»
سه شنبه 2 آبان 1396

امام خامنہ ای:

اہلسنت برادران کے مقدسات کی توہین اور اہانت حرام ہے

تحریر عبدالحسین

اہلسنت برادران کے مقدسات کی توہین اور اہانت حرام ہے اور پیغمبر اسلام (ص) کی زوجہ پر الزام اس سےکہیں زیادہ سخت و سنگین ہے اور یہ امر تمام انبیاء (ع) کی ازواج بالخصوص پیغمبر اسلام (ص) کی ازواج کے لئے ممنوع اور ممتنع ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِیم
وَ ذَكِّرْ فَإِنَّ الذِّكْرَى تَنفَعُ الْمُؤْمِنِ
(
الذاریات/55)
اور نصیحت کرتے رہیں کیونکہ نصیحت تو مومنین کے لئے یقینا فائدہ مند ہے۔

آج کل چونکہ اسلام دشمن عناصر مسلمانوں کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کیلئے ہر ممکن طریقہ اختیار کرنے کی کوشش میں لگے ہیں اس لئے میں نے سوچا کہ حضرت امام خامنہ ای کا فتوی نقل کرتا چلوں جو ایک بہت بڑی سند ہے کہ شیعہ اور سنی کے درمیان مذہبی اعتبار سے ایکدوسرے کے دست بہ گریبان ہونے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔

حضرت امام خامنہ ای نہ صرفا اسلامی جمہوری ایران کی ولایت فقیہ حکومت کے صاحب ولایت ہیں بلکہ شیعوں کے مرجع تقلید اور امام ہیں جن کا فرمان تمام مومنین کے علاوہ مراجع تقلید پر بھی نافذ ہے۔

فتوی بیان کرنے سے پہلے یہاں پر اسلام ، مذہب جعفری اور اثنی عشری کی مختصر وضاحت کرنا چاہوں گا وہ یہ کہ مذہب جعفری اسلام کے مقابل مذہب کا نام نہیں ہے بلکہ مذہب کلمہ ذہاب کےمادّہ سے لیا گیا ہے جس کا معنی طریقہ ہے۔یعنی جس طرح دین مقدس اسلام کے آئین کےاستعمال کے سلسلے میں مختلف طریقے بیان ہو رہے ہیں جن میں مذہب جعفری بھی شامل ہے۔

مذہب جعفری کی وضاحت سے پہلے لفظ شیعہ کے حوالے سے بھی توضیح دینا لازمی سمجھتا کہ شیع(جماعت) اور شیعہ(پیروکار) مصدر باب تفعل سے ہے جسکے لغوی اور اصطلاحی معنی ہیں۔الشیعہ فرقہ یا منفرد موقف رکھنے والی جماعت کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔

شيعة الرجل :یعنی دوست اور ایک مرد کے ساتھی جسکا جمع اشیاع اور شیع ہےکہ جسے مثل و ماننداور فرقہ اور جماعت کے نام سے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ جیسے و لقد ارسلنا من قبلك فى شيع الاولين (حجر, ۱۰) ۔قرآن میں لفظ شیعہ بطور مفرد چار بار آیا ہے ، ایکبار اکیلے(مریم ۶۹) اور تین بار اضافے کے ساتھ(قصص۱۵ صافات۸۳) پہلی آیت میں جماعت کے معنی کے ساتھ اور باقی میں پیروکاروں کے معنی میں بیان ہوا ہے۔

اصطلاح میں شیعہ حضرت علی علیہ السلام کے پیروکاروں کوکہا جاتا ہے ۔ لیکن اصطلاحی شیعہ میں اصلی شیعہ کی نشاندہی کرنی بھی ضروری ہے کیونکہ اصطلاحی شیعہ فرقے بہت سارے ہیں لیکن اصلی اور اکثریتی شیعہ ایک ہی ہے جنہیں شیعہ اثناعشری اصولی کہا جاتا ہے جن کا حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارہ جانشینوں پر اعتقاد اور ایمان ہے۔اس حوالے سے مسلم(صاحب صحیح مسلم) نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کے احادیث نقل کئے ہیں جن میں آنحضرت کا اپنے بعد بارہ ائمہ متعارف کرنے کا اعتراف موجود ہے از جملہ: جابر بن سمرہ نقل کرتے ہیں کہ میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کو فرماتے سنا کہ: اسلام ہمیشہ عزیز رہے گا جب تک میرے بارہ خلیفہ ان پر حکومت کرتے ہیں ۔ اسکے بعد کچھ اورکہا میں سمجھنے سے قاصر رہا میں نے اپنے والد سے پوچھا آنحضرت نے یہ کیا فرمایا ، تو انہوں نے کہا کہ آنحضرت نے فرمایا کہ وہ سب قریش سے ہوں گے۔(صحیح مسلم، ج۶،ص ۳، کتاب الامارہ)۔

حموینی نے فرائد السمطین میں اپنی سند کے ساتھ ابن عباس سے نقل کیا ہے کہ نعثل نامی ایک یہودی رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی ۔ اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)مجھے آپ سے کچھ سوال کرنے ہیں جو کہ بڑی مدت سے میرے ذہن میں ہیں اگر آپ نے انکا تشفی بخش جواب دیا میں آپ پر ایمان لاوں گا ۔ آنحضرت نے فرمایا : اے ابا عمارہ پوچھو کیا پوچھنا ہے :ان سوالات میں ایک سوال آنحضرت کے وصی کے بارے میں تھا ۔ عرض کیا مجھے اپنے وصی کے بارے میں بتائیں کیونکہ ہر پیغمبر کا وصی رہا ہے ۔ جس طرح ہمارے نبی موسی بن عمران کا وصی یوشع بن نون تھا ۔ آنحضرت نے جواب میں فرمایا:" میرے بعد میرا وصی علی ابن ابیطالب ہیں ان کے بعد حسن اور حسین اور حسین کے بعد انکے پشت سے نو امام ہیں"۔ اس نے مذید سوال کیا اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے نام بتائیں : آنحضرت نے فرمایا:" حسین کے بعد انکافرزند علی ، ان کے بعد ان کا فرزندمحمد ، ان کے بعد ان کا فرزند جعفر ، ان کے بعد ان کا فرزند موسی ، ان کے بعد ان کا فرزند علی ، ان کے بعد ان کا فرزند محمد ، ان کے بعد ان کا فرزند علی ، ان کے بعد ان کافرزند حسن ، ان کے بعد ان کا فرزند حجت محمد مھدی امام ہوں گے اور یہ بارہ ہیں"۔(فرائد السمطین ، ج۲،ص۱۳۲؛ ینابیع المودہ، ج۳، ص ۲۸۱-۲۸۲)۔

اس کے علاوہ آنحضرت کی معروف حدیث "الحسن والحسین اماما امتی بعد ابیھما" ۔ حسن اور حسین اپنے باپ کے بعد میری امت کے امام ہیں ۔اور اس عقیدے کا تسلسل صدر اسلام سے چلا آ رہا ہے۔
 
پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ہی آنحضرت اپنےجلیل القدر صحابہ کرام حضرات سلمان فارسی ، ابوذر غفاری ، مقداد بن اسود کندی ، عمار بن یاسر کو امام علی علیہ السلام کے شیعہ کے نام سے یاد کرتے تھے یعنی علی کے خاص معتمدین اور یہ سلسلہ جاری رہا، ہر امام کے لئے کچھ معتمدین خاص ہوا کرتے تھے اور دور حاضر میں آیات عظام حضرات امام خامنہ ای، سید علی حسینی سیستانی، شیخ ناصر مکارم شیرازی ، شیخ صافی گلپایگانی، شیخ نوری ہمدانی ، شیخ عبداللہ جوادی آملی ، شیخ جعفر سبحانی وغیرہ بارہوں امام کے معتمد خاص اور نائب امام ہیں۔لہذا تشیع دین اسلام ہے اور مکتب جعفری وہی کتاب اور سنت ہے لیکن اس میں اثنی عشری(بارہ امامی) کا لفظ اضافہ کرنا ضروری ہے تاکہ باقی مکاتب جیسے اسماعیلیہ اور واقفیہ جو کہ جعفری کہلاتے ہیں لیکن ولایت اور امامت کا سلسلہ بارہوں امام تک نہیں مانتے ہیں کی علیحدگی واضح ہوجائے۔کیونکہ اکثر اصطلاحی شیعوں کی وہ باتیں جو اشتعال انگیز ہوا کرتی ہیں انہیں مکتب جعفری اثنا عشری کے عقیدے کے طور پر پیش کرکے اصلی تشیع کے چہرے کو مسخ کرنے کی کوشش کرنا چاہتے ہیں۔ جسے شیعہ حراسی کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے، جوکہ استعمار خاص کر صہیونزم کے اسلامی دشمنی سازشوں کا حصہ ہے۔ دنیا بھر میں صرف چار ملکوں میں ایران ، عراق ، بحرین اور لبنان میں شیعہ جعفری اثنا عشری یوں کی اکثریت ہے جو ہمیشہ استکبار کے خلاف برسر پیکار رہے ہیں اور ابھی تک صرف ایرانی عوام اپنے ملک سے استکبار کی جڑیں اکھاڑ پھیکنے میں کامیاب ہوئے ہیں اس طرح وہاں قرآن اور سنت کے ماہر استاد فقیہ جامع الشرائط کی قیادت میں ولایت فقیہ نامی حکومت حضرت امام خمینی (رحمۃ اللہ تعالی علیہ) کی قیادت میں قائم ہو چکی ہے ۔ امام خمینی (رہ) اسلامی حکومت کے قیام سے لیکر ہی امت اسلامی ترقی اور خوشحالی کا راز شیعہ اور سنی اتحاد میں مضمر جانتے رہے ہیں اور انکے بعد امام خامنہ ای بھی اس امر پر خاصا تاکید کرتے رہے ہیں۔

شیعہ اور سنی اتحاد کے بارے میں شیعوں کا موقف اور عقیدہ حضرت امام خامنہ ای کے فتوی سے واضح ہوتا ہے۔اس ضمن میں امام خامنہ ای سے سوال کیا گیا کہ:" بعض سٹلائٹ اور انٹرنیٹ ذرائع‏ ابلاغ پر زوجہ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ) کے بارے میں توہین آمیز اور ناپسندیدہ کلمات اور پیغمبر اسلام (ص) کی ازواج کے بارے میں عفت اور کرامت کے منافی الزامات عائد کئے گئے ہیں ان کے بارے میں جناب عالی کا فتوی کیا ہے؟
آپ پر مخفی اور پوشیدہ نہیں ہے کہ اس قسم کی توہین آمیز حرکات کی وجہ سے تمام اسلامی مذاہب اور مکتب اہلبیت (علیھم السلام ) کے پیروکاروں میں زبردست بےچینی،نگرانی اور نفسیاتی دباؤ قائم ہوگیا ہے۔ "

سوال کے جواب میں حضرت امام خامنہ ای لکھتے ہیں:" اہلسنت برادران کے مقدسات کی توہین اور اہانت حرام ہے اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ) کی زوجہ پر الزام اس سےکہیں زیادہ سخت اور سنگین ہے اور یہ امر تمام انبیاء (علیہم السلام) کی ازواج بالخصوص پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ازواج کے لئے ممنوع اور ممتنع ہے۔"

ایسے واضح اور روشن مذہبی موقف کے ساتھ کوئی بھی شیعہ اپنے آپکو شیعہ ظاہر کرتے ہوئے اہل سنت برادران کے مقدسات کی اہانت نہیں کرسکتا ہے اور اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو اسے امام کا شیعہ نہیں بلکہ شیطان کا شیعہ کہا جاسکتا ہے۔

آہستہ آہستہ یہ بات عام و خاص پر عیاں ہوتی جارہی ہے کہ علمای اسلام کبھی بھی مذاہب اسلامی کے درمیان اختلافات ہونے کے قائل نہیں رہے ہیں۔ اگر کبھی کسی عالم نما شخص نے اختلافات کو ہوا دینے کی کوشش کی تو آخر میں معلوم ہو جاتا ہے کہ ایسا شخص یا تو استعمار کا آلہ کار رہا ہے یا تو علم کے لباس میں جہل مرکب۔

علمای اسلام مسلمانوں کے درمیان اتحاد اور یکجہتی پر زور دیتے ہیں۔ شیعہ مراجع پہلے سے ہی سنی کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز سمجھتے رہے ہیں اور اب جامعہ الازھر مصر کے شیخ "ڈاکٹر احمد الطیب" بھی شیعوں کے پیچھے نماز پڑھنے کو جائز قرار دے چکے ہیں۔

اللہ سے دعا ہے کہ مسلمانوں کے ہر فاسد امر کی اصلاح فرما دے ۔
عبدالحسین کشمیری


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
قدرت گرفته از سایت ساز سحر