»
سه شنبه 2 آبان 1396

سبھی عرب ممالک ایران کامقابلہ کرنے کیلئے متحدہو جائیں:سعودی قلمکار


حال ہی عرب امارات کے اخبار خلیج  ٹائمزنے ایران اور امریکا کے درمیان روابط ٹھیک ہونے کے احتمال کو لے کر عرب ممالک کو اسکا مقابلہ کرنے کا مشورہ دیا تھا کہ جس سے محسوس ہو رہا تھا کہ دوسرے عرب قلکاہر بھی اس بات پر زور دینے کی دوڑ میں لگ جائيں گے۔اور ایسا ہی ہوا ہے ۔


سعودی عرب کے ایک قلمکار  علی بلاوی نے خلیج ٹائمز میں چھپے مراسلے کے بعد نہ صرف ایران اور امریکا  کے درمیان روابط ٹھیک ہونے  پر مراسلہ تحریر کیا بلکہ  ایرا ن کے خلاف الزامات کا پٹارا کھول دیا کہ ایران  افریقا سے  دہشتگردوں کو  سعودی عرب میں افراتفری پھیلانے کیلئے یمن منتقل کرتا ہے ۔لیٹن امریکا میں ایران ایک اور حزب اللہ بنا رہا ہے۔امریکا میں ایران نے سعودی عرب کے سفیر کو قتل کرایا وغیرہ جیسے  بیہودہ الزامات کی داستان رقم کرکے نتیجہ نکال رہا ہے کہ ایران ہمسایہ عرب ممالک کے لئے قابل احترام نہیں اور جو ہمسایہ قابل احترام نہ ہو اسکے ساتھ کیا کیا جانا چاہئے ۔اس طرح آخر میں نتیجے کے طور پر مشورہ دیتا ہے کہ سبھی عرب ممالک کومتحد ہوکر ایران کا مقابلہ کرنا چاہئے۔


میرے لئے اگرچہ یہ عبارت"سبھی عرب ممالک کو متحد ہوکر ایران کا مقابلہ کرنا چاہئے"بظاہر بچکانہ بات لگی لیکن جب غور کیا تو اس بات میں اکثر مسلمان سیاستمداروں یا سیاستمداروں کے تنخواہ داروں  یا نام نہاد علماءکے دل کی بات لگی  جنہوں نے ایران کے نسبت تعصب کا چشمہ لگا کے رکھا ہے یہ جانتے ہوئے کہ دنیا میں  اس وقت ایک اکلوتی اسلامی حکومت جہاں پر اللہ کا حکم نافذ اور الہی احکامات کو نافذ کرنے پر نظارت رکھنے والا اسلامیات کے ماہر اور فقیہ عادل رہبری کرتا ہے جسے ولی فقیہ کے نام سے جانا جاتا ہے۔اسکے باوجود اسلامی ایران کے ساتھ عداوت رکھتے ہیں۔


میرا ایک سوال کیا کسی بھی ایک عرب ملک کا آئين قرآن اور سنت پر مبنی مرتب کیا ہوا ہے ؟کیا  ایران کے بغیر کسی عرب ملک  یا غیر عرب ملک کے آئین میں مندرجہ ذیل عبارت  درج ہے:
آیہ کریمہ" إِنَّ هذِهِ أُمَّتُكُمْ أُمَّةً واحِدَةً وَ أَنَا رَبُّكُمْ فَاعْبُدُونِ" (الأنبياء:92)کے حکم کے رو سے سارے مسلمان ایک ہی امت ہے اور جمہوری اسلامی ایران کی حکومت ، اپنی بنیادی سیاست کو اسلامی اقوام کے درمیان  اتحاد پیدا کرنے اور اس ضمن میں عملی کوششیں جاری رکھنے جس سے سیاسی ، اقتصادی  اور عالمی ثقافتی اتحاد محقق ہوسکے کیلئے پابند ہے۔


اسلام ایران کا رسمی دین  اور  مذہب(مک ا) جعفری اثنی عشری ہے اور یہ اصول الی الابد تغیر پذیر نہیں ہے اور دیگر اسلامی مذاہب(مسالک) از جملہ حنفی ، شافعی ، مالکی ، حنبلی اور زیدی مکمل احترام کے حامل ہیں اور ان مذاہب کے پیروکار اپنے دینی رسومات انجام دینے میں آزاد ہیں اور  دینی تعلیم و تربیت اور احوال شخصیہ جیسے(شادی بیاہ ، طلاق ، ارث اور وصیت) اور ان سے متعلق دعوی عدالتوں میں رسمیت کے حامل  ہیں اور ہر علاقے میں جہاں ان مذاہب کے پیروکاروں کی اکثریت  ہے وہاں  پرعلاقائی حدود کے اختیارات اسی مذہب کے شورای کو ہوں گی جو سارے  مذاہب کے حقوق کے تحفظ کا بھی خیال رکھیں گے۔


ایرانی زرتشتی ، کلیمی اور عیسائی دینی اقلیتیں ہیں جو کہ قانونی دائرے میں اپنے دینی مراسم انجام دینے میں آزاد ہیں اور احوال شخصیہ اور دینی تعلیمات کو اپنے اپنے دین کے مطابق عمل کریں گے۔


آیہ شریفہ کے حکم « لا يَنْهاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذينَ لَمْ يُقاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَ لَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَ تُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطينَ»(الممتحنة:8) کے رو سے  حکومت جمہوری اسلامی ایران اور مسلمان غیر مسلمانوں کے ساتھ اخلاق حسنہ ، عدل و انصاف کے ساتھ پیش آنے  اور انکے انسانی حقوق رعایت کرنے کے پابند ہیں تاکہ اسلام اور جمہوری اسلامی ایران کے خلاف کوئی سازش کرنے کی کوشش نہ کریں۔


مذکورہ چار دفعات اسلامی جمہوری ایران کے آئين کی دفعہ 11،12،13 اور 14 کا اردو ترجمہ ہے۔


کیا ایران کے بغیر کسی بھی اسلامی ملک میں  اسلام کی حاکمیت کے حق میں کوئي ریفرنڈم ہوا ہے۔قارئين کم و بیش اس  سے واقف ہونگے کہ جب 1979 میں عوام نے آمریت کا خاتمہ کیا تو حکومت سازی کے لئے ریفرنڈم کرایا گیا اور ایران کی ہر ایک سیاسی جماعت سیکولر، کمونیسٹ،نیشنلسث،لیبرل،ڈیموکریٹ،اسلامی وغیرہ نے عوام کے سامنے اپنا اپنا نعرہ اور منشور سامنے رکھا اور اسلامی تحریک  کے قائد حضرت امام خمینی رحمت اللہ علیہ نے"استقلال آزادی جمہوری اسلامی نہ یک کلمہ کم  نہ یک کلمہ زیاد"کا نعرہ پیش کیا اور جب پہلی اپریل 1979 میں ریفرنڈم ہوا تو عوام نے 98.2فیصد ووٹ استقلال آزادی جمہوری اسلامی کے حق میں ڈالے۔جو کہ  اسلام کی تاریخ کا انمول باب ہے جس پر ہرمسلمان کو فخر کرنا چاہئے کہ اگر مسلمان کو اپنے لئے حکومت انتخاب کرنے کیلئے آزاد چھوڑا جائے وہ صرف اسلام کے حق میں اپنا ووٹ ڈالے گا۔اسطرح  پہلی اپریل ہر مسلمان کے لئے ہی نہیں بلکہ ہر مذہبی انسان کیلئے عید ہونی چاہئے۔ لیکن غیر مسلمان کیلئے دور کی بات کیا ایران اور ایران نواز (یعنی اسلام اور اسلام نواز)مسلمانوں کے علاوہ عرب یا غیر عرب مسلمان  اس عید سے اندیکھی نہیں کرتے ۔
امریکا ،اسرائیل اور دیگر استکباری طاقتوں کا اسلامی  ایران کے نسبت تعصب تو سمجھ میں آتا ہے کہ انکی دشمنی اسلام سے ہے جب ایران میں اسلام کا بول بالا نہ تھا آمریت حاکم تھی امریکا ،اسرائيل اور دیگر استکباری طاقتوں  کا ایران کے ساتھ دوطرفہ دوستانہ تعلقات قائم تھے لیکن 1979کے اسلامی انقلاب کے بعد خاص کر پہلی اپریل1979 کے ریفرنڈم کے بعد انکی دوستی دشمنی میں تبدیل ہو گئي لیکن  جس طرح آمری ایران اسلامی ایران میں تبدیل ہونے سے عالم استکبار کی ایران کے ساتھ دوستی دشمنی میں تبدیل ہو گئي تو دیگر مسلمان سیاستمداروں میں بھی تو کوئي بدلاو دیکھنے کو ملنا چاہئے تھا جو کہ نہیں ملتا۔


 
اسلامی ایران کو 34سالوں سے امریکی پابندیوں کا سامنا ہے اور ایران پر اسلام کی حاکمیت سے دستبردار ہونے کیلئے ہر طرح کا دباو ڈالا جارہا ہے۔یہاں تک کہ اسلامی  ایران کے ذرائع ابلاغ کہ جسے ہر بے زبان اپنی زبان سمجھتا ہے پر بھی پابندیاں عائد کی جارہی ہیں۔لیکن افسوس کہ مسلمان قلمکار اور صحافی اسلام کی ترجمانی کرنے کے بجائے اسلام دشمن طاقتوں کی ترجماتی کرتے ہیں۔
عبدالحسین کشمیری


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
قدرت گرفته از سایت ساز سحر