»
سه شنبه 2 آبان 1396

رھبر معظم حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی کے دروس شرح حدیث کے منتخب حدیث کا ترجمہ

رھبر معظم حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی کے دروس شرح حدیث کے منتخب حدیث کا ترجمہ

رھبر معظم حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی کے دروس شرح حدیث کے منتخب حدیث کا ترجمہ

رھبر معظم حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی کے دروس شرح حدیث کے منتخب حدیث کا ترجمہ

رھبر معظم حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی کے دروس شرح حدیث کے منتخب حدیث کا ترجمہ

رھبر معظم حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی کے دروس شرح حدیث کے منتخب حدیث کا ترجمہ

«عافیت » سے مراد اعتقاد اور عمل میں شیطانی اور نفسانی وسوسے سے محفوظ رہنا ہے ۔انسان کو چاہئے وہ میدان جنگ میں بھی پروردگار سے عافیت طلب کرے یعنی اسے درخواست کرے کہ وہ شک ترس اور تزلزل کا شکار نہ ہو جائے ۔

رھبر معظم حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی کے دروس شرح حدیث کے منتخب حدیث کا ترجمہ

خدا نے قرآن مجید میں سورہ تحریم کی آیت گیارہ میں مومنین کیلئے ایک خاتون کو شاھد مثال اور نمونہ عمل کے طور پر پیش کیا ہے جس کا شوھر فرعون ہے اور خدا ہونے کا دعویدار ہے لیکن خدا اپنے سب بڑے منکر کی شریک حیات کو مومنوں کیلئے مثال قرار دیکر چراغ راہ کے طور پر بیان کرتا ہے کہ خدا پر ایمان رکھنے والوں کیلئے حضرت آسیہ میں نمونہ عمل ہے۔ اور یہ خاتون صرف خواتین کیلئے نمونہ عمل نہیں ہے بلکہ ہر اہل ایمان کیلئے جن میں تمام مومن خواتین و حضرات شامل ہیں۔

کربلا میں سن اکسٹھ ہجری میں پیش آنے والا واقعہ تاریخ اسلام کا سبق آموز اور حیرت انگیز واقعہ ہے ۔ واقعہ کربلا اگرچہ  ہر اعتبار سے قابل سنجش اور تحقیق ہے البتہ اس وقت جس موضوع پر بات کرنا مقصود ہے وہ حسین بن علی بن ابیطالب علیہم السلام کا یزید بن معاویہ بن ابی سفیان کی بیعت کرنے سے انکار  کے موضوع پر ایک طائرانہ نظرکرنا ہے ۔ اس موضوع کے سلسلے میں پہلے قرآن  پھر حدیث اور  اسکے بعد تاریخ کی روشنی میں مختصرطور تجزیہ کرنے کی کوشش کی جائے گے جس سے امام کا انکار بیعت کرنے کا مقصد و مفہوم عامیانہ طور پر بھی واضح ہو جائے گا۔

1 2 3 4 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر