»
دوشنبه 2 بهمن 1396

 کشمیری ایسی بڑی طاقتوں کے بیچ پھنسے ہوئے ہیں جو انہیں قانونی حقوق دینے کیلئے تیار نہیں ہیں اسلئے ان بے چارے کشمیریوں کو کبھی پاکستان کا حامی بنناپڑتاہے اورکبھی ہندوستان کا حامی بنناپڑتا ہے توکبھی کسی اورکا مگرجب کشمیریوں کے دل کی بات کی جائے توکشمیر ہمیشہ آزاد ملک تھا اور ہر کشمیری آزاد ملک کی باز یابی کے ساتھ ہی رہنا پسند کریں گے ۔

انسان کو بیدار تو ہولینے دو ہر ایک میں آپ یہی حسینی ؑ کردار دیکھیں گے  ۔اور مکتب امام حسین کی تشہیر ہی پاک و صاف اسلام کی تشہیر ہے اسلام یعنی امام حسین کیونکہ اسلام کو پہلے سے ہی مسخ کرنے کی کوشش ہو ئي تھی ۔ دو تصویریں اسلام  کی دنیا کو پیش کی گئی تھی ایک یزیدی تصویر اور دوسری  حسینی ؑ تصویر  اور جو حسینی ؑ تصویر کوزندہ رکھ رہے ہیں  یعنی وہ جو حقیقی اسلام کی حفاظت کررہے ہیں  حسینی کہلاتے ہیں اور جو مسخ شدہ اسلام کی تصویر پیش کررہے ہیں وہ یزیدی ہیں  جن کو ابھی ہم داعش کی شکل میں ، القاعدہ کی شکل میں ،النصرہ کی شکل میں اور وہابی تکفیری کی شکل میں مشاہدہ کررہے ہیں۔  اور قرآن نے ان دو اسلاموں کی قیادت کو امام نور اور امام نار سے تعبیر کیا ہے۔(وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنَا وَأَوْحَيْنَا إِلَيْهِمْ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ وَإِقَامَ الصَّلَاةِ وَإِيتَاءَ الزَّكَاةِ وَكَانُوا لَنَا عَابِدِينَ. سورہ انبیاءآیت 73).( وَجَعَلْنَاهُمْ أَئِمَّةً يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَيَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يُنصَرُونَ.سورہ قصص آیت 41)

نیوزنور: اب کسی منجی  اور نجات دھندہ کو آنا ہے اور ظہور کا مقدمہ ولایت فقیہ کا نفاذ ہے  اور  ولایت فقیہ کا تصور یہی ہے کہ ہر مذہب میں ،ہر دین میں دیندار لوگ آگے آنے چاہئے تبھی وہ ظہور کرینگے۔ اگر ہندو انہیں کلکی کہہ رہے ہیں ،اگر عیسائی انہیں  یسوع اور مسیح کہتے ہیں ، اگر سکھ ان کو گرو کہتے ہیں اور ہر دین و مذہب  میں ایک  نجات دھندہ کی آمد کا انتظار ہے  اسلئے اس حقیقی نجات دہندہ کے اوصاف پر مبنی حاکموں کو بر سر اقتدار آنا ہو گا تو تبھی اصلی اور حقیقی نجات دہندہ آئيں گے ۔اور یہ ضروری نہیں ہے کہ ہر جگہ اسلام کی حکومت ہو ۔ نہیں ہر مذہب میں جہاں عیسائی رہتے ہیں وہاں بائبل کی حکومت ہو ، جہاں ہندو رہتے ہیں وہاں گیتا اور ویدوں  کی حکومت ہو، جہاں یہودی ہیں وہاں توریت کی حکومت ہو  غرض انسانوں پر الٰہی حکومت حاکم ہو اور ایسے میں سوال پیش  آجائے گا کہ کس کا فلسفہ صحیح ہے تو اس  وقت ظہور امام زمانہ (عج) ہر چیز کو احاطہ کرے گا اور وہ وعدہ الہٰی جس کی تکمیل  کیلئے انبیاء و اوصیا منتظر رہے ہیں اور جو مذہب کے بارے میں سوال کرتے ہیں تشنہ لب ہیں ہر کسی کیلئے جواب ملے گا اور ظلم کا خاتمہ ہوگا اور ہر جگہ  انصاف کی حاکمیت ہو گی  اور اما م معصوم ؑنے  امام زمانہ (عج) کے دور کے  انصاف کے بارے میں یوں  فرمایا ہے کہ امام زمانہ عج ظہور کریں گے  اور دنیا کو عدل و انصاف سے پُر کرینگے جبکہ وہ ظلم و جور سے پُر ہوا ہوگا ۔امام معصوم اس کی تعبیر یوں کرتے ہیں کہ جس طرح گرمی اور سردی ہر جگہ پہنچتی ہے گھر کے کونے کونے میں پہنچتی ہیں اسی طرح عدل و انصاف سماج کے ہر ذرے میں نفوذ کر جائے گی دنیا کے ذرہ ذرہ پر انصاف کی حکومت حکم فرما ہو جائے گی۔اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ کتنا ہی جامع امام زمانہ (عج) کا ظہور ہوگا اور اسی لئے ہر انسان اس ظہور کا تشنہ ہے کہ کب وہ ظہور کرینگے اور انسان کو انصاف  کے سایے میں زندگی کرنے کا شرف حاصل ہو گا۔

قرآن کے الفاظ عوام کو سمجھنے کیلئے ہیں،اشارات خواص کو سمجھنے کیلئے ہیں،لطائف قرآن  اولیاء کو سمجھنے کیلئے ہیں اور حقائق انبیاء کو سمجھنے کیلئے ہیں۔اسلئے صرف مجتہد جامع الشرائط اور مفتی اعظم ہی اپنی تحقیق بیان کرنے کا جواز رکھتے ہیں جو کل روز قیامت جوابدہی کی صلاحیت رکھتے ہیں باقی کو ان کی رہنمائی میں چلنا ہے ۔کیونکہ مولا امیرالمؤمین علی علیہ السلام کے بقول : یا عالم بنو یا طالبعلم اس سے ہٹ کر کوئي اور نہ بنو۔جو مفتی اعظم میلاد جایز نہیں سمجھتا  وہ کل اپنے پیرو کے ساتھ جواب دیں گے۔اور جو جائز سمجھتا ہے وہ بھی کل اپنے پیرو کے ساتھ جواب دیں گے۔یہ صلح کے موضوعات ہیں لڑائي جگڑے کے نہیں۔

نیوزنور: حقیقت حال یہ ہے کہ ایران کو نہ کل ایٹم بم بناناتھا نہ آج اس کو ایٹم بم بنانے سے روکا گیا ہے بلکہ ایران کل بھی سائنٹیفک کام کرنا چاہتا تھا ۔ ایٹامک ٹیکنالوجی کو حاصل کرنا چاہتا تھا اس نے کل بھی اس کو حاصل کرنے کا بیڑا اٹھا یا تھا اور آج اپنا لوہا منانے کے سلسلے میں ثابت قدمی کے ساتھ اس کا رسمی دن سنیچروار 26 دی ماه 1394 ہجری شمسی مطابق 16 جنوری 2016  منایا گیا۔ البتہ دنیا اپنی ہار کو ہار کے الفاظوں میں بیان نہیں کر پارہی ہے وہ دوسری بات ہے ۔مگر جو اس دنیا کے ، جو سائنٹیفک ورلڈ کے جو اہل علم حضرات  سیاستداں اور سائنسدان ہیں وہ اس بات کو بخوبی سمجھتے ہیں کہ ایران نے اپنی اس علمی اور سائنسی تحریک کو حاصل کرنے میں انتہائی جدوجہد کی اور اپنی حق بات کو منانے میں کامیاب ہوئے ہیں۔

مجمع جہانی اہل بیت (ع) اور مجمع جہانی تقریب مذاہب اسلامی کشمیر کے نمائندے کا ’’اسلام ٹائمز‘‘ کے ساتھ خصوصی انٹرویو میں کہنا تھا کہ ایک طرف امام خامنہ ای اکیلے ہیں جو مسلمانوں کو یکجا اور متحد کرنے کے لئے اپنے تمام تر امکانات عالم اسلام کے سامنے رکھے ہوئے ہیں اور دوسری طرف پوری دنیا ہے، استکباری قوتیں ہیں اور مسلمانوں کی نام نہاد شخصیتیں ہیں جو مسلمانوں کے لئے باعث ننگ و عار ہیں اور ان سے اسلام کو صرف نقصان پہنچتا آ رہا ہے۔


1 

قدرت گرفته از سایت ساز سحر