»
دوشنبه 2 بهمن 1396

 کیوں نہ ہم راہ چلتے وقت کانگری کو پھرن کے نیچے رکھنے کے بجائے باہر نکال کر ہاتھوں میں لے کر  چلا کریں اور بیٹھتے وقت پھرن کے نیچے رکھا کریں جس سے ہم اپنے آپ کو گرم بھی رکھ سکتے ہیں اور دیکھنے والوں کے لئے اپنے پسماندگی کا مظاہرہ بھی کرسکتے ہیں ۔ باہر سے ہر دیکھنے والے کیلئے سوال پیدا ہو جائے یہ کشمیری لوگ ہاتھوں میں  کیا لے کر پھرتے ہیں، جس سے معلوم پڑے گا کہ کس قدر عوام کے حقوق  کا خیال رکھا جاتا ہے  اور جب کوئی ہمارے حقوق کی آواز کو دبانا چاہے اس پر اسی کانگری سے وار کرکے اپنے غصےکا مظاہرہ کریں ، نہ گرنیڈ کی ضرورت ہے نہ کلاشنکوف کی ، ہم اپنی ہر جنگ اپنے ہتھیاروں سے مظلومیت کے ساتھ لڑیں گے ۔

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اقوام متحدہ کا نمایندہ دفتر UNMOGIP کے نام سے موسوم ہے جس میں نو 9ممالک کے انتالیس39 نمایندہ حاضر رہتے ہیں ۔ اقوام متحدہ نے 1949 میں نو9ممالک کو کشمیر پر نظارت کرنے کیلئے معمور کیا اور ان نو 9ممالک میں ہر ایک ملک کو ایک مخصوص نمایندگی کا سہمیہ تفویض ہوا ، جس کی تفصیل یو ں ہے ۔ بیلجیم Belgium سے دو2 نمایندے ، چلی Chile سے تین3 نمایندے ، ڈنمارک Denmark سے چھ6ے نمایندے ، فنلینڈ Finland سے سات7 نمایندے ، اٹلی Italy سے پانچ5 نمایندے ، جمہوری کوریا Republic of Korea سے پانچ5 نمایندے ، سویڈن Sweden سےآٹھ8 نمایندے ، اور اروگوی Uruguay سے تین3 نمایندے منتخب ہوئے جو کہ کشمیر کے دونوں حصوں میں اپنا فریضہ انجام دے رہے ہیں

Nowadays Pakistan, has decided to withdraw its political stand which was based on Kashmir’s accession to Pakistan. It has now started to focus on human values only. If India will also respect human values and withdraw its political stand, the age of peace and prosperity can start in the region. Present scenario demands India and Pakistan must ensure the independence of Kashmir. Both the countries are big powers and curbing small neighboring country is not the sign of power and greatness. Both the powers must adopt the policy based on reality and justice and facilitate the independent and republican set up for Kashmir.

اسی طرح کئ قسم کے سوال ذہن میں آتے ہیں جن کا جواب جب بھی سیاسی متون سے ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں تو ہر ایک بات کا واضح اور روشن جواب سامنے نظر آتا ہے میرے نذدیک جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بنیادی طور ایک قانونی مسئلہ ہے اور یہ قانونی مسئلہ عوامی سطح سے لیکر بین الاقوامی سطح تک تسلیم شدہ مسئلہ ہے جسکا حل صرف عوامی سطح سے لیکر بین الاقوامی سطح تک قانونی مسائل پر گرفت حاصل کرکے اپنے حقوق کی باز یابی کی قانونی جنگ لڑنے سے امکان پذیر ہے اور انتخابات میں شرکت کرکے خفیہ ایجنسیوں کا آلہ کار بننے کے بجائے عوامی کے حقیقی ایجنٹ بن کر ہر سطح پر کشمیری عوام سے لیکر عالمی سطح تک کئے جانے والے ہر سوال کا صحیح اور منطقی جواب فراہم کرکے کشمیر کو ہر آلودگی سے نجات دلا دی جائے اور کشمیر کی ماضی کی تاریخ کو زندہ کرتے ہوئے کشمیر کو اپنی اصلی ملکی شکل میں واپس لایا جائے ۔

I believe Kashmir issue is an assured legal issue from domestic to international levels. We need to know all legal issues related to Kashmir and fight legally for the resumption of our right of independence at every front with one goal. The participation in the election is a part of its legal fight which should be fought on the basis of interest of Kashmir and its people, not for the vested interest of agencies.We also need to give the real and just based answer to Kashmir’s independence related every question. Then the past glory of Kashmir will be back as sovereign state.

میرے نزدیک ھندوستان کے ساتھ تامل کے ساتھ پیش آنے اور اپنے جائز حقوق کا منطقی اصولوں پر مبنی مطالبہ کرنے سے ہمیں منطقی اصولوں پر مبنی جواب بھی حاصل ہو گا ۔ جب ھندوستان کے سامنے اصولوں پر مبنی بات رکھی جائے یقینا جواب بھی قانع کنندہ حاصل ہو گا ۔ جذبات اور جہالت سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے ۔ کشمیر کو آزاد ملک کی حیثیت سے ترقی کی منازل طے کرنے کی تاریخی اور اصولی حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔نا امیدی کی کوئی گنجايش نہیں ہے ؛جب دنیا ننے ننے ممالک کو جائز طور تسلیم کرتے ہیں کشمیر جیسے عظیم اور تاریخی ملک کو اپنی تاریخی حیثیت سے تسلیم نہ کرنا کیسے ممکن نہیں ہے ۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ھم خود اسکا تقاضا کریں اور  اپنے موقف پر ڈٹے رہیں ۔مسئلہ کشمیر کو نہ ھندوستان کو حل کرنا ہے نہ ہی پاکستان کو، نہ ہی اقوام متحدہ کو، نہ ہی دنیا کے کسی بھی چھوٹے یا بڑے ملک کو بلکہ کشمیر ی عوام کو خود اپنا مسئلہ آپ حل کرنے کیلئے متحد و ہمصدا ہونا ہے ۔

Pakistan has denounced the military option with a very bitter word “terrorism” which hurt the sentiments of many, but we should not take it as portent. We must see it within the context of Pakistan Presidents good news announcement. The militant leadership and militants must stop their armed struggle and join the people’s pro independent Kashmir movement. Let the Pakistan leadership set an example that Pakistan has made Kashmir’s Independence possible without any greed, which will be a mile stone for Islamic world also. And on the other side a sensitive time will start for India how she starts fixing the errors made by her in the past.

کشمیر  ہند ، پاک اور چین کا حصہ نہیں بلکہ اقوام عالم کا حصہ ہے ۔اسکا حصول ہر کشمیری کا سیاسی ، مذہبی ،سماجی اور قومی فریضہ بنتا ہے ۔ اب کشمیر  میں اقوام متحدہ کے صرف نو9 ممالک کی موجودگی کافی نہیں ہے بلکہ اب اقوام عالم کی سفارتیں کشمیر میں مستقر ہونے اور ہر ملک میں کشمیر کی سفارتخانوں کے قیام کا دور شروع ہونے کی ضرورت ہے ۔اس  سلسلے میں ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اقوام متحدہ کے  دفتروں میں نو9 منتخب ممالک کے نمایندوں کے ساتھ تنظیم اسلامی کانفرنس اور کشمیر کی نمایندگی کا حصول،عسکریت ، ہرتال ، احتجاج ، بائیکاٹ اور مظاہروں سے  بڑکر تعمیری عمل ہے جس سے خون خرابہ کے امکانات کم اور مدبرانہ حل نکلنے کے امکانات روشن بن سکتے ہیں۔

اس وقت کشمیر کے جوار (پاکستان اور ہندوستان) میں ایک 14اگست منانے اور دوسرا 15 اگست منانے میں مصروف ہے۔ ایک کے لئے چودہ اگست ہی سب سے بڑی نعمت ہے اور دوسرے کے لئے پندرہ اگست .اس بیچ میں کشمیری مظلوم و محکوم قوم چودہ اگست بھی جشن آزادی کے طور پر مناتے ہیں اور پندرہ اگست بھی مناتے ہیں اس فرق کے ساتھ کہ کشمیری خود اپنے سولہ اگست کے انتظار میں ہیں۔

    کشمیر کا مسئلہ 13جولائی 1931 کا مسئلہ ہے ،کشمیر کا مسئلہ اسلام کا مسئلہ ہے۔ جس کی آبیاری کیلئے ابتک مسلمانوں کا خون ابتک بہایا جارہا ہے۔چونکہ کشمیر کے بچاو کیلئے  اب تک صرف مسلمانوں  نیاپنی جانی مالی  قربانی دینی پڑی ہے اسلئے اسلامی مسئلہ ہے اگر کشمیر کے غیر مسلمان شہری بھی کشمیر کو اپنا ملک سمجھتے اور اسکے بچاو کیلئے اپنا کردار نبھاتے تب کشمیر کا مسئلہ اسلامی نہیں بلکہ جمہوری مسئلہ ہوتا اور جو لوگ مسئلہ کشمیر کو بندوق کے ذریعہ حل کرانے کی ترجمانی کرتے ہیں چونکہ انہوں نے اپنے اذہان و افکار کو کرایہ پر دے رکھا ہے وہ انصاف سے کام نہیں لے پاتے ہیں۔ نہیں سمجھتے ہیں کہ 13جولائی کے شہیدوں کے پاس کوئی بندوق نہیں تھی بلکہ ایک اتحاد تھا اور ایک مقصد کی نشاندہی تھی جس کے بدولت انکی تحریک کے ساتھ جسقدر بھی استحصال کیا جاتا ہے پھر بھی انکی تحریک زندہ و جاوید ہے۔

1 2 3 4 5 

قدرت گرفته از سایت ساز سحر