»

مطالب ویژه

صدر زرداری کا اعتراف کہ کشمیرمیں عسکریت پسندی دہشتگردی ہے ایک تلخ حقیقت02
موجودہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کشمیر کو صدیوں سے کھویا ہوا وقار واپس دیکر اپنی قدیم تاریخی حیثیت سے ایک آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر قبول کریں کیونکہ کمزور پر طاقت اور بزرگی کامظاہرہ کرکے دبانا اور کچلنا بڑکپن نہیں ہے بلکہ کمزور کی حمایت اور دفاع کرنا بزرگی کا مظہر ہے۔ دونوں بڑے طاقت ہندوستان اور پاکستان کو اپنی طاقت اور اپنی بزرگی کا مظاہرہ حقیقت پسندی کے ساتھ کرنا ہوگا اور اپنے ہمسایہ ملک کشمیر کے استقلال ، آزادی اور جمہوری اقدار کا سامان فراہم کرکے خطے میں دھشت گردی ، خشونت، بی اعتمادی ، مفلسی اور غربت کے دروازے بند کرکے مسرتوں اور ترقی کے دروازے کھولنے ہوں گے۔ہمارے لئے ہندوستان بھی عزیز اور محترم ہے اور پاکستان بھی عزیز اور محترم ہے بشرطیکہ اسکا پاس و لحاظ رکھا جائے ۔ ظاہر سی بات ہے جو کوئی کشمیری عوام کے نسبت سچا اور شفاف موقف رکھے وہی کشمیری عوام کے نزدیک زیادہ قریب اور حبیب ہوگا ۔

الحاق پاکستان سے دستبرداری کا اعلان تو ہوا اب الحاق ھند سے دستبرداری کا انتظار!

صدر زرداری کا اعتراف کہ کشمیرمیں عسکریت پسندی دہشتگردی ہے ایک تلخ حقیقت02

بسمہ تعالی

تحریک آزادی کشمیر جو کہ ھندوستان کے تاجدار شہنشاہ اکبر کی خود مختار مملکت کشمیر کے خود مختار بادشاہ شہید استقلال کشمیر، جناب یوسف شاہ چک کے ساتھ دغا بازی اور مکر و فریب کے سبب جنم لے گئ تھی ۔ چرخ دوراں کے ساتھ ساتھ کئ خم و بم سے گذرگئ اور پھر ھندوستان کے ٹوٹنے کے بعد ایک ایسے مخمصے میں جکڑ دی گئ کہ جس سے جانی و مالی نقصانات اور عمومی جمود کے سوا کچھ حاصل نہ ہو سکا ،البتہ ھندوستان اور پاکستان کے درمیاں نرمی یا  گرمی کے ساتھ کبھی ہاں اور کبھی نا ، کی بے نظیر باب رقم ہوتی رہی۔ اس بیچ کبھی کشمیری کو خاطر میں لایا گیا کبھی بھلا دیا گیا جس سے کشمیری عوام دل برداشتہ نہ ہوا وہ حصول آزادی کی ہر ممکن طریقے سے آبیاری کرتا رہا ہے اور آبیاری کا طریقہ کار دو عمدہ عنوان " عسکری اور سیاسی "جدوجہد کے ساتھ  معروف رہا ۔ جدوجہد آزادی کے ان دو طریقہ کاروں کے نسبت ھندوستان اور پاکستان کا جدا گانہ موقف رہا ۔ ایک طرف پاکستان عسکری جدوجہد میں شامل جیالوں کو مجاہد آزادی کے نام کے ساتھ یاد کرتا رہا اور دوسری طرف  ہندوستان ان جان بازوں کو دھشت گرد کہتا رہا ۔ پاکستان عسکری جدوجہد کو اسلئے مجاہد آزادی کا عنوان دیتا رہا کیونکہ پاکستان نے کشمیر کو عسکری اور فوجی قوت کے ساتھ ایک حصہ حاصل کیا اور اب باقی حصے کو بھی ان ہی خطوط پر حاصل کرنا چاہتا تھا اور ھندوستان مسلح تحریک کو اس لئے دھشت گردی کہتا رہا کیونکہ اس نے عسکریت اور فوجی قوت کے بل بوتے پر کشمیر کے عمدہ حصےپر قبضہ جمایا ہے  اور عسکری جدوجہد سے ہندوستان کی عسکری اور فوجی حیثیت کو چلینج ہوتا ہے اور  یہی دو عنصر دونوں ملکوں  کو "کشمیر ہمارا ہے " "کشمیر ہمارا ہے" کے نام پر کئ بار آپس میں لڑا چکے ہیں، جس پر اقوام متحدہ نے بھی کشمیر کو متنازعہ عنوان کرکے تحریک آزادی کشمیر کو انگریزوں کی ایجاد کردہ ناسور پر مہر ثبت کرکے کشمیر کی خود مختار اور تابناک ماضی سے آنکھیں چرا کر کشمیری عوام کے سیاسی مستقبل کو ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ محدود کرکے ان دو صفوں کا حَکَم بن کر آدھے ادھر جاو آدھے ادھر جاو اور باقی میرے پیچھے آو کہہ کر کشمیر کو سیاسی مذاق بنا چھوڑا اور حق خود  ارادیت کے  دلفریب عنوان کے ساتھ  خواب خرگوش کشمیری اذہان پر حاکم کیا گیا اور اس حق خود ارادیت کے دلفریب نعرے سے صرف منافقانہ بازار گرم رہا ہے ۔یعنی اگر حق خود  ارادیت کا نعرہ جائز ہے تو ہر ہند نواز بھی صحیح ہے اور ہر پاکستان نواز بھی صحیح ہے البتہ ہر کشمیر نواز نہیں ہے۔اس طرح الیکشن میں حصہ لینے والا بھی صحیح ہے اور الیکشن کا بائیکاٹ کرنے والا بھی صحیح ہے اور ان دونوں طریقوں پر بیزاری کرنے اور رونے والا نہیں ہے ۔ ذرا غور کریں!

اس تناظر میں میرا ماننا ہے کہ صدر پاکستان جناب آصف علی ذرداری کشمیری عوام کیلئے ایک محسن بنکر سامنے آئے ہیں جنہوں نے ایک طرف کشمیر میں جاری عسکری جدوجہد کو دھشت گردی جیسے تلخ عنوان کے ساتھ اپنی حمایت بند کرنے کا اعلان کیا ہے  اور دوسری طرف کشمیریوں کی عوامی تحریک کا سیاسی اخلاقی سطح پر حمایت جاری رکھنے کا اعادہ کیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان نے کشمیر پر للچائی نظروں سے دیکھنا بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ اعلان کیا ہےکہ پاکستان  اپنے دیرینہ موقف الحاق پاکستان سے دستبردار ہوا ہے اور اب وہ الحاق  نہیں بلکہ استقلال کشمیر چاہتا ہے ۔

پاکستان یہ بتانے جارہا ہے کہ ہمارے لئے کشمیری سرزمین سے بڑھ کر کشمیری عوام عزیز ہے اور اس جذبے کو ہم سبھی کشمیریوں اور ہر انصاف پسند انسان کو تہہ دل سے سلام کرنا چاہیئے ۔ پاکستان کا تحریک آزادی کشمیر کے تئین مختلف سطحوں پر حمایت کرنے کے ذیل میں عسکری اور فوجی طریقہ کار کو تلخ ترین عنوان (دھشت گردی)  کے ساتھ بند کرنا ایک نہایت با برکت فال نیک کے طور پر لیا جانا چاہیئے ۔

صدر پاکستان نے جس خوش خبری کا عندیہ دیا تھا اس تناظر میں دیکھنا چاہیے اور عسکری قیادت اور مجاہدوں کو عوامی جدوجہد میں شامل ہو کر عسکری جدوجہد  تعطیل کرکے تحریک آزادی کشمیر کو منطقی انجام تک پہچانے میں پاکستانی قیادت کے اعلان کو آب حیات جان کر قبول کرنا چاھیئے تاکہ پاکستان کا کشمیر کے نسبت یہ موقف برصغیر میں ایک مثال بن کر رہ جائے  کہ پاکستان نے کسی لالچ کے بغیر کشمیری مظلوم قوم کو آزادی دلادی ہے جو کہ امت اسلامیہ کیلئے ایک مشعل راہ بن سکتی ہے دوسری طرف ہندوستان کیلئے ایک تاریخی اور حساس دور شروع ہو جاتا ہے کہ وہ کس طرح اپنی ماضی کی غلطیوں کا اذالہ کرتا ہے جس طرح پاکستان نے ظاہر کیا ہے ۔

چونکہ پاکستان کی تاریخ مختصر ہے اورمختصر عرصے میں ہی اس نے کشمیر کے نسبت اپنی سیاسی غلطیوں کا اذالہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے ۔ لیکن جس طرح ہندوستان کی تاریخ نہایت ہی قدیم ہے اور افسوس کا مقام ہے کہ کشمیر کے نسبت اعتماد شکنی اور غلط سیاست کی داستان بھی اسی طرح بہت پرانی ہے جس کی عمدہ شروعات اکبر بادشاہ کے زمانے سے ملتی ہے کہ جب اکبر بادشاہ نے اپنے ھمسایہ خودمختار ملک کشمیر کےبادشاہ جناب یوسف شاہ چک کو پہلے مذاکراتی میز پر بلاکر عظیم ہندوستان کا مہمان بنایا پھر ہر سیاسی ، اخلاقی اور انسانی اصولوں کو بھلا کرکئی ہزار  سالہ تاریخ رکھنے والے اپنے ہمسایہ ملک کشمیر کے بادشاہ کو زینت زندان بنا کر اسے ابدی نیند سلا کر کشمیری عوام کیلئے رنج و الم آغاز کردیا  اور ہندوستان کی تاریخ میں ایک بدنما داغ  رقم ہو چلا اور پھر سلسلہ وار چلتا رہا اور  اس سلسلے کو روکنے اور مٹانے کا موقعہ بھی فراہم ہوتا ہے ۔

البتہ ہمیں اس بات کو مان کے چلنا پڑے گا کہ پاکستان کا تحریک آزادی کشمیر کو قبول کرنا پاکستانی سیاسی بصیرت کی عکاسی ہے کہ اس نے کشمیر کی تاریخی جدوجہد کو محو نہ ہونے دیا کہ کشمیری تب سے جدوجہد کرتا آیا ہے جب کہ پاکستان نام کا وجود ہی دنیا میں نہ تھا اور اسی طرح ہندوستان نے جدوجہد آزادی کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ  با دل نا خواستہ کشمیر کی انفرادیت کو دفعہ 370 کے عنوان کے ساتھ  قانونی طور تسلیم کرتے ہوئے کشمیری عوام کے ساتھ اعتماد کا چراغ جلائے رکھا ۔ آج جب پاکستان نے اپنے سیاسی جذبے کو بھلا کر انسانی جذبے کو اظہار کیا ہے اگر ہندوستان بھی سیاسی جذبے کو بھلا کر انسانی جذبہ بروی کار لایے خطے میں امن و امان کی سنگ میل پڑ سکتی ہے ۔ آر سے کشمیری عسکری جدجہد کو سرحد پار  دھشت گردی کہنا اور پار سے بھی اب صدای باز گشت سننے سے ایک اور بات جو صاف ہوجاتی ہے وہ یہ کہ اب نہ آر والے ملٹری آپشن چاہتے ہیں اور نہ ہی پار والے ملٹری آپشن چاہتے ہیں البتہ دونوں ھندی میں یا اردو میں تحریک آزادی کو تحریک آزادی ہی کہتے ہیں ۔اس پر دنیا کے تمام انصاف پسند انسانوں سے انصاف کی  اپیل ہے کہ وہ دونوں ممالک کو اپنے اقوال افعال میں بدل دیں ۔

موجودہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کشمیر کو صدیوں سے کھویا ہوا وقار واپس دیکر اپنی قدیم تاریخی حیثیت سے ایک آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر قبول کریں کیونکہ کمزور پر طاقت اور بزرگی کامظاہرہ کرکے دبانا اور کچلنا بڑکپن نہیں ہے بلکہ کمزور کی حمایت اور دفاع کرنا بزرگی کا مظہر ہے۔ دونوں بڑے طاقت ہندوستان اور پاکستان کو اپنی طاقت اور اپنی بزرگی کا مظاہرہ حقیقت پسندی کے ساتھ کرنا ہوگا اور اپنے ہمسایہ ملک کشمیر کے استقلال ، آزادی اور جمہوری اقدار کا سامان فراہم کرکے خطے میں دھشت گردی ، خشونت، بی اعتمادی ، مفلسی اور غربت کے دروازے بند کرکے مسرتوں اور ترقی کے دروازے کھولنے ہوں گے۔ہمارے لئے ہندوستان بھی عزیز اور محترم ہے اور پاکستان بھی عزیز اور محترم ہے بشرطیکہ اسکا پاس و لحاظ رکھا جائے ۔ ظاہر سی بات ہے جو کوئی کشمیری عوام کے نسبت سچا اور شفاف موقف رکھے وہی کشمیری عوام کے نزدیک زیادہ قریب اور حبیب ہوگا ۔

 

آغا سید عبدالحسین بڈگامی

‏هفته‏، 11‏ اکتوبر‏، 2008

 

تاریخ درج مطلب : : //

آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
این سایت متعلق است به 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر