»
جمعه 26 آبان 1396

I believe Kashmir issue is an assured legal issue from domestic to international levels. We need to know all legal issues related to Kashmir and fight legally for the resumption of our right of independence at every front with one goal. The participation in the election is a part of its legal fight which should be fought on the basis of interest of Kashmir and its people, not for the vested interest of agencies.We also need to give the real and just based answer to Kashmir’s independence related every question. Then the past glory of Kashmir will be back as sovereign state.

Pakistan has denounced the military option with a very bitter word “terrorism” which hurt the sentiments of many, but we should not take it as portent. We must see it within the context of Pakistan Presidents good news announcement. The militant leadership and militants must stop their armed struggle and join the people’s pro independent Kashmir movement. Let the Pakistan leadership set an example that Pakistan has made Kashmir’s Independence possible without any greed, which will be a mile stone for Islamic world also. And on the other side a sensitive time will start for India how she starts fixing the errors made by her in the past.

اس وقت کشمیر کے جوار (پاکستان اور ہندوستان) میں ایک 14اگست منانے اور دوسرا 15 اگست منانے میں مصروف ہے۔ ایک کے لئے چودہ اگست ہی سب سے بڑی نعمت ہے اور دوسرے کے لئے پندرہ اگست .اس بیچ میں کشمیری مظلوم و محکوم قوم چودہ اگست بھی جشن آزادی کے طور پر مناتے ہیں اور پندرہ اگست بھی مناتے ہیں اس فرق کے ساتھ کہ کشمیری خود اپنے سولہ اگست کے انتظار میں ہیں۔

    کشمیر کا مسئلہ 13جولائی 1931 کا مسئلہ ہے ،کشمیر کا مسئلہ اسلام کا مسئلہ ہے۔ جس کی آبیاری کیلئے ابتک مسلمانوں کا خون ابتک بہایا جارہا ہے۔چونکہ کشمیر کے بچاو کیلئے  اب تک صرف مسلمانوں  نیاپنی جانی مالی  قربانی دینی پڑی ہے اسلئے اسلامی مسئلہ ہے اگر کشمیر کے غیر مسلمان شہری بھی کشمیر کو اپنا ملک سمجھتے اور اسکے بچاو کیلئے اپنا کردار نبھاتے تب کشمیر کا مسئلہ اسلامی نہیں بلکہ جمہوری مسئلہ ہوتا اور جو لوگ مسئلہ کشمیر کو بندوق کے ذریعہ حل کرانے کی ترجمانی کرتے ہیں چونکہ انہوں نے اپنے اذہان و افکار کو کرایہ پر دے رکھا ہے وہ انصاف سے کام نہیں لے پاتے ہیں۔ نہیں سمجھتے ہیں کہ 13جولائی کے شہیدوں کے پاس کوئی بندوق نہیں تھی بلکہ ایک اتحاد تھا اور ایک مقصد کی نشاندہی تھی جس کے بدولت انکی تحریک کے ساتھ جسقدر بھی استحصال کیا جاتا ہے پھر بھی انکی تحریک زندہ و جاوید ہے۔

پھیرن کشمیر کی ثقافت کا ممتاز حصہ اور ایک محبوب قدیم روایتی لباس ہے۔ ایک تجزیہ کے مطابق کشمیر میں ہر سال تقریبا 2833161 نئے پھیرن بنائیں جاتے ہیں ۔اور یہ عدد کم سے کم احتمال کے رو سے ہے جس کا تخمینہ زیادہ پھیرن استعمال کرنے والے علاقوں سے لیا گیا ہے ۔زیادہ پھیرن استعمال کرنے والے علاقوں کا انتخاب الیکشن کمیشن آف انڈیا کی سایٹ سے رائے دہندگان کے اعداد شمار کے رو سے لیا گیا ہے از جملہ امیراکدل ، اننت ناگ، بڈگام، بانڈی پورہ، بارہ مولا ، بٹہ مالو ، بیروہ ، بجبہارہ ، بدرواہ ، چاڑورا ، چرار شریف ، دارہل، دیوسر ، ڈورو ، گاندربل ، گلمرگ ، گریز ، حبہ کدل، ھندوارہ، حضرت بل ، ہوم شالی بگ ، عیدگاہ،کنگن،کرناہ،کٹھوا، خانصاحب ، خانیار، کشتوار، کوکرناگ ، کولگام ، کپوارہ، لنگیٹ، نور آباد ، نوشیرہ، پہلگام، پامپور، پٹن، رفیع آباد، سنگرامہ، شانگس، شوپین ، سونہ وار، سونا واری ، سوپور، ترال ، ادھمپور، اوری ، وچی اور جڈیبل ہیں ۔ ان پچاس علاقوں کے رائے دہندگان کی تعداد قریب تین ملین (تیس لاکھ)ہے ۔

ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اقوام متحدہ کا نمایندہ دفتر UNMOGIP کے نام سے موسوم ہے جس میں نو 9ممالک کے انتالیس39 نمایندہ حاضر رہتے ہیں ۔ اقوام متحدہ نے 1949 میں نو9ممالک کو کشمیر پر نظارت کرنے کیلئے معمور کیا اور ان نو 9ممالک میں ہر ایک ملک کو ایک مخصوص نمایندگی کا سہمیہ تفویض ہوا

کشمیر  کی آزادی کا فیصلہ صرف اور صرف ہندوستان کے زیر انتظام وادی  کشمیر  کے لوگوں کو کرنا ہوگا ۔کیونکہ بنیادی طور کشمیر جس کی اپنی ہزاروں سالہ تاریخ ہے وہ یہی وادی کشمیر ہے ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر  میں جموں اور لداخ والوں کا رول بعد کا بنتا ہے ۔

کشمیر کا اگرچہ واٹیکان سیٹی سے موازنہ نہیں کیا جاسکتا ہے کیونکہ دنیا کا سب سے چھوٹا ملک ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مخصوص مذھبی سٹیٹ ہے البتہ اس میں دلچسپ بات یہ ہے کہ روم اور اٹلی کے درمیاں یہ ملک کہ جسکی مساحت صفر اشاریہ دو 0.2 مربع میل ہے اور دنیا میں صرف ھندوستان نے اس ننے ملک کی سفارت کو دھلی میں قائم کیا ہے۔جبکہ اس ننے ملک کی آبادی 770 سے زائد نفوس پر مشتمل ہے ۔ چونکہ ہم ھندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں رہ رہیں ہیں ہمارے لئے یہ بات بہت معنی رکھتی ہے

1 2 3 4 
قدرت گرفته از سایت ساز سحر