»

مطالب ویژه

حضرت آیت اللہ العظمی  امام سید روح اللہ موسوی خمینی رہ کی ولادت 20 جمید الثانی 1320 ہجری کو ایران کے شھر خمین میں ہوئی ہے اور  ربیع الاول 1390 میں حضرت امام محسن حکیم رہ کے وفات کے بعد مرجع تقلید بن گئے اور 1979 میں اسلامی جمہوری کا قیام عمل میں لایا اور 4 جون 1989 کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔ انا للہ و انا الہ راجعون۔

سعودی عربیہ کے شیعوں کی الراصد نامی ویب سائٹ نے لکھا ہے : مرجع تقلید شیعیان حضرت آیت اللہ العظمی سید علی سیستانی  مدظلہ العالی کے  نجف اشرف کے مرکزی دفتر نے  اپنے ایک رسمی خط کے ذریعہ سے حضرت  آیت اللہ  العظمی سیستانی  مدظلہ العالی سے منسوب قمہ زنی  کی تائيد کی خبر کو رسمی طور تکذیب کیا  ہے۔

 مورخہ26 مارچ 2010 مطابق 9ربیع الثانی 1431 ھجری کو  خطیب موقت نماز جمعہ بڈگام حجت الاسلام والمسلمین الحاج آغا سید عبدالحسین مصطفی موسوی کی امامت میں قائم ہوا۔

بروز جمعہ مورخہ دو ربیع الثانی 1431 مطابق 19 مارچ 2010 آغا سید عبدالحسین بڈگامی نے مسجد آبی گزر لالچوک سرینگر کشمیر میں نماز جمعہ کی امامت کا فریضہ انجام دیا ۔

فروری سال 1979 عیسوی میں رونما ہونے والا اسلامی انقلاب جسے بیسوی صدی کا معجزہ کہا جاتا ہے جس   کے وقوع پذیر  ہونے سے عالمی میعیار ہرج  و مرج میں مبتلا ہوگئے اور آج تک  اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں کیونکہ اس اسلامی انقلاب نے عالمی سیاسی معیار کو یک سر مسترد کرکے الہی منشور کو کامیابی اور کامرانی کا حقیقی راز ہونے کا دعوی کیا اور آج تک عملی طور اسے ثابت کرنے مین  سرخ رو ہوتے جا رہے ہیں اور اسکے مقابلے میں ہر سال استکباری منصوبے ناکام ہوتے نظر آرہے ہیں اور ہر ایک ناکامی کے بعد پہلے ناکامی کو چھپانے کے لئے نیا منصوبہ پیش کرکے پیہم مشکلات سے دچار ہو رہے ہیں اور دوسری طرف  ہر مستضعف طبقے میں ایک نئ جان پیدا ہورہی ہے اور عوامی طاقت کا آفاقی مظاہرہ دنیا کے  سامنے مسلسل آر رہا ہے ۔اس طرح قرآنی بشارت « و نريد ان نمنّ علي الذین استضعفوا فی الارض و نجعلهم ائمة و نجعلهم الوارثین.»( سوره قصص آیه 5) کی  تفسیر ہوتی نظر آرہی ہے۔

جمعرات 12 نومبر 2009 مطابق 25 ذوالقعدہ 1430 ھجری قمری کو  صبح اقرباء کے حلقے سے درود و صلوات کے سایے تلے میں حج ھاوس سرینگر روانہ ہوا  ،جہاں سے جدہ  کی طرف بذریعہ طیارہ روانگی تھی اور روز جمعہ کو انبیاء علیہم السلام کے سرزمین امن مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا  شرف حاصل ہوا ۔

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے 64ویں اجلاس میں 23 ستمبر 2009 کو اسلامی جمھوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر محمود احمدی نژاد کے تقریر کا ترجمہ: حصہ 1

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے 64ویں اجلاس میں مسلمان قائدین میں سے جنہوں نے ابھی تک تقریریں کی ہیں اور انصافا ہر ایک قائد نے مھم اور حقیقت پر مبنی عناوین کا تذکرہ ضرور کیا جسے پورے دنیا کا میڈیا بلافاصلہ منعکس کررہا ہے۔ ان میں سے لیڈرانہ بیان سے بالاتر جس قائد کا بیان تبصرہ نہیں بلکہ ظالموں پر محاصرہ تھا۔ ظالموں کا تذکرہ کے ساتھ مظلوموں کا مرثیہ تھا ، عنوان نہیں بلکہ مظلومیت کا طوفان تھا ۔ مسلمان کے کرداری خد و خال کا عکس تھا ، وہ کردار اور رفتار کا غازی اور عالم اسلام کا قابل فخر سیاست داں جناب ڈاکٹر محمود احمدی نژاد (حفظ اللہ) تھے جنہوں نے چھے نقاط بر مبنی اپنی تقریر میں خداپرست اور خدا ترس مسلمانوں کا سر اونچا کیا ، لیکن افسوس کہ پرنٹ میڈیا کے اکثر اخبارات نے ان باتوں کو مھم نہیں سمجھا جنہیں صدر جمھور صاحب نے اپنے بیان کے پہلے نقطے میں مخصوص طور پر بیان کیا جس سے نہ صرف مسلمانوں بلکہ ھر انصاف پسند انسان کو اپنے انسان ہونے پر ناز ہوتا ہے۔

رمضان المبارک کے بارے میں خدای سبحان اور پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کے ارشادات و فرمایشات  پرمبنی، بانی اسلامیہ جمھوریہ ایران نے جس آواز کو اللہ اور اسکے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے نسبت امید فرج کے ساتھ کمال مظلومیت میں بلند کیا تھا اور آج آنحضرت کے طفیل ایک عالمی اسلامی تحریک میں تبدیل ہو چکی ہے۔
1 2 3 4 5 6 7 8 
این سایت متعلق است به 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر