتہي الآمال (شيخ عباس قمي)، ج1، ص 171
4-
منتہي الآمال، ج1، ص 172
5-
الارشاد، ص 23؛ منتہي الآمال، ج1، ص 172؛ الجوہرہ في نسب الامام علي و آلہ، ص 113؛ وقايع الايام، ص 41
6-
منتہي الآمال، ج1، ص 174
7-
منتہي الآمال، ج1، ص 174 
8-
منتہي الآمال، ج1، ص 174

Posted on سپتامبر 7, 2009 by عبدالحسین کشمیری

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
قدرت گرفته از سایت ساز سحر