»
سه شنبه 2 آبان 1396

بسم اللہ الرحمن الرحیم

تکفیری سلفیوں کا بول بالا  تو سنی مسلمان کہاں

!
از قلم:عبدالحسین

                  غالبا کسی حادثے  کے بارے  میں جب کسی بے گناہ کے ناحق مارے جانے کی  خبر  سننے یا دیکھنے کو ملتی ہے تو انتہائی تکلیف ہوتی ہے اور جب وہ خبر کسی کلمہ گو سے متعلق ہو تو یقینا  تکلیف  کی شدت  میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر وہ بے گناہ انسان عالم یا مبلغ دین مبین اسلام ہو تو کسقدر غمزدہ ہوتا ہوں خدا ہی شاہد ہے اور اس پر ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا اضطراب اور بے قراری کیوں ہےاور جواب ملتا ہےکہ یہ ایک فطری جذبہ ہے ہر کوئی ایسا ہی جذبہ رکھتا ہے اورچونکہ کشمیری ہوں جذباتی ہونا کشمیریوں کی خصلت ہے لیکن جب جذبات سے اوپر اٹھ کر حقیقت کا سامنا کرنا چاہتا ہوں تو معلوم پڑتا ہے کہ نہ اسکا تعلق میری انفرادی سوچ سے ہے نہ  فطرت سے اور نہ ہی کشمیریت سے بلکہ تربیت سے ہے۔ میں چونکہ محمد و آل محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین کا  پیرو ہوں اسلئے  اسلام کی خوشی میں خوش رہنے اور اسلام کے غم میں غمغین رہنے کی تربیت  میں بچپن سے لے کر مظلوم کربلا سید الشہداء حسین ابن علی ابن ابیطالب علیہم السلام کی مظلومیت پر عزاداری برپا کرنے کی ثقافت میں پروان چڑھا ہوں اسی  لئے ظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم سمجھنے اور کہنے  میں نہیں چوکتا ہوں  اسطرح یہ  میری کوئی انفرادی سوچ نہیں۔ بلکہ کائنات کے کسی بھی کونے میں رہنے والےانسان جو اسلام کے تشخص اور فلسفے کی حفاظت کرنے والے امام حسین علیہ السلام  کی حکمت عملی اور تحریک سے جانکاری رکھتے  ہوں شعوری یا غیر شعوری طور ایسی ہی سوچ اور جذبہ رکھنے والے ہیں ممکن ہےوہ انسان شیعہ مسلمانوں کی طرح عزاداری کی تقاریب منعقد کرتے ہیں یا سنی مسلمانوں کی طرح شہادت کا تذکرہ کرتے ہیں یا غیر مسلمانوں کی طرح امام حسین علیہ السلام کے ساتھ محبت رکھتے ہیں اور اس سے ایسا الہام لیتے ہیں اور جو امام حسین علیہ السلام سے بے خبر ہو  اسکے لئے ظالم اور مظلوم دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا انکے لئے تو کبھی ظالم مقدس اور کبھی  مظلوم  مقدس ہوتا  ہے ۔
 
دنیا شاہد ہے جب کبھی بھی دنیا کے کسی بھی کونے میں کوئی بھی بے گناہ  انسان چاہے اسلام کے کسی بھی مسلک سے تعلق رکھتا ہو یا کسی بھی دین سے تعلق رکھتا ہو تو اسلام کے کے پہلے مومن (علی ابن ابیطالب علیہم السلام) اور خدا کے بعد اسلام کے سب سے بڑے محافظ(حسین بن علی علیہم  السلام )کے چاہنے والوں نے اسکی مذمت کی ہے ۔ایسا اگر مسلمان ہے تو شاہ ولایت کا مرید ہوتا ہے اور غیر مسلمان ہو تو شہید کربلا حسین ابن علی  علیہم السلام کا شیدائی ہوتا ہے۔

علاقائی سطح سے لیکر عالمی سطح تک اسلام کے پہلے مومن و مبلغ حضرت شاہ ولایت  علی مرتضی علیہ السلام اور خدا کے بعد اسلام کے ابتدائی اور انتہائی محافظ حسین بن علی علیہم السلام کے چاہنے والے مسلمان یا غیر مسلمان  مظلوم کے حق میں اپنی ظرفیت کے اعتبار سے آواز بلند کرتے رہتے ہیں۔لیکن  ان دو حضرات سے بیزار اور بے خبرافراد پر ایسے میں مردہ پن طاری ہو جاتا ہے ہاں اگرزندہ باد یا مردہ باد کہنے میں دنیاوی فوائد ملحوظ نظر ہوں تو سیکولر سیاستدانوں کی طرح نیند میں بھی احتجاج کی حالت ظاہر کرتے ہیں۔

نبی رحمت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت سے پہلے دور کو جاہلیت کا دور کہا جاتا ہے اوربعثت کے بعد والا دور نور و رحمت کا دور ہے ظلمت و ضلالت کے خاتمے کا دور ہے اور اسلام چونکہ آخری الہی و آفاقی دین ہے صبح قیامت تک اب اور کوئی دین آنے والا نہیں ہے اور نہ ہی یہ دین مبین اسلام کسی ایک مسلک یا مذہب یا قوم،نسل یا خطے کے ساتھ مخصوص ہے بلکہ اسلام ہر انسان کا دین ہے اور مسلمان اسے دوسرے انسانوں تک پہچانے کیلئے امانت دار ہے ٹھیکہ دار اور جاگیردار نہیں۔اسطرح اسلام کے دروازے ہر کسی کیلئے کھلے ہیں جس کا فائدہ  اسلام دشمن طاقتیں اٹھاتے رہے ہیں۔جنہوں نےنہ صرف تیسرے اور چوتھے خلیفے کا خون بہایا بلکہ رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نواسے حسین ابن علی علیہم السلام کا سر قلم کرکے ایکدوسرے کو تحفے میں بھیجا ہے ۔پہلے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو قتل کرنا چاہا کامیاب نہیں ہوئے پھر آل محمد   علیہم السلام کا خون بہانا رسم بنایا اور اسکے بعد محمد و آل محمدکے چاہنے والوں کا قتل و غارت کا بازار گرم رکھتے آئے ہیں۔ اپنے آپ کو سلفی کہلانے  والےیہ تکفیری  صدر اسلام سے لیکر اب تک نور اور رحمت کے دین مبین اسلام کو ظلمت اوربربریت  میں تبدیل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتے آئے ہیں لیکن اپنے منصوبوں میں کامیاب نہیں ہو پاتے ہیں۔کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں جبکہ آل محمد اور انکے چاہنے والوں نے اسلام کو اپنے خون سے سینچا ہے اور اسلام کو بدنام کرنے کی ہر سازش کو ناکام بناتے آئے ہیں۔اور اسلام شیعہ اور سنی نامی دو پروں کے ساتھ اپنی  پرواز جاری رکھے ہوئے ہے۔

سلفی تکفیری تو محمد و آل محمد کے جاں بہ کف سرفروش شیعوں کا قتل کرنا اپنا مکتب و مذہب سمجھتے ہیں اسلئے انکا خون بہانے کا کوئی بہانہ ہاتھ سے جانے نہیں دیتے ہیں لیکن ان سے سنی مسلمان بھی محفوظ نہیں ہیں جب کبھی بھی یہ لوگ سنی مسلمانوں میں محمد میں آل محمد کے نسبت قرآنی جذبہ دیکھ لیتے ہیں تو  انکو بھی زندہ نہیں رکھتے کشمیر سے بات شروع کریں تو شہید شوکت حسین شاہ صاحب کو کس نے شہید کیا اور کیوں کیا؟شام میں علامہ شہید محمد سعید رمضان بوطی کو کس نے شہید کیا اور کیوں کیا؟یہ تو سنی خواص تھے۔شیعہ عوام اور خواص کی تو بات ہی نہیں  انہیں تو محمدو آل محمد کی پیروی کے جرم میں آئے دن شہید کیا جاتا ہے۔

میرا سنی علماء سے صرف ایک سوال ہے جب کھبی بھی کسی سنی  کو مظلومانہ شہید کیا جاتا ہے شیعہ علماء شہادت کو سلام اور ظلم کی مذمت کرتے ہیں لیکن  جب شیعہ مظلومانہ شہید کیا جاتا ہے تو اکثرسنی علماء ایسے  میں خاموش کیوں رہتے ہیں۔حتی مذمتی بیان جاری کرنے سے بھی اکثر کتراتے ہیں کیوں؟

جب شام میں صحابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم "شہید حجربن عدی" کے   روضے کی ہی نہیں بلکہ نبش قبر کرکے انکے جسد کے ساتھ بے حرمتی کی گئي اس پر بھی اکثر سنی علماء تماشائي دکھائی دیئے اور خاموشی کا سبب بھی کسی حد تک معلوم ہے کہ چونکہ جنہوں نے حجر بن عدی کو ساتھیوں کے ساتھ شہید کیا تھا انہیں بعض سنی علماء مقدس سمجھتے ہیں اسلئے خاموشی طاری رہی ۔لیکن جب حال ہی میں شب برات کے موقعہ پر مصر میں ایک شیعہ عالم دین "علامہ شیخ حسن شحاتہ"محفل  جشن مہدی موعود عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف سے نکال  کر مار مار کر بھائی اور دو دیگر مومنین کے ہمراہ شہید کیا گیا اس پر اکثر سنی علماء خاموش کیوں رہے یہ انتہائی تکلیف دہ ہے۔ البتہ یہ بات قابل ذکر ہے کہ الازہر مصر نے ایسے قتل کی انتہائي مذمت اور شہادت کو سلام پیش کیا اور کشمیر میں فیس بک پر تو تکفیری سلفیوں کے زیر اثر جواں "علامہ شیخ حسن شحاتہ" کی شہادت پر خوشیاں مناتے دیکھے گئے لیکن علماء سے پوچھیں تو کہتے ہیں ہمیں تو خبرنہیں! مصر ،شام وغیرہ کی خبر نہیں  کہ وہاں کس طرح شیعہ مسلمانوں پر مظالم ڈھائے جارہے ہیں پاکستان کی تو خبر ہے کہ پاکستان میں شیعہ کشی رسم بن گئی ہے اس پر خاموشی کیوں؟ کیا ایسا مان کے چلیں کہ اب ہر جگہ سلفی اور تکفیریوں کا بول بالا ہے تو سنی مسلماں کہاں ہیں۔

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
قدرت گرفته از سایت ساز سحر