»
یکشنبه 30 مهر 1396

بارہ رمضان پیغمبر اسلام (ص)کی طرف سے عقد اخوت کا آغاز

پیغمبر اسلام(ص) کی طرف سے عقد اخوت کا آغاز

سن 1 ھ ق : پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وآلہ کی طرف سے مسلمانوں کےدرمیان عقد اخوت آغاز ہوا ۔

      اسلام چونکہ حیات بخش دین ہے اور ھمیشہ انسانوں کو خاص کر مسلمانوں کو وحدت،محبت و برادری کی طرف دعوت دیتاہے اور صلح و صفا کے ساتھ زندگي گذارنے کی سفارش کرتا ہے ۔ قرآن کریم کی ایک آیت میں آيا ہے : إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَاَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ وَاتَّقُوا اللَّہ لَعَلَّكُمْ تُرْحَمُونَ (1) مومنین آپس میں بالکل بھائی بھائی ہیں لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان اصلاح کرو اور اللہ سے ڈرتے رہو کہ شاید تم پر رحم کیا جائے  ۔

      پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ وآلہ شروع سے ہی دینی برادری کے مسئلے پر تاکید فرماتے تھے اور اس عمل کو کفر و شرک کو مٹانے اور اسلامی معاشرہ قائم کرنے کا بہترین ذریعہ جانتے تھے ۔ اسی لۓ مدینہ منورہ ہجرت کرنے کے  بعد بارہ رمضان المبارک سن 1 ھ ق خداوند متعال کے حکم سے مہاجر اور انصار میں سے دو دو افراد کے درمیان عقد اخوت ایجاد کرکے آپس میں دینی رشتہ قائم کرایا ۔ (2)

      صیغہ اخوت میں معمولا جو لوگ آپس میں دوست تھے یا انکی آپس میں خوب بنتی تھی انکو اپنا دینی بھائی اختیار کرنے کو کہا گيا اور وہ اس طرح رسمی طور پر ایکدوسرے کے بھائي بن گۓ ۔ جیسے ابوبکر نے عمر کے ساتھ ، طلحہ نے زبیر کے ساتھ ، عثمان نے عبد الرحمن کے ساتھ ، ابو مسعود نے ابو ذر کے  ساتھ ، سلمان نے حذیفہ کے ساتھ ، مقداد نے عمار کے ساتھ اور اسی طرح دوسرے اصحاب نے ایکدوسرے کے ساتھ صیغہ اخوت پڑھ کر آپس میں بھائی بن گۓ ۔

      مگر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ نے اپنے یاروں دوستوں اور رشتہ داروں میں سے کسی کواپنا بھائي بنانے کیلۓ انتخاب نہ کیا بجز امام علی بن ابیطالب علیہ السلام کے اور اس طرح حضرت علی (ع) کا آنحضرت کے ساتھ دوسری نسبتوں کے ساتھ ساتھ یہ نسبت بھی اضافہ ہوئی جن سے ان کی فضائل میں اور اضافہ ہوا ۔(3)

      کیونکہ پیغمبر (ص) کے ھم شاس اور ھمفکر صرف علی (‏ع) تھے اس لۓ پیغمبر (ص) نے انکو اپنا بھائی انتخاب کیااور آنحضرت نے ان کے بارے میں فرمایا تھا : انت مني بمنزلۃ ھارون من موسي، الاّ انّہ لا نبيّ بعدي؛ای علی ! تم میرے لۓ ایسے ہو جیسےھارون موسی  کے لۓ تھا مگر اس فرق کے ساتھ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں آۓ گا۔ (4)

      ابن اثیرنے اپنی معروف کتاب » اسد الغابہ » می لکھا ہے کہ : پیغمبر (ص) نے دو بار علی (ع) کے ساتھ برادری کا صیغہ پڑھا اور دونوں مرتبہ ان سے کہا :انت اخی فی الدنیا والاخرہ ۔ دنیا و آخرت میں تم میرے بھائی ہو ۔(5)

      علی (ع) نے بھی کئی بار کہاکہ : میں بندہ خدا اور رسول خدا کا بھائی ہوں ۔ یہ جملہ میرے بعد کوئی نہیں کہہ سکتا مگر جھوٹا ۔(6)

مدارک اور مآخذ:

1- سورہ حجرات(49)، آيہ 10

2- رمضان در تاريخ (لطف اللہ صافي گلپايگاني)، ص 92

3- زندگاني چہاردہ معصوم(ع) (ترجمہ اعلام الوري)، ص 267

4- رمضان در تاريخ، ص 95

5- رمضان در تاريخ ، ص 98

6- زندگاني چہاردہ معصوم(ع)، ص 268

Posted on سپتامبر 7, 2009 by عبدالحسین کشمیری


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
قدرت گرفته از سایت ساز سحر