»

مطالب ویژه

قال اللہ سبحانہ :بِسْمِ اللّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ وَإِذَا سَمِعُواْ مَا أُنزِلَ إِلَى الرَّسُولِ تَرَى أَعْيُنَهُمْ تَفِيضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَرَفُواْ مِنَ الْحَقِّ يَقُولُونَ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ ۔{سورہ مائدہ/83} (اور جب اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر نازل ہوا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ ان کی آنکھوں سے بے ساختہ آنسو جاری ہو جاتے ہیں انہوں نے حق کو پہچان لیا ہے اور کہتے ہیں کہ پروردگارا ہم ایمان لے آئے ہیں لہذا ہما رانام بھی تصدیق کرنے والوں میں درج کرلے

 ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ محرم کے حوالے سے دو باتیں ہیں ایک عاشورا کی تحریک کے بارے میں ،اگرچہ امام حسین علیہ السلام کے قیام کے فلسفے کے بارے میں بہت زیادہ کہا اور لکھا جاتا ہے نہایت عمدہ باتیں اس سلسلے میں بیاں ہوتی رہتی ہیں ۔لیکن حقیقت میں عمر بھر اس کی درخشاں حقیقت کو بیان کیا جاسکتا ہے۔ جتنا بھی عاشورا اور امام حسین علیہ السلام کے قیام کے بارے میں غور کریں تو معلوم پڑھتا ہے کہ یہ معاملہ کئ اعتبار سے پر کشش اور کئ اعتبار سے تفکر کرنے اور بیان کرنے کے قابل ہے ۔

کربلا میں سن اکسٹھ ہجری میں پیش آنے والا تاریخ اسلام کا سبق آموز اور حیرت انگیز واقعہ ہے ۔ واقعہ کربلا اگرچہ ہر اعتبار سے قابل سنجش اور تحقیق ہے البتہ اس وقت جس موضوع پر بات کرنا مقصود ہے وہ حسین بن علی بن ابیطالب علیہم السلام کا یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کی بیعت کرنے سے انکار کرنا ہے ۔ اس موضوع کے سلسلے میں پہلے قرآن پھر حدیث اور اسکے بعد تاریخ کی روشنی میں مختصرطور بات کرنے کی کوشش کی جائے گے جس سے امام کا انکار بیعت کرنے کا مقصد و مفہوم عامیانہ طور پر بھی واضح ہو جائے گا۔

اس طرح حق کی باطل پر فتح ہوئی ۔ مباھلہ پیغمبر کی حقانیت اور امامت کی تصدیق کا نام ہے ۔ مباھلہ پیغمبر کےاھل بیت کا اسلام پر آنے والے ہر آنچ پر قربان ہونے کیلئے الہی منشور کا نام ہے ۔تاریخ میں ہم اس مباھلے کی تفسیر کبھی امام علی کی شہادت ، کبھی امام حسن علی شہادت کبھی امام حسین کی شہادت کبھی امام علی زید العابدین کی شہادت ، کبھی امام محمد باقر کی شہادت ، کبھی امام جعفر صادق کی شہادت ، کبھی امام موسی کاظم کی شہادت ، کبھی امام علی رضا کی شہادت ، کبھی امام محمد تقی کی شہادت ، کبھی امام علی النقی کی شہادت ، کبھی امام حسن عسکری کی شہادت اور کبھی امام مھدی کی غیبت سے ملاحظہ کرتے ہیں کہ اس دن سے لے کراسلام کی بقا کیلئے یہی مباھلہ کےلوگ ، اسلام کی بقا کیلئے قربان ہونے کیلئے سامنے آتےنظر آتے رہے ہیں اور اسلام دشمن قوتوں کی ہر سازش کو ناکام بنادیتے ہیں ۔

ہر سال مکہ معظمہ میں حجاج کرام کا رمی جمرات کرنے کی تصاویر روح پرور ہونے کے ساتھ ساتھ بعض لوگوں کے لئے سوال بر انگیز بھی ہوتے ہیں ۔ لیکن جب اس سال حجاج کرام نے رمی جمرات ختم کیا ہوا تھا بغداد میں اس عہد کا اعادہ دیکھنے کو ملا جو کہ نہ صرف بعض لوگوں کے لئے دلچسپ اور سوال بر انگیز تھا بلکہ ہر دیکھنے والے کیلئے معنی خیز تھا ۔

اس وقت ایک شخص کھڑا ہوا اور بلند آواز میں سوال کیا کہ ان دو اہم چیزوں سے کیا مراد ہے ؟ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ نے فرمایا کہ : ایک اﷲ کی کتاب ہے جس کا ایک سرا اﷲ کی قدرت میں ہے اور دوسرا تمھارے ہاتھوں میں ، اور دوسرے میری عترت اور اہلبیت ؏ ہیں ۔ اﷲ نے مجھے خبر دی ہے کہ یہ ہرگز ایک دوسرے سے جدا نہ ہوں گے جب تک نہ مجھ سے حوض کوثر پر ملاقات کریں گے ۔ اے لوگو خبردار!قرآن اور میری عترت پر سبقت نہ کرنا ، اور دونوں کے حکم کی تعمیل میں کوتاہی نہ کرنا ، ورنہ ہلاک ہو جاؤ گے۔ اس وقت حضرت علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑ کر اتنا اونچا اٹھایا کہ دونوں کی بغلوں کی سفیدی سب کو نظر آنے لگی ، علی علیہ السلام سے سب لوگوں کو متعارف کرایا ۔ اس کے بعد فرمایا :

عالم اسلام میں رونما ہونے والے واقعات کو ہندوستان کے علماء خاص کر یہی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی جہاں شیعہ اور سنی فقہ ڈپارٹمنٹ قائم ہیں عالم اسلام کیلئے تھینک ٹینک کا کام کریں اسلامی تعلیمات کی حقیقی شکل غیرمسلمانوں کے ماحول میں نافذ کرکے پررکھ کے پیش کریں۔

قارئین حضرات کو ایسے حیران کن انکشافات کو پڑھ کر اندازہ ہوا ہوگا کہ ہمیں کتنا ہوشیار رہنا چاہئے دنیای استکبار آپ کی عزاداری سے کس قدر خائف و پریشان ہے اور ایسے حالات میں ہمیں شعوری یا غیر شعوری طور ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہئے جس سے اسلام کے دشمنوں کا فایدہ ہو ۔اسلام کو ائمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے خون سے سینچا ہے سنوارا ہے بچایا ہے اور پیغبمر اسلام ﷺ کی سیرت کو داغدار ہونے سے بچایا ہے اسلئے اسکی حفاظت کا عظیم فریضہ ہم پر عائد ہوتا ہے۔ ابن زیاد نے زینب سلام اﷲعلیہا سے مخاطب ہو کر حسین بن علی علیہ السلام کی شھادت کو یزیدی اسلام کے عنوان سے یاد کرتے ہوئے کہا اﷲ کا حمد وشکر بجا لاتا ہوں کہ اﷲ نے حسین بن علی کو قتل کیا اسکے خاندان کو رسوا کیا اور اسکے باپ کے جھوٹ کو برملا کیا اس پر زینب سلام اﷲ علیہا نے جواب دیا کہ ما رائت الا جمیلا میں نے اچھائی کے سوا کچھ نہ دیکھا ۔ یہ بہت ہی باریک نقطہ ہے کہ نقلی مسلمان جس کو ذلت سمجھتا ہے اسے اصلی مسلمان عزت سمجھتا ہے ۔ کیونکہ پھر پتہ چلا کہ اس شھادت سے کس طرح اسلام کے دشمنوں کے عزایم خاک میں ملتے رہے ۔جعلنا اللّه من المتمسكين بالثقلين بكتاب اللّه و عترة نبيّه محمد صلى اللّه عليه وعليهم

اللہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولانا شوکت احمد کی شہادت قبول فرمائے اور ہمارے  لیڈران حضرات کو حق و صداقت کے ساتھ کشمیر کی آزادی کیلئے دوگانگی اور چند گانگی کو چھوڑ کر ایک واضح موقف اور جہت اختیار کرنے کی توفیق عطا  فرما  ،تاکہ کشمیری عوام کو اپنا روشن ماضی(بلبل شاہ کا دور) بحال ہوسکے اور  استعماری آلہ کاروں کا بازار بند ہوسکے ۔

    اے کاش ایرانی مومن عوام کی طرح دیگر مسلمان بھی اسلام کی حاکمیت میں زندگی گذر بسر کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے ولی فقیہ کے جھنڈے تلے جمع ہو کر دنیا و آخرت کی سعادت کرنے کی پہل کرتے تاکہ دنیا بھر پر رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت نمایاں ہو جاتی ۔
1 2 3 4 5 6 7 8 
این سایت متعلق است به 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر