»
دوشنبه 2 بهمن 1396

پھیرن کشمیر کی ثقافت کا ممتاز حصہ اور ایک محبوب قدیم روایتی لباس ہے۔ ایک تجزیہ کے مطابق کشمیر میں ہر سال تقریبا 2833161 نئے پھیرن بنائیں جاتے ہیں ۔اور یہ عدد کم سے کم احتمال کے رو سے ہے جس کا تخمینہ زیادہ پھیرن استعمال کرنے والے علاقوں سے لیا گیا ہے ۔زیادہ پھیرن استعمال کرنے والے علاقوں کا انتخاب الیکشن کمیشن آف انڈیا کی سایٹ سے رائے دہندگان کے اعداد شمار کے رو سے لیا گیا ہے از جملہ امیراکدل ، اننت ناگ، بڈگام، بانڈی پورہ، بارہ مولا ، بٹہ مالو ، بیروہ ، بجبہارہ ، بدرواہ ، چاڑورا ، چرار شریف ، دارہل، دیوسر ، ڈورو ، گاندربل ، گلمرگ ، گریز ، حبہ کدل، ھندوارہ، حضرت بل ، ہوم شالی بگ ، عیدگاہ،کنگن،کرناہ،کٹھوا، خانصاحب ، خانیار، کشتوار، کوکرناگ ، کولگام ، کپوارہ، لنگیٹ، نور آباد ، نوشیرہ، پہلگام، پامپور، پٹن، رفیع آباد، سنگرامہ، شانگس، شوپین ، سونہ وار، سونا واری ، سوپور، ترال ، ادھمپور، اوری ، وچی اور جڈیبل ہیں ۔ ان پچاس علاقوں کے رائے دہندگان کی تعداد قریب تین ملین (تیس لاکھ)ہے ۔

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اقوام متحدہ کا نمایندہ دفتر UNMOGIP کے نام سے موسوم ہے جس میں نو 9ممالک کے انتالیس39 نمایندہ حاضر رہتے ہیں ۔ اقوام متحدہ نے 1949 میں نو9ممالک کو کشمیر پر نظارت کرنے کیلئے معمور کیا اور ان نو 9ممالک میں ہر ایک ملک کو ایک مخصوص نمایندگی کا سہمیہ تفویض ہوا

کشمیر  کی آزادی کا فیصلہ صرف اور صرف ہندوستان کے زیر انتظام وادی  کشمیر  کے لوگوں کو کرنا ہوگا ۔کیونکہ بنیادی طور کشمیر جس کی اپنی ہزاروں سالہ تاریخ ہے وہ یہی وادی کشمیر ہے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر  میں جموں اور لداخ والوں کا رول بعد کا بنتا ہے ۔

کشمیر کا اگرچہ واٹیکان سیٹی سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ دنیا کا سب سے چھوٹا ملک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص مذھبی سٹیٹ ہے البتہ اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ روم اور اٹلی کے درمیاں یہ ملک کہ جسکی مساحت صفر اشاریہ دو 0.2 مربع میل ہے اور دنیا میں صرف ھندوستان نے اس ننے ملک کی سفارت کو دھلی میں قائم کیا ہے۔جبکہ اس ننے ملک کی آبادی 770 سے زائد نفوس پر مشتمل ہے ۔ چونکہ ہم ھندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں رہ رہیں ہیں ہمارے لئے یہ بات بہت معنی رکھتی ہے

1 2 3 4 5 

قدرت گرفته از سایت ساز سحر