»

مطالب ویژه

انتخابات اور مسئلہ کشمیر
کئ قسم کے سوال ذہن میں آتے ہیں جن کا جواب جب بھی سیاسی متون سے ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں تو ہر ایک بات کا واضح اور روشن جواب سامنے نظر آتا ہے میرے نذدیک جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بنیادی طور ایک قانونی مسئلہ ہے اور یہ قانونی مسئلہ عوامی سطح سے لیکر بین الاقوامی سطح تک تسلیم شدہ مسئلہ ہے جسکا حل صرف عوامی سطح سے لیکر بین الاقوامی سطح تک قانونی مسائل پر گرفت حاصل کرکے اپنے حقوق کی باز یابی کی قانونی جنگ لڑنے سے امکان پذیر ہے اور  انتخابات میں شرکت کرکے خفیہ ایجنسیوں کا آلہ کار بننے کے بجائے عوامی کے حقیقی ایجنٹ بن کر ہر سطح پر کشمیری عوام سے لیکر عالمی سطح تک کئے جانے والے ہر سوال کا صحیح اور منطقی جواب فراہم کرکے کشمیر کو ہر آلودگی سے نجات دلا دی جائے اور کشمیر کی ماضی کی تاریخ کو زندہ کرتے ہوئے کشمیر کو اپنی اصلی ملکی شکل میں واپس لایا جائے ۔

بسمہ تعالی

انتخابات اور مسئلہ کشمیر

ہندوستانی زیر انتظام کشمیر میں ہندوستانی الیکشن کمیشن کی طرف سے کئے جانے والے تمام کے تمام انتخابات کسی شک و شبہ کےبغیر ہندوستان کی ایک قانونی مجبوری ہے جس سے آنکھیں چرانا دانشمندی نہیں ہے۔ جب تک ہندوستان کشمیر پر قابض ہے تب تک اسے اپنے آئین کی پاسداری کرنی ہے اور جب تک پاکستان اپنے زیر انتظام کشمیر پر  قابض ہے اسے اپنے آئین کی پاسداری کرنی ہی کرنی ہے اور دونوں حصوں میں موجودہ صورت حال میں ہو رہے انتخابات کو ایک ہی انداز میں لینا ہے۔ جہاں تک ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر کا تعلق ہے یہاں پر اگر  یہاں کے ہر ذینفس پر دکانداری بند کرنےکے بجائے انسانی اور اسلامی اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے موقف اختیار کیا جائے کشمیری عوام سیاسی دلدل سے آسانی کے ساتھ باہر نکل سکتی ہے ۔ کشمیر کو چونکہ پرء واری کہاں جاتا ہے جس سے صاف معلوم پڑتا ہے کہ یہاں کے عوام میں مذہبی رجحان کافی زیادہ ہے جس کا فائدہ ہمیشہ سیاستدانوں نے اٹھایا ہے مگر مذہبی شخصیتیں صرف حربے بنتے رہے ۔جسکا سد باب نہایت لازم ہے، کیونکہ مذہب کو بدنام کرنے کا آزمودہ حربہ ہے۔ کشمیر ی عوام کی طبیعت جتنی معصوم ثابت ہو رہی ہے اتنی ہی ان پرمسلط سیاسی قیادت شاطر  رہی ہے ، اور یہ بات  اپنی جگہ سوال بر انگیز  اور بحث طلب ہے ۔ میں جب اپنے آپ سے سوال کرنے لگتا ہوں کہ:

1۔کیا ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر ،ہندوستان کا حصہ ہے تو دیکھتا ہوں کہ ہندوستان قانونی طور پر مجھے ایسا سوچنے سے روکتا ہے اور کہتا ہے کہ ارے ناداں کس ملک میں قومی پرچم دو ہوتے ہیں ۔ہندوستانی قوم کا اپنا قومی جنڈا ہے کشمیری قوم کا اپنا قومی جنڈا ہے اگر یقین نہیں آتا تو سیکٹریٹ جا کے اپنی آنکھوں سے دیکھ لو ۔اسی طرح میں نے کئ قانونی قیود کے ساتھ تسلیم کیا ہے کہ میں کشمیر پر قابض ہوں اور کشمیر ہندوستان کا حصہ نہیں ہے  تم سمجھنے سے قاصر ہو  تو میں کیا کروں! میں کیوں کر تمہیں جگاؤں اور اپنی نیند حرام کر لوں بچے!۔ کیا میں کبھی کہتا ہوں کہ دلی ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے ، مدھیہ پردیش ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے ،گجرات ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے کیا اپنی کسی بھی ریاست کے بارے میں کہتا ہوں کہ میری یہ ریاست وہ ریاست ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے ۔ نہیں نا ،  کیوں نہیں ، کیونکہ وہ بلا شک ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہی نہیں بلکہ وہی تو ہندوستان ہے لیکن میں کشمیر کو تب سے ہندوستان کا اٹوٹ انگ کہہ رہا ہوں جب سے میں نے اس پر قبضہ جمایا ہے ، اور  ڈرتا ہوں کہ کہنی آپ کشمیری جاگ نہ جاو  اسلئے کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ انگ ہے کی لوری گاتا رہتا ہوں ۔

2۔ جب کبھی اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا کشمیر ،پاکستان کا حصہ ہے  تو پاکستان جواب دیتا ہے کہ اگر تمہیں ہندوستان نے ناداں کہا ہے تو ٹھیک ہی تو کہا ہے اگر کشمیر پاکستان کا حصہ ہوتا تو اپنے زیر انتظام کشمیر کو آزاد کشمیر کا نام کیوں دیتا !یہ بات اگر تم لوگ نا ہی سمجھو تو بہتر ہوگا۔ ہندوستان نے اگر تمہیں یہ بات نہیں سمجھائی ہے  یا تم لوگوں کو  دوسرے مسائل  کے مانند  کچھ سیاسی باتیں سمجھ میں ہی آتی تو وہ دوسری بات ہے ۔ وہ یہ کہ کشمیر تو ہم دونوں کی ترقی کا راز ہے۔ اگر آپ لوگوں کا مسئلہ نہ ہوتا ہم دو نوں ملک ایٹمی طاقت کیسے بنتے ۔ کشمیریوں کا گھر جلا کر ہی تو ہم دونوں ملکوں کے گھروں کے چراغ جلتے رہتے ہیں۔ ہمیں آپ کا معصوم پن نہایت عزیز ہے اس لئے آپ سے یہی گذارش ہے کہ آپ لوگ بیدار ہونے کی کوشش نا کریں تو آپ کی بڑی مہربانی ہوگی۔ بس دونوں ممالک کے پیڈ چینلوں کے اشاروں پر چلتے رہیں تو آپ کی عین نوازش ہوگی ۔

3۔اور جب کبھی اپنے آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ کیا بین الاقوامی سطح پر یہ بات واضح ہے کہ کشمیر نہ اصل میں ہندوستان کا ہے اور نہ ہی پاکستان کا تو اقوام متحدہ چلا اٹھتا ہے کہ میرا صرف اندازہ تھا کہ تم ناداں ہو لیکن اب یقین ہونے جار رہا ہےکہ تم بلکل ہی ناداں ہو۔ کیا  تم نہیں جانتے ہمیں کشمیر کے دونوں حصوں میں اپنی نمایندگی کا دفتر چلانے کا کتنا خرچہ برداشت کرنا پڑتا ہے !اور کشمیر کے دونوں حصوں کو ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے عنوان کے ساتھ یاد کیا جاتا ہے ۔ اب تم یہ بھی سوال کرنے لگو گے کہ تو پھر حق خود ارادیت کا مطلب کیا ہے اگر آپ مانتے ہو  کہ کشمیر اصل میں نہ ہندوستان کا ہے نہ ہی پاکستان کا تو پھر یہ حق خود ارادیت کے نام پر بندر بانٹ کیسی ۔ ہمیں پھر کیوں ان دو ممالک کے درمیاں تقسیم کرنے کی تجویز پیش کی گئ ہے ۔ بیٹا کان ذرا نذدیک لاو  اور دھیان سے سنو :یہ تو در اصل تم لوگوں کو بیدار کرنے کا ذریعہ ہے تم نہیں سمجھ رہے ہو  بیدار نہیں ہو رہے ہو تو ہم کیا کریں ۔  کیوں ہماری ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ  بیر کھڑا کرنا چاہتے ہو ۔ جانم سمجھا کرو ، جو  کہ تم کھبی بھی سمجھنے کی کوشش نہیں کرو گے ۔

اسی طرح کئ قسم کے سوال ذہن میں آتے ہیں جن کا جواب جب بھی سیاسی متون سے ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں تو ہر ایک بات کا واضح اور روشن جواب سامنے نظر آتا ہے میرے نذدیک جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بنیادی طور ایک قانونی مسئلہ ہے اور یہ قانونی مسئلہ عوامی سطح سے لیکر بین الاقوامی سطح تک تسلیم شدہ مسئلہ ہے جسکا حل صرف عوامی سطح سے لیکر بین الاقوامی سطح تک قانونی مسائل پر گرفت حاصل کرکے اپنے حقوق کی باز یابی کی قانونی جنگ لڑنے سے امکان پذیر ہے اور  انتخابات میں شرکت کرکے خفیہ ایجنسیوں کا آلہ کار بننے کے بجائے عوامی کے حقیقی ایجنٹ بن کر ہر سطح پر کشمیری عوام سے لیکر عالمی سطح تک کئے جانے والے ہر سوال کا صحیح اور منطقی جواب فراہم کرکے کشمیر کو ہر آلودگی سے نجات دلا دی جائے اور کشمیر کی ماضی کی تاریخ کو زندہ کرتے ہوئے کشمیر کو اپنی اصلی ملکی شکل میں واپس لایا جائے ۔

والسلام

آغا سید عبدالحسین بڈگامی

‏پیر‏، 27‏ اکتوبر‏، 2008

 

تاریخ درج مطلب : : //

آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
این سایت متعلق است به 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر