»
دوشنبه 2 بهمن 1396

قارئین حضرات کو ایسے حیران کن انکشافات کو پڑھ کر اندازہ ہوا ہوگا کہ ہمیں کتنا ہوشیار رہنا چاہئے دنیای استکبار آپ کی عزاداری سے کس قدر خائف و پریشان ہے اور ایسے حالات میں ہمیں شعوری یا غیر شعوری طور ایسا کوئی کام نہیں کرنا چاہئے جس سے اسلام کے دشمنوں کا فایدہ ہو ۔اسلام کو ائمہ معصومین علیہم السلام نے اپنے خون سے سینچا ہے سنوارا ہے بچایا ہے اور پیغبمر اسلام ﷺ کی سیرت کو داغدار ہونے سے بچایا ہے اسلئے اسکی حفاظت کا عظیم فریضہ ہم پر عائد ہوتا ہے۔ ابن زیاد نے زینب سلام اﷲعلیہا سے مخاطب ہو کر حسین بن علی علیہ السلام کی شھادت کو یزیدی اسلام کے عنوان سے یاد کرتے ہوئے کہا اﷲ کا حمد وشکر بجا لاتا ہوں کہ اﷲ نے حسین بن علی کو قتل کیا اسکے خاندان کو رسوا کیا اور اسکے باپ کے جھوٹ کو برملا کیا اس پر زینب سلام اﷲ علیہا نے جواب دیا کہ ما رائت الا جمیلا میں نے اچھائی کے سوا کچھ نہ دیکھا ۔ یہ بہت ہی باریک نقطہ ہے کہ نقلی مسلمان جس کو ذلت سمجھتا ہے اسے اصلی مسلمان عزت سمجھتا ہے ۔ کیونکہ پھر پتہ چلا کہ اس شھادت سے کس طرح اسلام کے دشمنوں کے عزایم خاک میں ملتے رہے ۔جعلنا اللّه من المتمسكين بالثقلين بكتاب اللّه و عترة نبيّه محمد صلى اللّه عليه وعليهم

اللہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولانا شوکت احمد کی شہادت قبول فرمائے اور ہمارے  لیڈران حضرات کو حق و صداقت کے ساتھ کشمیر کی آزادی کیلئے دوگانگی اور چند گانگی کو چھوڑ کر ایک واضح موقف اور جہت اختیار کرنے کی توفیق عطا  فرما  ،تاکہ کشمیری عوام کو اپنا روشن ماضی(بلبل شاہ کا دور) بحال ہوسکے اور  استعماری آلہ کاروں کا بازار بند ہوسکے ۔

    اے کاش ایرانی مومن عوام کی طرح دیگر مسلمان بھی اسلام کی حاکمیت میں زندگی گذر بسر کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے ولی فقیہ کے جھنڈے تلے جمع ہو کر دنیا و آخرت کی سعادت کرنے کی پہل کرتے تاکہ دنیا بھر پر رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت نمایاں ہو جاتی ۔

کربلا میں سن اکسٹھ ہجری میں پیش آنے والا واقعہ تاریخ اسلام کا سبق آموز اور حیرت انگیز واقعہ ہے ۔ واقعہ کربلا اگرچہ  ہر اعتبار سے قابل سنجش،تحلیل اور تحقیق ہے البتہ اس وقت جس موضوع پر بات کرنا مقصود ہے وہ حسین بن علی بن ابیطالب علیہم السلام کا یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کی بیعت کرنے سے انکار  کے موضوع پر ایک طائرانہ نظرکرنا ہے ۔ اس موضوع کے سلسلے میں پہلے قرآن  پھر حدیث اور  اسکے بعد تاریخ کی روشنی میں مختصرطور تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے گے جس سے امام کا انکار بیعت کرنے کا مقصد و مفہوم عامیانہ طور پر بھی واضح ہو جائے گا۔ 

رسول خدا حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےحجاز اور یمن کے درمیاں نجران نامی علاقےمیں مقیم عیسائیوں کو24 ذیحجہ 9 ہجری قمری کواللہ کی وحدانیت قبول کرنے کی دعوت دی جسے مباہلہ کہتے ہیں۔اور اس دن توحیدی عقیدے کا مشرکانہ عقیدے کا آمنا سامنا ہونا تھا ایکدوسرے کے عقیدے کے بارے میں خدا سے غضب کی دعا کرنی تھی اور توحیدی قافلے کو دیکھ کرہی مشرکوں نےدبے الفاظوں میں اپنی شکست کا اعلان کیا ، اسطرح عقائد کا علمی اور عملی مناظرہ ہوا جس پر علم وعمل کا لا علمی وبی عملی پر غلبہ ہوا جسے اہل بصیرت عید مناتے ہیں ۔کیونکہ اس کامیابی پر اللہ نے ایک آیت نازل فرمائی ہے۔

سرینگر/25اکتوبر2013/کہتے ہیں ڈھونڈنے سے خدا ملتا ہے یا عربی میں کہاوت ہے ’’من جد وجد‘‘(جس نے چاہا اس نے پایا)۔عید غدیر کے موقعہ پر ہندوستان زیر انتظام کشمیر میں اس کہاوت کا عملی نمونہ دیکھنے کو ملا کہ جو لوگ امت واحدہ (مسلمانوں) کے درمیان اتحاد و بھائی چارگی کو چار چاند لگانے کی کوشش میں لگے ہیں انہیں ہر مناسبت میں سب سے زیادہ وسیع میدان امت کو جوڑنے میں ملتا ہے۔

ولایت فقیہ یعنی اسلامی قیادت کہ جس کو قرآن سے پرکھا جا سکے اور الحمدللہ ہم ایسے زمانے میں رہ رہے ہیں جس دور میں اسلامی حاکمیت کو مشاہدہ کررہے ہیں اور اسلامی حاکم ولی فقیہ حضرت امام خامنہ ای کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کے اکیلے اسلامی حاکم ہیں جس کی حکومت داری سے صدر اسلام کے دور کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے ۔اور دور حاضر میں امام خامنہ ای امت اسلامی کو جوڑنے کااکلوتا محور ہیں ۔اگر کوئی اور ہے تو کوئی نشاندہی کرے کہ امت کو جوڑنے کیلئۓ کیا کررہا ہے۔ چونکہ دنیا بھر میں اسلامی اصولوں پر مبنی ایک ہی اسلامی جمہوری حکومت ہے اسلئے اسی حکومت پر فریضہ عائد ہے کہ امت کو جوڑنے کیلئے کوشش کرے اور عالمی دباو کے پیش نظر تمام تر مشکلات کے چلتے امام خامنہ ای مسلمانوں کے صفوں میں اتحاد کو اہمیت دیتے ہیں۔

اللہ کی بارگاہ سے دست بدعا ہوں کہ اس رحمت کے مہینے کے صدقے میں اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے درمیاں بالخصوص اور امت اسلامی کے درمیاں بالعموم اتحاد و اتفاق عطا کرکے ہر بنی النوع انسان کیلئے انصاف اور عدالت کی فضا نصیب فرمائے۔ ظالم کا خاتمہ کرے اور مظلوم کو نصرت و ظفر نصیب فرمائے۔ آمین

شب قدر ہمیں سکھاتی ہے کہ مقدس کام کیلئے مقدس وقت کا تعین ضروری ہے "لیلۃ القدر خیر من الف شھر"۔ہر وقت ایک جیسا نہیں کسی ایک وقت کو دوسرے وقت پر فضیلت ہے"لیلۃ القدر خیر من الف شھر"۔خدایا ہمیں شب قدر میں تمہاری رضا حاصل کرنے،مسلمان زندہ رہنے ،اور دوسروں کو اسلام کی طرف ہدایت کرنے اور مسلمان مرنے کی توفیق نصیب فرما۔آمین

میرا سنی علماء سے صرف ایک سوال ہے جب کھبی بھی کسی سنی کو مظلومانہ شہید کیا جاتا ہے شیعہ علماء شہادت کو سلام اور ظلم کی مذمت کرتے ہیں لیکن جب شیعہ مظلومانہ شہید کیا جاتا ہے تو اکثرسنی علماء ایسے میں خاموش کیوں رہتے ہیں۔حتی مذمتی بیان جاری کرنے سے بھی اکثر کتراتے ہیں کیوں؟

1 2 3 4 5 6 7 8 

قدرت گرفته از سایت ساز سحر