»
جمعه 26 آبان 1396

یقینا بظاہر نہیں ہے! تو پھر ہندوستانی منصوبے کو توڑ کرنے کی کوئی پہل کیوں نہیں کی گئی ؟ جب 1990 ء میں ہندوستان نے شیعہ سنی کو ایکدوسرے کو جدا کرنے کیلئے سرینگر کے تاریخی عاشورا جلوس پر پابندی لگائی یہ کہہ کر کہ علیحدگی پسند اس میں شرکت کریں گے تو آپ حضرات نے بظاہر عید کیوں منائی چلو شیعوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پرسہ دینے کی رسم پر پابندی لگائي گئی ۔اگر ایسا نہیں توکشمیر بھر میں جہاں جہاں شیعوں کو عزاداری کے جلوس برآمد کرنے کی اجازت دی جاتی ہے آپ حضرات وہاں شرکت کیوں نہیں کرتے؟

ابو شہیدینؒ 2 فروری 1924 ء مطابق 26 جمید الثانی 1342ھ ق کوکشمیر میں مکتب محمد و آل محمد تشیع کے بانی مبلغ حضرت میر سید محمد شمس الدین  بن سلطان ابراہیم بن سلطان علی بن صدر الدین بن شاہ صفی الدین اردبیلی  کے علم خاندان علم و سیادت اور شیعہ مراجع کرام آیات اعظام حضرات سید ابوالحسن اصفہانی و شیخ عبدالکریم حائری کے وکیل مطلق سلمان التقی حضرت آيت اللہ آغا سید احمد محمد موسوی  کے گھر   میں پیدا ہوئے اور کم سنی کے عالم میں جب آپ نے ابھی 15 ہی بہار دیکھے تھے کہ آپ کے سر پر سہرا باندھا گیا اور 16 سال کی عمر میں آپ نے باپ بننے کا تجربہ حاصل کیا اور22 سال کی عمر میں سایہ پدری سے محروم ہوئے اور آخر الامر خود بدھوار 12 جمید الثانی 1423  مطابق 31مرداد 1381 ہجری شمسی مطابق 21 اگست 2002 عیسوی عصر 6 بجکر 20 منٹ پرغربت کے عالم میں 79 سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔اناللہ و انا الیہ راجعون۔

نیوزنور: حقیقت حال یہ ہے کہ ایران کو نہ کل ایٹم بم بناناتھا نہ آج اس کو ایٹم بم بنانے سے روکا گیا ہے بلکہ ایران کل بھی سائنٹیفک کام کرنا چاہتا تھا ۔ ایٹامک ٹیکنالوجی کو حاصل کرنا چاہتا تھا اس نے کل بھی اس کو حاصل کرنے کا بیڑا اٹھا یا تھا اور آج اپنا لوہا منانے کے سلسلے میں ثابت قدمی کے ساتھ اس کا رسمی دن سنیچروار 26 دی ماه 1394 ہجری شمسی مطابق 16 جنوری 2016  منایا گیا۔ البتہ دنیا اپنی ہار کو ہار کے الفاظوں میں بیان نہیں کر پارہی ہے وہ دوسری بات ہے ۔مگر جو اس دنیا کے ، جو سائنٹیفک ورلڈ کے جو اہل علم حضرات  سیاستداں اور سائنسدان ہیں وہ اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ ایران نے اپنی اس علمی اور سائنسی تحریک کو حاصل کرنے میں انتہائی جدوجہد کی اور اپنی حق بات کو منانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

مجمع جہانی اہل بیت (ع) اور مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کشمیر کے نمائندے کا ’’اسلام ٹائمز‘‘ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہنا تھا کہ ایک طرف امام خامنہ ای اکیلے ہیں جو مسلمانوں کو یکجا اور متحد کرنے کے لئے اپنے تمام تر امکانات عالم اسلام کے سامنے رکھے ہوئے ہیں اور دوسری طرف پوری دنیا ہے، استکباری قوتیں ہیں اور مسلمانوں کی نام نہاد شخصیتیں ہیں جو مسلمانوں کے لئے باعث ننگ و عار ہیں اور ان سے اسلام کو صرف نقصان پہنچتا آ رہا ہے۔


عالمی مجلس تقریب مسالک اسلامی کے نمائندے مولانا سید عبدالحسین کشمیری نے جامع مسجد سونہ پاہ بیروہ میں جمعہ کے دوسرے خطبے میں مسلمانوں کے درمیان 90 فیصد سے زائد مشترکات اور 10 فیصد سے کم اختلافات کی وضاحت کرتے ہوئے مذہبی و مسلکی جھگڑے کو نامطلوب قرار دیتے ہوئے کہا کہ مذہب اور مسلک کے نام پر صرف مناظرہ، مباہلہ اور مکالمہ دیکھنے کو ملنا چاہئے نہ کہ لڑائی جھگڑا کیونکہ صرف رشتوں اور حقوق کو لے کر اختلافات اور جگڑے کی گنجائش ہے لیکن مسلک اور مذہب پر لڑنا جھگڑنا عقل و انصاف سے دور ہے،

ہندوستان زیر زنتظام کشمیر کے مشرقی ضلع بارہمولہ کے علاقے نوگام سوناواری کے نیو برائٹ سٹار پبلک سکول کے خصوصی دعوت پر عبدالحسین کشمیری نے اتحاد و تقریب کی ثقافت کوسماج میں ترویج اور حفاظت کی اہمیت بیان کرتے ہوئے حضرت امام علی خامنہ ای کے حالیہ بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آپ نے فرمایا: حضرت امام خمینی (رہ) اور دیگر بزرگ علماء نے ہمیشہ اسلامی اتحاد کی حفاظت پر تاکید کی ہے لہذا وہ شیعیت جس کی تبلیغ لندن اور امریکہ کے میڈیا کے ذریعہ اختلافات ڈالنے کی غرض سے کی جارہی ہو وہ حقیقی شیعیت نہیں ہے۔

اسلامی مسالک کے درمیان قربت اور یکجہتی کی اسلامی ثقافت کو فروغ دینے اور امت اسلامی کے دشمنوں کی سازشوں سے عوام کو باخبر کرنے کے حوالے سے درس اسلام کے عنوان سے کشمیر میں عالمی مجلس برای تقریب مذاہب اسلامی کے نمایندے نے ٹی پر محفل مذاکرہ کا سلسلہ شروع کیا ہے جسکی پانچویں محفل کی گفتگو قارئین کے نذر ہے۔

اتحاد بین المسلمین پر ہر مسلمان کو پہل کرنا لازمی ہے ۔ لیکن جو ذمہ دار لوگ ہیں اور جو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں ان پر زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اتحاد بین المسلمین کے حوالہ سے اپنی خدمات انجام دیں ۔ ان کو چاہئے کہ اپنے افکار اور نظریات کو صحیح ڈھنگ سے عوام کے سامنے پیش کریں.

میں نے عالم تشیع کے علمی حلقوں کے جید علماء کہ جنہیں یا  امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے مانند یا ان سے بر ترتسلیم کیا جاتا ہے کی ایک فہرست  تیار کرنا شروع کی تو تحقیق کے دوران  صرف حضرت ثقۃ الاسلام کلینی متوی  329 ہجری سے لیکر  حضرت آیت اللہ العظمی سید محسن حکیم رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین  متوفی 1390 ہجری تک   کم سے کم 85 امام خمینیوں  رحمت اللہ علیہم کو پایا جنہوں نے اللہ کی سرزمین پر اللہ کا حکم نافذ ہونے کی وکالت کی ، اسلامی حکومت کے قیام  کی وکالت کی اور عمل اور دعا کے ساتھ مجاہدت کی سرفراز زندگی گزر کی ہے  لیکن امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے مانند کامیاب نہ ہوئے ۔ کیوں؟ کیونکہ وہ مظلوم تھے عوام نے انہیں نہیں سمجھا ، انہیں سمجھنے کی صلاحیت عوام میں موجود نہ تھی ، اس لئے وہ مظلوم واقع ہوئے ۔ امام خمینی کواس مظلومیت سے قرن حاضر کے اہل بصیرت  ایرانیوں نے نکالا ہے جس قوم پر دیگر اقوام کو رشک کرنا چاہئے ۔

سرینگر/27مئی2014/ہندوستان زیر انتظام کشمیر میں منعقدہ حالیہ ہندوستانی پارلمانی انتخابات میں بارہ مولا پارلمانی حلقہ انتخابات کے نامزد آزاد امیدوار حجت الاسلام آغا سید عبدالحسین کشمیری نے ’’عید مبعث ‘‘ جو کہ معراج عالم کے نام سے بھی مشہور ہے کی مناسب سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ 27رجب المرجب آغاز نزول قرآن یعنی اعلان بعثت خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ جس کے بارے میں خود آنحضرت(ص) نے فرمایا ہے’’بعثت لاتمم مکارم الاخلاق‘‘ یعنی میں اخلاق کی تکمیل کیلئے مبعوث ہوا ہوں اور اخلاق ایسی ثقافت ہے جس کے بغیر ہر دین، مذہب، سماج ، قوم ، سیاست اور جماعت ناقص ہے اور دوسرے الفاظوں میں کہہ سکتے ہیں سبھی انسانوں کے درمیان اخلاق مشترکات میں سے ہے

1 2 3 4 5 6 7 8 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر