»
چهارشنبه 22 آذر 1396

بسمہ تعالی

ابوفاطمہ معافی چاہتا ہے

میں آغا سید عبدالحسین موسوی فرزند آیت اللہ آغا سید مصطفی موسوی کہ جس نے انجمن شرعی شیعیان دارالمصطفی اور انجمن شرعی شیعیان شریعت آباد یوسف آباد کی مسلسل غیر شرعی کارکردگی کے پیش نظر اپنے نام سے خاندان کی شناخت خود سے الگ کرنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کنیت کا سہارا لے کر ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی اپنا قلمی نام اختیار کیا ہے ۔

آج صبح مورخہ 16نومبر2017 کو قم میں اپنے گھر پر حسب معمول اخبار دیکھنے بیٹھا کہ اپنے ایک عزیز کی طرف سے "اظہار حقیقت وپیغام حق ....بنام ابو فاطمہ اینڈ کمپنی" موصول ہوا۔اور پڑھ کر انتہائي مسرت ہوئی اور حمد خدا بجا لایا۔مگر سمجھ میں نہیں آیا کہ اگرانجمن یوسف آباد کو اپنے حریف کو کوئی بیان دینا تھا تو اس میں مجھے استعمال کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ جبکہ آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ابوفاطمہ نے آپ لوگوں کے دکانوں پر لات مار کر "ملک خدا تنگ نیست و پای گدا لنگ نیست" کا عملی نمونہ پیش کیا ہے ۔ جس کو صرف اللہ کا فضل شامل حال ہے اور خاندان کی  بیساکھی کی ضرورت نہیں ہے۔البتہ ہمیشہ آپ دونوں  انجمن والوں کو انجمن غیرشرعی بنانے کے حوالے سے "تذکر"دیتا رہا ہے۔

رہا سوال ابو فاطمہ کی کمپنی کا وہ "عالمی اردو خبررساں ادارہ نیوزنور ڈاٹ کام" ہے جس کا کام بین الاقوامی امور سے متعلق مسلمانوں کی سیاسی مذہبی بصیرت پیدا کرنا، مسلمانوں کے خلاف استعماری  سازشوں کے پیش نظر جن حقائق کو استعماری میڈیا چھپاتا ہے ان کی حقیقی صورتحال عوام کے سامنے رکھنا نیز مذہبی رواداری ، دینی رواداری ، استکبار شناسی اور اسلامی بیداری کی ثقافت کو فروغ دینا ہے ایسے میں میری کمپنی کو اسی ترازو میں تولیں اور پرکھیں تو مہربانی ہوگی۔

رہا سوال ابوشہیدین کے بارے میں میری تحریر پر آپ کا اعتراض یہاں آپ کو بھر پور حق حاصل ہے کہ آپ انہیں ان پڑھ جاہل و... جو بھی آپ سمجھتے ہوں مان لیں۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح میں ابوشہیدین آیت اللہ مصطفی کو عبادات میں مجتہد اور عمل میں محتاط سمجھتا آیا ہوں اور اس کا اظہار بھی کرتا ہوں۔

آخر میں اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ دونوں فریقین جو ایقاظ العباد ایقاظ العباد کی رٹ لگاتے رہتے ہیں جبکہ میرا ماننا ہے کہ آپ میں سے کسی ایک نے اس کا بغور مطالعہ نہیں کیا ہے ۔ ایقاظ العباد یعنی انجمن شرعی شیعیان نائب امام زمان کی سربراہی میں کشمیر میں شیعوں کا سیاسی مذہبی اور ثقافتی ادارہ  ہے جس کا صدر نایب امام کا معتمد اور نائب خاص  ہونا ہےجسے موجودہ دور کی اصطلاح کے مطابق ولی فقیہ کا ادارہ کہا جانا چاہئے تھا۔ جس کا ہمارے خاندان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ ولی فقیہ سے ہے بجز یہ کہ  نایب امام  کا نمایندہ ہونے کا وہ مقام محفوظ بنائے رکھے۔ اور جہاں پر ہمارے خاندان کی بات ہے وہ تولیت کے بارے میں ہے وہ بھی صرف جامعہ باب العلم اور امام بارہ بڈگام کی صرف ان دونوں کی تولیت ہمارے خاندان سے متعلق ہے اور وہ ان شاءاللہ ہمیشہ تمام قوت و ضعف کے ساتھ اسی خاندان میں باقی رہے گی۔

میں اتحاد و اتفاق پر ایمان رکھتا ہوں مسلمانوں کے صفوں میں بالعموم اور شیعوں کے صفوں میں بالخصوص اتحاد و یکجہتی کے لئے کوشاں رہتا ہوں اور یہی وجہ ہے کہ میں نے میدان  چھوڑ کر تمام  جھوٹے یا سچے الزامات اپنے سر لئے  تاکہ ٹکراو پیدا نہ ہو ۔

ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی

16نومبر 2017

قم المقدسہ شہر پردیسان جمہوری اسلامی ایران

+989013287845



آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500

قدرت گرفته از سایت ساز سحر