»
جمعه 26 آبان 1396

البتہ یہ بات غور طلب ہے کہ جس زبان میں اس مقالے کو تحریر کررہا ہوں یعنی اردو اس  میدان کے اکثر صحافی  اور قلمکار حضرات اس موضوع پر لکھنے پڑھنے یاجاننے کو اپنے لئے حرام  سمجھتے ہیں اور  جب بھی دنیا بھر میں اکلوتی  عوامی دینی حکومت یعنی اسلامی جمہوری ایران کے خلاف کوئی بھی سازشی خبر صہیونی ذرائع سے مستقیم یا غیر مستقیم طور پر حاصل ہوتی ہے تو اسے  شائع کرنے اور رائے دینے میں پر تحرک بنتے ہوئے اسقدر اس جھوٹی خبر کو نمایاں طور پر پیش کرنے میں  کوشاں نظر آتے ہیں جیسے کہ انکے جان میں جان آ گئی ہو۔اور ایسا کیوں ہے سمجھنے سے قاصر ہوں۔

    اسلام پسند مجاہدوں اورسیاستدانوں کو چاہئے مسلکی ، قومی و لسانی تعصب کو چھوڑ کرجمہوری اسلامی ایران کے مثالی کردار سے سبق سیکھنے کیلئے زانوی ادب تہہ کریں اوررسول رحمت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دین مبین اسلام کی حقیقی تصویر پیش کرنے میں ایکدوسرے کا تعاون کریں اور اسلام دشمن طاقتوں کی اسلام کو مسخ کرنے کی سازشوں سے نجات دلانے کیلئے اتحاد اور تقریب کا عملی مظاہرہ کریں۔

سلام و درود ایران کے عوام پر جنہوں نے تمام انبیاء الہی ، ائمہ ھدی علیہم السلام اورعلماء ربانی اولیا ء اللہ رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین کی مظلومت پر نوحہ سرائی اور یاوری کا علم بلند کیا اور تعلمیات الٰہی پر لبیک کہتے ہوئے متحدہ طور پر خدا کی ایک رسی کو تھامنے والی ایک با بصیرت ترین قوم ہونے کا شرف اپنے لئے مخصوص کیا ہے جو کہ قرن حاضر میں تعلیمات الٰہی کو لبیک کہنے پر بشر کیلئے فیوضات الہی کے دروازے کھولنے کی روشن ترین مثال ہمارے سامنے موجودہے،اسلئے خدا کی نعمتوں کاشکر بجالانے کے طور پر ایرانی قوم کی متحدہ طور خدا پسند عمل کام انجام دینے پر داد تحسین دینا ہے قدردانی کرنی ہے کہ انہوں نے مرد حق کو پہچاننے میں ذرا بھر بھی چوک نہ کی اور حرف حق پر مر مٹنے کے حد تک کئے عہد پر ابھی تک ثابت قدم ہیں اور ہر قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کرتے ہیں، ساتھ ہی دعا کرتے ہیں کہ دیگر اقوام عالم کو از جملہ کشمیری عوام کو بھی اہل بصیرت قوم ہونے کی توفیق نصیب فرمائے۔آمین

حضرت آیت اللہ العظمی سید روح اللہ موسوی خمینی رہ کی ولادت ۲۰ جمید الثانی ۱۳۲۰ ہجری کو ایران کے شھر خمین میں ہوئی ہے اور ربیع الاول ۱۳۹۰ میں حضرت امام محسن حکیم رہ کے وفات کے بعد مرجع تقلید بن گئے اور ۱۹۷۹ میں اسلامی جموھری کا قیام عمل میں لایا اور ۴ جون ۱۹۸۹ کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔ انا للہ و انا الہ راجعون۔

ہر سال مکہ معظمہ میں حجاج کرام کا رمی جمرات کرنے کی تصاویر روح پرور ہونے کے ساتھ ساتھ بعض لوگوں کے لئے سوال بر انگیز بھی ہوتے ہیں ۔ لیکن جب اس سال حجاج کرام نے رمی جمرات ختم کیا ہوا تھا بغداد میں اس عہد کا اعادہ دیکھنے کو ملا جو کہ نہ صرف بعض لوگوں کے لئے دلچسپ اور سوال بر انگیز تھا بلکہ ہر دیکھنے والے کیلئے معنی خیز تھا ۔

شیعہ سنی اتحاد کی ایک جھلک ہندوستان زیر انتظام کشمیر کے ضلع بڈگام کے علاقہ اومپورہ کی جامعہ مسجد خلفای راشدین میں اس وقت دیکھنے کو ملی جب دونوں مسلکوں سے وابستہ علماء کرام نے اتحاد بین المسلمین کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے مسلمانان جہاں پر زور دیا کہ وہ اتحاد کے چراغ کو روشن رکھنے کے لئے اپنی ذمہ داریاں سمجھیں اور اس حوالے سے اپنا رول ادا کریں۔

1 2 3 4 5 6 7 8 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر