»
سه شنبه 2 آبان 1396

مورخہ 2اپریل 2010مطابق 16ربیع الثانی 1431 ھ کو خطیب نماز جمعہ بڈگام آغا سید عبدالحسین مصطفی موسوی نے اپنے پہلے خطبے میں گذشتہ خطبے سے پیوست بحث کو جاری رکھتے ہوئے قرآن اور روایات کی روشنی میں اسلامی معاشرے کے لئے مسجد کی اہمیت کی طرف مذید روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہجرت کے بعد سب سے پہلا کام مسجد بنانے اور اس کے بعد نماز جمعہ قائم کرنے کا اہتمام کیا۔ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے جذبے سے منظم کام کرنے اور اسلامی معاشرہ قائم کرنے کے غرض سے سب سے پہلے ہمیں مساجد آباد کرنے اور نماز جمعہ قائم کرنے کا اہتمام کرنا چاہئے ۔

آپ کے موقر ھفت روزہ چٹان 5اکتوبر سے 9 اکتوبر 2009 کے شمارے میں صفحہ 2 پر میرے دوست جناب ھاشم قریشی کا گلگت بلتستان کے حوالے سے اعتراض پر مبنی بیان پڑھا ، اس بات سے صرف نظر کہ کس پر اعتراض ہوا ہے البتہ اس حوالے سے آپ کے توسط سے اپنے دوست اور ھر اس کشمیری لیڈر سے جو اس قسم کا تجزیہ کرکے مسائل کو الجھ کر رکھتے ہیں سوال کرتا ہوں کہ سچ کو ماننے سے کیوں کر تکلیف ہوتی ہے ۔ ڈوگرہ مہراجہ نے کیا کیا ، اقوام متحدہ نے کیا تحریر میں لایا یہ کیا بے تکی باتیں ہیں ۔ حال کو بھول کر ماضی کی مثالیں لانے سے کیا مقصد ہے ۔

          صدر جمھور آصف علی زرداری صاحب کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی نیک نیتیاں نظر آرہی ہیں امید ہے کہ صدر صاحب پاکستان کے لئے ایک حکیم ثابت ہوں جو اسی طرح ماضی کی تمام غلطیوں کا ازالہ کرنے کا اھتمام کریں ، چاھے وہ خود پیپلز پارٹی سے سر زد ہوئی ہیں یا کسی اور پارٹی سے سرزد ہوئی ہوں نیک نیتی خلوص اور رضای الہی حاصل کرنے کے جذبے سے انجام دیں اور عوامی امنگوں کے ترجمان بن کے ابھر آئیں اور پاکستان میں خون خرابے ماحول ختم کرکے علم و ترقی کے لئے مناسب ماحول فراھم کریں ۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حکومت پاکستان گلگت بلتستان کو مثالی خود مختاری دے کر دنیا پر اپنی نیک نیتی ثابت کر دکھائے اور گلگت بلتستان کے عوام کو عید سے پھلے عیدی دے کر کشمیر کی آزادی کے عید کا چاند کے اعلان کرے ۔

اگر کشمیر کی سیاسی جماعتیں بلا امتیاز طرفداری پاکستان یا ھندوستان کشمیری عوام کے خیر خواہ ہوں گے وہ عوام کی بہبودی کے لئے جو بھی قدم اٹھائیں گے وہ از حد متضاد ہونے کے با وجود ایک ہی مقصد کی آبیاری کریں گے وہ ہے عدالت اور انصاف کہ جس کا عملا نھایت ہی فقدان ہے ۔ کہتے ہین «من جد وجد»(جس نے ڈھونڈا اس نے پایا) اگر ہماری سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے اپنے اپنے طرز عمل میں خلوص بھی شامل کریں گے مسئلہ کشمیر حل ہو کے رہے گا اور اس کے مفید ثمرات سے،کشمیر اور کشمیریت کا ہر دوست و دشمن بھرہ مند ہو جائے گا۔ 

بسمہ تعالی

کشمیری بجلی ہاتھی کے دانت

حیات کا دوسرا نام بجلی ہے ، جہاں جسقدر بجلی جتنی زیادہ مقدار میں استعمال میں لائی جاتی ہے وہاں اتنا ہی زیادہ زندگی کا معیار بلند ملتاہے

اگر آزادی موقف ہے تو فلسطینی عوام کی طرح دو ٹوک الفاظ میں کہا جائے کہ غاصبانہ تسلط سے پاک سرزمین کا حصول یعنی اسرائیل کو نکال باہر کرکے ہی دم لیں گے ۔ یا تو اس طرح کا موقف اختیار کرنا ہوگا کہ ہندوستان اور پاکستان کے جبری تسلط سے آزادی اور کشمیر کی تاریخی سیاسی موقعیت کی بحالی ۔یا کشمیر کو ہندوستان کاحصہ تسلیم کرکے اس سے ظلم و جبر کے خاتمے کی درخواست اور جان کی امان حاصل کرنی چاہئے ۔جس طرح اس وقت ہندنواز جماعتیں کرتی ہیں اور پھر ان کی ہمہ جہت حمایت کی جائے ۔ یا کشمیر کوپاکستان کا حصہ تسلیم کرکے بے غیرتی کی زندگی کرنا تسلیم کیا جائے اور جان کی امان حاصل کی جائے اور لاحاصل جدوجہد جاری رکھی جائے۔مکمل آزادی کے سلسلے میں ہندوستان اور پاکستان کے ساتھ ساتھ دنیا بھر میں رہ رہے انصاف پسند اور آزاد منش لوگ کشمیر کی مکمل آزادی کا کھل کر حمایت کرسکتے ہیں ۔کشمیر کو ہندوستان کا حصہ تسلیم کرنے کے سلسلے میں ہندوستان اپنے ہمفکر جماعتوں کی مذید کھل کرحما یت کرے گی اورکشمیر کو پاکستان کا حصہ تسلیم کرنے کے سلسلے میں پاکستان اپنے ہمفکر جماعتوں کی مذید کھل کرحمایت کرے گی ۔ اس طرح کشمیر میں سیاسی بادلوں میں موجود آلودگی میں کمی آئے گی اور کشمیری عوام کو غیر قابل پیش بینی عنوان کرنے کے بجائے فلسطینی عوام کے مانند غیر متزلزل عزائم رکھنے والے عوام کے عنوان سے یاد کیا جائے ۔اس طرح جس کسی کا موقف انصاف اور امکان پذیر طریقہ کار پر مبنی ہوگا کامیابی اسی مقصد کا مقدر ہوگی ۔

پھیرن کشمیر کی ثقافت کا ممتاز حصہ اور ایک محبوب قدیم روایتی لباس ہے۔ ایک تجزیہ کے مطابق کشمیر میں ہر سال تقریبا 2833161 نئے پھیرن بنائیں جاتے ہیں ۔اور یہ عدد کم سے کم احتمال کے رو سے ہے جس کا تخمینہ زیادہ پھیرن استعمال کرنے والے علاقوں سے لیا گیا ہے ۔زیادہ پھیرن استعمال کرنے والے علاقوں کا انتخاب  الیکشن کمیشن آف انڈیا کی سایٹ سے رائے دہندگان کے اعداد شمار کے رو سے لیا گیا ہے از جملہ امیراکدل ، اننت ناگ، بڈگام، بانڈی پورہ، بارہ مولا ، بٹہ مالو ، بیروہ ، بجبہارہ ،  بدرواہ ، چاڑورا ، چرار شریف ، دارہل، دیوسر ، ڈورو ، گاندربل ، گلمرگ ، گریز ، حبہ کدل، ھندوارہ، حضرت بل ، ہوم شالی بگ ، عیدگاہ،کنگن،کرناہ،کٹھوا، خانصاحب ، خانیار، کشتوار، کوکرناگ ، کولگام ، کپوارہ، لنگیٹ، نور آباد ، نوشیرہ، پہلگام، پامپور، پٹن، رفیع آباد، سنگرامہ، شانگس، شوپین ، سونہ وار، سونا واری ، سوپور، ترال ، ادھمپور، اوری ، وچی اور جڈیبل ہیں ۔ ان  پچاس علاقوں کے رائے دہندگان کی تعداد قریب تین ملین (تیس لاکھ)ہے ۔

جذبات اور جہالت سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے ۔ کشمیر کو آزاد ملک کی حیثیت سے ترقی کی منازل طے کرنے کی تاریخی اور اصولی حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔نا امیدی کی کوئی گنجايش نہیں ہے ؛جب دنیا ننے ننے ممالک کو جائز طور تسلیم کرتے ہیں کشمیر جیسے عظیم اور تاریخی ملک کو اپنی تاریخی حیثیت سے تسلیم نہ کرنا کیسے ممکن نہیں ہے ۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ھم خود اسکا تقاضا کریں اور اپنے موقف پر ڈٹے رہیں ۔مسئلہ کشمیر کو نہ ھندوستان کو حل کرنا ہے نہ ہی پاکستان کو، نہ ہی اقوام متحدہ کو، نہ ہی دنیا کے کسی بھی چھوٹے یا بڑے ملک کو بلکہ کشمیر ی عوام کو خود اپنا مسئلہ آپ حل کرنے کیلئے متحد و ہمصدا ہونا ہے ۔

 کیوں نہ ہم راہ چلتے وقت کانگری کو پھرن کے نیچے رکھنے کے بجائے باہر نکال کر ہاتھوں میں لے کر  چلا کریں اور بیٹھتے وقت پھرن کے نیچے رکھا کریں جس سے ہم اپنے آپ کو گرم بھی رکھ سکتے ہیں اور دیکھنے والوں کے لئے اپنے پسماندگی کا مظاہرہ بھی کرسکتے ہیں ۔ باہر سے ہر دیکھنے والے کیلئے سوال پیدا ہو جائے یہ کشمیری لوگ ہاتھوں میں  کیا لے کر پھرتے ہیں، جس سے معلوم پڑے گا کہ کس قدر عوام کے حقوق  کا خیال رکھا جاتا ہے  اور جب کوئی ہمارے حقوق کی آواز کو دبانا چاہے اس پر اسی کانگری سے وار کرکے اپنے غصےکا مظاہرہ کریں ، نہ گرنیڈ کی ضرورت ہے نہ کلاشنکوف کی ، ہم اپنی ہر جنگ اپنے ہتھیاروں سے مظلومیت کے ساتھ لڑیں گے ۔

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اقوام متحدہ کا نمایندہ دفتر UNMOGIP کے نام سے موسوم ہے جس میں نو 9ممالک کے انتالیس39 نمایندہ حاضر رہتے ہیں ۔ اقوام متحدہ نے 1949 میں نو9ممالک کو کشمیر پر نظارت کرنے کیلئے معمور کیا اور ان نو 9ممالک میں ہر ایک ملک کو ایک مخصوص نمایندگی کا سہمیہ تفویض ہوا ، جس کی تفصیل یو ں ہے ۔ بیلجیم Belgium سے دو2 نمایندے ، چلی Chile سے تین3 نمایندے ، ڈنمارک Denmark سے چھ6ے نمایندے ، فنلینڈ Finland سے سات7 نمایندے ، اٹلی Italy سے پانچ5 نمایندے ، جمہوری کوریا Republic of Korea سے پانچ5 نمایندے ، سویڈن Sweden سےآٹھ8 نمایندے ، اور اروگوی Uruguay سے تین3 نمایندے منتخب ہوئے جو کہ کشمیر کے دونوں حصوں میں اپنا فریضہ انجام دے رہے ہیں

1 2 3 4 5 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر