»
جمعه 26 آبان 1396

میں اتنا عرض کرنا چاہوں گا کہ آپ دونوں فریقین جو ایقاظ العباد ایقاظ العباد کی رٹ لگاتے رہتے ہیں جبکہ میرا ماننا ہے کہ آپ میں سے کسی ایک نے اس کا بغور مطالعہ نہیں کیا ہے ۔ ایقاظ العباد یعنی انجمن شرعی شیعیان نائب امام زمان کی سربراہی میں کشمیر میں شیعوں کا سیاسی مذہبی اور ثقافتی ادارہ  ہے جس کا صدر نایب امام کا معتمد اور نائب خاص  ہونا ہےجسے موجودہ دور کی اصطلاح کے مطابق ولی فقیہ کا ادارہ کہا جانا چاہئے تھا۔ جس کا ہمارے خاندان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں بلکہ ولی فقیہ سے ہے بجز یہ کہ  نایب امام  کا نمایندہ ہونے کا وہ مقام محفوظ بنائے رکھے۔ اور جہاں پر ہمارے خاندان کی بات ہے وہ تولیت کے بارے میں ہے وہ بھی صرف جامعہ باب العلم اور امام بارہ بڈگام کی صرف ان دونوں کی تولیت ہمارے خاندان سے متعلق ہے اور وہ ان شاءاللہ ہمیشہ تمام قوت و ضعف کے ساتھ اسی خاندان میں باقی رہے گی۔

رہا سوال کشمیر میں ولی فقیہ کے حوالے سے شیعہ علماء کا اتفاق یا اختلاف ہونے کا موضوع اس پر کسی بھی انفرادی رائے زنی کا  کوئی شرعی  جواز پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ولی فقیہ  حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی نے اپنی طرف سے اپنا حَکَم اور نمایندہ(نمایندہ ولی فقیہ) عوام کے درمیان منتصب  کیا ہوا ہے اسلئے  جب تک نہ ایسے موضوعات سے متعلق ولی فقیہ  حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی کے اس تام الاختیار نمایندے اور مراجع تقلید کے معتمد خاص جناب حجت الاسلام والمسلمین حاج آقای شیخ مہدی مہدوی پور دامت برکاتہ کے جانب تحریری سند حاصل نہ ہو کسی کو حامی یا مخالف کی مہر لگانا عقل و انصاف سے دور ہے۔

تابع "حاسِبُوا اَنْفُسَکُم قبلَ اَن تُحاسَبُوا" 

قم بإنهاء سياسة الإعلان، ولا تفسد عالمك وحياتك إلى الأبد

پیرو "حاسِبُوا اَنْفُسَکُم قبلَ اَن تُحاسَبُوا" از سیاست اعلام کناره گیری کنید و بیش از پیش دنیا و آخرت خود را خراب نکنید۔     

سلام علیکم؛ مورخہ 5جولائی 2017 کے شمارے  کے صفحہ نمبر 6 پر آپ کے اداریے کے بغل میں کسی سمیع اللہ ملک۔۔۔لندن نامی شخص کا "مسلم دنیا میں بحران در بحران! وحدت پارہ پارہ" کے زیر عنوان مراسلہ نظر سے گذرا۔ اسے آپ کا حسن انتخاب  یا مسلکی تعصب کہوں کہ جس نے مراسلے نگار کے بہتان اور کذب بیانی سے چشم پوشی کرانے پر آپ کو مجبور کیا اور آپ نے ایسے مضمون کیلئے مخصوص جگہ فراہم کی ہے۔کنہی آپ اس سعودیہ کے مبلغ"علی الربیعی"کی پیروی میں سرگرم عمل تو نہیں ہوئے ہیں کہ جس نے حال ہی میں اپنے ٹیوٹر کے ذریعہ مسلمان خطیبوں اور مبلغوں سے اپیل کی کہ یہودی اور نصرانیوں کے خلاف تبلیغ کو فی الحال روک دیں اور اپنی تبلیغ کو شیعوں کے خلاف خاص کر" مجوسی"حکومت ایران کے خلاف معطوف کریں اور اکثر عرب ٹیوٹ اکاونٹ ہولڈروں نے اسے سعودیہ اور اسرائيل کے درمیان حالات معمول پر لانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے "الربیعی" کے ٹیوٹ کی بھر پور مذمت کی۔یا یہ کہ جون میں چھپے سعودی جرنلسٹ"مساعد العصیمی"کے مراسلے کی تقلید ہے کہ جس نے سوال اٹھایا تھا کہ کیا اثرو رسوخ ،فتنہ اور نفرت پیدا کرنے میں "اسرائيل" ہمارے ملک کے لئے سب سے بڑا خطرہ ہے یا ایران  ؟  اسرائيل نوازی کا حق ادا کیا جا رہا ہے۔

"حاسِبُوا اَنْفُسَکُم قبلَ اَن تُحاسَبُوا" کے پیش نظر آپ سیاست سے اپنی علیحدگی کا اعلان کریں اور مزید اپنی دنیا و آخر ت خراب نہ کریں۔

ایک بار پھر  آپ کو معاویہ سیاست چھوڑنے اور تقوی شعار سیاست در پیش رکھنے کی صلاح دیتا ہوں ایسا نہ ہو کہ میں مجبور ہو کر واپس کشمیر لوٹ آؤں اور آپ کو صدارت سے عزل کرکے انجمن شرعی شیعیان جموں و کشمیر کی شرعی ضوابط کے تحت تطہیر کا کام ہاتھ میں لوں۔

1 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر