»
یکشنبه 30 مهر 1396

14روزہ نورانی صحافت ورکشاپ کے تیسرے دن:
بڈگام میں سنی شیعہ علماء و دانشوروں نے خلیفہ دوم کا یوم شہادت منایا
نیوز نور01 نومبر 2013:ہندوستان زیر انتظام کشمیر کے وسطی ضلع بڈگام میں 24 ذی الحجہ کو شروع ہوئے 14 رووہ نورانی صحافت کارگاہ کے تیسرے دن علماء و دانشوروں نے مسلکی اختلافات پر چڑھائی گئی دھول کی صفائی کے غرض سے عملی اقدام کرتے ہوئے آج 26 ذی الحجہ روز شہادت خلیفہ دوم حضرت عمر رضی اللہ عنہ منانے کا اہتمام کیا۔

عالمی اردو خبررساں ادارے " نیوز نور " کی رپورٹ کے مطابق میدان مباہلہ سے میدان کربلا تک کے زیر عنون 14 روزہ نورانی صحافت کے تیسرے دن نیوز نور ڈاٹ کام کے مدیر اعلی حجت الاسلام والمسلمین سید عبدالحسین کشمیری جو کہ ورکشاپ کی نظامت کا فریضہ انجام دے رہے ہیں نے آغاز سخن میں 26 ذی الحجہ کی تاریخی پس منظر اور یوم شہادت خلیفہ دوم پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ شیعیان اہل بیت رسول اللہ علیہم السلام ہمیشہ مظلوم رہیں ہیں اور ہمیشہ شیعہ عقائد کو توڑ مروڑ کر پیش کرکے ان کے نسبت نفرت اور دوری کی فضا حاکم بنائی گی ہے جبکہ شیعہ اہل بیت علیہم السلام کی رہنمائی کی روشنی میں اسلام کی حفاظت کیلئے ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے آگے رہے ہیں۔ خلفای راشدین کو خلفای راشدین اور ائمہ معصومین کو ائمہ معصومین ہونے کا عقیدہ رکھتے آئے ہیں۔ خلفای راشدین کی بے حرمتی کی کبھی شیعہ کو اجازت نہیں دی گئی ہے اور ایران میں ابو لوء لو نامی ایک عظیم عرفانی شخصیت مدفون ہیں اور مومنین ہمیشہ وہاں زیارت کرنے جاتے رہے لیکن خلیفہ دوم کے قاتل کا ہم نام ابو لوء ہونے کی وجہ سے الزام یہ لگایا جاتا رہا کہ شیعہ خلیفہ دوم کے قاتل کو مقدس سمجھتے ہیں اور اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد اس بات پر بہت زیادہ تبلیغ کیا جاتا رہا اور اسلام دشمن طاقتوں کی سازشوں کے پیش نظر جس طرح ائمہ ھدی علیہم السلام تفرقہ کے ہر بیچ کو اکھاڑ پھینکنے کا اقدام کرتے آئے ہیں قائد انقلاب اسلامی حضرت امام علی خامنہ ای مدظلہ العالی نے بھی ایران میں ابو لوء کا مقبرہ مسمار کرنے کا فرمان دیا اور اسے مسمار کرلیا گیا اور حکمنامے میں واضح طور فرمایا کہ اگر چہ ہمارے نزدیک شیراز میں مدفون ابولوء  صاحب بقعہ خلیفہ دوم کے قاتل نہیں اور ایران کا عالی درجہ کا عارف بااللہ تھے لیکن چونکہ مسلمانوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرنے کا سبب بن چکا ہے اسلئے اسے مسمار کیا جائے۔ عبدالحسین کشمیری نے کئی گوشوں پر روشنی ڈالتے ہوئے اسلام دشمن طاقتوں کی سازشوں کو سمجھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ورکشاپ کے مہمان خصوصی ڈاکٹر جاوید اقبال کو اپنا مقالہ پڑھنے کی دعوت دی۔

ڈاکٹر صاحب نے اپنے مستند اور مشروح مقالے میں اہل بیت کے نسبت اہل سنت کی عقیدت اور امام حسین علیہ السلام کی تحریک کو کئی گوشوں پر روشنی ڈالتے ہوئے محمد و آل محمد نیز علمای اسلام کی سفارشات کا تذکرہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو ایکدوسرے کے مقدسات کا احترام کرنا لازمی  قرار دیا۔

شاعر اہلبیت سید طاہر صفوی صاحب نے مباہلے سے کربلا تک کی روشنی میں عراداری کے حوالے سے موجودہ حالات کی نشاندہی کی کہ یہاں کے بعض شیعوں نے عزاداری کے نام پر امام حسین علیہ السلام کی شہادت کو کسقدر مسخ کرکے رکھدیا ہے جو عزاداری کے رسم کو تو پالتے ہیں لیکن عزاداری کے پیغام پر عمل کرنے کیلئے تیار نہیں۔

سوال و جواب کی نشست میں کئی مفید نکات سامنے آئے کہ دور حاضر میں اسلام نے سائنسی میدان میں کسقدر ترقی کی ہے اور مسلمانوں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد کس طرح اپنی کھوئی ہوئی میراث کو دوبارہ حاصل کرنے میں سبقت حاصل کی ہے لیکن شیعہ سنی تعصب کی وجہ سے اس حقیقت سے پردہ پوشی کی جاتی ہے۔ شیعہ سنی میں رقابت رکھنے کی ضرورت ہے نفرت اور دوری نہیں۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
قدرت گرفته از سایت ساز سحر