سیاسی مقالات (اردو)
شماره : 48096
: //
از قلم؛ ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی/
ایڈیٹر صاحبان خاموشی توڑیں اورشام و عراق  میں داعش اور دیگر دہشتگردی کے خاتمے کی عید منائيں

 بقول اسلام کے  پر افتخار سردار اور مجاهد فی سبیلالله آقای سرلشکر حاج قاسم سلیمانی دام توفیقه کے:"داعش کا قلعہ "ابوکمال" آزاد کرنے کی عملیات کو مکمل کرنے اور اس امریکی صہیونی جماعت کا پرچم اتارنے اور شام کا پرچم چڑھانے کے ساتھ اس شجرہ خبیثہ ملعونہ کا خاتمہ ہوا"۔

از قلم؛ ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی/
ایڈیٹر صاحبان خاموشی توڑیں اورشام و عراق میں داعش اور دیگر دہشتگردی کے خاتمے کی عید منائيں

 بقول اسلام کے  پر افتخار سردار اور مجاهد فی سبیلالله آقای سرلشکر حاج قاسم سلیمانی دام توفیقه کے:"داعش کا قلعہ "ابوکمال" آزاد کرنے کی عملیات کو مکمل کرنے اور اس امریکی صہیونی جماعت کا پرچم اتارنے اور شام کا پرچم چڑھانے کے ساتھ اس شجرہ خبیثہ ملعونہ کا خاتمہ ہوا"۔

از قلم؛ ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی/

ایڈیٹر صاحبان خاموشی توڑیں اورشام و عراق میں داعش اور دیگر دہشتگردی کے خاتمے کی عید منائيں

نیوزنور: بقول اسلام کے  پر افتخار سردار اور مجاهد فی سبیلالله آقای سرلشکر حاج قاسم سلیمانی دام توفیقه کے:"داعش کا قلعہ "ابوکمال" آزاد کرنے کی عملیات کو مکمل کرنے اور اس امریکی صہیونی جماعت کا پرچم اتارنے اور شام کا پرچم چڑھانے کے ساتھ اس شجرہ خبیثہ ملعونہ کا خاتمہ ہوا"۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنورکی رپورٹ کے مطابق مدیر اعلی ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی نے شام و عراق میں داعش دہشتگردوں کی امریکی-صہیونی دہشتگردی کے خاتمے کے پیش نظر شام میں سرگرم دہشتگرد تنظیموں کا خاکہ پیش کرتے ہوئے لکھا ہےکہ ؛شام میں دولت اسلامی عراق و شامات داعش نامی فرنٹ لائن امریکی-صہیونی کے علاوہ اور کئي دہشتگرد تنظیمیں سرگرم عمل رہی ہیں کہ جن کے بارے میں لوگ بہت کم جانتے ہیں جن کے بارے میں ایک مختصر خاکہ مندرجہ ذیل ملاحظہ کیا جاسکتا ہے:  

الجبہۃ الاسلامیہ ؛

الجبھة الاسلامیه : ایک انتہا پسند دہشتگرد تنظیم  اور القاعدہ سے متعلق ایک فرقہ پرست ٹولہ ہے ،کہ جو ۲۲ نومبر ۲۰۱۳ کو;حرکۃ الاحرار الشام الاسلامیہ،صقور الشام،کتائب انصار الشام ،لواء التوحید،جیش الاسلام،اور الجبہۃ الاسلامیہ الکردیہ کے اتحاد سے تشکیل پایا ہے ۔

یہ دہشت گرد تنظیم دمشق اور اس کے اطراف میں حمص لاذقیہ ، ادلب ،  حماہ اور حلب کے شمال کے علاقوں میں سرگرم تھی اس سے پہلے یہ گروہ دیر الزور میں بھی موجود تھی۔اس تنظیم کا جنرل سیکریٹری ابو راتب الحمصی ہے ، اس کی مشورتی کمیٹی کا سربراہ ابو عیسی الشیخ ہے ، اور اس کا کمانڈر عبد العزیز سلامہ ہے ، اس کا سابقہ فوجی کمانڈر بھی محمد زہران علوش تھا ،کہ جو شام کی فوج کی ہوائی بمباری میں مارا گیا اور اس کا موجودہ کمانڈر بھی عصام البویضانی ہے۔

یہ دہشت گرد گروہ کہ جس میں شامی اور غیر شامی دونوں شامل ہیں ،یہ بین الاقوامی دہشت گردوں کو پناہ دینے کے ساتھ بیرونی دہشت گردی کی حمایت ،ان کے ساتھ تعاون اور ان کی فوجی تربیت میں سرگرم تھا۔

اسی طرح جبہۃ الاسلامیہ کی داعش کے ساتھ ہمکاری کے علاوہ  جو اس گروہ کا بانی رکن ہے تحریک احرار الشام   جبہۃ فتح الشام کے ساتھ جو جیش الفتح کی کمان میں ہیں  کام کرتے ہیں  جس سے اس گروہ کے القاعدہ تنظیم کے ساتھ وسیع ارتباطات کا پتہ چلتا ہے ۔

اس گروہ کے ماضی کے کچھ جرائم کہ جو انسانوں پر کیے گئے جرائم اور منظم کاروائیوں پر مشتمل  ہیں  وہ اس طرح ہیں ؛ فتح الشام  اور القاعدہ کے گروہوں کے ساتھ لگاتار تعاون،فوعا اور کفریا میں غیر فوجیوں پر گولہ باری ، حلب کے  تاریخی ہوٹل کارلٹون کو گرانا۔

الجبہۃ الشامیہ ،

الجبهة الشامیة:یہ بھی  ایک انتہا پسند دہشتگرد تنظیم اور فرقہ پرست گروہ ہے کہ جو ۲۵ دسمبر ۲۰۱۴ کو الجبہۃ الاسلامیہ ، حرکہ  نور الدین زنگی ، جیش المجاہدین ، فیلق الشام تجمع  فاستقم کما امرت ،اور جبہۃ الاصالہ اور التلمیہ کے اتحاد سے وجود میں آیا تھا ۔اس کی سرگرمی کا علاقہ حلب اور اس کے آس پاس ہے ،اور فتح الشا م کے ساتھ ماضی میں کام کر چکا ہے ۔اس گروہ کا پہلا کمانڈر عبد العزیز سلامہ ہے ۔اور اس کا حالیہ کمانڈر محمد علی الحرکوش تھا ۔

یہ دہشت گرد گروہ کہ جس میں شامی اور غیر شامی سبھی شامل ہیں ،یہ بھی بین الاقوامی دہشت گردوں کو پناہ دیتا تھا اور ان کی فوجی ٹرینینگ اور حمایت کی صورت میں سر گرم عمل تھے ۔اس دہشت گرد گروہ کے جرائم کہ جن میں انسانوں پر کیے گئے جرائم اور منظم جرائم بھی شامل ہیں درج ذیل ہیں ۔قیدیوں کو اذیتیں دینا ، رہائشی مکانوں کو گرانا،حلب کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنا  وغیرہ۔

جبہۃ فتح الشام (جبہۃ النصرہ )

یہ بھی ایک  انتہا پسند دہشتگرد تنظیم    اور فرقہ پرست گروہ تھا جو شام میں القاعدہ کی اصلی شاخ شمار ہوتا ہے جس کی بنیاد ۲۰۱۱ کے اواخر میں پڑی تھی ۔

یہ دہشت گرد گروہ دمشق اور اس کے آس پاس ، حلب اور اس کے ارد گرد ، ادلب اور اس کے اطراف میں ، درعا اور اس کے چاروں طرف ، سویداء اور اس کے اطراف میں،حمص اور اس کے ارد گرد ، قنیطرہ اور اس کے اطراف میں شمالی لاذقیہ اور اس کے اطراف میں اور حماہ میں سرگرم عمل تھے ۔

اس دہشت گرد گروہ کا رہنما ابو محمد الجولانی ہے کہ جس نے تاریخ میں پہلی بار الجزیرہ چینل پر ۲۸ جولائی ۲۰۱۶ کے دن  ایک تصویر نشر کر کے اپنا چہرہ دنیا کو دکھایا ، اور القاعدہ سے جدائی کا اعلان کر کے اس گروہ کا نام بدل کر فتح الشام رکھا ۔

 یہ دہشت گرد گروہ کہ جس میں  شامی اور غیر شامی سبھی شامل ہیں ،یہ بھی بین الاقوامی دہشت گردوں کو پناہ دیتے تھے اور ان کی فوجی ٹرینینگ اور حمایت کی صورت میں سر گرم عمل تھے۔اور شام میں سب سے زیادہ سرگرم گروہ شمار ہوتا تھا ۔

اسی طرح قابل ذکر ہے کہ دسمبر ۲۰۱۲ میں امریکہ نے اس گروہ کو دہشت گرد گروہوں کی فہرست میں رکھا ہے ۔   اس دہشت گرد گروہ کے جرائم کہ جن میں انسانوں پر کیے گئے جرائم اور منظم جرائم بھی شامل ہیں درج ذیل ہیں ۔بوڑھوں ،بچوں اور عورتوں کو قیدی بنانا ، حمص کے خالدیہ علاقے میں خود کش کاروائی کرنا ، انسانی امداد رسانی پر مبنی کاروان کو روکنا اور اس کا مال لوٹنا ، ایک شامی شہری کا سر کاٹنا ، ایک بوڑھی عورت کو موت کی سزا دینا  وغیرہ۔

جند الاقصی ،

داعش سے جڑا ہوا ایک انتہا پسند دہشتگرد تنظیم  تھی کہ جو اس سے جدائی اور فتح الشام سے ملنے کا دعویدار تھی اس کی بنیاد ۱ دسمبر ۲۰۱۳ کو پڑی تھی۔اس کی کاروائی کا علاقہ حلب ، ادلب اور حماہ کے شمال میں تھا ۔ اس دہشت گرد گروہ کا بانی ابو العزیز القطوری تھا کہ جس کو شام کے جبہہ ثوار نے قتل کر دیا تھا ۔ اس کے بعد ابو مصعب نے اس کی کمان سنبھالی مگر وہ بھی سراغب میں مارا گیا ۔اس گروہ کا ایک اور فوجی کمانڈر عبد اللہ الطفیل سعودی عرب کا باشندہ تھا کہ جو ادلب کے اطراف میں مارا گیا تھا ۔

اس وقت سعودی عرب کا ایک باشندہ ابو ذر النجدی اس گروہ کا کمانڈر ہے ۔ یہ دہشت گرد گروہ کہ جس میں  شامی اور غیر شامی سبھی شامل ہیں ،یہ بھی بین الاقوامی دہشت گردوں کو پناہ دیتی تھی  اور ان کی فوجی ٹرینینگ اور حمایت کی صورت میں سر گرم عمل تھی۔اور شام میں سب سے زیادہ سرگرم گروہ شمار ہوتی تھی۔اس دہشت گرد گروہ کے جرائم کہ جن میں انسانوں پر کیے گئے جرائم اور منظم جرائم بھی شامل ہیں درج ذیل ہیں۔غیر فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارنا ، داعش سے جدائی کے دعوے کے باوجود اس کا لگاتار ساتھ دینا ، فوعہ شہر میں خود کش کاروائی انجام وغیرہ۔

جیش الفتح

القاعدہ تنظیم سے جڑا ہوا یہ ایک انتہا پسند دہشتگرد تنظیم  اور فرقہ پرست گروہ ہے۔کہ جو ۲۴ مارچ ۲۰۱۵ کو چند دہشت گرد گروہوں جیسے ؛جبہہ فتح الشام ، حرکہ احرار الشام الاسلامی ،جیش السنہ،جند الاقصی ، فیلق الشام....اور الاجناد شام سے مل کر بنا تھا،اور جبہہ فتح الشام اس کی رہبری کر رہی تھی۔

حلب اور اس کے اطراف میں اس کی کاروائی کا علاقہ اس طرح تھا ؛ادلب اور اس کے آس پاس ، حماہ کے آس پاس ، لاذقیہ کے آس پاس ، قلمون ،اور شام کے جنوب کے علاقے یعنی دمشق کے آس پاس کے علاقے تھے ۔

باوجودیکہ یہ داعش کے ساتھ جنگ کا دعوی کرتے تھے جب اس نے ادلب پر قبضہ کیا تو اس نے اس کامیابی کا سہرا داعش میں اپنے دوستوں کے سر باندھا ۔ایک سعودی شیخ عبد اللہ المحسنی اس گروہ کا کمانڈر تھا ۔

 یہ دہشت گرد گروہ کہ جس میں شامی  اور غیر شامی سبھی شامل ہیں ،یہ بھی بین الاقوامی دہشت گردوں کو پناہ دیتے تھےاور ان کی فوجی ٹرینینگ اور حمایت کی صورت میں سر گرم عمل تھے۔اور شام میں سب سے زیادہ سرگرم  تنظیم شمار ہوتی تھی۔

 اس دہشت گرد گروہ کے جرائم کہ جن میں انسانوں پر کیے گئے جرائم اور منظم جرائم بھی شامل ہیں درج ذیل ہیں ۔فوعہ شہر میں کار بمب دھماکے کرنا ، جسر اور الشغور ہسپتال میں کار بمب دھماکے کرنا ، قرداھا کے دیہات میں غیر فوجیوں پر گولہ باری کرنا وغیرہ ۔

حرکۃ احرار الشام الاسلامیہ ،

یہ بھی  ایک انتہا پسند دہشتگرد تنظیم  اور فرقہ پرست تنظیم تھی ۔ جو شام میں القاعدہ کی تیسری شاخ کہلاتی تھی ۔

یہ تحریک ۳۱ جنوری ، ۲۰۱۳ میں درج ذیل گروہوں کے اتحاد سے وجود میں آئی تھی ؛ کتائب الایمان  المقاتل ،حرکۃ الفجر الاسلامیہ ، جماعۃ الطلیعۃ المقاتل ،کتائب الاحرار الشام،کتائب صلاح الدین ، سریۃ الموحدین ، صقور الشام ، کتبہ احفاد علی ابن ابیطالب،اورلوای الحق ،یہ دہشت گرد گروہ  حلب  اور حماہ کے شمال میں ،حمص کے اطراف میں،اور دمشق کے اطراف ،اور شام کے جنوبی علاقوں میں سر گرم عمل تھے ۔

اس تحریک کی تاسیس میں حسان عبودی اور القاعدہ کے کچھ رہنماوں کا ہا تھ تھا ، جیسے ابو خالد السوری کہ جو حلب میں ایک مرکز میں دھماکے کے نتیجے میں مارا گیا تھا اور حرکۃ احرار الشام نے داعش کو اس دھماکے کا ذمہ دار ٹھہرایا تھا ۔

اسی طرح اس کی تاسیس میں ابو عمر الشامی کا نام بھی لیا جا سکتا ہے کہ جس نے اپنی عمر کے چالیس سال ،افغانستان سے لے کر شام تک ،بوسنیہ میں،چیچنیا میں ، اور عراق وغیرہ میں جنگ کے محاذوں پر گذارے تھے ۔ اس تحریک کا سابقہ کمانڈر حسان عبودی سال ۲۰۱۴ میں مارا گیا تھا ۔ اس کے بعد ہاشم الشیخ کو جو احرار الشام کا کمانڈر تھا سال ۲۰۱۵ میں بر طرف کیا گیا ۔ اور اس تحریک کا موجودہ کمانڈر مھند المصری ہے ۔ یہ دہشت گرد گروہ کہ جس میں  شامی اور غیر شامی سبھی شامل ہیں ،یہ بھی بین الاقوامی دہشت گردوں کو پناہ دیتا ہے اور ان کی فوجی ٹرینینگ اور حمایت کی صورت میں سر گرم عمل ہے ساتھ ہی داعش کے ساتھ فتح حلب کی خاطر ایک مشترکہ محاذ کی تشکیل میں سر گرم عمل تھے اور فتح الشام کا بھی ساتھ دیتے تھے۔

 اس دہشت گرد گروہ کے  بعض جرائم کہ جن میں انسانوں پر کیے گئے جرائم اور منظم جرائم بھی شامل ہیں درج ذیل ہیں ۔بین الاقوامی دہشت گردوں کو پناہ دینا اور ان کے ساتھ تعاون کرنا ،حلب میں غیر فوجیوں کو موت کے گھاٹ اتارنا ، غیر فوجیوں کو خا ص مذہبی اعمال کی انجام دہی پر مجبور کرنا ، جہنم نامی توپ سے حلب کی بلدیہ کی عمارت کو نشانہ بنانا وغیرہ تھا۔

 بقول اسلام کے  پر افتخار سردار اور مجاهد فی سبیلالله آقای سرلشکر حاج قاسم سلیمانی دام توفیقه کے:"داعش کا قلعہ "ابوکمال" آزاد کرنے کی عملیات کو مکمل کرنے اور اس امریکی صہیونی جماعت کا پرچم اتارنے اور شام کا پرچم چڑھانے کے ساتھ اس شجرہ خبیثہ ملعونہ کا خاتمہ ہوا"۔

©2011 . all rights reserved**