»

مطالب ویژه

عبدالحسین کشمیری نے مزید کہا کہ ہندوستان زیر انتظام کشمیر میں جاری تہذیبی جارحیت کو روکنے کیلئے پرء واری اور ریشی منیوں کے دیش کے فلسفے کی روشنی میں سیاسی مذہبی محاذ کا قیام عمل میں آنے جارہا ہے جس کا اعلان جلدی ہو گا جو کہ اسمبلی الیکشن میں تینوں خطوں میں اپنے امیدوار اٹھا نے کا ارادہ رکھتا ہے۔

 مسئلہ کشمیر کا حل تلاشنے کیلئے الحاق ہندوستان اور الحاق پاکستان کا سیاسی منشور رکھنے والی ایک سو سے زائد سیاسی و فوجی وغیرہ جماعتیں کشمیر میں سرگرم عمل رہی ہیں لیکن میرے انتخابی منشور میں نہ الحاق ہندوستان اور نہ ہی الحاق پاکستان کے حوالے سے کوئی غرض ہے بلکہ فوق الذکر حقائق کی روشنی میں سوالات کا انبار موجود ہے۔البتہ  مسئلہ کشمیر  کو حل کرنے کیلئے میرا مشورہ یہ ہوگا کہ  کشمیر کی کشمیریت کو زندہ کرنا ہوگا یعنی کشمیر  کی دینی و مذہبی شناخت  کی بحالی۔ کشمیر میں آباد ہر دین کے پیرو کی دینی بالادستی جسے "پیروں و ولیوں" یا" ریشی  منیوں" کا ملک کے طور پر بحال کرنے کیلئے  کشمیر کے آئين کو کشمیری اور مذھبی رنگ میں رنگنا ہوگا اور کشمیر میں لادینی کی حاکمیت نہیں بلکہ جمہوری مذھبی حاکمیت  کیلئے قانونی مسودہ تیار کرنا ہوگا۔ چونکہ کشمیر کے اپنے مجوزہ آئین کی بنیاد ٹیڑھی کشمیر یت  کے ساتھ  ترسیم کی گئي ہے اسکی عمارت بھی ٹیڑھی بنتی گئی ہے اور یہ معماری کا اصول ہے جب کسی عمارت کی بنیاد، اصول تعمیر سے ذرا مخالف تعمیر کی جائے وہ آخر تک منفی نتائج دے گی۔ صائب تبریزی نے کیا خوب فرمایا ہے:خشت اول چون نھد معمار کج ______________تا ثریا می رود  دیوار کج

کشمیرکی تاریخ اپنے ممتاز تمدن و ثقافت کے سنہرے ابواب سے لبریز ہے۔ کشمیر 259 بی سی سے لیکر1947ء تک یعنی دوہزار سال سے زائد عرصے تک ایک خودمختار دیندار ملک رہا ہے جس بیچ 1326ء سے 1586ء تک کشمیر اسلامی ملک رہا ہے اور 1586ء سے1947 اور 1947سے 2014تک کئی  سیاسی عروج و زوال کا شکار رہا ہے  لیکن اب کچھ ایسے ابواب بھی رقم ہوتے نظر آتے دیکھے جارہے ہیں کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک نیا سیاہ باب کشمیر کے نام پر رقم ہونے کیلئے درپردہ سازش رچائی جارہی ہے۔میری مراد کشمیر میں تہذیب و ثقافتی جارحیت ہے۔ہماری درخشندہ ثقافت کو مسخ کرنے کی یہ مذموم سازش مغل دور،افغان دور،سیکھو دور اور ڈوگرا دور کے ظلم و ستم سے زیادہ ضرر رساں ثابت ہوگی۔ یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جس سے ہماری اگلی نسلیں بھی متاثر ہوکر اپنی پہچان اور شان سے بے بہرہ ہونگی۔

Through a civilized manner India has to be made answerable. And the real agents of exploitation whether it is India or local administration have to be brought to be lime light.

To address the Kashmir issue there are more than a hundred pro or anti resistance camps with their annexation with India or Pakistan slogans but as per my election manifesto this is none of my business but I do have bunch of questions for both the camps in light of above mentioned facts. However to resolve the Kashmir issue my advice would be "Restoration of religious identity and sanctity". For that constitution of Kashmir needs to draw on religious democratic order. Since constitution of Kashmir is based on unlike Architecture faults are normal. Saeb Tabrizi has rightly said:Unlike Architecture results unlike

مصری معزول  صدر"مرسی" کا عوامی مخالفت اور فوجی مداخلت سے اقتدار سے بے دخل کیا جانے والا واقعہ ہر مکتب فکر،ہر دین و مذہب  خاص کر سیاستداں وہ بھی ایسے جو اپنے آپ کو انقلابی تصور کرتے ہوں کیلئےانتہائی  مفید سیاسی سبق ہے  کہ جس اصول کو رعایت کرنے کی اللہ اور اسکے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تاکید فرمائی اور قرآن میں اسکی سند موجود ہے وہ یہ کہ انسان کو عملی طور کامیابی حاصل کرنے کیلئے اعتدال  اور میانہ روی  جو کہ امت اسلامی کا نام ہی ہے(درمیانی امت )میں رہنا  لازمی ہے ۔مقصد کو مدنظر رکھتے ہوئے اسے حاصل کرنے کیلئے مجاہدت کرتے رہنا ہے اور ایسے میں اپنے مقصد کی برتری کو اجاگر کرنا نہ کہ اپنی یا تنظیمی برتی دبدبہ قائم کرنا۔اور اخوان المسلمین مصر یہی غلطی کی کہ  اپنے مقصد کا تعین نہ کرتے ہوئے اپنی جماعت کی برتری ثابت کرنے میں اپنی صلاحیتوں کو بروی کار لایا ہے جس کا انجام یہی ہونا تھا جس کا دنیا اسوقت نظارہ گر ہے ۔
کشمیر کا مسئلہ 12جولائي 1931 کا مسئلہ ہے ،کشمیر کا مسئلہ اسلام کا مسئلہ ہے ۔ جس کی آبیاری کیلئے ابتک مسلمانوں کا خون  بہایا جارہا ہے۔چونکہ کشمیر کی سالمیت اور حقوق کے بچاو کیلئے  اب تک صرف مسلمانوں کواپنی جانی مالی  قربانی دینی پڑی ہے اسلئے اسلامی مسئلہ ہے اگر کشمیر کے غیر مسلمان شہری بھی  کشمیر کو اپنا ملک سمجھتے اور اسکے بچاو کیلئے اپنا کردار نبھاتے تب کشمیر کا مسئلہ اسلامی نہیں بلکہ جمہوری اور سیاسی کہلاتا اور جو لوگ  مسئلہ کشمیر کو بندوق کے ذریعہ حل کرانے کی ترجمانی کرتے ہیں چونکہ انہوں نے اپنے اذہان و افکار کو کرایہ پر دے رکھا ہے وہ انصاف سے کام نہیں لے پاتے ہیں ۔ نہیں سمجھتے ہیں کہ 13جولائی کے شہیدوں کے پاس کوئي بندوق نہیں تھی بلکہ ایک اتحاد تھا اور ایک مقصد کی نشاندہی  جس کے بدولت انکی تحریک کے ساتھ جسقدر بھی استحصال کیا جاتا ہے پھر بھی انکی تحریک زندہ و جاوید ہے۔
اگر سازمان ھای بین المللی از جمله سازمان کنفرانس اسلامی این بار احساس مسئولیت نکند و وارد عمل نشوند و نسبت به مسئله کشمیر نگرانی خود اظهار نکند و ھند را برای ریفراندم وادار نکند خون مسلمانان کشمیر که بجرم استقلال ، آزادی و جمھوری مردمی ریخته میشود شریک خواھند بود۔

 ہندوستان کا کہنا کہ آزادی سے کمتر کشمیری سب کچھ مانگ سکتے ہیں، ہندوستان کی طرف سےایک مدبرانہ سلیقہ اختیار کرنے  کی نشاندہی کررہا ہے  لیکن یہاں قیادت کے صفوں میں کھڑے ہونے والے حضرات نے اپنی سنت بنائی ہے کہ اپنے حریف کی مخالفت کے لئے کھڑے ہو جائیں  چاہے وہ ہندوستان الحاقی سیاستمدار ہوں  یا پاکستان الحاقی سیاستمدار ،یا اعتدال الحاق سیاستمدار ہوں یا الحاق مخالف سیاستمدار سب کے سب ایک ہی سلیقہ کو ظاہر ا ایک سیاسی اصول کے طور پر سیاست کررہے ہیں ۔یہی وجہ ہے کہ نہایت ہی سادہ اور آسان مسئلہ  ، مسئلہ کشمیر بن کر رہ گیا ہے۔

1 2 3 4 5 
این سایت متعلق است به 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر