»
جمعه 26 آبان 1396

اللہ نے مجھے 2009 میں  اپنے گھر پر حاضر ہونے کا شرف عطا کیا ۔ 12 نومبر 2009 یعنی جمعرات کی صبح ،کشمیر حج ہاوس سے میرا سفر محمود شروع ہوا اوراسطرح جمعرات کی رات کو جدہ پہنچ گئے ۔جدہ پہنچ کر احرام باندھنے کی نوبت آ پہنچی  اسلئے میقات کے انتخاب کا مرحلہ آتا ہے ۔ میقات اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پر احرام باندھا ہوتا ہے اور وہ پانچ جگہیں ہیں ۔ 1 مسجد شجرہ ، 2۔ وادی عقیق ، 3۔ جحفہ ، 4۔ یلملم ، 5۔ قرن المنازل ہیں ۔ان پانچ مقامات میں سے جحفہ میرا میقات تھا ۔ کیونکہ جحفہ شام ، مصراوریہاں سے گذرنے والوں کیلئے میقات ہے جو مسجد حرام سے شمال مغرب میں 187 کلومیٹر دوری پر واقع ہے ۔ یہاں سے جنوب مشرق میں 17 کلومیٹر کے فاصلہ پر شہر رابغ ہے ۔، جبکہ بحر احمر یہاں سے مشرق میں صرف 15کلومیٹر رہ جاتا ہے مکہ اور مدینہ کے درمیان سڑک ہے جس کو طریق ہجرہ (ہجرت روڈ) کہا جاتا ہے۔یہاں پر ایک نئ مسجد تعمیر کی گئ ہے جس کی پیمایش 30×30=900 مربع میٹر ہے ۔

جنت البقیع تاریخ اسلام کے جملہ مہم آثار میں سے ایک ہے ،  جسے وہابیوں نے 8شوال 1343 مطابق مئ 1925 کو شہید کرکے دوسرے کربلا کی داستان کو قلمبند کرکے اپنے یزیدی افکار اور عقیدے کا برملا اظہار کیا ہے ۔

حضرت آیت اللہ العظمی  امام سید روح اللہ موسوی خمینی رہ کی ولادت 20 جمید الثانی 1320 ہجری کو ایران کے شھر خمین میں ہوئی ہے اور  ربیع الاول 1390 میں حضرت امام محسن حکیم رہ کے وفات کے بعد مرجع تقلید بن گئے اور 1979 میں اسلامی جمہوری کا قیام عمل میں لایا اور 4 جون 1989 کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔ انا للہ و انا الہ راجعون۔

سعودی عربیہ کے شیعوں کی الراصد نامی ویب سائٹ نے لکھا ہے : مرجع تقلید شیعیان حضرت آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی  مدظلہ العالی کے  نجف اشرف کے مرکزی دفتر نے  اپنے ایک رسمی خط کے ذریعہ سے حضرت  آیت اللہ  العظمی سیستانی  مدظلہ العالی سے منسوب قمہ زنی  کی تائيد کی خبر کو رسمی طور تکذیب کیا  ہے۔

 مورخہ26 مارچ 2010 مطابق 9ربیع الثانی 1431 ھجری کو  خطیب موقت نماز جمعہ بڈگام حجت الاسلام والمسلمین الحاج آغا سید عبدالحسین مصطفی موسوی کی امامت میں قائم ہوا۔

بروز جمعہ مورخہ دو ربیع الثانی 1431 مطابق 19 مارچ 2010 آغا سید عبدالحسین بڈگامی نے مسجد آبی گزر لالچوک سرینگر کشمیر میں نماز جمعہ کی امامت کا فریضہ انجام دیا ۔

فروری سال 1979 عیسوی میں رونما ہونے والا اسلامی انقلاب جسے بیسوی صدی کا معجزہ کہا جاتا ہے جس   کے وقوع پذیر  ہونے سے عالمی میعیار ہرج  و مرج میں مبتلا ہوگئے اور آج تک  اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں کیونکہ اس اسلامی انقلاب نے عالمی سیاسی معیار کو یک سر مسترد کرکے الہی منشور کو کامیابی اور کامرانی کا حقیقی راز ہونے کا دعوی کیا اور آج تک عملی طور اسے ثابت کرنے مین  سرخ رو ہوتے جا رہے ہیں اور اسکے مقابلے میں ہر سال استکباری منصوبے ناکام ہوتے نظر آرہے ہیں اور ہر ایک ناکامی کے بعد پہلے ناکامی کو چھپانے کے لئے نیا منصوبہ پیش کرکے پیہم مشکلات سے دچار ہو رہے ہیں اور دوسری طرف  ہر مستضعف طبقے میں ایک نئ جان پیدا ہورہی ہے اور عوامی طاقت کا آفاقی مظاہرہ دنیا کے  سامنے مسلسل آر رہا ہے ۔اس طرح قرآنی بشارت « و نريد ان نمنّ علي الذین استضعفوا فی الارض و نجعلهم ائمة و نجعلهم الوارثین.»( سوره قصص آیه 5) کی  تفسیر ہوتی نظر آرہی ہے۔

جمعرات 12 نومبر 2009 مطابق 25 ذوالقعدہ 1430 ھجری قمری کو  صبح اقرباء کے حلقے سے درود و صلوات کے سایے تلے میں حج ھاوس سرینگر روانہ ہوا  ،جہاں سے جدہ  کی طرف بذریعہ طیارہ روانگی تھی اور روز جمعہ کو انبیاء علیہم السلام کے سرزمین امن مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا  شرف حاصل ہوا ۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے 64ویں اجلاس میں 23 ستمبر 2009 کو اسلامی جمھوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کے تقریر کا ترجمہ: حصہ 1

1 2 3 4 5 6 7 8 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر