»
جمعه 26 آبان 1396

بسم اللہ الرحمن الرحیم

صدر زرداری کا اعتراف کہ کشمیرمیں عسکریت پسندی دہشتگردی ہے ایک تلخ حقیقت01

سلام علیکم

قارئیں محترم سے مؤدبانہ اور خاضعانہ درخواست ہے کہ صدر پاکستان کے کشمیری عسکریت کے حوالے سے دیئے گئے بیان" کشمیرمیں عسکریت پسندی دہشتگردی ہے " پر  جو رد عمل میں نے ایک کشمیری طالب علم ہونے کے حوالے ظاہر کیا ہے آپ بھی اپنی رائے ظاہر کریں ۔ میں نےپہلا بیان  ‏ 06‏ اکتوبر‏، 2008 کو تحریر کرکے اخباروں کیلے روانہ کیا جسکا مختصر اکتباس ٹیک ون چینل سرینگر نے شکریہ کے ساتھ نشر کیا ، کیونکہ اخبار کا وقت محدود ہوتا ہے اسلئے مطلب تشنہ رہا اگر چہ میں نے کئ اخبارات کے نام بھی ایمیل کیا تھا لیکن کسی ایک نے بھی اسے اپنے اخبار کے قابل سمجھا۔ پھر میں نے ٹیک ون سے پیدا شدہ تشنگی کو دور کرنے کیلئے پہلے سے زیادہ واضح الفاظوں میں 11‏ اکتوبر‏، 2008 کو دوسرا بیان جاری کیا جسے کئ اخبارات کے نام پر ایک بار پھر ایمیل کیا لیکن ابھی تک کسی ایک  اخبار نے بھی اس کو خاطر میں نہ لایا ۔ اس موضوع پر اس قسم کی پردہ داری میری سمجھ سے باہر ہے ۔میرا ایمان ہے کہ صدر پاکستان کا بیان اگرچہ تلخ ہے لیکن کشمیر کیلئے کسی آب حیات سے کم نہیں ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ کشمیری عوام اس موضوع پر ہمفکری پیدا کرکے اپنا مطالبہ صرف صداقت اور تاریخی حقائق پر مبنی جاری رکھے تا کہ آزادی کا سورج صحیح معنوں میں  دوبارہ طلوع کرسکے ۔ تجزیے کا مطالعہ کرکے اپنی آراء agaabdulhussain@yahoo.com پر ارسال کرکے مشکور فرمائیں ۔

صدر صاحب کا شکریہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم

الھم صلی علی محمد و آل محمد واھدنی لما اختلف فیه من الحق باذنک انک تھدی من تشاء الی صراط مستقیم ۔

قال رسول الله صلی الله علیه وآله وسلم : الْمُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ الْمُسْلِمُونَ مِنْ يَدِهِ وَ لِسَانِه

رسول اﷲ صلی اﷲ  علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا ہے: مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھوں اور زبان سے مسلمان محفوظ رہ سکے ۔

کشمیر کے حوالے سے پاکستانی صدر جمہور جناب آصف علی زرداری کا دیا ہوا  تازہ بیان کہ کشمیری عسکریت پسند لوگ مجاہد آزادی نہیں بلکہ دہشت  گرد ہیں کہنا ایک طرف  انکی مجبوری کی عکاسی کرتا ہے لیکن دوسری طرف اسی مجبوری کے پیچھے نہ جانے کیوں کر ایک تلخ حقیقت کا ایک گوشہ اٹھتا نظر آرہا ہے ، وہ یہ کہ کشمیر میں سرگرم عسکریت تحریک  اپنا مقام محفوظ رکھنے  میں کئ اعتبار سے کمزور پڑ گئ ہے کہ کل  تو کشمیر کی جنگ آزادی کے نام پر اس گوریلا کو مجاہد آزادی اور پھر  عسکریت پسند اور پھر ملٹنٹ اور اب دہشت گر کے عنوان سے یاد کیا جانے لگا  ۔آخر کیوں !

کیوں کہ  ہماری اس جدوجہد  آزادی کی تحریک کے ہر میدان میں (عسکری ہو یا سیاسی ) منافق اور ناسالم افراد شعوری اور غیر شعوری طور پیدا ہو گئے اور اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی گئ ۔ میں صدر پاکستان جناب آصف علی زرداری کی داد تحسین دئیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اس نے حقیقت سے نزدیک حقیقت کا تو برملا اظہار کیا ہےاب چونکہ انہوں نے جرئت کا مظاہرہ کیا ہے اب اپنے بیان کو شفافیت کے ساتھ اظہارکریں اور جس طرح انہوں نے اپنے پہلے صدارتی خطبے میں پارلمنٹ میں اپنے سیاسی ذہانت کا مظاہرہ کیا اور پاکستان کے سیاسی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کرکے رفیق و رقیب قوتوں کو اعتماد میں لے کر پاکستان کی سالمیت ، ترقی اور خوشحالی  کے تئین اپنے سیاسی خطوط واضح کئے اسلئے میرا ماننا ہے کہ جس طرح کشمیر کے بعض سیاسی رہنماؤں نے صدر صاحب کی طرف سے منسوب بیان پر تبصرہ کرنے پر کہا کہ اصل بیان کو دیکھنا ضروری ہے کہ کہی ایسا نہ ہو کہ بیان کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا ہو  البتہ میں اس پر اضافہ کرتا چلوں کہ اگر چہ بیان کو توڑ مروڑ کر بھی پیش کیا گیا ہو لیکن بات جو نکل پڑی ہے وہ فال نیک تصور کیا جائے کیونکہ جو تلخ بات سامنے آئی ہے اس میں شفا بھی موجود ہے وہ یہ کہ کشمیر کے سیاسی  حالات پر نظر  رکھنے والے افراد اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کہ کشمیر میں جب سے بندوق داخل ہوا ہے تب سے بہت زیادہ بیگناہوں کا خون بہا ہے اور جدوجہد آزادی کے نام پر کشمیر  آزادی کے بجائے  کشمیری آزاری زیادہ رہی ہے جس سے منزل آزادی قریب ہونے کے بجائے دور  اور کٹھن ہوتی رہی  اور میرا اندازہ ہے کہ شاید صدر پاکستان اسی حقیقت کی عکاسی کرنا چاہتے ہیں کہ کشمیر میں عسکری دور سے جدوجہد آزادی کو  بند راستے  اور دہشت گردی کو  سیع  میدان فراہم ہوا ہے۔  اور جس حدیث نبوی  صلی اﷲ  علیہ وآلہ وسلم کو عنوان گفتگو قرار دیا کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھوں اور زباں سے مسلمان محفوظ  رہ سکے کے اعتبار  سے ہم سے بہت نامسلمانی سرزد ہو چکی ہے ۔ واضح رہے میرا تجزیہ عسکری تحریک(جو مسئلہ کشمیر کو بندوق  سے حل کرنے کا نظریہ رکھتے ہیں) کے بارے میں ایسا ہے کہ عسکری تحریک سے جہاد کے نام پر جہالت کا پرچم بلند کیا گیا ۔ البتہ جو اس راہ میں مارے گئے وہ ہر معصوم فرد جو  صرف جذبہ جہاد فی سبیل اﷲ کا جذبہ لئے میدان کار زار میں کود پڑاہے وہ شہید  ہے اور خدا ان کو بہشت نصیب کرے گا اور انکو شہید کہنا میرا  اپنا عقیدہ نہیں ہے بلکہ فرمائش مولی امیر المؤمنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام ہے کہ جب ان سے پوچھا گیا :کیا جنہوں نے امیر شام کی قیادت میں آپ کے خلاف جنگ لڑی  وہ سبھی جہنم میں جائیں گے؟ امام علیہ السلام نے فرمایا :"نہیں ممکن ہے جو  حتی میرے ہاتھوں مارے گئے ان میں سے بھی بعض بہشت میں جائیں گے کیونکہ ان کا عقیدہ تھا کہ وہ حق پر تھے اور میں باطل پر"۔ اگر مجھے اس بارے میں پوچھا جائے کہ کیا کشمیر میں جاری عسکری جدوجہد  دہشتگردی ہے یا جہاد ہے ؟ تو میرا جواب ہوگا عسکری تحریک کشمیری جدوجہد آزادی کیلئے بلخصوص اور کشمیری مستقبل کیلئے بالعموم سم قاتل کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ اس با ت کا اظہار میں آج نہیں کررہا ہوں بلکہ سن 2000 میں اسلام آباد پاکستان  میں مختلف مراکز  اور سٹیجوں پر کر چکا ہوں ۔ ہمیں اس بات کو قبول کرنا چاہئے کہ عوامی طاقت الہی طاقت ہوا کرتی ہے اسلئے عسکری تحریک کی ترجمانی کرنے کے بجاے ہمیں عوامی تحریک کو  مضبوط سے مضبوط   اورمنظم  طریقے سے متحرک رکھنا ہو گا تاکہ کم سے کم نقصان پر زیادہ سے زیادہ  فائدہ حاصل ہو سکے ۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جو فائدہ بے دفاع لوگوں کی شہادت نے اس تحریک آزادی کو عطا کیا ہے وہ عسکری ہلاکتوں یا شہادتوں سے میسر نہیں ہو سکا ۔ اسلئے بہتر ہے کہ ظالم بننے کے بجائے مظلومانہ جدوجہد جاری رکھتے ہوئے اپنے حوصلہ بلند رکھیں اور صدر پاکستان کا کشمیر کو کشمیریوں کے حوالہ کرنے پر ان کا شکریہ کیا جائے ۔ اور جس طرح اسوقت کارڑنیشن کمیٹی کی شکل میں جدوجہد آزادی کشمیر   ایک منظم  پر امن راستہ انتخاب کئے ہوئے ہے اسکی تقویت کیلئے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے اور  دنیا پر واضح کر دیا جائے کشمیریوں کی تحریک وہ تحریک ہے جو کہ بر صغیر میں انگریزوں کے انخلا سے پہلے وجود میں آ چکی تھی اور عامریت اور ظلم کے خلاف اپنے سیاسی مستقبل کی ضمانت حاصل کرنے کیلئے جہدوجہد کرتی چلی آئی ہے، ہے ۔

والسلام

آغا سید عبدالحسین بڈگامی

‏پیر‏، 06‏ اکتوبر‏، 2008


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
قدرت گرفته از سایت ساز سحر