»

مطالب ویژه

امام خمینی رہ کی با بصیرت قوم پر سلام
حضرت آیت اللہ العظمی  سید روح اللہ موسوی خمینی رہ کی ولادت 20 جمید الثانی 1320 ہجری کو ایران کے شھر خمین میں ہوئی ہے اور  ربیع الاول 1390 میں حضرت امام محسن حکیم رہ کے وفات کے بعد مرجع تقلید بن گئے اور 1979 میں اسلامی جموھری کا قیام عمل میں لایا اور 4 جون 1989 کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔ انا للہ و انا الہ راجعون۔

بسمہ تعالی

امام خمینی رہ کی با بصیرت قوم پر سلام

امام خمینی رہ کی چوبیسویں سالگرہ پر خراج عقیدت

از:  عبدالحسین 

حضرت آیت اللہ العظمی  سید روح اللہ موسوی خمینی رہ کی ولادت 20 جمید الثانی 1320 ہجری کو ایران کے شھر خمین میں ہوئی ہے اور  ربیع الاول 1390 میں حضرت امام محسن حکیم رہ کے وفات کے بعد مرجع تقلید بن گئے اور 1979 میں اسلامی جموھری کا قیام عمل میں لایا اور 4 جون 1989 کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔ انا للہ و انا الہ راجعون۔

کیا امام خمینی رہ کے بارے میں اتنا  ہی کہا جاسکتا کہ ولادت کب ہوئی کس تاریخ میں کون سا عظیم کا م انجام دیا اور کب وفات پائی؟ بلکل نہیں، میرا عقیدہ ہے کہ اگر امام خمینی رہ کو ایک فقیہ جامع الشرایط ، عالم دین کے عنوان سے دیکھا جائے کہ جس نے  دیگر علماء ربانی کے مانند علمی میدان کا سفر اکیلے ہی مجاھدت اور تقوی کے ساتھ انجام دیا ہواور  دنیا و آخرت میں سرفرازی کا عظیم اعزاز اپنے لئے مخصوص کیا ہوتا تو شاید ان کی سالگرہ پر ان کی زندگی کامختصر خاکہ ان تین جملوں میں دیا جاسکتا  تھا۔  لیکن امام خمینی رہ ایک ایسے مثالی مرد خدا ہیں کہ جنہوں نے مجاہدت کا سفر اکیلے انجام نہیں دیا بلکہ ایک عظیم کارواں ساتھ لیکر آگے قدم بڑایا  ہے  جو ابھی تک مقصد کی طرف رواں دواں ہیں ۔

امام خمینی رہ  تاریخ  کے ایک اکیلے مرد خدا ہیں جو مظلوم واقع نہیں ہوئے  ہیں بلکہ عوام نے انہیں سمجھا اور انکے افکار و رہنمائی  کے سایے میں قدم بڑھاتے گئے اور مظلوموں کی یاوری کا علم بلند کرنے میں آگے نکل پڑے ہیں ۔ انبیاء علیہم السلام سے لیکر ائمہ ھدی  علیہم السلام تک یا غیر معصوم اولیاء خدا میں سے امام خمینی رہ ایک استثنائی ذات ہیں  جو مظلوم واقع نہیں ہوئے بلکہ مظلوموں کے علمدار ہیں ۔  میں نے عالم تشیع کے علمی حلقوں برجستہ ممتاز علماء کہ جنہیں یا  امام خمینی رہ کے مانند یا ان سے بر ترتسلیم کیا جاتا ہے کی ایک فہرست  تیار کرنا شروع کی تو تحقیق کے دوران  صرف حضرت ثقۃ الاسلام کلینی متوی  329 ہجری سے لیکر  حضرت آیت اللہ العظمی سید محسن حکیم رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین  متوفی 1390 ہجری تک   کم سے کم 85 امام خمینیوں  رحمت اللہ علیہم کو پایا جنہوں نے اللہ کی سرزمین پر اللہ کا حکم نافذ ہونے کی وکالت کی ، اسلامی حکومت کے قیام  کی وکالت کی اور عمل اور دعا کے ساتھ مجاہدت کی سرفراز زندگی گزر کی ہے  لیکن امام خمینی رہ کے مانند کامیاب نہ ہوئے ۔ کیوں؟ کیونکہ وہ مظلوم تھے عوام نے انہیں نہیں سمجھا ، انہیں سمجھنے کی صلاحیت عوام میں موجود نہ تھی ، اس لئے وہ مظلوم واقع ہوئے ۔ امام خمینی رہ کواس مظلومیت سے قرن حاضر کے اہل بصیرت  ایرانیوں نے نکالا ہے جس قوم پر دیگر اقوام کو رشک کرنا چاہئے ۔

ایرانی قوم نے مرد  حق کو صحیح پہچانا  ، اسکی رہنمائی کے تحت چلےاور جب پرکھ کا دن آیا یعنی پہلی اپریل 1989 جس دن ایران میں جمہوری اسلامی کے قیام کیلئے ریفرنڈم ہوا۔ انقلاب کے پچاس دن بعد جب اس بات کی نوبت آئی کہ انقلاب قائم تو ہوا  اب فیصلہ یہ کرنا ہے کہ  عوامی حکومت کس قسم کی ہونی چاہئے ۔اس لئے انقلاب  کی کامیابی میں ہر کسی نے اپنی اپنی دعویداری پیش کی  جس میں ایک طرف قوم پرست ، سیکولر ، کمیونسٹ   وغیرہ جماعتیں تھیں اور دوسری طرف امام خمینی رہ کی قیادت والی اسلامی حکومت کے حامی جماعت  تھی اورکے ہرایک دعویدار نے اپنا اپنا موقف پیش کیا ۔ امام خمینی  رہ نے کوئی نیا موقف بیان نہیں کیا بلکہ اپنا دیرینہ موقف دہرایا "جمہوری اسلامی نہ ایک لفظ کم نہ ایک لفظ زیادہ "۔ اس کا فیصلہ عوام پر چھوڑ دیا گیا کہ عوام اپنی رائے کا اظہار کریں کہ وہ کیا چاہتے ہیں۔ اس طرح  عوام سے رائے طلب کی گئی جس میں 98.2% لوگوں نے شرکت کرکے 98 فیصد سے زائد لوگوں نے اسلامی جمہوریہ کی حمایت میں اپنی رائے کا اظہار کرکے انبیاء الہی کے دعوت پر  زمانے کے رائج ضوابط کے تحت اپنی بیعت کا  اعلان کیا  اور انقلاب کے پچاس دن بعد عوام کی حمایت سے  ایران میں اسلامی حکومت کا قیام عمل میں آیا۔اس طرح امام خمینی رہ کی قیادت میں ایرانی قوم نے اسلام کے بغیر ہر طرز کی حکمرانی کو نکارتے ہوئے اسلامی تعلیمات کی روشنی میں حکمرانی  کے سایے میں سرفرازانہ زندگی گزارنے کا پیغام دنیا کے لئے صادر کیا جس سے سیکولر فلسلفے کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ۔ اس عظیم نورانی ارادے پر کھرے اترنے پر طرح طرح کےامتحانات کا سلسلہ  شروع ہوا، جس میں جانی مالی ، سماجی ، اقتصادی ، عقیدتی  اور سیاسی امتحانات شامل ہیں از جملہ:
1980
میں پہلا  صدر ابوالحسن بنی صدر ،صدر جمہور منتخب ہوا  جسے سمجھنے میں نہ رہبر انقلاب   حضرت امام خمینی رہ نہ ہی  ایرانی عوام چوک گئے  کہ ملک کی  زمام اقتدار اس کے ہاتھوں میں چلی گئ ہے جسےنہ اسلامی نظام پر یقین نہیں ہےنہ اسکا احترام بلکہ وہ ایک خائن اور عالم استکبار کا آلہ کار ہے اسلئے امام خمینی رہ نے 11 ستمبر 1981 کو اسے عزل کیا   اورعوام نے لبیک کہا ۔

 22
ستمبر 1980 کو عراقی ڈیکٹیٹر صدام نے حملہ کیا جو کہ آٹھ سال تک جاری رہا جو کہ نومولود ایرانی بچے سے لیکر رہبر انقلاب تک  ایک سخت امتحان تھا جس  میں  امام رہ اور امت کا میاب، سرفراز اور   ثابت قدم نکلے ۔ آٹھ سالہ دفاع مقدس کے دوران  ایرانی مجاہد مسلمانوں نےجہاں دفاع میں ہر قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کیا وہاں داخلی سطح پر اسلام کے نام پر قائم ہونے والی حکومت  اندرونی طور متزلزل کرنے کی سازشیں جاری رہی ، امام اور امت ثابت قدم رہے ۔

 27
جون 1981حضرت آیت اللہ خامنہ ای مدظلہ العالی کو مسجد ابوذر میں شہید کرنا چاہا  جہاں وہ صرف زخمی ہوئے  اور  اللہ نے انہیں اسلام اور مسلمین کیلئے ذخیرہ رکھا ۔
 
جون 1981 کو  پارلمنٹ کو بم سے اڈایا گیا جس میں  شہید مظلوم حضرت آیت اللہ ڈاکٹر شہید بہشتی  اپنے 72 ساتھیوں کے ساتھ شہید ہوئے  اس کے دو ماہ بعد صدر جمہور محمد علی رجائی اور  وزیر اعظم باہنر کو بم دھماکے سے شہید کیا گیا ۔اس طرح اسلامی حکومت کے بڑے بڑے محافظوں معاونوں کو چن چن کر شہید کرنے کا سلسلہ چلتا رہا  ،آیت اللہ قدوسی ، آيت اللہ صدوق، آیت اللہ دستغیب ، آیت اللہ مدنی ، آیت اللہ مطہری ، آیت اللہ قاضی طباطبائی ، ڈاکٹر مفتح ، حاج مہدی عراقی ، سپہبد قرنی وغیرہ کو شہید کیا گیا  لیکن امام اور امت متزلزل نہ ہوئے ۔ دوسری طرف اہلیت کے لباس میں نااہل نکلے  جیسے آیت اللہ سید کاظم شریعتمداری کہ جنہیں ایران میں حضرت آیت اللہ العظمی بروجردی رہ  کے وفات کے بعد ان کے جانشین کے طور پر جانا جانے لگا تھا اور حضرت امام محسن الحکیم رہ کے وفات کے بعد شاہ ایران کی طرف سے  آیت اللہ شریعتمداری کو تعزیت نامہ ارسال کرنے پر حکومت کا طرفدار مرجع تقلید جانا جانے لگاکیونکہ وہ میانہ روی سے کام لیتے تھے  جو کہ اسلامی اقتدار کیلئے سم قاتل ثابت ہوگیا، آخر کار 1982 میں جامعہ مدرسین حوزہ علمیہ قم نے ایک بیان صادر کیا جس کے ذریعہ آیت اللہ شریعتمداری کو مرجعیت سے عزل کیا گیا ۔اسی طرح آیت اللہ شیخ منتظری کواسلام پروری کے بجائے کمبہ پرور پانے پر1986  میں رہبر انقلاب نے انہیں اپنی قائمقامی سے عزل کیا۔غرض  اگر ایران میں کوئی اسلامی اور تقوی کے لباس میں سامنے آیا  لیکن اسلام اور  اسلامی اقتدار  کیلئے مفید ثابت نہیں ہوا جیسے آیت اللہ شریعتمداری اور آیت اللہ منتظری ،یا  روشن فکر اور  سیاستمدار کے عنوان سے رونما ہونے والے اشخاص جیسے ابولحسن بنی صدر اور مسعود رجوی ، امام اور امت نے  انہیں خوب پہچانا اور انہیں  مسترد کردیا  اور اس راہ میں کسی قسم کی قربانی دینے سے گریز نہیں کیا ۔جس طرح امام  خمینیرہ نے اپنے فریضہ منصبی کا نعرہ دیا" جمہوری اسلامی نہ ایک لفظ کم نہ ایک لفظ زیادہ" اور امت نے جمہوری اسلامی سے نہ ایک لفظ کم نہ ایک لفظ سے زیادہ اصول پرقائم رہنے پرہر آزمایش و امتحان سے سرخ روئی سے نکل کر ہر زمانے کی بصیر قوم ہونا ثابت کردکھایا اور نفع، نقصان کی اصلی تعریف کو سمجھ  بھی لیا اور دیگر اقوام کیلئے مشعل راہ بھی قرار دیا ہے ۔ جس طرح حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا ہے " ما خیر بخیر بعدہ النار ، ما شر بشر بعدالجنه" وہ آسایش و آرام ، آسایش و آرام نہیں ہے جس کا انجام جہنم ہو اور وہ مصیبت اور مشکل ، مصیبت و مشکل نہیں ہے جس کا انجام جنت ہو ۔ اس طرح ایرانی مسلمان قوم دعای ابراہیمی " ربنا آتنا فی الدنیا حسنه و فی الآخرۃ حسنه" پالنے والے ہمیں دنیا میں بھی خوبیاں عطا کر اور آخرت میں خوبیاں عطا فرما"، کو اپنے حق میں مستجاب کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں ۔ جن کی دنیا بھی سنور گئ اور آخر ت بھی سنور  گیا ۔اسلام اور اسلامی حکومت کے نام پر ایرانی قوم کو ہر سطح پر امتحان دینا پڑا ہے ۔ ایسا نہیں کہ مفت میں اسلامی جمہوری ایران کی محبت ہر پاک اور بے غرض دل میں بسی ہے بلکہ اس کے لئے انہیں بیش بہا قربانیاں دینی پڑی ہیں ، جوکہ دیگر اقوام کیلئے مشعل راہ ہے اس لئے میرا ماننا ہے کہ  امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے نسبت محبت و ارادت ہونا ایرانی اسلام شناس مسلمانوں کے نسبت محبت اور ارادت کانام ہے۔ امام خمینی رہ کے نسبت خراج عقیدت پیش کرنا ایران کی مومن اوربا بصیرت مسلمانوں کی قدردانی کرنے میں مضمر ہے ۔ بلکہ میں یہاں پراپنے عقیدے کو بھی اظہار کرتا چلوں کہ ایران کے اہل بصیرت مسلمانوں کی قدردانی کرنا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  سے لیکر امام زماں حضرت حجت ابن الحسن عجل علی ظہورک ،کے قلوب و حرم الہی کو خشنود کرنے کے مترادف ہے۔

یہاں پر پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا صرف ایرانی عوام نے قیام کیا ہے، انقلاب لایا ہے اور عوامی حکومت قائم کی ہے ؟ اس کے جواب میں کہا جاسکتا ہے کہ  جی نہیں اس اعتبار سے ایرانی قوم ایک اکیلی قوم نہیں ہے جس نے قیام کیا ہو انقلاب لایا ہو ، ہر عوامی انقلاب میں ایرانی اسلامی انقلاب کا اپنا خاص مقام محفوظ ہے جس کی طرف اشارہ کرنے سے پہلے  یہاں پر چند ایک مثالوں  کا تذکرہ کرتا ہوں اور نتیجہ آپ پر چھوڑتا ہوں۔ پہلی  مثال ہندوستان کی ، ہندووستان میں عوامی انقلاب آیا۔لیکن کیا جن اصولوں کے قیام کیلئے انقلاب  وجود میں آیا وہ اصول ہندوستان میں قائم ہوا کہ الٹی گنگا بہنے لگی ۔ ہندوستان میں انقلاب سیکولرازم نظام قائم کرنے کیلئے  پیدا نہیں ہوا تھا  بلکہ غیروں کی بالادستی کو ختم کرکے عوام کی بالا دستی کے لئے انقلاب آیا تھا اور  ہندوستان کی عوام99%  مذہبی ہیں مگر غیر مذہبی قانون  ہندوستان میں نافذ ہے ۔معلوم ہوتا ہے جہاں پر ہندوستانی عوام بصیرت رکھتے ہیں وہاں حکمران اندھے ہو جاتے ہیں اور جہاں حکمران  بصیرت کے ساتھ انقلاب کی قیادت کرتے ہیں انہیں جاہل عوام قتل کردیتی ہے ۔ جیسے گاندھی جی کو جاہل عوام نے قتل کیا  اور قیادت اور عوام کے درمیان تعامل اور ہم آہنگی کا توازن بگڑتا گیا اور غیر قابل تصور نظام ہندوستان عوام پر حکمفرما ہوا ۔پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا لیکن ابھی تک کسی ایک اسلام شناس کو وہاں کا حاکم بننے نہیں دیا گیا۔جن اہل بصیرت لوگوں نے  پاکستان کواسلام اور اسلامی اصولوں کی روشنی میں قائم کرنے کا عہد کیا وہ تنہا پڑگئے اور عوام ان کی حمایت کیلئے سامنے نہیں آئی اور آج کے پاکستان کے حالات سے سبھی آشنا ہیں ۔ہندوستان کی طرح پاکستان میں بھی قیادت اور عوام نے ابھی تک بصیرت کا مظاہرہ نہیں کیا۔ افغانستان نے عظیم انقلاب برپا کیا اور  روس جیسی  دنیا کی بڑی طاقت کو نکا ل باہر کیا لیکن ہندوستان اور پاکستان کے مانند دو طرفہ قیادت اور عوام کی بصیرت کا  فقدان رہا  ۔ اسلام کے نام پر حکومت قائم کرکے مسلمانوں کے خون سے رنگ کر حکومت کی عمارت کھڑی کردی جس سے اسلام کے نام پر حکومت قائم کرنے والے قائدوں کی بصیرت کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔غرض قوموں کو بیدار ہونا ہے ۔ اجتماعی بیداری کی ضرورت ہے انفرادی بیداری سے کچھ حاصل نہیں ہوسکتا ۔ امام خمینی رہ اور اسکی قوم دنیا کو دعوت فکر دے رہی ہے جو اس  دعوت کو سمجھ گیا وہ فلسطین اور لبنان کی نہ جھکنے والی نہ بکنے والی طاقتیں حماس اور حزب اللہ کی شکل میں نمودار ہوکر عقیدہ و ایمان کے ساتھ سیاستمداری کا مظہر بن گیا ۔الحمدللہ جس اسلامی بیداری کی بیچ کو امام خمینی نے مومن عوام کی حمایت کے ساتھ پہلی اپریل 1989 کو ریفرنڈم کے ذریعہ اپنے موقف کا نعرہ "استقلال آزادی جمہوری اسلامی نہ یک کلمہ کم و نہ یک کلمہ زیاد"(خود مختاری ،آزادی،جمہوری اسلامی سے نہ ایک لفظ زیادہ نہ ایک لفظ کم) دے کر بویا ہے اسکے ثمرات اب عرب ممالک میں خاص کرمصر،لیبیا،ٹیونس اور بحرین وغیرہ میں دیکھنے کو ملتے ہیں اور ہر طرف اس حقیقت کا اعتراف ملتا ہے کہ مسلمانوں میں اسلامی بیداری اور خود اعتمادی کی لہر دوڑ پڑی ہے۔

آج  امام خمینی رہ کے وفات کو 24 سال  ہوئے لیکن اسلامی تعلیمات کی روشنی میں پائيدار ترقی اور خوشحالی حاصل ہونے پر مکمل اعتماد رکھتے ہوئے اسوقت اسلامی ایران روز بہ روزمادی و معنوی کی ایک ایک منزل فتح کرتا نظر آتا ہے  اور یہ عوام کی بصیرت  اور ایمان کا مظہر ہے۔

سلام و  درود ایران کے عوام پر جنہوں نے تمام  انبیاء الہی ، ائمہ ھدی  علیہم السلام  اورعلماء ربانی  اولیا ء اللہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین  کی مظلومت پر نوحہ سرائی اور یاوری کا علم بلند کیا   اور تعلمیات الہی پر لبیک کہتے ہوئے متحدہ طور پر خدا کی ایک رسی کو تھامنے  والی ایک با بصیرت ترین قوم ہونے کا شرف اپنے لئے مخصوص کیا ہے  جو کہ قرن حاضر میں تعلیمات الہی کو لبیک کہنے پر بشر کیلئے فیوضات الہی کے دروازے  کھولنے کی روشن ترین مثال ہمارے سامنے موجودہے،اسلئے خدا کی  نعمتوں کاشکر بجالانے کے طور پر  ایرانی قوم کی متحدہ طور خدا پسند عمل کام انجام دینے پر داد تحسین دینا ہے قدردانی کرنی ہے کہ انہوں نے مرد حق کو پہچاننے میں ذرا بھر بھی چوک نہ کی اور حرف حق پر مر مٹنے کے حد تک کئے عہد پر  ابھی تک  ثابت قدم ہیں اور ہر قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتے ہیں، ساتھ ہی دعا کرتے ہیں کہ دیگر اقوام عالم کو از جملہ کشمیری عوام کو بھی اہل بصیرت قوم ہونے کی توفیق نصیب فرمائے ۔آمین
 
سید عبدالحسین کشمیری

تاریخ درج مطلب : : //

آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
این سایت متعلق است به 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر