»
جمعه 26 آبان 1396

آپ کے موقر ھفت روزہ چٹان 5اکتوبر سے 9 اکتوبر 2009 کے شمارے میں صفحہ 2 پر میرے دوست جناب ھاشم قریشی کا گلگت بلتستان کے حوالے سے اعتراض پر مبنی بیان پڑھا ، اس بات سے صرف نظر کہ کس پر اعتراض ہوا ہے البتہ اس حوالے سے آپ کے توسط سے اپنے دوست اور ھر اس کشمیری لیڈر سے جو اس قسم کا تجزیہ کرکے مسائل کو الجھ کر رکھتے ہیں سوال کرتا ہوں کہ سچ کو ماننے سے کیوں کر تکلیف ہوتی ہے ۔ ڈوگرہ مہراجہ نے کیا کیا ، اقوام متحدہ نے کیا تحریر میں لایا یہ کیا بے تکی باتیں ہیں ۔ حال کو بھول کر ماضی کی مثالیں لانے سے کیا مقصد ہے ۔

          صدر جمھور آصف علی زرداری صاحب کی قیادت میں پیپلز پارٹی کی نیک نیتیاں نظر آرہی ہیں امید ہے کہ صدر صاحب پاکستان کے لئے ایک حکیم ثابت ہوں جو اسی طرح ماضی کی تمام غلطیوں کا ازالہ کرنے کا اھتمام کریں ، چاھے وہ خود پیپلز پارٹی سے سر زد ہوئی ہیں یا کسی اور پارٹی سے سرزد ہوئی ہوں نیک نیتی خلوص اور رضای الہی حاصل کرنے کے جذبے سے انجام دیں اور عوامی امنگوں کے ترجمان بن کے ابھر آئیں اور پاکستان میں خون خرابے ماحول ختم کرکے علم و ترقی کے لئے مناسب ماحول فراھم کریں ۔ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے حکومت پاکستان گلگت بلتستان کو مثالی خود مختاری دے کر دنیا پر اپنی نیک نیتی ثابت کر دکھائے اور گلگت بلتستان کے عوام کو عید سے پھلے عیدی دے کر کشمیر کی آزادی کے عید کا چاند کے اعلان کرے ۔

اگر کشمیر کی سیاسی جماعتیں بلا امتیاز طرفداری پاکستان یا ھندوستان کشمیری عوام کے خیر خواہ ہوں گے وہ عوام کی بہبودی کے لئے جو بھی قدم اٹھائیں گے وہ از حد متضاد ہونے کے با وجود ایک ہی مقصد کی آبیاری کریں گے وہ ہے عدالت اور انصاف کہ جس کا عملا نھایت ہی فقدان ہے ۔ کہتے ہین «من جد وجد»(جس نے ڈھونڈا اس نے پایا) اگر ہماری سیاسی جماعتیں مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے لئے اپنے اپنے طرز عمل میں خلوص بھی شامل کریں گے مسئلہ کشمیر حل ہو کے رہے گا اور اس کے مفید ثمرات سے،کشمیر اور کشمیریت کا ہر دوست و دشمن بھرہ مند ہو جائے گا۔ 

بسمہ تعالی

کشمیری بجلی ہاتھی کے دانت

حیات کا دوسرا نام بجلی ہے ، جہاں جسقدر بجلی جتنی زیادہ مقدار میں استعمال میں لائی جاتی ہے وہاں اتنا ہی زیادہ زندگی کا معیار بلند ملتاہے

پھیرن کشمیر کی ثقافت کا ممتاز حصہ اور ایک محبوب قدیم روایتی لباس ہے۔ ایک تجزیہ کے مطابق کشمیر میں ہر سال تقریبا 2833161 نئے پھیرن بنائیں جاتے ہیں ۔اور یہ عدد کم سے کم احتمال کے رو سے ہے جس کا تخمینہ زیادہ پھیرن استعمال کرنے والے علاقوں سے لیا گیا ہے ۔زیادہ پھیرن استعمال کرنے والے علاقوں کا انتخاب  الیکشن کمیشن آف انڈیا کی سایٹ سے رائے دہندگان کے اعداد شمار کے رو سے لیا گیا ہے از جملہ امیراکدل ، اننت ناگ، بڈگام، بانڈی پورہ، بارہ مولا ، بٹہ مالو ، بیروہ ، بجبہارہ ،  بدرواہ ، چاڑورا ، چرار شریف ، دارہل، دیوسر ، ڈورو ، گاندربل ، گلمرگ ، گریز ، حبہ کدل، ھندوارہ، حضرت بل ، ہوم شالی بگ ، عیدگاہ،کنگن،کرناہ،کٹھوا، خانصاحب ، خانیار، کشتوار، کوکرناگ ، کولگام ، کپوارہ، لنگیٹ، نور آباد ، نوشیرہ، پہلگام، پامپور، پٹن، رفیع آباد، سنگرامہ، شانگس، شوپین ، سونہ وار، سونا واری ، سوپور، ترال ، ادھمپور، اوری ، وچی اور جڈیبل ہیں ۔ ان  پچاس علاقوں کے رائے دہندگان کی تعداد قریب تین ملین (تیس لاکھ)ہے ۔

جذبات اور جہالت سے کچھ حاصل نہیں ہونے والا ہے ۔ کشمیر کو آزاد ملک کی حیثیت سے ترقی کی منازل طے کرنے کی تاریخی اور اصولی حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔نا امیدی کی کوئی گنجايش نہیں ہے ؛جب دنیا ننے ننے ممالک کو جائز طور تسلیم کرتے ہیں کشمیر جیسے عظیم اور تاریخی ملک کو اپنی تاریخی حیثیت سے تسلیم نہ کرنا کیسے ممکن نہیں ہے ۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ ھم خود اسکا تقاضا کریں اور اپنے موقف پر ڈٹے رہیں ۔مسئلہ کشمیر کو نہ ھندوستان کو حل کرنا ہے نہ ہی پاکستان کو، نہ ہی اقوام متحدہ کو، نہ ہی دنیا کے کسی بھی چھوٹے یا بڑے ملک کو بلکہ کشمیر ی عوام کو خود اپنا مسئلہ آپ حل کرنے کیلئے متحد و ہمصدا ہونا ہے ۔

 کیوں نہ ہم راہ چلتے وقت کانگری کو پھرن کے نیچے رکھنے کے بجائے باہر نکال کر ہاتھوں میں لے کر  چلا کریں اور بیٹھتے وقت پھرن کے نیچے رکھا کریں جس سے ہم اپنے آپ کو گرم بھی رکھ سکتے ہیں اور دیکھنے والوں کے لئے اپنے پسماندگی کا مظاہرہ بھی کرسکتے ہیں ۔ باہر سے ہر دیکھنے والے کیلئے سوال پیدا ہو جائے یہ کشمیری لوگ ہاتھوں میں  کیا لے کر پھرتے ہیں، جس سے معلوم پڑے گا کہ کس قدر عوام کے حقوق  کا خیال رکھا جاتا ہے  اور جب کوئی ہمارے حقوق کی آواز کو دبانا چاہے اس پر اسی کانگری سے وار کرکے اپنے غصےکا مظاہرہ کریں ، نہ گرنیڈ کی ضرورت ہے نہ کلاشنکوف کی ، ہم اپنی ہر جنگ اپنے ہتھیاروں سے مظلومیت کے ساتھ لڑیں گے ۔

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اقوام متحدہ کا نمایندہ دفتر UNMOGIP کے نام سے موسوم ہے جس میں نو 9ممالک کے انتالیس39 نمایندہ حاضر رہتے ہیں ۔ اقوام متحدہ نے 1949 میں نو9ممالک کو کشمیر پر نظارت کرنے کیلئے معمور کیا اور ان نو 9ممالک میں ہر ایک ملک کو ایک مخصوص نمایندگی کا سہمیہ تفویض ہوا ، جس کی تفصیل یو ں ہے ۔ بیلجیم Belgium سے دو2 نمایندے ، چلی Chile سے تین3 نمایندے ، ڈنمارک Denmark سے چھ6ے نمایندے ، فنلینڈ Finland سے سات7 نمایندے ، اٹلی Italy سے پانچ5 نمایندے ، جمہوری کوریا Republic of Korea سے پانچ5 نمایندے ، سویڈن Sweden سےآٹھ8 نمایندے ، اور اروگوی Uruguay سے تین3 نمایندے منتخب ہوئے جو کہ کشمیر کے دونوں حصوں میں اپنا فریضہ انجام دے رہے ہیں

Nowadays Pakistan, has decided to withdraw its political stand which was based on Kashmir’s accession to Pakistan. It has now started to focus on human values only. If India will also respect human values and withdraw its political stand, the age of peace and prosperity can start in the region. Present scenario demands India and Pakistan must ensure the independence of Kashmir. Both the countries are big powers and curbing small neighboring country is not the sign of power and greatness. Both the powers must adopt the policy based on reality and justice and facilitate the independent and republican set up for Kashmir.

اسی طرح کئ قسم کے سوال ذہن میں آتے ہیں جن کا جواب جب بھی سیاسی متون سے ڈھونڈنے کی کوشش کرتا ہوں تو ہر ایک بات کا واضح اور روشن جواب سامنے نظر آتا ہے میرے نذدیک جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ کشمیر کا مسئلہ بنیادی طور ایک قانونی مسئلہ ہے اور یہ قانونی مسئلہ عوامی سطح سے لیکر بین الاقوامی سطح تک تسلیم شدہ مسئلہ ہے جسکا حل صرف عوامی سطح سے لیکر بین الاقوامی سطح تک قانونی مسائل پر گرفت حاصل کرکے اپنے حقوق کی باز یابی کی قانونی جنگ لڑنے سے امکان پذیر ہے اور انتخابات میں شرکت کرکے خفیہ ایجنسیوں کا آلہ کار بننے کے بجائے عوامی کے حقیقی ایجنٹ بن کر ہر سطح پر کشمیری عوام سے لیکر عالمی سطح تک کئے جانے والے ہر سوال کا صحیح اور منطقی جواب فراہم کرکے کشمیر کو ہر آلودگی سے نجات دلا دی جائے اور کشمیر کی ماضی کی تاریخ کو زندہ کرتے ہوئے کشمیر کو اپنی اصلی ملکی شکل میں واپس لایا جائے ۔

1 2 3 4 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر