»
چهارشنبه 22 آذر 1396

امام خامنہ ای نے داعش کے خاتمے کے حوالے جنرل سلیمانی کے تحریری مبارکبادی کا تحریری جواب میں فرمایا:

داعش کا خاتمہ  الہی نصرت اور "وَمَا رَمَیتَ إِذْ رَمَیتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى" کامصداق تھا

نیوزنور: سابقہ اور حالیہ امریکی حکومت  اور  خطے میں امریکہ پر منحصر حکومتوں کہ جنہوں نے اس جماعت کو وجود میں لایا  اور ان کی ہر طرح کی حمایت کرتے رہے تاکہ مغربی ایشیا پر اپنا نحس سلطہ قائم کریں اور غاصب صہیونی حکومت کو اس پر مسلط کریں کے لئے یہ بڑی چوٹ ہے ۔آپ نے اس مہلک کینسر کے پھوڑے کو نہ صرف خطے کے ممالک اور عالم اسلام میں سے تہس نحس کردیا  بلکہ پوری انسانیت کی بڑی خدمت کی ہے۔یہ الہی نصرت اور "وَمَا رَمَیتَ إِذْ رَمَیتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى" کامصداق تھا کہ جو کہ آپ  اور آپ کے ساتھیوں  کی  دن رات کی مجاہدت  کیلئے آپ کو انعام میں ملا ہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور کی رپورٹ کے مطابق مورخہ 21نومبر2017 کو نیروی قدس سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ سرلشکر پاسدار حاج قاسم سلیمانی نے دولت اسلامی عراق و شام (داعش) نامی دنیا کی خونخوار ترین یزیدی دہشتگرد وں کی حکومت جو 2011 میں عراق اور شام میں امریکہ اسرائیلی منصوبوں کے تحت وجود میں آئی تھی تاکہ اسلام کے نام پر اسلام کی بیخ کنی کر سکیں اور  کربلا والوں نے  حسینی وار، ان یزیدی دہشتگردوں کے مقابلے میں سینہ سپر کرکے ان آج ان کا خاتمہ کیا اور اسی حوالے سے رسمی تحریری مبارکبادی امام امت ولی فقیہ حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی اور امت اسلامی کی خدمت میں ارسال کیا اور امام نے بلافاصلہ اس مبارکبادی کے جواب میں مندرجہ ذیل جواب مرقوم فرمایا:

بسم الله الرحمن الرحیم

اسلام کے  پر افتخار سردار اور مجاهد فی سبیلالله آقای سرلشکر حاج قاسم سلیمانی دام توفیقه

خدای متعال کا پورے وجود کے ساتھ شکرانہ بجا لاتا ہوں کہ آپ  اور مختلف میدانوں میں آپ کے ساتھیوں کی عظیم لشکر کی فداکارانہ مجاہدات کو برکت عطا فرمائی اور طواغیت جہان نے جس شجرہ خبیثہ کو بویا تھا ،اسے آپ صالح بندوں کے ہاتھوں سے شام اور عراق ممالک میں سے اکھاڑ دیا۔یہ چوٹ صرف ستمگر روسیاہ داعش  جماعت پر ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ گہری چوٹ اس  خباثت آلود سیاست پر پڑا ہے کہ جو داخلی اور علاقائی جنگ چھیڑ کر اور صہیونیت کے خلاف برسرپیکار مقاومت کو نابود کرنے اور خودمختار حکومتوں کو کمزور بنانے کیلئے اس گمراہ جماعت کے سربراہوں کو آلہ کار بنائے ہوئے تھے۔

سابقہ اور حالیہ امریکی حکومت  اور  خطے میں امریکہ پر منحصر حکومتوں کہ جنہوں نے اس جماعت کو وجود میں لایا  اور ان کی ہر طرح کی حمایت کرتے رہے تاکہ مغربی ایشیا پر اپنا نحس سلطہ قائم کریں اور غاصب صہیونی حکومت کو اس پر مسلط کریں کے لئے یہ بڑی چوٹ ہے ۔آپ نے اس مہلک کینسر کے پھوڑے کو نہ صرف خطے کے ممالک اور عالم اسلام میں سے تہس نحس کردیا  بلکہ پوری انسانیت کی بڑی خدمت کی ہے۔یہ الہی نصرت اور "وَمَا رَمَیتَ إِذْ رَمَیتَ وَلَكِنَّ اللَّهَ رَمَى" کامصداق تھا کہ جو کہ آپ  اور آپ کے ساتھیوں  کی  دن رات کی مجاہدت  کیلئے آپ کو انعام میں ملا ہے۔

میں آپ کو صمیمانہ مبارکبادی پیش کرتا ہوں ساتھ ہی تاکید کرتا ہوں کہ دشمن کی کید سے غفلت نہ ہونے پائے۔

جنہوں نے سنگین سرمایہ گذاری کے ساتھ اس شوم سازش کو رچا تھا وہ آرام نہیں بیٹھیں گے  کوشش کریں گے اس خطے کی کسی دوسری  جگہ  اور کسی دوسری شکل میں دوبارہ  شروع کریں۔ جذبےاور ہوشیاری کی حفاظت کرتے ہوئے اتحاد کی حفاظت کرتے ہوئے ،ہر قسم کے خطرناک بقایاجات کا بصیرت افزا ثقافتی کارکردی کے ساتھ اور مختصر  یہ کہ ہر سطح پر تیار رہنے کو نہ بھولایا جائے۔ آپ کو اور عراق ، شام اور دیگر ممالک کے تمام مجاہد بھائیوں  کو خدای متعال کے حوالے کرتا ہوں اور آپ سب کو سلام و دعا پیش کرتا ہوں۔

والسلام علیکم و رحمةالله

۳۰ آبانماه ۱۳۹۶مطابق 21نومبر 2017

سید علی خامنه ای


سرلشکر قاسم سلیمانی کا امام خامنہ ای کے نام داعش کو ختم کرنے پر مبارکبادی کا پیغام

نیوزنور: ناچیز اس میدان میں حضرتعالی(امام خامنہ ای ) کی طرف سے مکلف شدہ سپاہی کے عنوان سے داعش کے قلعہ "ابوکمال" آزاد کرنے کی عملیات کو مکمل کرنے اور اس امریکی صہیونی جماعت کا پرچم اتارنے اور شام کا پرچم چڑھانے کے ساتھ اس شجرہ خبیثہ ملعونہ کے خاتمے کا اعلان کررہا ہوں اور  اس میدان کے سبھی کمانڈروں اور گمنام مجاہدوں  کی طرف سے نیز  ہزاروں ایرانی ،عراقی ، شامی ، لبنانی ، افغانستانی ،اور پاکستانی مدافع حرم شہیدوں کہ جنہوں نے مسلمانوں کے نوامیس اور جان نیز انکے مقدسات کا دفاع کرنے کیلئے اپنی جان قربان کردی کی نمایندگی کرتے ہوئے حضرت عالی اور ایران اسلامی کی بزرگوار ملت اور عراق و شام کی مظلوم ملت نیز دنیا بھر کے مسلمانوں کومبارک بادی اور تہنیت عرض کرتا ہوں  اور خداوند قادر کی بارگاہ میں اس عظیم کامیابی کیلئے اس سرزمین پر سجدہ شکر بجا لاتا ہوں۔

عالمی اردو خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق پاسداران انقلاب اسلامی کے سربراہ سرلشکر قاسم سلیمانی نے امام امت ولی فقیہ حضرت امام خامنہ ای اور امت اسلامی  کی خدمت میں داعش کا شام اور عراق میں  مکمل صفایا کرنے کا رسمی اعلان کرتے ہوئے مندرجہ ذیل تحریری مبارکبادی ارسال کی ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

انّافَتَحنا لَکَ فتحاً مُبینا

محضر مبارک رہبر عزیز شجاع انقلاب اسلامی

حضرت آیت اللہ العظمی امام خامنہ ای مدظلہ العالی

سلام علیکم

چھے سال پہلے امیرالمؤمنین (علیہ السلام) کے زمانے کے مانند خطرناک فتنہ  پرپا کیا گیا کہ جس نے خالص محمدی(صلی اللہ علیہ وآلہ) اسلام  کی حقیقت سمجھنے کی  فرصت اورمٹھاس کو چھینا اور اس بار زیادہ پیچیدہ اور صہیونی  اور استکباری زہر سے آغشتہ  تباہ کن طوفان کے مانند عالم اسلام کو اپنے لپیٹ میں لیا۔

عالم اسلام میں وسیع آگ بھڑکانے کی غرض سے اور مسلمانوں کو آپس میں لڑانے  کیلئے یہ خطرناک  اور زہر آلود فتنہ اسلام دشمن طاقتوں کی طرف سے وجود میں لایا گیا۔ دولت اسلامی عراق و شام (داعش) کے نام سے ایسی خبیثانہ تحریک پہلے ہی مہینے میں ہزاروں مسلمان جوانوں کو بہکانے اورعراق  و شام جیسے دو تاثیر گذار اور سرنوشت ساز ملکوں میں خطرناک بحران پیدا کرنے   اوران ممالک کی ہزاروں کلومیٹر مربع سرزمین  سینکڑوں گاؤں ، دیہاتوں ،شہروں اور ڈسٹرکٹ ہیڈکواٹروں کو اپنے قبضے میں لینے میں کامیاب ہوئی اور ہزاروں بڑے کارخانوں اور ڈیپووں نیز انفراسٹکچر جیسے پلوں،اویل ریفاینری،گیس پائپ نیٹ ورک، پاور گرڈ سٹیشنوں اور دیگر ضروری مراکز کو تباہ کردیا  اور اسی کے ساتھ تاریخی اور تمدنی  عظیم سرمایے  آثار قدیمہ کویا بموں سے اڈا یا  یا آگ لگا کر زمین بوس کردیا۔

اگرچہ ان نقصانات کا احاطہ انتہائي مشکل ہے لیکن ابتدایی بررسی کے مطابق  پانچ سو ارب ڈالرکا نقصان ہوا ہے۔

ان حوادث میں غیر قابل نمایش اور  انتہائی درناک جنایات کے مرتکب ہوئے؛ از جملہ :بچوں کا سر قلم کرنا ، یا مردوں کی اپنے گھروالوں کے سامنے زندہ زندہ کھال اتارنا،بے گناہ بیٹیوں اور خواتین  کو اسیربنانا اور ان کی عزت تار تار کرنا، زندہ زندہ لوگوں کو جلانا اور سینکڑوں جوانوں کوایک ساتھ ذبح کرنا۔

ان ممالک کے مسلمان ایسے زہر آلود طوفان سے پریشان ،کچھ تو تکفیری جنایتکاروں کے تیز دھار خنجروں کے شکار ہوئے  اور دوسرے لاکھوں افراد گھربار کو چھوڑ کرہ شہروں اور ملکوں میں آوارہ ہو گئے ۔

اس کالے فتنے میں ہزاروں مساجد  اور مسلمانوں کے مقدس مقامات تباہ و ویران ہو گئے اور کئي مساجد کو امام جماعت اور نماز گزاروں کے ساتھ دھماکوں سے اڈا دیا گیا۔

چھے ہزار سے زائد جوانوں نے اسلام کا دفاع کرنے  کےنام پر دھوکہ کھا کر خودکش حملوں میں شرکت کرکے مساجد، مدارس یہاں تک کہ ہسپتالوں اور مسلمانوں کے عمومی مراکز کو خود کش کاروائي میں اڈا دیا ؛ جس سے ہزاروں بے گناہ مردو زنان، بچے اور بوڑھے شہید ہوئے۔

یہ سبھی جرم و جنایات امریکہ کے سب سے اعلی سرکاری عہدہ دار کے اعتراف کے مطابق کہ جو اسوقت اس ملک کا صدر بھی ہے  امریکہ کے  لیڈروں اور امریکہ سے وابستہ اداروں کی طرف سے منصوبہ بندی اور اجرا ہوا ہے  جس طرح کی ابھی بھی یہ سلسلہ امریکی سربراہ کی طرف سے منصوبہ بندی اور اجرا ہو رہا ہے۔

جو  کچھ اللہ سبحان و تعالی کی مہربانی اور رسول معظم اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آنحضور کے اہلبیت کی خاص عنایت شامل ہونے سے یہ کالی اور خطرناک سازش ناکام ہوئی  اس کےبعد آپ  حضرت مستطاب عالی اور مرجع عالیقدر حضرت آیت اللہ العظمی سیستانی  کی خردمندانہ رہبری اور حکیمانہ رہنمائی  تھی کہ جس سے اس زہریلے طوفان کا مقابلہ کرنے کیلئے تمام وسائل رضاکارانہ طور پر بروکار آئے۔

یقینا حکومت عراق اور شام  کی پایداری  اوران دو ممالک کے  افواج  اور جوانوں کی  استقامت خاص کر حشدالشعبی مقدس اور دیگر ممالک کے جوانوں کی مقتدرانہ حاضری اور جناب سید حسن نصراللہ (حفظہ اللہ تعالی) کی پر افتخار سربراہی  میں حزب اللہ کا  اس خطرناک حادثے کو شکست فاش دینے میں کلیدی کردار رہا ہے۔

قطعا  جمہوریہ اسلامی کی  قوم اورخادم حکومت  خاص کر محترم صدر جمہوریہ ، مجلس شورای اسلامی (پارلمنٹ)، وزارت دفاع، ملک کے نظامی ، انتظامی اور امنیتی اداروں کا حکومتوں اور فوق الذکر   ممالک    کے اقوام کی حمایت کرنا قابل تقدیر ہے۔

ناچیز اس میدان میں حضرتعالی(امام خامنہ ای ) کی طرف سے مکلف شدہ سپاہی کے عنوان سے داعش کے قلعہ "ابوکمال" آزاد کرنے کی عملیات کو مکمل کرنے اور اس امریکی صہیونی جماعت کا پرچم اتارنے اور شام کا پرچم چڑھانے کے ساتھ اس شجرہ خبیثہ ملعونہ کے خاتمے کا اعلان کررہا ہوں اور  اس میدان کے سبھی کمانڈروں اور گمنام مجاہدوں  کی طرف سے نیز  ہزاروں ایرانی ،عراقی ، شامی ، لبنانی ، افغانستانی ،اور پاکستانی مدافع حرم شہیدوں کہ جنہوں نے مسلمانوں کے نوامیس اور جان نیز انکے مقدسات کا دفاع کرنے کیلئے اپنی جان قربان کردی کی نمایندگی کرتے ہوئے حضرت عالی اور ایران اسلامی کی بزرگوار ملت اور عراق و شام کی مظلوم ملت نیز دنیا بھر کے مسلمانوں کومبارک بادی اور تہنیت عرض کرتا ہوں  اور خداوند قادر کی بارگاہ میں اس عظیم کامیابی کیلئے اس سرزمین پر سجدہ شکر بجا لاتا ہوں۔

وَ مَا النَّصرالّا مِن عِندِالله العَزِیزِ الحَکِیم

آپ کا  بیٹا اور سپاہی

قاسم سلیمانی


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500

قدرت گرفته از سایت ساز سحر