»

مطالب ویژه

میں نے عالم تشیع کے علمی حلقوں کے جید علماء کہ جنہیں یا  امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے مانند یا ان سے بر ترتسلیم کیا جاتا ہے کی ایک فہرست  تیار کرنا شروع کی تو تحقیق کے دوران  صرف حضرت ثقۃ الاسلام کلینی متوی  329 ہجری سے لیکر  حضرت آیت اللہ العظمی سید محسن حکیم رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین  متوفی 1390 ہجری تک   کم سے کم 85 امام خمینیوں  رحمت اللہ علیہم کو پایا جنہوں نے اللہ کی سرزمین پر اللہ کا حکم نافذ ہونے کی وکالت کی ، اسلامی حکومت کے قیام  کی وکالت کی اور عمل اور دعا کے ساتھ مجاہدت کی سرفراز زندگی گزر کی ہے  لیکن امام خمینی رحمت اللہ علیہ کے مانند کامیاب نہ ہوئے ۔ کیوں؟ کیونکہ وہ مظلوم تھے عوام نے انہیں نہیں سمجھا ، انہیں سمجھنے کی صلاحیت عوام میں موجود نہ تھی ، اس لئے وہ مظلوم واقع ہوئے ۔ امام خمینی کواس مظلومیت سے قرن حاضر کے اہل بصیرت  ایرانیوں نے نکالا ہے جس قوم پر دیگر اقوام کو رشک کرنا چاہئے ۔

سرینگر/27مئی2014/ہندوستان زیر انتظام کشمیر میں منعقدہ حالیہ ہندوستانی پارلمانی انتخابات میں بارہ مولا پارلمانی حلقہ انتخابات کے نامزد آزاد امیدوار حجت الاسلام آغا سید عبدالحسین کشمیری نے ’’عید مبعث ‘‘ جو کہ معراج عالم کے نام سے بھی مشہور ہے کی مناسب سے جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ 27رجب المرجب آغاز نزول قرآن یعنی اعلان بعثت خاتم الانبیاء محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہے کہ جس کے بارے میں خود آنحضرت(ص) نے فرمایا ہے’’بعثت لاتمم مکارم الاخلاق‘‘ یعنی میں اخلاق کی تکمیل کیلئے مبعوث ہوا ہوں اور اخلاق ایسی ثقافت ہے جس کے بغیر ہر دین، مذہب، سماج ، قوم ، سیاست اور جماعت ناقص ہے اور دوسرے الفاظوں میں کہہ سکتے ہیں سبھی انسانوں کے درمیان اخلاق مشترکات میں سے ہے

ولایت فقیہ کا نظریہ مغربی سیکولر ازم نظریہ کا بالکل برعکس ہے کہ جس میں دین و مذہب محور ہے جبکہ مغربی سیکولرازم میں مذہب اور سیاست دو الگ الگ میداں ہیں جن کا آپسی کوئی تال میل نہیں ہے۔لیکن ولایت فقیہ سے مراد مذہب اور سیاست کا ایکدوسرے کا مکمل ہونا ہے۔

نیوز نور:اسلامی جمہوری ایران میں ۱۷ ستمبر۲۰۱۱ کو پہلی بین الاقوامی اسلامی بیداری کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے قائد انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای نے جسطرح امت اسلامی کیلئے قرآن کے رہنما اصول کی تفسیر اور تشریح کرکے ہر ایک مسلمانوں کیلئے زمہ داریوں کی واضح نشاندہی کی ہے، جسے اگرحکم جہاد سے تعبیر کیا جائے مبالغہ نہ ہوگا، لیکن مسلحانہ جہاد نہیں بلکہ تقوی کا لباس پہن کر تدبیراور حکمت کے جہاد کا حکم ہے ۔
اہلسنت برادران کے مقدسات کی توہین اور اہانت حرام ہے اور پیغمبر اسلام (ص) کی زوجہ پر الزام اس سےکہیں زیادہ سخت و سنگین ہے اور یہ امر تمام انبیاء (ع) کی ازواج بالخصوص پیغمبر اسلام (ص) کی ازواج کے لئے ممنوع اور ممتنع ہے۔
حال ہی عرب امارات کے اخبار خلیج  ٹائمزنے ایران اور امریکا کے درمیان روابط ٹھیک ہونے کے احتمال کو لے کر عرب ممالک کو اسکا مقابلہ کرنے کا مشورہ دیا تھا کہ جس سے محسوس ہو رہا تھا کہ دوسرے عرب قلکاہر بھی اس بات پر زور دینے کی دوڑ میں لگ جائيں گے۔اور ایسا ہی ہوا ہے ۔
حضرت آیت اللہ العظمی  سید روح اللہ موسوی خمینی رہ کی ولادت 20 جمید الثانی 1320 ہجری کو ایران کے شھر خمین میں ہوئی ہے اور  ربیع الاول 1390 میں حضرت امام محسن حکیم رہ کے وفات کے بعد مرجع تقلید بن گئے اور 1979 میں اسلامی جموھری کا قیام عمل میں لایا اور 4 جون 1989 کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔ انا للہ و انا الہ راجعون۔
دنیا بھر میں کئي انقلاب آئے کہ جن کااصلی محرک رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسلامی انقلاب ہے اور جب آنحضرت کے اسلامی انقلاب کی تحریک کے پیروکار انقلاب کے مقاصد کی آبیاری کرنے میں کمزور ہوتے گئے غیرمسلمانوں کی دین اور سیاست کی جدائی کا فلسفہ مسلمان معاشرے میں سرایت کرگیا اور ترکی میں اسکا سورج غروب ہوا لیکن  ایران میں اسلامی انقلاب کا سورج پھر طلوع کرگیا۔حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کی قیادت میں کامیاب ہونے والے اسلامی انقلاب نے نہ صرف مسلمانوں میں سیکولر فلسفے کے بارے میں تجدید نظر کرنے کی دعوت دی  کہ مذہب اور سیاست ایک ساتھ ہونے سے سالم سیاست حکمفرما ہوتی جبکہ سیاست اور مذہب کو ایک دوسرے سے الگ کرنے سے ظالم سیاست کی آبیاری ہوتی ہےبلکہ غیرمسلمانوں کے اندر بھی سیکولر فلسفے کے بارے میں تجدید نظر کرنے کا رجحان بڑھ گيا۔
               غالبا کسی حادثے  کے بارے  میں جب کسی بے گناہ کے ناحق مارے جانے کی  خبر  سننے یا دیکھنے کو ملتی ہے تو انتہائی تکلیف ہوتی ہے اور جب وہ خبر کسی کلمہ گو سے متعلق ہو تو یقینا  تکلیف  کی شدت  میں اضافہ ہوتا ہے اور اگر وہ بے گناہ انسان عالم یا مبلغ دین مبین اسلام ہو تو کسقدر غمزدہ ہوتا ہوں خدا ہی شاہد ہے اور اس پر ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایسا اضطراب اور بے قراری کیوں ہےاور جواب ملتا ہےکہ یہ ایک فطری جذبہ ہے ہر کوئی ایسا ہی جذبہ رکھتا ہے اورچونکہ کشمیری ہوں جذباتی ہونا کشمیریوں کی خصلت ہے لیکن جب جذبات سے اوپر اٹھ کر حقیقت کا سامنا کرنا چاہتا ہوں تو معلوم پڑتا ہے کہ نہ اسکا تعلق میری انفرادی سوچ سے ہے نہ  فطرت سے اور نہ ہی کشمیریت سے بلکہ تربیت سے ہے۔ میں چونکہ محمد و آل محمد صلوات اللہ علیہم اجمعین کا  پیرو ہوں اسلئے  اسلام کی خوشی میں خوش رہنے اور اسلام کے غم میں غمغین رہنے کی تربیت  میں بچپن سے لے کر مظلوم کربلا سید الشہداء حسین ابن علی ابن ابیطالب علیہم السلام کی مظلومیت پر عزاداری برپا کرنے کی ثقافت میں پروان چڑھا ہوں اسی  لئے ظالم کو ظالم اور مظلوم کو مظلوم سمجھنے اور کہنے  میں نہیں چوکتا ہوں  اسطرح یہ  میری کوئی انفرادی سوچ نہیں۔ بلکہ کائنات کے کسی بھی کونے میں رہنے والےانسان جو اسلام کے تشخص اور فلسفے کی حفاظت کرنے والے امام حسین علیہ السلام  کی حکمت عملی اور تحریک سے جانکاری رکھتے  ہوں شعوری یا غیر شعوری طور ایسی ہی سوچ اور جذبہ رکھنے والے ہیں ممکن ہےوہ انسان شیعہ مسلمانوں کی طرح عزاداری کی تقاریب منعقد کرتے ہیں یا سنی مسلمانوں کی طرح شہادت کا تذکرہ کرتے ہیں یا غیر مسلمانوں کی طرح امام حسین علیہ السلام کے ساتھ محبت رکھتے ہیں اور اس سے ایسا الہام لیتے ہیں اور جو امام حسین علیہ السلام سے بے خبر ہو  اسکے لئے ظالم اور مظلوم دونوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا انکے لئے تو کبھی ظالم مقدس اور کبھی  مظلوم  مقدس ہوتا  ہے ۔
ولایت فقیہ اور اسلامی اتحاد  جسم میں عصبی نظام(Nerve system) کے مانند جسم کی سالمیت کے لئے لازمی ہے ۔ ولایت فقیہ یعنی اسلام کا گہرا مطالعہ رکھنے والے ماہر و ممتاز استاد کی قیادت میں چلنے والی جمہوری حکومت ہے۔جسے مردم سالاری دینی یعنی دینی جمہوری حاکمیت یا غیر سکولر نظام بھی کہتے ہیں۔ چونکہ ہم دین مبین اسلام کے پیرو ہیں اور مسلمان کا ایمان اور عقیدہ ہے کہ انسان پر انسان حکومت نہیں کرسکتا بلکہ یہ حق انسان کے خالق اور رازق کا ہے۔ اسلئے انبیاء الہی علیہم السلام آئے انسان کو اپنے خالق کی حاکمیت میں زندگی بسر کرنے کا طریقہ سیکھاتے رہے تاکہ انسان  کہ جس کے لئے خدا نے فرمایا: تو خدا کا جانشین ہے۔(سورہ بقرہ آیت30) جوکچھ زمین و آسمان میں ہے وہ تیرے لئے ہے۔(سورہ لقمان آیت20)تو الہی امانات کا امین ہے۔(سورہ احزاب آیت 72)تیرے اندر خدا کا روح ہے۔(سورہ حجر آیت 29)خلقت میں تو سب بہترین مخلوق ہے۔(مؤمنون آیت 14 تین آیت 4) ہم نے تمہارا اکرام کیا ہے۔(اسراء آیت 70)ہم نے تمہیں فضیلت دی ہے۔(اسراء آیت 70) اور عام اصطلاح میں اسے انسان کامل کہتے ہیں ۔جس کی مکمل تصویر ختم مرتبت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اور آنحضرت کی شریعت جملہ انبیاء الہی کی شریعت  اور آخری الہی دین اسلام ہے ۔
1 2 3 
این سایت متعلق است به 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر