»

مطالب ویژه

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں «حقوق انسانی پر دو روزہ سمینار
ہندوستان میں مسلمانوں کو ہر مذہب کے ماننے والوں کے  ساتھ سامنا ہے اگر یہاں سے ایک منصوبہ تیار ہوکر پیش کیا جاتا ہے شاید اسلام کی بہت بڑی خدمت ہوگی ۔ چونکہ صرف اچھی اچھی باتیں کرنے کا وقت نہیں  رہا ہے عمل کی ضرورت ہے۔ اگر غیر مسلمان ہم سے پوچھیں کہ اسلام کی باتیں کس ملک میں ابھی تک آپ نافذ کرسکیں ہیں تو آپ کا جواب کیا ہوگا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کے عملی نفاذ کی بات کی جائے اورعرب دنیا میں بیداری آچکی ہے ہندوستانی مسلمان نہ صرف ان کے ساتھ دیں بلکہ وہاں اسلامی حکومتیں نافذ کرنے کے لئے روڑ میپ تیار کریں اسی سے اسلامی تعلیم بھی عام ہوگی اوربنی النوع انسان کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بن جائے گا۔

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں «حقوق انسانی پر دو روزہ سمینار

بسمہ تعالی

«يا ايها النّاس انا خلقناكم من ذكر و انثى و جعلناكم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اكرمكم عندالله اتقيكم»

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی  میں «حقوق انسانی پر دو روزہ سمینار

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ سنی دینیات ، فیکلٹی آف تھیالوجی کا اسلامک فقہ اکیڈمی آف انڈیا کے اشتراک سے دو روزہ سمینار «انسانی حقوق۔ اقلیتوں کے حقوق کے خوصوصی تناظر میں»منعقدہ 23-24 اپریل 2011 کے لئے جب مجھے 21 اپریل کو  رئیس قسم الفقہ و الافتاء جامعہ امام انور دیوبند مولانا محمد ارشد فاروقی صاحب  رابطہ کرکے سمینار میں شرکت کے حوالے سے فقہ اکیڈمی آف انڈیا کے سیکریٹری جناب ڈاکٹر مولانا امین عثمانی صاحب کا پیغام سنایا کہ سمینار میں شرکت کرنی ہے اور وہاں کچھ کہنا بھی ہے۔ میں نے اسی وقت  ایک خاکہ تیار کیا کیونکہ 22 اپریل کو مولانا فاروقی صاحب کے ہمراہ علی گڑھ کی طرف روانہ ہونا تھا اور یہ مختصر خاکہ قارئین کے نظرہے ۔

چونکہ  یہاں ہندوستان میں حقوق انسانی کے حوالے سے بات ہو رہی ہے جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور موضوع حقوق انسانی اقلیتوں کے حقوق کے تناظر میں  عنوان ہوا ہے تو ظاہر سی بات ہے  چونکہ مسلمان ہوں تو یہاں اسلامی نقطہ نگاہ کو لے کر بحث کا آغاز کرتاہوں ۔ جبکہ حقوق انسانی کا اطلاق اقلیت یا اکثریت، رنگ و نسل اور مذہب  پر صادق نہیں آتا  اور یہ میں نہیں کہہ رہا ہوں بلکہ قرآن اس اصول کو»يا ايها النّاس انا خلقناكم من ذكر و انثى و جعلناكم شعوبا و قبائل لتعارفوا ان اكرمكم عندالله اتقيكم» کہہ  کر واضح کردیتا ہے یعنی اے لوگو!ہم نے تمہیں مرد  اور عورت سے پیدا کرکے شعبوں اور قبیلوں میں تقسیم کیا ہے تاکہ تمہاری شناخت ہو، البتہ تم میں سے افضل و اکرم وہی ہے جو تقوی کے اعتبار سے افضل و اکرم ہوگا۔ اسلامی تعلیمات کے رو سے حقوق انسانی کو فراہم کرنے والے کو عادل اورحقوق انسانی کو پایمال کرنے والے کو ظالم اور پایمال ہونے والے انسان کو مظلوم کے نام سے یاد کیا جاتا ہے اوریہ دین مبین اسلام کی شناخت ہے۔

اسلامی کانفرنس  کے اسلامی انسانی حقوق کے منشور کے مقدمہ میں بھی اس بات کی طرف اشارہ ملتا ہے جہاں پر لکھا گیا ہے کہ»اسلام میں انسانی حقوق اور عمومی آزادی، مسلمانوں کے دین کا جزء ہے» اور اقوام متحدہ کے  حقوق انسانی ادارے کے تیس دفعات پر مشتمل منشور کے پہلے منشور میں کہا گیا ہے کہ «سبھی انسان دنیا میں آزاد پیدا ہوتے ہیں اور حقوق کے اعتبار سے سبھی برابر ہیں۔ سبھی عقل  اور  وجدان کے حامل ہیں اورہرکسی کو چاہئے ایکدوسرے کے مقابلے میں برادری کا سلوک روا  رکھیں» اور دوسرے دفعہ می آیا ہے «ہر کوئی کسی امتیاز کے بغیر خاص کر، نسل ، رنگ ، جنس ، زبان ، مذہب ، سیاسی نظریہ یا کوئی اور نظریہ اور اسی طرح قومیت ، اجتماعی وضعیت ، دولت ، ولادت یا کسی اور موقعیت کے اعتبار سے، جملہ حقوق اور ہر قسم کی آزادی کہ جس کا ذکر اعلامیہ  میں ہوا ہے ، استفادہ کرنے کا حق حاصل ہے» اسی طرح ہمیں حقوق انسانی کے حوالے سے اصول تو ملتے ہیں لیکن عمل نہیں ملتی ہے۔

انسانی حق اور حقوق کی پاسبانی کرنے کا دعوی زیادہ تر استعماری سیاسی ہتکنڈے کے طور پر استعمال میں آتا ہے کہ جسکا علمبردار امریکا ہے۔جس امریکا نے حقوق انسانی کے نام پر قتل و خون کےبازار کو منڈی کی طرح کھول دیا ہے وہی حقوق انسانی کا سب سے محافظ کہلاتا ہے ۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ خود امریکا میں عوام کو مثالی انداز میں مساوی حقوق حاصل ہیں لیکن جب اسی امریکا میں جب حکومت کو کوئی آواز پسند نہیں آتی ہے تو اپنے ہی شہریوں کو کس درندگی کے ساتھ نابود کردیتا ہے کہ جس کی مثال شاید ہی کسی اور ملک میں ملتی ہے اور اگر ملتی ہے تو وہ ملک ضرور امریکا کا ہی ہم پیالہ اور ہمنوالہ ہوا کرتا ہے۔۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ علمی مجمع میری بات  کی طرف  اچھی طرح متوجہ ہوئے ہوں گے کہ جس کی طرف میں نے اشارہ کرنا چاہا ہے ، جی ہاں امریکا ئی داوودیوں کو زندہ جلانے کا واقعہ، جنہیں وہ خود ڈیوڈی کہتے ہیں۔ جب  وہ امریکی حکومت کے عتاب کا شکار ہوئے وہ   ایک جگہ جمع ہوکر احتجاج پر بیٹھ گئے، حکومت نے انہیں وہاں نکال باہر کرکے متفرق کرنے کی ہر ممکن کوشش کی  ، جب وہ وہاں سے باہر نہیں نکلے تو اس گھر کوجلادیا گیا اور وہاں مظاہرے پر بیٹھے سب مرد، خواتین ، بچے سب کے سب زندہ جلا دیئے گئے۔ایسے ہی کئ واقعات ہیں جن کے بارے میں عوام کم ہی اطلاع رکھتی ہے کہ خود امریکا میں انسانی حقوق کا کیا حشر ہوتا ہے۔مگر پھر بھی  حقوق انسانی کا سب سے بڑا محافظ بنا بیٹھا ہے ۔امریکا  کو کھبی صہیونی دہشت گردی نظر نہیں آتی ہے جو فلسطینی عوام کے ساتھ آئے دن مظالم ڈھانے کے نئے رکارڈ قائم کررہا ہے۔اورامریکا اسرائیل کی مالی اور سیاسی مدد کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں رکھتا ہے۔اسی امریکا نے مڈل ایسٹ کا کیا حشر کیا ہوا ہوا ہے سبھی واقف ہیں۔ عراق اور افغانستان میں تو انسانی حقوق پامال کرنے میں کوئی کسرباقی نہیں رکھی اب لیبیا میں نمایاں طور اوردیگر اسلامی ملکوں  میں خاص کر بحرین میں حقوق بشر کی پامالی کی تاریخ رقم کررہا ہے۔امریکا نے نہ صرف حقوق انسان کے معاملے میں دوہرا معیار قائم کیا ہے بلکہ ہر میدان میں اسی اصول کا سکہ چل رہا ہے جسے خدا سے بے خبرسیاستدانوں نے اصولی طو ر اپنایا ہے۔ امریکا اور اسکے ہمنوا جہاں اپنے مفادات پاتے ہیں وہاں ہر جائز کو ناجائز اور نا جائز کو جائز ظاہر کرتے ہیں۔انسان وہ کہلاتا ہے جو استعماری سیاست کی حمایت کرتا ہے اوراگر استعماری سیاست قبول نہیں کرتا  ہے تووہ کیچڑ کچرا سمجھا جاتا ہے اور اسکی صفائی کے لئےہر پیشرفت ابزار استعمال میں لائے جاتے ہیں۔اگر ایکطرف آپ کرامت انسانی کے قائل ہونے کا دعوی کرتے ہیں تو  دوسری طرف  انسان کوصرف طاغوتی اور استعماری ابزار میں تولتے ہیں۔ جب تک دوہرے معیار کا اصول ختم نہیں ہوتا انسان کو کرامت انسانی حاصل نہیں ہو سکتی کہ جس کی ضمانت حقوق انسانی کے نام سے بیان کی جاتی ہے۔

دوہرے معیار کو قرآن نے یوں بیان کیا ہے کہ جب یہ دہرے معیار والے، مومنوں(جنہیں آجکل کی اصطلاح میں فنڈا منٹلسٹ یا بنیاد پرست یاکٹرپنت کہہ کر بدنما داغ کے مانند یاد کرتے ہیں) سے ملتے ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ ہم تو آپ کےساتھ ہیں اور جب اپنے سازشکار عناصر کے ساتھ خلوت کرتے  ہیں تو ان سے کہتے ہیں کہ ہم تو آپ کے ساتھ ہیں ہم تو ان کٹرپنتوں سے مذاق کرتے تھے(انکو خوش رکھنا ہوتا ہے اپنے ساتھ لے کے چلنا ہوتا ہے وغیرہ)۔اور اس معیار کے لوگوں کا نہ مذہبی رنگ  اور نہ ہی اور کوئی رنگ ہوتا ہے بلکہ اپنے سیاسی اور استعماری مفادات کے حصول کے لئے کچھ بھی کر گزرجاتے ہیں۔افسوس کا عالم یہ ہے کہ  ایک معیار کے لوگوں در واقع حکومتوں کا ملنا بہت ہی مشکل ہے۔ ہر میدان میں دوہرا معیار حاکم ہے۔یہ سوال اسی علمی مجموعے کے سامنے رکھتا ہوں  کہ کیا آپ کے سامنے کوئی نظام موجود ہے جس میں دوہرا معیار حاکم نہ ہو۔جہاں انسان کو انسان اور حیوان کو حیوان مان کےزندگی بسر کرنے کا حق حاصل ہے ۔؟جہاں نہ  انسان اور حیوان کے برابری  کا قائل ہیں  اور نہ  ہی ان کے وجود کے خاتمے کے حامی، بلکہ انسان کے لئے کرامت انسانی کا قائل اور حیوان کے لئے   دائرہ حیوانی کا معترف اور محافظ ہیں۔مشکل سے چند ایک ملک ایسے مل سکتے ہیں جہاں عملی طور پر ایسا ماحول کسی حد تک حاکم ہے ورنہ صرف اچھے اچھے اور دلفریب اصولی کتابوں اور محلفوں کی سجاوٹ کے لئے دیکھنے دلفریب نعروں کی شکل میں ملتی ہیں عملی میدان میں اسکا وجود  نہیں ملتا ہے۔شاذ و نادر ایسا کوئی ملک ملتا ہے جہاں ایسے اصول حاکم  اور دوہرے معیار کے خلاف بر سرپیکار ہیں ۔ جب تک نہ دوہرے معیار کے خاتمے کے لئے کوئی حرکت وجود میں  نہیں آتی ہے تب تک حقوق انسانی کا تحفظ عملی طور ناممکن ہے ۔جنس ا ور نسل ، اکثریت ا ور اقلیت، زبان اور رنگ ، اجتماعی ا ور مذہبی جیسے عناوین کے تحت بحث مباحثے کا سلسلہ ایک مثبت اور کارآمد سلسلہ ہے یہاں سے ہی وہ متفقہ سوچ ابھر کر آ سکتی ہےجس سے دوہری معیار کے خاتمہ کے لئے کوئی حکمت عملی نکل سکتی ہے ۔

ہندوستان میں مذہبی، سیاسی اور اجتماعی رواداری کے اصولوں کو  نکھارنے کے لئے جس قدر موزوں ہے شاید ہی کسی اور ملک میں یہ سب خوبیاں موجود ہوں  لیکن افسوس کہ یہ ملک بھی دوہری معیار  روا رکھنے میں اپنی عافیت سمجھنے لگا ہے ۔ امریکا کی چمچہ گری کرنے اور اسرائيل کی چاپلوسی کرنے میں ملک کی شان سمجھنے لگا ہے۔ ایک دن یہ ملک اپنی اقلیت  مسلمانوں کے احساسات کا بھر پور خیال کرکے فلسطینی مظلوم عوام کا حمایتی تھا اور اب اپنی اقلیت اور ملک کے اصولی موقف  کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے صہیونیزم کے حامیوں میں شمار ہوتاہے۔ہندوستان میں  اقلیتوں پر نہایت ہی مظالم ڈھائے جاتے ہیں، یہاں کی اقلیت خاصکر مسلمان کس قدر انسانی حقوق سے محروم ہے کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے۔اسکی وجہ  ہندوستان کا استعماری مزاج میں ڈھلنے کی ہے۔ اب  ہندوستان میں دوہرا معیار نمایاں اختیار کر گیا ہے بلکہ حاکم ہے کب کس کو انسان کہا جائے اور کب اسی انسان کو کوڈا کرکٹ سمجھ کر صفایا کیا جائے، کچھ پتہ نہیں چلتاہے ۔ ہندوستانی اقلیت خاصکر مسلمان جن کے پاس اسلامی اصول  اور قرآن مجید کی آیت » و لقد كرمنا بنی‌آدم» ہے۔{آدم کی اولاد(یعنی ہر انسان)کو خدا نے بلند مقام عطا کیا ہے}اسکا عملی اطلاق دکھا کرملک پر حاکم دوہری معیار کے خاتمے اور کرامت انسانی کے اصول پر مبنی تمام انسانوں کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے لب کشائی کریں۔ نہ صرف ملک کے دوہری معیار  بلکہ جہاں پر بھی  عدل و انصاف  سے انسان محروم ہے ظالم کی ہر کوئی سنتا ہو اور مظلوم کی کوئی نہیں سنتا وہاں کے لئے آواز بلند کریں۔جس کی المناک صورتحال بحرین میں دیکھنے کو ملتی ہے۔ جہاں سیاسی بغاوت شروع ہوئی ہے لیکن انتقام مذہبی عقیدےسے لیا جاتا ہے ۔ایک ایسی مسجد کو ڈھایا جا رہا ہے جس کے ساتھ عقیدتی وابستگی ہے اور ایسے بینر کو توڑا جاتا ہے جس کے ساتھ مذہبی عقیدت رہی ہے مظاہرے کرنے والوں کے سروں کو نشانہ بنا کر گولیاں چلائی جاتی ہیں مگر کوئی نہ حقوق انسانی کے تحفظ کی بات کرتا ہے اور نہ ہی سیاسی اصولوں کی کہ اگرسیاسی بغاوت کو کچلنا ہے تو مذہبی انتقام گیری کیوں ۔ اور اگر مظاہروں کو روکنا ہے تو یہ وحشی خون خرابہ کیوں۔ابھی تک 27 مسجدوں ،50 امام باروں اور سینکڑوں انسانوں  کو شہید کیا گیا ہےاس پر کیوں کر خاموشی طاری ہے۔

سب کو چاہئے عدل اور  انصاف کی بالادستی کے لئے ہمصدا ہو جائيں  جس میں نہ صرف  اقلیت اور اکثریت کے حقوق کی ضمانت شامل ہے بلکہ پر امن معاشرے کی عملی شکل بھی عدل و انصاف کے قیام میں ہی امکان پذیر ہے۔اللہ سے دعا ہے کہ ہم سب کو کرامت انسانی کو سمجھنے اور اسکی حفاظت کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

یہ سمینار کے لئے میری تقریر تھی لیکن جب مجھے سٹیج پر بولنے کے لئے دعوت دی گئ  اور یہ سمینار کی آخری نشست تھی تو میں نے سمینار کے لئے حقوق بشر کےحوالے سے دئے گئے 79 عناوین کے پیش نظر جنہیں محققوں نے بیان کیا تھا اورجن میں اسلامی تعلیمات کے حوالے موضوع پر سیر حاصل روشنی ڈالی گئ، مکتوب تقریر کو چھوڑ کرمختصر الفاظ میں کچھ یوں اپنے عرایض پیش کئے ؛یہ سمینار جو کہ حقوق انسانی کے زیر عنوان منعقد ہوا ہے لیکن اسے اقلیت کے حقوق کے تناظر میں پیش کرنا خود حقوق انسانی کے ساتھ ناانصافی ہے کیونکہ جہاں پر حقوق انسانی کی بات آتی ہے وہاں پر اکثریت اور اقلیت معنی نہیں رکھتی ہے ۔سبھی محققوں نے حقوق بشر کے حوالے سےاسلامی تعلیمات کا ذکر کیا لیکن یہ سب چودہ سو سال پرانی بات ہے دور حاضر میں آپ کے پاس اسلامی تعلیمات کا عملی مظاہر ہ کہاں پر ہے اسے بیان کریں ۔ ہندوستان میں مسلمان ایک مسجد(بابری مسجد) کو شہید کرنے کے صدمے سے باہر نہیں آپاتے ہیں لیکن بحرین میں ابھی کئ دنوں میں 27 مسجدیں اور 50 امام باروں کو شہید کیا گیا، یہاں پر اسلامی تعلمات کا کیا حوالہ دیا جاسکتا ہے۔ عالم اسلام میں رونما ہونے والے واقعات کو ہندوستان کے علماء خاص کر یہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جہاں شیعہ اور سنی فقہ ڈپارٹمنٹ قائم ہیں عالم اسلام کیلئے تھینک ٹینک کا کام کریں اسلامی تعلیمات کی حقیقی شکل غیرمسلمانوں کے ماحول میں نافذ کرکے پررکھ کے پیش کریں۔ ابھی مصر کی اخوان المسلمین نے اسلامی مرجعیت کی حکومت کے قیام کی خواہش ظاہر کی ہے آپ لوگ سر جوڑ کر بیٹھیں اور اسلامی حکومت کا عملی خاکہ پیش کریں کیونکہ وہ وہاں پر بیٹھ کر توازن کے ساتھ خاکہ تیار نہیں کرسکتے ہیں جس فقہ کے لوگ جہاں اکثریت میں ہیں وہ اپنی اقلیت کو خاطر میں نہیں لاتے غیر مسلمانوں کی تو بات ہی نہیں ہے ۔ ہندوستان میں مسلمانوں کو ہر مذہب کے ماننے والوں کے  ساتھ سامنا ہے اگر یہاں سے ایک منصوبہ تیار ہوکر پیش کیا جاتا ہے شاید اسلام کی بہت بڑی خدمت ہوگی ۔ چونکہ صرف اچھی اچھی باتیں کرنے کا وقت نہیں  رہا ہے عمل کی ضرورت ہے۔ اگر غیر مسلمان ہم سے پوچھیں کہ اسلام کی باتیں کس ملک میں ابھی تک آپ نافذ کرسکیں ہیں تو آپ کا جواب کیا ہوگا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کے عملی نفاذ کی بات کی جائے اورعرب دنیا میں بیداری آچکی ہے ہندوستانی مسلمان نہ صرف ان کے ساتھ دیں بلکہ وہاں اسلامی حکومتیں نافذ کرنے کے لئے روڑ میپ تیار کریں اسی سے اسلامی تعلیم بھی عام ہوگی اوربنی النوع انسان کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بن جائے گا۔

والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عبدالحسین کشمیری

عبدالحسین علیگڑ یونیورسٹی میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے

‏مضمون نگار تقریب مذاہب اسلامی کی خبررساں ایجنسی تقریب نیوزtaghribnews.irکے بیرو چیف اور عربی فارسی اور انگریزی کے ایڈیٹر۔:

 

تاریخ درج مطلب : : //

آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
این سایت متعلق است به 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر