»
یکشنبه 30 مهر 1396

باسمہ تعالی

ہمارا سولہ اگست بھی آئے گا

اس وقت ہمارے قرب و جوار (پاکستان اور ہندوستان) میں ایک چودہ اگست منانے اور دوسرا پندرہ اگست منانے میں مصروف ہے ۔ ایک کے لئے چودہ اگست ہی سب سے بڑی نعمت ہے اور دوسرے کے لئے پندرہ اگست .اس بیچ میں ہم (کشمیری مظلوم و محکوم قوم) چودہ اگست بھی جشن آزادی کے طور پر مناتے ہیں اور پندرہ اگست بھی مناتے ہیں اس فرق کے ساتھ کہ ہم خود اپنے سولہ اگست کے انتظار میں ہیں۔
آج تک ہم (کشمیری)، ہندوستان اور پاکستان کی جشن آزادی کو کسی نہ کسی مجبوری کے تحت مناتے آئے ہیں جس میں کوئی سیاسی (سیاسی جماعتیں) اور کوئی روزی روٹی کے لئے(ملازمین اور اسکے ملحقات) مناتے ہیں. البتہ مسلم طور پر قومی جشن آزادی کے طور پر کشمیری عوام نہ چودہ اگست کو اور نہ ہی پندرہ اگست کو مناتے ہیں۔ اور وہ دن بھی دور نہیں کہ جب انشاءاللہ کشمیر میں آزادی کا سورج طلوع کرے گا اور ممکن ہے کہ وہ سولہ اگست عنوان حاصل کر جائے تو پھر جس طرح ہم آج تک خواستہ یا نخواستہ طور چودہ یا پندرہ اگست کی محفلوں میں شرکت کرتے ہیں کل چودہ اور پندرہ اگست منانے والے اپنے اپنے ملک میں سولہ اگست کی محفلوں میں شرکت ضرور کریں گے جو کہ نہ کسی کی جیت ہو گی نہ کسی کی ہار. البتہ ایک خوشگوار اور دوستانہ ماحول کی مثال ہو گی . اور ایسے ماحول کو قائم کرنے کے لئے کشمیر کے ہمجوار دونوں ملکوں ھندوستان اور پاکستان کو چاہئے کہ ایسا ماحول پیدا کرنے کے لئے اپنے محفوظات اور شرایط کو واضح طور بیان کرے کہ کشمیر کو اپنی آزادی اور خود مختاری واپس دینے کے لئے کن کن اصولوں اور ضوابط کا آزاد اور خود مختار کشمیر کو خیال رکھنا ہوگا جس کو عوامی سطح سے لے کر بین الاقوامی سطح تک حمایت حاصل ہو ۔
کشمیر میں چودہ اگست منانا یا پندرہ اگست منانا نہ پاکستان کی کشمیر پر گرفت ثابت کرتا ہے نہ ہی ھندوستان کی کشمیر پر قانونی اور عقلی جواز کو پیش کرتا ہے ۔ میں اس سر زمین کا فرد ہوں اگر میں اپنی مثال دوں گا کہ میں نے اپنے اسکولی دور میں ہر سال پندرہ اگست منایا ہے ، یعنی پہلی جماعت سے لیکر بارہویں جماعت تک میں ھر سال پندرہ اگست کی تقریب میں شرکت کرتا تھا اور پانچویں جماعت سے لیکر بارہویں جماعت تک پندرہ اگست کی تقریب میں کلیدی رول ادا کرتا تھا لیکن بچپن سے لیکر کبھی بھی مجھے احساس نہیں ہوا کہ میں اپنے ملک کشمیر کا جشن آزادی مناتا ہوں ۔ میرا عقیدہ رہا ہے کہ ہم ھندوستان کا جشن آزادی مناتے ہیں جو کہ اسکول میں الزامی طور پر منانا ہے اور یہ میری مخصوص سوچ نہیں ہے اکثر کشمیری طالب علموں سے سوال کریں وہ یہی جواب دیں گے ، کوئی ایک کشمیری طالب علم پندرہ اگست کو قومی جشن آزادی کے طور پر نہیں مناتا بلکہ ھندوستان کی جشن آزادی کے طور پر مناتے ہیں اور پندرہ اگست کی تقریب میں شرکت کرتے ہیں ۔


اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ھندوستان نے کبھی بھی کشمیر کو اپنا مسلمہ حصہ قبول نہیں کیا ہے بلکہ سرزمین کشمیر کو غصب کیا ہوا ہے اور اسکا عنوان بدلنے کے لئے ھر قسم کی حکمت عملی اپناتا رہتا ہے اور یہ مسلمہ امر ہے کہ ھر نیک یا بد کام اپنے اپنے نقوش چھوڑ جاتے ہیں ۔ اور ھندوستان بھی اپنے غاصبانہ کردار کے نقوش چھوڑتا رہتا ہے جس طرح پاکستان کشمیر کے نسبت اپنی کمزور اور بچکانہ سیاستوں کی وجہ سے خود ہی پٹتا رہتا ہے ھندوستان اپنے آپ کو اس امر سے مستثنا نہ کرے ۔ اگر چہ پاکستان کی کشمیر پالیسی کے مقابلے میں ھندوستان کی کشمیر پالیسی مضبوط ہے لیکن دونوں میں زیادہ فرق نہیں ہے۔ پاکستان کی کشمیر پالیسی بلکل کھوکھلی ہے اور ھندوستان کی کشمیر پالیسی اندر سے کھوکھلی البتہ باھر قدرے مضبوط ہے لیکن اندرونی کھوکھلا پن اپنا اثر دکھا کر رہے گا ۔ ھندوستان کی قومی تقریبوں کا ڈرامہ رچانا ، اپنے جمھوری دعوے کی مجبوری کے سبب انتخابات کرانا اور بظاھر منتخب نمایندوں کی پکار اور فریاد کو ردی ٹوکریوں میں ڈالنا اور اسکے مقابلے میں اپنے کسی ادارے سے کسی ایک معمولی فرد کی رپورٹ پر ایک کشمیری سیاسی شخص یا جماعت ، یا کسی تاجر یا کمپنی ، یا افسر یا ادارے کے وجود کو محو کرنا یا ناکارہ بنانا۔ ھر کشمیری پر ایک ھندوستانی حاکم ، اور ھر کشمیری ادارے کا کلیدی اختیار ھندوستانی کے ھاتھ دینا ایک نے ایک دن سولہ اگست کے سورج کو طلوع کرواکے ہی رہے گا ۔
کشمیر کو سیاسی حقوق دلوانے پر روک لگانا آخر کب تک چلےگا ، کیا ھندوستان خود برطانی سامراج سے آزادی حاصل کرکے پندرہ اگست منانے کو اپنی جدوجھد آزادی کا صبح کہے گا اور خود کشمیر پر غاصبانہ قضبہ جما کر سامراجی مزاج اور حکمت عملی کو کشمیریوں پر اپنا کر رات کی اندھرے میں رکھنا چاہتا ہے ، آخر کب تک ۔ جب تک سورج طلوع نہیں کرتا اندھیرے میں چراغ جلائے جاتے ہیں اور جو کوئی کشمیر کے چراغوں کو غل کرتا ہے یا اسکی روشنی بلکل دھیمی کردیتا ہے وہ در اصل خود سورج کو طلوع ہونے کی بھی دعوت دیتا ہے ۔ اس طرح جو کوئی بھی کشمیر کو جس قسم کی بھی حکمت عملی کے تحت غافل رکھنے کی سعی لا حاصل کرتا رھے گا وہ در اصل کشمیر کو سیاسی استحکام و آزادی دلانے کا غیر شعوری طور حمایت کرتا ہے ۔ جب انگریز ھندوستان پر حکومت کرتے تھے،اس وقت بھی آج کل کے ھندوستانی حکمرانوں کی طرح انگریز بھی صرف مرکزی کردار اپنے دائرے اختیار میں رکھتے تھے اور باقی حکومت تو ہندوستانی ہی کرتے تھے ۔ مگر آخر کار انگریزوں کے قاعدے قانون کی حفاظت کرنے والے اور انگریزوں کے نام پر ھندوستان پر حکومت کرنے والے ھندوستانی آخر کار ھندوستانی عوام کی حقیقی مانگ (سیاسی استقلال و آزادی) کے حصول کی جذبے کے سامنے ناکام پڑ گئے اور دیر سویر حقیقت کو تسلیم کر گئے اور ھندوستان کی آزادی کا حصہ دار بنے اور ھندوستان کے آزاد ہونے کے بعد جس نے انگریزوں کی حمایت کی تھی وہ بھی ھندوستانی کہلایا اور جس نے اپنے ملک کی آزادی کے لئے ہر قسم کی مصیبت مول لی وہ بھی ھندوستانی کہلایا ، اگرچہ اس بیچ بر صغیر کے اس عظیم عوامی طاقت کو بکھرنے کے لئے ہونے والی سازشوں کو بھی کامیاب ہونے دیا گیا ۔
‏غرض اگر دیکھا جائے ھندوستان کی تحریک آزادی میں بھی بہت زیادہ خامیاں موجود تھیں ، جس کے آثار ابھی تک محو نہیں ہو پا رہے ہیں ۔ لیکن یہ ایک مسلمہ امر ہے کہ ھندوستانی عوام نے دنیا کے سب سے بڑے سامراج برطانیہ کو اپنے وطن سے نکال باہر کیا اور اپنے لئے اپنی سیاسی استقلال کا عنوان حاصل کیا اور اگر ظرافت کے ساتھ تجزیہ کرنے بیٹھیں تو معلوم پڑے گا کہ ابھی تک برطانیہ، ھندوستان سے خارج نہیں ہوا ہے ۔ اسی طرح کشمیر عوا م کی جدوجہد آزادی میں سینکڑوں خامیاں موجود ہو سکتی ہیں لیکن یہ حقیقت پر مبنی تحریک ہے اپنا مقصد دیر یا سویر حاصل کرکے ہی رہے گی اگر چہ سیاسی استقلال حاصل کرنے کے بعد جس طرح برطانیہ کے نقوش ھندوستان پر ابھی بھی موجود ہیں کشمیر میں بھی ھندوستان کے نقوش باقی رہ جائے کوئی ھرج نہیں ۔
اللہ سے یہی دعا کریں گے کہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور ھندوستان کے حکام کو حقیقت سمجھنے اور اسے بیان کرنے کی جرئت عطا فرمائے اور ہمیں اپنے حقوق حاصل کرنے کے لئے قومی اور بین الاقوامی سطح پر امن و امان کے ساتھ آزادی کا دن دیکھنا نصیب کرے ۔ اس امید کے ساتھ جہاں پر پاکستان چودہ اگست جشن آزادی پاکستان اور ھندوستان پندرہ اگست جشن آزادی ھندوستان مناتا ہے ہمارے لئے سولہ اگست کو یوم جشن آزادی کشمیر منانا نصیب فرمائے ۔
آمین یارب العالمین
عبدالحسین کشمیری
‏14‏ اگست‏، 2009

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
قدرت گرفته از سایت ساز سحر