»

مطالب ویژه

ولایت فقیہ اور اسلامی اتحاد  جسم میں عصبی نظام(Nerve system) کے مانند جسم کی سالمیت کے لئے لازمی ہے ۔ ولایت فقیہ یعنی اسلام کا گہرا مطالعہ رکھنے والے ماہر و ممتاز استاد کی قیادت میں چلنے والی جمہوری حکومت ہے۔جسے مردم سالاری دینی یعنی دینی جمہوری حاکمیت یا غیر سکولر نظام بھی کہتے ہیں۔ چونکہ ہم دین مبین اسلام کے پیرو ہیں اور مسلمان کا ایمان اور عقیدہ ہے کہ انسان پر انسان حکومت نہیں کرسکتا بلکہ یہ حق انسان کے خالق اور رازق کا ہے۔ اسلئے انبیاء الہی علیہم السلام آئے انسان کو اپنے خالق کی حاکمیت میں زندگی بسر کرنے کا طریقہ سیکھاتے رہے تاکہ انسان  کہ جس کے لئے خدا نے فرمایا: تو خدا کا جانشین ہے۔(سورہ بقرہ آیت30) جوکچھ زمین و آسمان میں ہے وہ تیرے لئے ہے۔(سورہ لقمان آیت20)تو الہی امانات کا امین ہے۔(سورہ احزاب آیت 72)تیرے اندر خدا کا روح ہے۔(سورہ حجر آیت 29)خلقت میں تو سب بہترین مخلوق ہے۔(مؤمنون آیت 14 تین آیت 4) ہم نے تمہارا اکرام کیا ہے۔(اسراء آیت 70)ہم نے تمہیں فضیلت دی ہے۔(اسراء آیت 70) اور عام اصطلاح میں اسے انسان کامل کہتے ہیں ۔جس کی مکمل تصویر ختم مرتبت حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اور آنحضرت کی شریعت جملہ انبیاء الہی کی شریعت  اور آخری الہی دین اسلام ہے ۔
اے کاش ایرانی مومن عوام کی طرح دیگر مسلمان بھی اسلام کی حاکمیت میں زندگی گذر بسر کرنے کا ارادہ کرتے ہوئے ولی فقیہ کے جھنڈے تلے جمع  ہو کر دنیا و آخرت کی سعادت کرنے کی پہل کرتے تاکہ دنیا بھر پر رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رحمت نمایاں ہو جاتی
  مجھے پتہ تھا کہ آنحضرت کے روضہ کی زیارت کرنے سے میں آنحضرت کا زائر کہلاوں گا لیکن کیاپتہ تھا کہ مجھے زائر کا لقب نہیں بلکہ وھابی دین کی برکت سے مشرک کا لقب ملے گا ۔میرا قلم روضہ آنحضرت کے داخلی حصے کی حالت کو منعکس کرنے سے قاصر ہے کہ  جہاں حرم مقدس میں کیا مدینہ منورہ کے گلی کوچوں میں صفائی کا قابل تحسین منظر دیکھنے کو ملتا ہے
ماہ مبارک رمضان کے آخری جمعہ  کو 1979 میں امام خمینی رضوان اللہ تعالی نے  یوم قدس کا نام دیکر مسئلہ فلسطین کو اجاگر کرنے کے لئے مخصوص کردیا جس سے فلسطینی عوام کی بھی ڈھارس بندھی اور مسئلہ فلسطین  کے بارے میں مسلمانوں کی آوازین بلند ہونے لگيں لیکن یہاں کشمیر میں  اسکا نام بدل دیا گیا ، اور یوم قدس کو یوم کشمیر کے نام پر  منانے پر زور دیا جانے لگا  ۔

اللہ نے مجھے 2009 میں  اپنے گھر پر حاضر ہونے کا شرف عطا کیا ۔ 12 نومبر 2009 یعنی جمعرات کی صبح ،کشمیر حج ہاوس سے میرا سفر محمود شروع ہوا اوراسطرح جمعرات کی رات کو جدہ پہنچ گئے ۔جدہ پہنچ کر احرام باندھنے کی نوبت آ پہنچی  اسلئے میقات کے انتخاب کا مرحلہ آتا ہے ۔ میقات اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں پر احرام باندھا ہوتا ہے اور وہ پانچ جگہیں ہیں ۔ 1 مسجد شجرہ ، 2۔ وادی عقیق ، 3۔ جحفہ ، 4۔ یلملم ، 5۔ قرن المنازل ہیں ۔ان پانچ مقامات میں سے جحفہ میرا میقات تھا ۔ کیونکہ جحفہ شام ، مصراوریہاں سے گذرنے والوں کیلئے میقات ہے جو مسجد حرام سے شمال مغرب میں 187 کلومیٹر دوری پر واقع ہے ۔ یہاں سے جنوب مشرق میں 17 کلومیٹر کے فاصلہ پر شہر رابغ ہے ۔، جبکہ بحر احمر یہاں سے مشرق میں صرف 15کلومیٹر رہ جاتا ہے مکہ اور مدینہ کے درمیان سڑک ہے جس کو طریق ہجرہ (ہجرت روڈ) کہا جاتا ہے۔یہاں پر ایک نئ مسجد تعمیر کی گئ ہے جس کی پیمایش 30×30=900 مربع میٹر ہے ۔

جنت البقیع تاریخ اسلام کے جملہ مہم آثار میں سے ایک ہے ،  جسے وہابیوں نے 8شوال 1343 مطابق مئ 1925 کو شہید کرکے دوسرے کربلا کی داستان کو قلمبند کرکے اپنے یزیدی افکار اور عقیدے کا برملا اظہار کیا ہے ۔

حضرت آیت اللہ العظمی  امام سید روح اللہ موسوی خمینی رہ کی ولادت 20 جمید الثانی 1320 ہجری کو ایران کے شھر خمین میں ہوئی ہے اور  ربیع الاول 1390 میں حضرت امام محسن حکیم رہ کے وفات کے بعد مرجع تقلید بن گئے اور 1979 میں اسلامی جمہوری کا قیام عمل میں لایا اور 4 جون 1989 کو داعی اجل کو لبیک کہہ گئے ۔ انا للہ و انا الہ راجعون۔

فروری سال 1979 عیسوی میں رونما ہونے والا اسلامی انقلاب جسے بیسوی صدی کا معجزہ کہا جاتا ہے جس   کے وقوع پذیر  ہونے سے عالمی میعیار ہرج  و مرج میں مبتلا ہوگئے اور آج تک  اپنی بقا کی جنگ لڑنے میں مصروف ہیں کیونکہ اس اسلامی انقلاب نے عالمی سیاسی معیار کو یک سر مسترد کرکے الہی منشور کو کامیابی اور کامرانی کا حقیقی راز ہونے کا دعوی کیا اور آج تک عملی طور اسے ثابت کرنے مین  سرخ رو ہوتے جا رہے ہیں اور اسکے مقابلے میں ہر سال استکباری منصوبے ناکام ہوتے نظر آرہے ہیں اور ہر ایک ناکامی کے بعد پہلے ناکامی کو چھپانے کے لئے نیا منصوبہ پیش کرکے پیہم مشکلات سے دچار ہو رہے ہیں اور دوسری طرف  ہر مستضعف طبقے میں ایک نئ جان پیدا ہورہی ہے اور عوامی طاقت کا آفاقی مظاہرہ دنیا کے  سامنے مسلسل آر رہا ہے ۔اس طرح قرآنی بشارت « و نريد ان نمنّ علي الذین استضعفوا فی الارض و نجعلهم ائمة و نجعلهم الوارثین.»( سوره قصص آیه 5) کی  تفسیر ہوتی نظر آرہی ہے۔

جمعرات 12 نومبر 2009 مطابق 25 ذوالقعدہ 1430 ھجری قمری کو  صبح اقرباء کے حلقے سے درود و صلوات کے سایے تلے میں حج ھاوس سرینگر روانہ ہوا  ،جہاں سے جدہ  کی طرف بذریعہ طیارہ روانگی تھی اور روز جمعہ کو انبیاء علیہم السلام کے سرزمین امن مکہ مکرمہ میں داخل ہونے کا  شرف حاصل ہوا ۔

1 2 3 
این سایت متعلق است به 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر