»

مطالب ویژه

مسلم دنیا میں بحران در بحران! وحدت پارہ پارہ

سلام علیکم؛ مورخہ 5جولائی 2017 کے شمارے  کے صفحہ نمبر 6 پر آپ کے اداریے کے بغل میں کسی سمیع اللہ ملک۔۔۔لندن نامی شخص کا "مسلم دنیا میں بحران در بحران! وحدت پارہ پارہ" کے زیر عنوان مراسلہ نظر سے گذرا۔ اسے آپ کا حسن انتخاب  یا مسلکی تعصب کہوں کہ جس نے مراسلے نگار کے بہتان اور کذب بیانی سے چشم پوشی کرانے پر آپ کو مجبور کیا اور آپ نے ایسے مضمون کیلئے مخصوص جگہ فراہم کی ہے۔کنہی آپ اس سعودیہ کے مبلغ"علی الربیعی"کی پیروی میں سرگرم عمل تو نہیں ہوئے ہیں کہ جس نے حال ہی میں اپنے ٹیوٹر کے ذریعہ مسلمان خطیبوں اور مبلغوں سے اپیل کی کہ یہودی اور نصرانیوں کے خلاف تبلیغ کو فی الحال روک دیں اور اپنی تبلیغ کو شیعوں کے خلاف خاص کر" مجوسی"حکومت ایران کے خلاف معطوف کریں اور اکثر عرب ٹیوٹ اکاونٹ ہولڈروں نے اسے سعودیہ اور اسرائيل کے درمیان حالات معمول پر لانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے "الربیعی" کے ٹیوٹ کی بھر پور مذمت کی۔یا یہ کہ جون میں چھپے سعودی جرنلسٹ"مساعد العصیمی"کے مراسلے کی تقلید ہے کہ جس نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا اثرو رسوخ ،فتنہ اور نفرت پیدا کرنے میں "اسرائيل" ہمارے ملک کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے یا ایران  ؟  اسرائيل نوازی کا حق ادا کیا جا رہا ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ: "لَقَدِ ابْتَغَوُا الْفِتْنَةَ مِنْ قَبْلُ وَقَلَّبُوا لَكَ الْأُمُورَ" (التوبة/48)

یہ لوگ پہلے بھی فتنہ انگیزی کی کوشش کرتے رہے ہیں اور آپ کے لیے بہت سی باتوں میں الٹ پھیر بھی کرتے رہے ہیں (التوبة/48)

مدیر اعلی کشمیر عظمی

سلام علیکم؛ مورخہ 5جولائی 2017 کے شمارے  کے صفحہ نمبر 6 پر آپ کے اداریے کے بغل میں کسی سمیع اللہ ملک۔۔۔لندن نامی شخص کا "مسلم دنیا میں بحران در بحران! وحدت پارہ پارہ" کے زیر عنوان مراسلہ نظر سے گذرا۔ اسے آپ کا حسن انتخاب  یا مسلکی تعصب کہوں کہ جس نے مراسلے نگار کے بہتان اور کذب بیانی سے چشم پوشی کرانے پر آپ کو مجبور کیا اور آپ نے ایسے مضمون کیلئے مخصوص جگہ فراہم کی ہے۔کنہی آپ اس سعودیہ کے مبلغ"علی الربیعی"کی پیروی میں سرگرم عمل تو نہیں ہوئے ہیں کہ جس نے حال ہی میں اپنے ٹیوٹر کے ذریعہ مسلمان خطیبوں اور مبلغوں سے اپیل کی کہ یہودی اور نصرانیوں کے خلاف تبلیغ کو فی الحال روک دیں اور اپنی تبلیغ کو شیعوں کے خلاف خاص کر" مجوسی"حکومت ایران کے خلاف معطوف کریں اور اکثر عرب ٹیوٹ اکاونٹ ہولڈروں نے اسے سعودیہ اور اسرائيل کے درمیان حالات معمول پر لانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے "الربیعی" کے ٹیوٹ کی بھر پور مذمت کی۔یا یہ کہ جون میں چھپے سعودی جرنلسٹ"مساعد العصیمی"کے مراسلے کی تقلید ہے کہ جس نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا اثرو رسوخ ،فتنہ اور نفرت پیدا کرنے میں "اسرائيل" ہمارے ملک کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے یا ایران  ؟  اسرائيل نوازی کا حق ادا کیا جا رہا ہے۔

آپ کے ذریعہ کشمیر عظمی کے قارئين کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ مراسلہ نگار نے اگرچہ ایک بین الاقوامی تجزیہ نگار کا انداز اختیار کرتے ہوئے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک )کو محور  قرار دیکر  ایران ، افغانستان اور ہندوستان اقتصادی راہداری چابہار کاریڈور کو تنقید کا نشانہ بنانا چاہا ہے لیکن مقصد مسلکی منافرت پھیلانے کے سوا کچھ نہیں ہےکیونکہ   سی پیک اور چابہار مستقبل قریب میں ایک ہی محور قرار پائے گا کیونکہ یہ آئي این ایس ٹی سی سے متصل ہونے جا رہا ہے  جو خلیج فارس میں  ایرانی بندرگاہ بندر عباس سے روس، یورو ایشیا اور یورپ کو آپس میں ملائے گا  اور بہرحال اقتصادی مسائل میں ہر کوئی اپنے اپنے مفادات کو مدنظر رکھے گا ۔

مگر سوال مراسلے کے عنوان  اور پیغام کا ہے کہ ایک ایسے سنجیدہ عنوان" مسلم دنیا میں بحران در بحران! وحدت پارہ پارہ"کے ساتھ یزیدی رنگ بھرنے کی کشمیر میں کیا ضرورت آن  پڑی؟یزیدی رنگ سے مراد منافقت کا رنگ جس کے ظاہر و باطن میں سیاہ و سفید کا فرق ہوتا ہے۔اگر مراسلہ نگار کو اقتصادی رقابت کا تجزیہ کرنا تھا تو ویسا ہی عنوان اور موضوع انتخاب کرنا تھا، اندھے مسلکی تعصب کو  ابھارنے کی کیا ضرورت تھی؟۔

ایران چونکہ سیکولر فلسفے کو چلینج کرتے ہوئے ولایت فقیہ فلسفے کو بروی کار لاکر اسلامی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوا ہے اور ہر دین و مذہب کیلئے امید کی کرن بن کر ابھرتا نمونہ ہے نتیجے میں  پوری دنیا مذہب کا استحصال کرنے والے استعماری طاقتیں اس کے مخالف ہیں جو کہ مراسلہ نگار بخوبی جانتے ہونگے مگر تعصب کے مارے انکار کر کےکہہ گئے ہیں کہ:"یہ چاریار(امریکا،بھارت،اسرائیل اور ایران ) مالامال ہوجائیں گے۔"یہاں ایران کو دوست ملک ہندوستان کے ساتھ جوڑنا تو سمجھ میں آنے والی بات ہے لیکن ایران کے دو  بنیادی دشمن  امریکہ اور اسرائیل کو ایران کے ساتھ جوڑکر انہیں چار یار کا لقب دینا کیا معنی رکھتا ہے ؟کیا اس سے مراد مسلکی چار یار ہیں یامنافقانہ بی تکی یا تکفیری سوچ!۔

 مراسلہ نگار نے عرب ممالک میں سب سے غریب ملک یمن کی عوامی تحریک کو تسلیم کرنے کے بجائے یہاں پر بھی صرف حوثیوں کو شیعہ سمجھ کر نشانہ سادھتے ہوئے لکھا ہے کہ:" دوسری طرف ایران نے سعودی عرب پردباؤبڑھانے کیلئے یمن میں حوثیوں کوکھڑاکیا "اس سے معلوم پڑتا ہے کہ مراسلہ نگار کو یہ بھی پتہ نہیں کہ حوثی شیعہ ہیں کہ سنی ۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح شام کے صدر بشار اسد کو اسرائيل مخالف موقف رکھنے کے لئے شیعہ ثابت کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ وہ شیعہ نہیں بلکہ سنی ہے اور اب مراسلہ نگار کو فلسطینی عوام کو  شیعہ قرار دینا چاہئے اور کشمیری سنی عوام کو بھی شیعہ قرار دینا پڑے گا کیونکہ ایران ان کی حمایت کرتا ہے۔

مراسلہ نگار نے  امریکی صدر ٹرمپ کے ایران مخالف بیانات کی طرف بھی اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :"رہامعاملہ ایران کے خلاف ٹرمپ کابولنا،یہ مروجہ امریکی سیاست کے مطابق سیاسی بیان بازی ہے جس کا حقیقت کےساتھ کوئی واسطہ نہیں"۔تو کیا یہاں پوچھا جاسکتا ہے کہ "حقیقت " کا مطلب مراسلہ نگار کے ہاں کیا ہے۔جب سے سیکولر ایران جمہوری اسلامی ایران بنا تب سے  ایران نے امریکہ اور اسرائیل سے سفارتی تعلقات ختم کردیے ہیں تہران میں امریکی سفارتخانہ امریکہ مخالف سرگرمیوں کا مرکز بنایا گیا اور اسرائيلی سفارتخانے کو پہلے ہی دن فلسطین کے سفارتخانے میں تبدیل کیا  جس کی افتتاحی تقریب میں مرحوم یاسر عرفات نے بھی شرکت کی اورجو دنیا میں فلسطین کا پہلا سفارتخانہ ہے ۔یہ مراسلہ نگار کے لئے حقیقت نہیں ہے۔ بلکہ قریب چالیس سالوں سے امریکہ ایران پر طرح طرح کی پابندیاں عائد کرتا رہا ہے اور ایران کے خلاف ہر سطح پر جنگ چھیڑ کر اسے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنے کے لئے ایڈی چوٹی کا زور لگا کر سالانہ جمہوری اسلامی کی حکومت کا تختہ پلٹنے کیلئے غیر سرکاری طور کیا کچھ نہیں کرتا لیکن سرکاری طور کروڑوں ڈالر کا بجٹ کا اعلان کرتا ہے مگر ایران چونکہ اب سیکولر نہیں رہا ہے بلکہ  ولایت فقیہ کی سربراہی میں جمہوری اسلامی ایران بن چکا ہے جس نے روز اول سے امریکہ کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اسے سبق سکھاتا رہا ہے اور امریکی سپرمیسی کو کھوکھلا کر کے اسکے دبدبے کو توڑا ہے اور انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی 1979ء میں امریکی چوداہرٹ اور 2017ء کی امریکی چودراہٹ کو  آپس میں موازنہ کر  کےکوئی بھی منصف بتا سکتا ہے کہ جمہوری اسلامی ایران نے کسطرح امریکی چودراہٹ کو زوال کی چوکھٹ پر لا کھڑا  کیا کہ جسے مراسلہ نگار امریکہ کی  ایران دوستی سمجھتے ہیں۔واہ کیا تجزیہ ہے۔

رہا سوال طالبان کے حوالے سے مراسلہ نگار کا پاکستان اور سعودی عرب دوستی کا تذکرہ  و گلہ وہ کسی سے ڈھکی چھپی بات نہیں ہے اور یہ بھی ڈھکی چھپی بات نہیں کہ سبھی سنی شیعہ مسلمانوں نے طالبان کو اسلامی کم اور دہشتگرد زیادہ جانا ہے ایسے میں پاکستان اور سعودی عرب نے ٹھیک کیا یا غلط وہ جانیں اور انکی عوام۔

مراسلہ نگار کا یہ سوال کہ :"آخرایران مسلمانوں کے ازلی دشمن بھارت کے ساتھ کیوں کھڑاہے؟"۔یہ سوال  شیعوں کو مخاطب سمجھ کر  کرنے سے بہتر تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں خاص کر سنی مسلمانوں سے کیا جائے کہ اگر  ہندوستان مسلمانوں کا ازلی دشمن ہے تو اہلسنت کے مرکزی دینی تعلیمی مراکز سعودی عرب کے بجائے ہندوستان میں کیوں قائم ہیں۔

مگر چونکہ مراسلہ نگار کو صرف ایران کو نشانہ بنانا مقصود ہے  تو کماکان بہرحال سفید جھوٹ بولنا جاری رکھا ہے۔ یہ کہنا کہ :"اورآج یہ عالم ہے کہ ایران میں کوئی سنی پارلیمنٹ ممبرنہیں بن سکتا جب کہ تین یہودی پارلیمنٹ ممبرہیں"۔مراسلہ نگار کو مجلس شورای اسلامی (پارلمنٹ) ایران میں 3 یہودی پارلمنٹ کی تو اطلاع ہے لیکن بیست20اہلسنت پارلمنٹ ممبران "کوئي نہیں" نظر آتا ہے تو ایسے میں مجلس شورای اسلامی (پارلمنٹ)ایران میں 12 غیرمسلمانوں کی نمایندگی کہاں نظر آسکتی ہے۔مجلس شورای اسلامی میں 20  اہلسنت پارلمنٹ ممبران پر مشتمل (فراکسیون اهل سنت مجلس)نامی سرگرم فریکشن معروف تو ہے جو مجلس میں اہلسنت ہونے کا بھر پور حق ادا کرتے رہتے ہیں ۔اس سے بڑ کر کیا اہلسنت قارئين محترم کو معلوم ہے کہ  ولایت فقیہ حکومت نے شیعہ سنی کے درمیان بنیادی اختلاف امامت کا حل پیش کرکے اس کا عملی نمونہ فراہم کیا ہے ۔ شیعہ عقیدے کے مطابق امامت اصول دین میں سے ہے یعنی نبوت کی طرح امامت کا بھی خدا کی طرف سے منصوب اور معصوم ہونا لازمی امر ہے جبکہ اہلسنت اسے فروع دین میں قرار دیتے ہیں یعنی عوام اپنے لئے خود اپنا امام منتخب کرسکتے ہیں جس کے لئے نبوت جیسے منصوب من اللہ اور معصوم ہونا لازمی نہیں ہے۔شیعہ عقیدے کے مطابق امامت کا  منصب رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارہ اوصیاء علیہم صلوات اللہ کے لئے مخصوص ہے جنہیں اللہ نے خود منصوب اور آنحضور صلی اللہ علیہ نے ان کی نشاندہی فرمائي ہے اور بارہویں اور آخری وصی329ہجری سے پردہ غیب میں ہیں اور خدا کے حکم سے جب ظہور کریں گے دنیا کو عدل و انصاف سے پر کریں گے اور عدل و انصاف اس طرح پورے عالم میں حاکم ہو جائے گا کہ جس طرح سردی اور گرمی اپنے ماحول پر حاکم ہو جاتی ہے۔اور اسلامی حکومت کی سربراہی کا منصب اسی امام زمانہ عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے لئے مخصوص ہے  اور غیبت کے زمانے میں ایسے فرد کا انتخاب لازمی ہے جو اس منصب کے لائق قرار پائے اور چونکہ وہ معصوم نہیں ہے منصوب من اللہ نہیں ہے بلکہ عوام کا منتخب ہے اور اسلام میں امام کا مقام باپ کا ہے اور باپ کی عدم موجودگی میں کسی  شائستہ فرد کو منہ بولا باپ بنایا جاتا ہے اور جو ایسے فرد کو یہ اعزاز بخشے کہ وہ بچے کی سرپرستی اسے سپرد کرے  ان پر لازم بنتا ہے کہ یہ بھی دیکھ لیں کہ  آیا یہ شائستہ فرد منہ بولے باپ ہونے کا حق ادا کرتا بھی ہے کہ نہیں!ٹھیک یہ موضوع ولایت فقیہ کا ہے کہ امام معصوم باپ نہیں ہے بلکہ معصوم امام باپ کی غیبت میں منہ بولا باپ ہے کہ جس پر معصوم نہ ہونے کی وجہ سے نظارت لازمی ہے اور یہ نظارت بھی وہی کر سکتے ہیں  جن میں وہ شایستگی موجود ہو جو منہ بولے باپ کا انتحاب کر سکیں اور عوام بھی انکے انتخاب کا احترام کرتے ہوں یعنی  خود ان میں اس منصب پر فائز ہونے کی صلاحیت موجود ہو۔ اور اسطرح شیعہ سنی عقائد کا بھر پور احترام بھی رکھا گیا اور تمام مسالک اسلامی کے لئے بالخصوص اور غیر مسلمانوں کے لئے بالعموم ایک قابل قدر اسلامی نظام پیش کیا گيا۔  اس طرح اس نظارتی مجلس کو " مجلس خبرگان رہبری" کہتے ہیں۔ مجلس خبرگان رہبری کیلئے اسلامی ماہرین کا باضابطہ عمومی الیکشن کے ذریعہ انتخاب ہوتا ہے اور ان منتخب نمایندوں کا کام اسلامی حکومت کے سربراہ ولی فقیہ پر نظر بنائے رکھنا ہے اور اس مجلس خبرگان رہبری میں صرف شیعہ آیت اللہ موجود نہیں بلکہ دو 2 اہلسنت مفتی اعظم فائق رستمی اور علی احمد سلامی بھی شامل ہیں اور اگر مجلس خبرگان رہبری میں ایک رکن شیعہ ہو یا سنی ولی فقیہ پر اسلامی تعلیمات سے منحرف عمل کرنے کا دعوی ثابت کرسکتا ہے تو ولی فقیہ کا شرعی اور قانونی جواز ختم ہوکر وہ عزل ہو سکتے ہیں ۔اور اس اسلامی نظام کو مراسلہ نگار اور ان کے ہمفکر "مجوسی" حکومت قرار دیتے ہیں۔

ایسے میں مراسلہ نگار کا  تہران میں اہلسنت مسجد کے بارے میں کہنا کہ :"ایرانی دارلحکومت تہران میں سنیوں کومسجدبنانے کی اجازت تک نہیں جب کہ اسی شہرمیں گرجاگھر،مندر،گردوارے اورآتش کدے موجودہیں"۔جبکہ ایران میں 15ہزار سے زائد اہلسنت مساجد آباد ہیں اور جہاں مراسلہ نگار نے لکھا ہے کہ ایک بھی مسجد  بنانے کی اجازت نہیں وہاں پر 9 اہلسنت مساجد آباد ہیں جن کا اپتہ پتہ یوں ہے : ١- مسجد صادقیه، واقع در فلکه‌ دوم صادقیه ٢- مسجد تهران ‌پارس، واقع در خیابان دلاوران ٣- مسجد شهر قدس، واقع در کیلومتر ٢٠ جاده‌ی قدیم ٤- مسجد خلیج فارس، واقع در بزرگراه فتح ٥- مسجد النبی، واقع در شهرک دانش ٦- مسجد هفت‌جوب، واقع در جاده‌ی ملارد ٧- مسجد وحیدیه، واقع در شهریار ٨- مسجد نسیم‌ شهر، واقع در اکبرآباد ٩- مسجد رضی‌آباد، واقع در سه ‌راه شهریار ۔پچھلے سال جب تہران میں چند افراد نے تہران میں شرارت کے غرض سے غیر قانونی تعمیر کھڑا کرکے پھر اس کا نام مسجد رکھا اور اسے ڈھایا گیا اور ایسی شرپسندی کرنے والے کیلئے چارہ جوئی ضرور کی جاتی چاہے وہ کسی بھی مذہب و مسلک سے تعلق رکھتا ہو لیکن اس پر بہت شور مچایا گیا کہ ایران میں سنیوں پر ظلم ڈھایا جارہا ہے مساجد مسمار کی جارہی ہے وغیرہ ۔حتی کشمیر میں جمعیت اہل حدیث نے کڑا رخ اختیار کیا اورمیں چونکہ مرحوم شہید مولوی شوکت صاحب کو دوست رکھتا تھا اور ان کے دفتر میں آیا جایا کرتا تھا اور ہندوستانی ایجنٹ کا فتوی لگنے کے پیش نظر کشمیر چھوڑ کر ایران میں مقیم ہوں یہ خبر پڑھتے ہی جمعیت اہل حدیث کے ایک ذمہ دار  برادر الکندی صاحب سے رابطہ کیا اور انہیں اپنے ذاتی سفر خرچے پر ایک وفد کے ہمراہ ایران سفر کرنے کی دعوت دی تاکہ یہاں آزادانہ طور اہلسنت عوام و خواص سے مل کر حقیقت حال جانیں اور پھر انہوں نے اطمنان کا اظہار کیا۔

اور مراسلہ نگار کا یہ دعوی کہ:"ایران کے اسکول،کالجزاوریونیورسٹی میں ان بچوں کو داخلہ نہیں دیاجاتا جن کے نام ابوبکرؓ،عمرؓ،عثمانؓ،عائشہؓ،حفضہؓ وغیرہ ہوں"۔بھی باقی باتوں کی طرح سفید جھوٹ ہے جبکہ داخلہ کیا سنی آبادیوں میں مدارس و معابر ان کے نام پر ہیں۔یقین حاصل کرنے کیلئے خود ایران کا سفر کریں تو بہتر رہے گا۔

یہ کہ مراسلہ نگار  نے یہ کہہ کر کہ:"امت مسلمہ کی یہ تقسیم پوری امت کے لے ڈوبے گی" ۔ کی بجا فکر کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ جی ہاں اگر تقسیم کی ماہیت کو نہ سمجھیں ، ظالم کو مظلوم اور مظلوم کو ظالم کہنا چھوڑ دیں تو نہیں ڈوبے گی۔ٹرامپ کے سعودی عرب دورے کے دوران مسلمان ممالک کے سربراہ اجلاس کی سربراہی کرکے پیغام واضح دیا گیا کہ اسلام دو خیموں میں بٹا ہوا ہے ایک خیمے کی بھاگ دوڑ امریکی صدر کے ہاتھ میں اور دوسرے خیمے کی بھاگ دوڑ جمہوری اسلامی ایران کے ولی فقیہ حضرت امام خامنہ ای ہیں۔اور یہ دونوں خیمے وہی دو یزیدی اور حسینی اسلامی خیمے ہیں  اور یہی دو متوازی سمندرہیں جوساتھ ساتھ بہہ رہے ہیں مگرملتے نہیں۔

مراسلہ نگارکا یہ سوال کہ :"قطرکیوں پرخطرہوگیا؟ایران قطرکی حمایت میں کیوں کھڑاہوگیااورسمندری راستے سے غذائی اشیاء بھیجنے کی پیش کش کردی ؟"۔  وہ اس لئے کہ قطر نے امریکہ کے سامنے سر اٹھانے کی کوشش کی اس لئے اس پر ایران خیمے میں دھکیل دیا گیا اور جس سے وہ مسلکی منافرت ختم کرانے کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔

آخر میں ایک بار پھر  سورہ توبہ کی آيت 48 کا حوالہ دے کر حقائق کو چھپانے کی ناکام کوشش سے اجتناب کرنے کی سفار ش کرتا ہوں۔

والسلام علیکم ورحمت اللہ

ابو فاطمہ موسوی عبدالحسین(قلمی نام)

سید عبدالحسین موسوی بڈگام حال مقیم قم ایران

مدیر اعلی عالمی اردو خبررساں ادارہ نیوزنور ڈاٹ کام

www.newsnoor.com

ایمیل:agaabdulhussain@gmail.com

موبائیل نمبر:بڈگام کشمیر:+9149419035880 ایران +989013287845

 

تاریخ درج مطلب : : //

آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
این سایت متعلق است به 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر