سائیٹ کے بارے میں بعض تفصیلات     
 
ہم شیعہ کیوں روزانہ واجب نمازوں کو تین وقت پڑھتے ہیں اور اھل سنت پانچ وقت میں ؟
روزانہ واجب نمازوں کا وقت پانچ اوقات میں بیان ہوا ہے اور حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر روزانہ واجب نمازیں ،پانچ وقت میں پڑھتے تھے، اور شیعہ فقہ میں، پانچ وقت میں پانچ نمازیں پڑھنے کے فضیلت مشہور ہے ۔ لیکن خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  بعض اوقات میں ظہر و عصر اور مغرب عشا کو ایک ساتھ پڑھتے تھے ۔ یہ موضوع شیعہ روایات کے ساتھ ساتھ سنی معتبر کتابوں میں بھی موجود ہے

ہم شیعہ کیوں روزانہ واجب نمازوں کو تین وقت پڑھتے ہیں اور اھل سنت پانچ وقت میں ؟

ہم شیعہ کیوں روزانہ واجب نمازوں کو تین وقت پڑھتے ہیں اور اھل سنت  پانچ وقت میں ؟

جواب: روزانہ واجب نمازوں کا وقت پانچ اوقات میں بیان ہوا ہے اور حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اکثر روزانہ واجب نمازیں ،پانچ وقت میں پڑھتے تھے، اور شیعہ فقہ میں، پانچ وقت میں پانچ نمازیں پڑھنے کے فضیلت مشہور ہے ۔ لیکن خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  بعض اوقات میں ظہر و عصر اور مغرب عشا کو ایک ساتھ پڑھتے تھے ۔ یہ موضوع شیعہ روایات کے ساتھ ساتھ سنی معتبر کتابوں میں بھی موجود ہے ۔جیسے :

«صحیح مسلم میں ابن عباس سے روایت نقل ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ میں  ظھر و عصر اور مغرب و عشاء کو ایک ساتھ پڑھتے تھے جبکہ نہ کوئي خطرہ لاحق ہوتا تھا نہ ہی بارش، نہ ہی سفر در پیش ہوتا تھا »

عن ابن عباس: ان النبي ‏صلي الله عليه وآله وسلم جمع في المدينه بين الظهر و العصر و بين المغرب و العشاء من غير خوف و لا مطر ولا سفر. (صحيح مسلم، باب الجمع بين الصلوتين، حديث 9، ص 314).

«صحیح مسلم » کی ایک اور روایت ہے:

«قلت: لإبن عباس لم فعل ذلک؟ قال: أراد أن لا يحرج احداً من امّته».

راوی کہتا ہے : ابن عباس سے سوال کیا گیا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ظھر، عصر اور مغرب ، عشاء کو ایک ساتھ کیوں پڑھتے ہیں؟ابن عباس نے کہا: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چاہا کہ اسکی امت میں کوئی بھی زحمت و مشقت میں نہ پڑ جائے ۔

«صحیح بخاری میں بھی کتاب مواقیت میں اس ذیل میں احادیث موجود ہیں»

صحيح بخاري، کتاب المواقيت، باب تأخير الظهر الي العصر، ح 543 و باب وقت المغرب، ح 562 و ابواب التطوع باب 30، ح 1174.

«تحفۃ الاخوان» نامی کتاب میں ان کے علماء نے بھی اس روایت کو بیان کیا ہے ۔

تحفة الاخوان بأجوبة مهمه تتعلق بأرکان الاسلام، تأليف عبدالعزيز بن عبداللَّه بن باز، مفتي عام المملکة العربية السعودية، ص124.

اھل سنت کے کئ بزرگوں نے اس مسئلے کو قبول کیا ہے اور اس موضوع پر مستقل طور پر کتابیں بھی لکھی ہیں۔ جیسے :

کتاب ازالة الحظر عمن جمع بين الصلوتين في الحضر، تأليف حافظ غمادي و قرة العين في الجمع بين الصلوتين تأليف حامد بن حسن شاکر التميمي.

 

 

تاریخ درج مطلب : : //

آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
 
چهارشنبه 4 بهمن 1396
جستجو در سایت
 
 
آمار سایت
 
مشاهده کل : 842224 نفر
مشاهده امروز: 325 نفر
افراد آنلاین: 298 نفر
مشاهده دیروز: 1959 نفر
مشاهده ماه پیش: 32457 نفر
 
کلیه حقوق معنوی این وب سایت متعلق است به هر گونه کپی برداری با ذکر مطلب بلامانع میباشد.
قدرت گرفته از سایت ساز سحر