»
سه شنبه 2 آبان 1396

اللہ کی بارگاہ میں دعا ہے کہ مولانا شوکت احمد کی شہادت قبول فرمائے اور ہمارے  لیڈران حضرات کو حق و صداقت کے ساتھ کشمیر کی آزادی کیلئے دوگانگی اور چند گانگی کو چھوڑ کر ایک واضح موقف اور جہت اختیار کرنے کی توفیق عطا  فرما  ،تاکہ کشمیری عوام کو اپنا روشن ماضی(بلبل شاہ کا دور) بحال ہوسکے اور  استعماری آلہ کاروں کا بازار بند ہوسکے ۔

    اے کاش ایرانی مومن عوام کی طرح دیگر مسلمان بھی اسلام کی حاکمیت میں زندگی گذر بسر کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے ولی فقیہ کے جھنڈے تلے جمع ہو کر دنیا و آخرت کی سعادت کرنے کی پہل کرتے تاکہ دنیا بھر پر رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت نمایاں ہو جاتی ۔

کربلا میں سن اکسٹھ ہجری میں پیش آنے والا واقعہ تاریخ اسلام کا سبق آموز اور حیرت انگیز واقعہ ہے ۔ واقعہ کربلا اگرچہ  ہر اعتبار سے قابل سنجش،تحلیل اور تحقیق ہے البتہ اس وقت جس موضوع پر بات کرنا مقصود ہے وہ حسین بن علی بن ابیطالب علیہم السلام کا یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کی بیعت کرنے سے انکار  کے موضوع پر ایک طائرانہ نظرکرنا ہے ۔ اس موضوع کے سلسلے میں پہلے قرآن  پھر حدیث اور  اسکے بعد تاریخ کی روشنی میں مختصرطور تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے گے جس سے امام کا انکار بیعت کرنے کا مقصد و مفہوم عامیانہ طور پر بھی واضح ہو جائے گا۔ 

رسول خدا حضرت محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نےحجاز اور یمن کے درمیاں نجران نامی علاقےمیں مقیم عیسائیوں کو24 ذیحجہ 9 ہجری قمری کواللہ کی وحدانیت قبول کرنے کی دعوت دی جسے مباہلہ کہتے ہیں۔اور اس دن توحیدی عقیدے کا مشرکانہ عقیدے کا آمنا سامنا ہونا تھا ایکدوسرے کے عقیدے کے بارے میں خدا سے غضب کی دعا کرنی تھی اور توحیدی قافلے کو دیکھ کرہی مشرکوں نےدبے الفاظوں میں اپنی شکست کا اعلان کیا ، اسطرح عقائد کا علمی اور عملی مناظرہ ہوا جس پر علم وعمل کا لا علمی وبی عملی پر غلبہ ہوا جسے اہل بصیرت عید مناتے ہیں ۔کیونکہ اس کامیابی پر اللہ نے ایک آیت نازل فرمائی ہے۔

سرینگر/25اکتوبر2013/کہتے ہیں ڈھونڈنے سے خدا ملتا ہے یا عربی میں کہاوت ہے ’’من جد وجد‘‘(جس نے چاہا اس نے پایا)۔عید غدیر کے موقعہ پر ہندوستان زیر انتظام کشمیر میں اس کہاوت کا عملی نمونہ دیکھنے کو ملا کہ جو لوگ امت واحدہ (مسلمانوں) کے درمیان اتحاد و بھائی چارگی کو چار چاند لگانے کی کوشش میں لگے ہیں انہیں ہر مناسبت میں سب سے زیادہ وسیع میدان امت کو جوڑنے میں ملتا ہے۔

ولایت فقیہ یعنی اسلامی قیادت کہ جس کو قرآن سے پرکھا جا سکے اور الحمدللہ ہم ایسے زمانے میں رہ رہے ہیں جس دور میں اسلامی حاکمیت کو مشاہدہ کررہے ہیں اور اسلامی حاکم ولی فقیہ حضرت امام خامنہ ای کے بارے میں کہہ سکتے ہیں کہ دنیا کے اکیلے اسلامی حاکم ہیں جس کی حکومت داری سے صدر اسلام کے دور کو سمجھنے میں آسانی ہوتی ہے ۔اور دور حاضر میں امام خامنہ ای امت اسلامی کو جوڑنے کااکلوتا محور ہیں ۔اگر کوئی اور ہے تو کوئی نشاندہی کرے کہ امت کو جوڑنے کیلئۓ کیا کررہا ہے۔ چونکہ دنیا بھر میں اسلامی اصولوں پر مبنی ایک ہی اسلامی جمہوری حکومت ہے اسلئے اسی حکومت پر فریضہ عائد ہے کہ امت کو جوڑنے کیلئے کوشش کرے اور عالمی دباو کے پیش نظر تمام تر مشکلات کے چلتے امام خامنہ ای مسلمانوں کے صفوں میں اتحاد کو اہمیت دیتے ہیں۔

اللہ کی بارگاہ سے دست بدعا ہوں کہ اس رحمت کے مہینے کے صدقے میں اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے درمیاں بالخصوص اور امت اسلامی کے درمیاں بالعموم اتحاد و اتفاق عطا کرکے ہر بنی النوع انسان کیلئے انصاف اور عدالت کی فضا نصیب فرمائے۔ ظالم کا خاتمہ کرے اور مظلوم کو نصرت و ظفر نصیب فرمائے۔ آمین

شب قدر ہمیں سکھاتی ہے کہ مقدس کام کیلئے مقدس وقت کا تعین ضروری ہے "لیلۃ القدر خیر من الف شھر"۔ہر وقت ایک جیسا نہیں کسی ایک وقت کو دوسرے وقت پر فضیلت ہے"لیلۃ القدر خیر من الف شھر"۔خدایا ہمیں شب قدر میں تمہاری رضا حاصل کرنے،مسلمان زندہ رہنے ،اور دوسروں کو اسلام کی طرف ہدایت کرنے اور مسلمان مرنے کی توفیق نصیب فرما۔آمین

میرا سنی علماء سے صرف ایک سوال ہے جب کھبی بھی کسی سنی کو مظلومانہ شہید کیا جاتا ہے شیعہ علماء شہادت کو سلام اور ظلم کی مذمت کرتے ہیں لیکن جب شیعہ مظلومانہ شہید کیا جاتا ہے تو اکثرسنی علماء ایسے میں خاموش کیوں رہتے ہیں۔حتی مذمتی بیان جاری کرنے سے بھی اکثر کتراتے ہیں کیوں؟

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بارہویں اور آخری وصی حضرت مھدی موعود امام زمان اس سال (1434ہجری)کو 1180سال کے ہوئے ہیں جوکہ پردہ غیب سے خدا کے حکم سے نکل کر دنیا کو ظلم و جور سے نجات دیں گے اور اللہ کی زمین  صرف اللہ کا حاکم کارفرما ہوگا۔منجی اور موعود ایک ایسا بحث ہے جو کہ ہر دین اور مذھب میں پایا جاتا ہے ـ سب ایک نجات دھندہ کے انتظار میں ہیں ـ اسلام میں اسکا ایک خاص مقام ہے اور خاص نشاندہی کے ساتھ واضح ہے البتہ کچھ لوگوں کا ماننا ہےکہ مسلمانوں میں صرف شیعوں کاایسا تصور اور عقیدہ ہے کہ امام مھدی (عج) ہیں جبکہ یہ عقیدہ صرف شیعیوں کا نہیں ہے اھل سنت بھی امام زمانہ کے وجود کا عقیدہ رکھتے ہیں ـ یہاں پر ان میں سے چند علماء کے نظریات نقل کرتے ہیں:

1 2 3 4 5 6 7 8 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر