»
جمعه 26 آبان 1396

اس وقت ہمارے قرب و جوار (پاکستان اور ہندوستان) میں ایک چودہ اگست منانے اور دوسرا پندرہ اگست منانے میں مصروف ہے ۔ ایک کے لئے چودہ اگست ہی سب سے بڑی نعمت ہے اور دوسرے کے لئے پندرہ اگست .اس بیچ میں ہم (کشمیری مظلوم و محکوم قوم) چودہ اگست بھی جشن آزادی کے طور پر مناتے ہیں اور پندرہ اگست بھی مناتے ہیں اس فرق کے ساتھ کہ ہم خود اپنے سولہ اگست کے انتظار میں ہیں۔

چرا احقاق حقوق مردم کشمیر به الحاق با ھند یا الحاق با پاکستان خلاصه می شود در حالیکه کشمیر نه مستعمره انگلیس بوده و نه جزء ایالات امپراطوری ھند و نه در قیام علیه انگلیس نقشی داشته و نه در آزادی ھند و نه در تجزیه ھند و نه در تاسیس پاکستان نقشی داشته پس چرا تاوان آن باید مردم کشمیر بپردازند؟۔

کئ قسم کے سوال ذہن میں آتے ہیں جن کا جواب جب بھی سیاسی متون سے ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں تو ہر ایک بات کا واضح اور روشن جواب سامنے نظر آتا ہے میرے نذدیک جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بنیادی طور ایک قانونی مسئلہ ہے اور یہ قانونی مسئلہ عوامی سطح سے لیکر بین الاقوامی سطح تک تسلیم شدہ مسئلہ ہے جسکا حل صرف عوامی سطح سے لیکر بین الاقوامی سطح تک قانونی مسائل پر گرفت حاصل کرکے اپنے حقوق کی باز یابی کی قانونی جنگ لڑنے سے امکان پذیر ہے اور  انتخابات میں شرکت کرکے خفیہ ایجنسیوں کا آلہ کار بننے کے بجائے عوامی کے حقیقی ایجنٹ بن کر ہر سطح پر کشمیری عوام سے لیکر عالمی سطح تک کئے جانے والے ہر سوال کا صحیح اور منطقی جواب فراہم کرکے کشمیر کو ہر آلودگی سے نجات دلا دی جائے اور کشمیر کی ماضی کی تاریخ کو زندہ کرتے ہوئے کشمیر کو اپنی اصلی ملکی شکل میں واپس لایا جائے ۔

ایک ذاتی بات کروں گا کہ یہ جوتین فریقین(پاکستان ہندوستان اور کشمیر) کی بات  کی جاتی ہے اس کے بارے میں میرا سوال ہے کہ سہ فریقی مذاکرات میں  آپ کا کیا کام ہے  کیونکہ  ہندوستان اور پاکستان جب بات کرینگے  تو وہ اپنے ایجنڈے پر بولیں گے، آپ کے ایجنڈے کو نہیں  ۔تو ایسے میں آپ اس کے تیسرے فریق بن کے  کیا کرینگے ، تیسرا فریق بن کے آپ نے یا پاکستان یا ہندوستان کی ہاں کرنی ہے یا نا کرنی ہے۔ اس کے ایک پوائنٹ کو لینا ہے یا اس کے دو پوائنٹ کو لینا ہے تو اسطرح انہی کے کسی ایجنڈے کو تکمیل کرنی ہے۔ تو ایسے میں کشمیر کا یجنڈا کہاں رہا ۔ اسلئے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنا ایجنڈا لیکے سامنے آجائیں ۔ جوکہ  ہمارا ایجنڈا کہلائے کشمیریوں کا ایجنڈا کہلائے کہ ہندوستان پاکستان کو منظور ہو نہ ہو،ہمیں وہ کشمیر چاہئے جسے حضرت بلبل شاہ نے آباد کیا ہے، ہمیں وہ کشمیر چاہئے جسے میر سید علی ہمدانی نے آباد کیا ہے۔یعنی  ہم اُس کشمیر کی بات کرینگے ، ہم اُس کشمیر کی احیاء چاہئے گے جس میں ہندوں بھی راضی تھا ، جس میں سکھ بھی راضی تھا ، مسلمان کا ہر مسلک و مذہب راضی تھا، ہم اُس کشمیر کی ترجمانی کرینگے۔ اگر ایسا ہے  تومیں بھی خدمت کے لئے حاضر ہوں۔

اسوقت چونکہ پاکستان اور ہندوستان ایک واضح موقف پر کھڑے نظر آتے ہیں وہ یہ کہ  ھندوستان بھی عسکری اور ملٹری آپشن کو  دھشت گردی کے عنوان سے یاد کرتا ہے اورپاکستان بھی خون جگر پی کر عسکری اور ملٹری آپشن کو دھشت گردی کہنے لگا ہے اور الحمدﷲ  دونوں تحریک آزادی کشمیر کو  الگا وادی اور  علحدگی پسند تحریک کے عنوان سے تسلیم کرتے ہیں۔ یعنی دونوں تحریک آزادی کو مانتے ہیں تو انصاف کا تقاضا یہ ہے کہ دونوں ملک اس پر عمل کرکے دکھائیں اور  کشمیر کو اپنی قدیم تاریخی حیثیت سے ایک آزاد خود مختار ملک کے طور پر قبول کریں ۔

موجودہ صورت حال اس بات کی متقاضی ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کشمیر کو صدیوں سے کھویا ہوا وقار واپس دیکر اپنی قدیم تاریخی حیثیت سے ایک آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر قبول کریں کیونکہ کمزور پر طاقت اور بزرگی کامظاہرہ کرکے دبانا اور کچلنا بڑکپن نہیں ہے بلکہ کمزور کی حمایت اور دفاع کرنا بزرگی کا مظہر ہے۔ دونوں بڑے طاقت ہندوستان اور پاکستان کو اپنی طاقت اور اپنی بزرگی کا مظاہرہ حقیقت پسندی کے ساتھ کرنا ہوگا اور اپنے ہمسایہ ملک کشمیر کے استقلال ، آزادی اور جمہوری اقدار کا سامان فراہم کرکے خطے میں دھشت گردی ، خشونت، بی اعتمادی ، مفلسی اور غربت کے دروازے بند کرکے مسرتوں اور ترقی کے دروازے کھولنے ہوں گے۔ہمارے لئے ہندوستان بھی عزیز اور محترم ہے اور پاکستان بھی عزیز اور محترم ہے بشرطیکہ اسکا پاس و لحاظ رکھا جائے ۔ ظاہر سی بات ہے جو کوئی کشمیری عوام کے نسبت سچا اور شفاف موقف رکھے وہی کشمیری عوام کے نزدیک زیادہ قریب اور حبیب ہوگا ۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جو فائدہ بے دفاع لوگوں کی شہادت نے اس تحریک آزادی کو عطا کیا ہے وہ عسکری ہلاکتوں یا شہادتوں سے میسر نہیں ہو سکا ۔ اسلئے بہتر ہے کہ ظالم بننے کے بجائے مظلومانہ جدوجہد جاری رکھتے ہوئے اپنے حوصلہ بلند رکھیں اور صدر پاکستان کا کشمیر کو کشمیریوں کے حوالہ کرنے پر ان کا شکریہ کیا جائے ۔ اور جس طرح اسوقت کارڑنیشن کمیٹی کی شکل میں جدوجہد آزادی کشمیر   ایک منظم  پر امن راستہ انتخاب کئے ہوئے ہے اسکی تقویت کیلئے ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے اور  دنیا پر واضح کر دیا جائے کشمیریوں کی تحریک وہ تحریک ہے جو کہ بر صغیر میں انگریزوں کے انخلا سے پہلے وجود میں آ چکی تھی اور عامریت اور ظلم کے خلاف اپنے سیاسی مستقبل کی ضمانت حاصل کرنے کیلئے جہدوجہد کرتی چلی آئی ہے، ہے ۔

یہ مقالہ  میں نے بچپن میں لکھا ہے  جب  کہ عسکری تحریک اپنے ابتدائی مراحل طے کرنے جارہی تھی۔ جسکی تاریخ تحریر 17اکتوبر 1989 درج ہے۔

جس طرح علامہ اقبال مرحوم نے بے مثال انداز میں جس عظیم ہندوستان  کی عظیم حقیقت  { یونان مصر رومان سب مٹ گئے جہاں سے ؛ اب تک مگر ہے باقی نام و نشان ہمارا}{کچھ بات ہے کہ ہستی مٹتی نہیں ہماری؛صدیوں رہا ہے دشمن دور زماں ہمارا} کو بیان کیا ہے اسے آج کل کے ہندوستانی حکام مٹانے کے در پے ہیں ۔ کبھی کوئی حالات ایسے ایجاد کرتا ہے کہ خود بھی اس کے قہر سے نجات حاصل نہیں کرپا تا ہے ۔ کیا حالات نے اسی علامہ اقبال کو اس ہندوستان سے جدا نہیں کیا ۔

سرینگر:23مئی2014:ہندوستان کے آئین کے تحت کشمیر کی آزادی کیلئے حقیقی اور حقوقی تحریک آغاز کرنے کیلئے بارہ مولا پارلمانی امیدوار حجت الاسلام آغا سید عبدالحسین موسوی کشمیری نے 23مئی 2014 کو گلمرگ حلقہ انتخابات کے کئی علاقوں کے بعض سرگرم کارکنوں کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا ہم جس مذہبی سیاست کی بات کرتے ہیں اس سے مراد ظلم اور خدمت کرنے کیلئے مرنے کے بعد سزا اور جزا حاصل ہونے کا عقیدہ رکھنا ہوتا ہے نہ کہ پاکستان یا ہندوستان سے سزا یا جزا حاصل کرنا ہے اور سیاست و عبادت کے حوالے سے مسلمانوں کیلئے ایک واضح منشور ہے کہ ہر دعا کرنا مستحب ہے لیکن یہ کہنا کہ اے اللہ ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت فرما’’اھدناالصراط المستقیم‘‘ کہنا واجب ہے۔ یعنی انسان کو ہر لمحے کیلئے ہدایت کی ضرورت ہے اور جب انسان قرآنی ادبیات کی روشنی میں غلط کام کرتا ہے غلط ہے صحیح کام کرتا ہے صحیح ہے چاہے اسکا عقیدہ جو کچھ بھی ہو۔ ایسے میں ہندوستان نے کشمیری سماج کو ایسی تہذیب کے ساتھ تربیت کرنا اپنا مشغلہ بنایا ہے جس سے یہاں کی تہذیبی ادبیات کے مفہوم ہی بدل گئے ہیں۔ خدمت کے نام پر ظلم روا رکھا جا رہا ہے اور انصاف کے نام پر ظلم کرنا اپنا مشغلہ بن چکا ہے۔

1 2 3 4 5 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر