»

مطالب ویژه

باھمی پر امن سماجی زندگی کی عقلی اساس اور بقائے باھمی کے فلسفه اور اس کی حصولیابی کی تدبیر
از زمان «صدرالدین رنچن شاه» تا دوره آخرین پادشاه مسلمان کشمیر بنام «یوسف شاه چک» ،کشمیر از ھمه جهت بهشت روی زمین محسوب می شد۔ می شود گفت از سال ۷۰۵ ھ ش برابر با ۱۳۲۶میلادی الی ۹۰۵ ھ ش  برابر با ۱۵۲۶ میلادی یعنی دو قرن بعنوان یک کشور مستقل اسلامی در کمال شکوفایی و آرامش و در فضای تقریب مذاھب بسر برده است۔


ہندوستان میں مسلمانوں کو ہر مذہب کے ماننے والوں کے  ساتھ سامنا ہے اگر یہاں سے ایک منصوبہ تیار ہوکر پیش کیا جاتا ہے شاید اسلام کی بہت بڑی خدمت ہوگی ۔ چونکہ صرف اچھی اچھی باتیں کرنے کا وقت نہیں  رہا ہے عمل کی ضرورت ہے۔ اگر غیر مسلمان ہم سے پوچھیں کہ اسلام کی باتیں کس ملک میں ابھی تک آپ نافذ کرسکیں ہیں تو آپ کا جواب کیا ہوگا۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اسلام کے عملی نفاذ کی بات کی جائے اورعرب دنیا میں بیداری آچکی ہے ہندوستانی مسلمان نہ صرف ان کے ساتھ دیں بلکہ وہاں اسلامی حکومتیں نافذ کرنے کے لئے روڑ میپ تیار کریں اسی سے اسلامی تعلیم بھی عام ہوگی اوربنی النوع انسان کے حقوق کا تحفظ بھی یقینی بن جائے گا۔
در میان تمام ادیان مشترکات محدود وجود دارد و میان یک دین ومذھب با زیر شاخہ ھای خود مشترکات زیادی وجود دارد و یکی از مشترکات شاخص ادیان کہ با شاخ و برگ خود بر تعلیمات مذھبی حاکم است اخلاقیات می باشد و این یک اصول مشترک میان ھمہ ادیان می باشد ۔ھر چہ قدر آموزہ ھای اخلاقی بر جامع حاکم شود ھمزیستی مسالمیت آمیز بطور خود کار گسترش پیدا می کند ، کہ زمینہ سازی برای آن در کشوری ھمچون ھند کہ یک کشور مذھبی و مذھب پرور است نیاز مبرم است۔ و درمان ھر درد جہانی بطور عموم و برای ھند بالخصوص موجود است۔


المصطفی انٹرنیشنل یونیورسٹی{جامعه المصطفی العالمیه} ایران کے اہتمام سے 6 اور 7 مارچ 2010 کو انڈین اسلامک سنٹر لودھی روڈ نئی دھلی میں «اسلام اور ہندوستانی مذاہب میں باہمی پر امن سماجی زندگی » کے عنوان سے دو روزہ بین الاقوامی سیمنار کے لئےعبدالحسین کا مقالہ

خانہ فرھنگ اسلامی جمہوری ایران نئی دھلی نے ہندوستان حج کمیٹی کے تعاون سے  ہندوستانی اسلامی ثقافتی مرکز واقع لودھی روڑ نئ دھلی میں 10 اور 11 اکتوبر 2009 کو  حج جہانگیر اتحاد  کا مظہرکے عنوان سے دو روز بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد کیا جس میں ہندوستان ، ایران، سری لنکا ، تھائی لینڈ ، ملیشیا ، بنگلادیش اور کشمیر سے آئے مندوبین نے شرکت کی اور قریب 70 علمی اور سیاسی شخصیتوں نے دو دنوں میں اپنے مقالات پڑے یا تقریرں کے ذریعے حج کے جامع پیغامات پر سیر حاصل روشنی ڈالی۔

(انڈین لا انسٹی ٹیوٹ نئ دھلی میں اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کی طرف سے «موجودہ عہد میں اسلامی قانون کی معنویت»کے زیر عنوان دو روزنہ 28-29مئ کانفرنس میں عبدالحسین کا پیش کردہ مقالہ)

غرض ہندوستان میں موجود ادیان کی تعلیمات اخلاقیات کے ایک اعتبار سے ایک محور کے گرد گومتے ہیں اگر چہ انداز بیان جداگانہ ہے جو کہ فطری اور معقول نکتہ ہے۔اب اگر ہندوستان کے مذاہب کے ذیلی شاخوں میں کی طرف نظر ڈالیں۔جیسے ہندوازم میں سے اسکے ذیلی شاخیں جیسے: شیو ازم ، ویشنوازم ، شکتی ازم اور سمرت ازم وغیرہ۔ سیکھ ازم سے اسکے ذیلی شاخیں جیسے نرنکاری ، دھمدری ،اور جٹھ وغیرہ، اور اسلام میں شیعہ امامیہ ، حنفی ، شافعی ، حنبلی ،مالکی، وھابی وغیرہ اسی طرح باقی ادیان کے اور ان کے ذیلی شاخوں میں اختلاف ہونا قابل انکار نہیں ، البتہ یہ امر بھی قابل انکار نہیں کہ ان سبھوں میں مشترکات بھی موجود ہیں۔ایک مذہب کا اسکے ذیلی شاخوں کے ساتھ مشترکات بہت زیادہ ہیں اور دوسرے مذہب کے ساتھ کم ہیں لیکن ہر مذہب اور دین میں ایک اصول مشترک ہے جو ہر ایک دین و مذہب پر اسکے شاخ و برگ کے ساتھ حاکم ہے وہ اخلاقیات ہے۔ جسقدر اخلاقی اقدار کا بول بالا رہے گا اتنا ہی پر امن سماجی زندگی یقینی بن جائے گا۔ جسکا ہندوستان جیسے مذہبی اور مذہب پرور ملک میں اشد ضرورت ہے۔ بلکہ ہر درد کی دوا ہے۔

1 
این سایت متعلق است به 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر