»
دوشنبه 20 آذر 1396

بسمہ تعالی

اسلامی انقلاب کا عروج سیکولرازم کا زوال اور مذہب کی حاکمیت اوراستحصالی سیاست کی بڑتی الٹی گنتی

ازقلم:عبدالحسین

دنیا بھر میں کئي انقلاب آئے کہ جن کااصلی محرک رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اسلامی انقلاب ہے اور جب آنحضرت کے اسلامی انقلاب کی تحریک کے پیروکار انقلاب کے مقاصد کی آبیاری کرنے میں کمزور ہوتے گئے غیرمسلمانوں کی دین اور سیاست کی جدائی کا فلسفہ مسلمان معاشرے میں سرایت کرگیا اور ترکی میں اسکا سورج غروب ہوا لیکن  ایران میں اسلامی انقلاب کا سورج پھر طلوع کرگیا۔حضرت امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کی قیادت میں کامیاب ہونے والے اسلامی انقلاب نے نہ صرف مسلمانوں میں سیکولر فلسفے کے بارے میں تجدید نظر کرنے کی دعوت دی  کہ مذہب اور سیاست ایک ساتھ ہونے سے سالم سیاست حکمفرما ہوتی جبکہ سیاست اور مذہب کو ایک دوسرے سے الگ کرنے سے ظالم سیاست کی آبیاری ہوتی ہےبلکہ غیرمسلمانوں کے اندر بھی سیکولر فلسفے کے بارے میں تجدید نظر کرنے کا رجحان بڑھ گيا۔

ایران میں1979 کوطلوع شدہ اسلامی انقلاب  کے سورج کی کرنوں نے دنیا بھر میں حاکم سیاسی  اصطلاحات اور معادلات پر جوں ہی گرنا شروع کیا  توحاکمیت کے معنی اور مفاہیم صاف ہونے لگے،ظالم و مظلوم کی پہچان کو ایک دوسرے سے الگ کرتے ہوئے اسکی شفافیت اور وضاحت کے آثار نمایاں ہونے لگے۔سیکولرازم کا کھوکھلاپن،آزادی کا معنی ، جمہوریت   اور عوام پر عوام کی حاکمیت  کی تعبیر آشکار ہونے لگی اوراستبدادی و استکباری حکومتوں کی نشاندہی ہونے لگی ہے ۔اپنے 34سالہ دور میں اسلامی انقلاب نے دنیا بھر کے عوام کو بیدار کرنا شروع کیا  اور نہ صرف مشرق وسطی اور ایشیاء میں بیدارای کی لہر پیدا کی بلکہ افریقا اور امریکا میں عوام کو بیدار کیا اور امریکا کی سیاسی شعبدہ بازی سے دنیا کو باخبر کیا۔

جہاں تک عوامی حاکمیت اور جمہوریت کا تقاضا ہے اسلامی انقلاب نے اسکا حقیقی مفہوم کا مثالی کردار سامنے رکھنے میں بڑی کامیابی حاصل کی ہے۔ اور اس وقت ایران دنیا کا اکلوتا ملک ہے جو ایک  خالص دینی  اور عوامی حکومت کا مظہر ہے۔ جہاں مذہب کو سائنسی ،علمی،سیاسی اور سماجی ترقی میں پسماندگی کا مظہر بیان کیا جاتا ہے وہاں  اسلامی جمہوری ایران  نہ صرف  مسلمانوں کا  مثالی ملک ابھر کر آرہا ہے بلکہ تمام ادیان اور مذاہب کیلئے امید کی کرن بن رہا ہے۔

دنیا بھر میں انتخاب میں پچاس فیصد سے زائدعوامی شرکت کو  ملک میں حاکم آزادی اورعوامی طاقت کا مظہر کہا جاتا ہے جبکہ اسلامی جمہوری ایران میں 34سالوں میں تقریبا  منعقدہ33 مختلف سیاسی انتخابات میں ستر فیصد سے کم کسی بھی انتخاب میں  عوامی شرکت نہیں رہی  جبکہ عوام اور حکومت پر امریکا کی سربراہی میں بین الاقوامی پابندیاں جاری و ساری ہیں اور پچھلے چند سالوں سے امریکا کی طرف سے پابندیوں میں  انتہائي دباو بڑھایا گیا تاکہ یا حکومت کی کمر ٹوٹ جائے یا عوام حکومت کے خلاف ہو جائے لیکن کل جمعہ 15جون 2013 کو دنیا نے  ایرانی ہوشیار اور دین مدار عوام نے 72.7فیصد رائے دہی کے ساتھ اسلامیت اور جمہوریت کے حق میں اپنی بھر پور اعتماد کی مہر ثبت کی اور ممکن ہےکہ ہر مذہبی انسان کو یہ سوچنے پر مجبور کیا ہوگا کہ آخر ہمارے مذہب میں اتنی کیا کمی ہے کہ وہ اپنے ملک کو نہیں چلا سکتا سیاست نہیں کرسکتا۔ملک اور سیاست کو چلانے کیلئے مجھے ہی اپنے مذہب کو اپنی عبادتگاہ تک ہی کیلئے محدود کیوں رکھنا ہے اور ایرانی عوام کتنی خوش قسمت ہے کہ جن کے گھر میں بھی بازار میں بھی دفتر میں  بھی اور حکومت میں بھی اسکا مذہب اسکے ساتھ  معاون اور مددگار بن کر ساتھ ساتھ ہے۔مجھے سیکولر سیاست کا پاٹ پڑھنا پڑھتا ہے کہ تمہارا مذہب تمہیں ذلیل و خوار کرے گا تمہیں آباد ہونے نہیں دے گا اس لئے اسکو اپنے نجی زندگی تک محدود رکھو! جبکہ ایران میں تمام مشکلات اور بین الاقوامی سازشوں کے باوجود وہاں  عوامی دینی حاکمیت ترقی کی چوٹیوں کو آئے دن فتح کرتے رہتے ہیں۔اور اسطرح  سیکولر سیاست کے چلتے  دیندار عوام مسلمان و غیر مسلمان کے اندر امید کی کرن  پیدا ہو گئي ہے۔

البتہ یہ بات غور طلب ہے کہ جس زبان میں اس مقالے کو تحریر کررہا ہوں یعنی اردو اس  میدان کے اکثر صحافی  اور قلمکار حضرات اس موضوع پر لکھنے پڑھنے یاجاننے کو اپنے لئے حرام  سمجھتے ہیں اور  جب بھی دنیا بھر میں اکلوتی  عوامی دینی حکومت یعنی اسلامی جمہوری ایران کے خلاف کوئی بھی سازشی خبر صہیونی ذرائع سے مستقیم یا غیر مستقیم طور پر حاصل ہوتی ہے تو اسے  شائع کرنے اور رائے دینے میں پر تحرک بنتے ہوئے اسقدر اس جھوٹی خبر کو نمایاں طور پر پیش کرنے میں  کوشاں نظر آتے ہیں جیسے کہ انکے جان میں جان آ گئي ہو۔اور ایسا کیوں ہے سمجھنے سے قاصر ہوں۔

بحرحال امریکا اور صہیونی سازشوں کے باوجود دنیا میں فرسودہ سیکولر  فلسفے کا سورج غروب ہونے کو ہے اور ہر جگہ اور ہر ملک میں عوامی دینی حاکمیت  پیدا ہونے کے آثار نمایا ں ہونے لگے ہیں کہ جس سے سیاستداں  وہی کہلائے گا جو دیندار مدیر و مدبر ہو گا جو سیاسی طاقت کو مذہبی اور انسانی اقدار کی بالادستی کیلئے استعمال میں لائے گا  استحصال کیلئے نہیں کہ جس سے اسکا دنیا بھی آباد رہے اور آخرت بھی۔انشااللہ۔
عبدالحسین کشمیری
‏اتوار‏، 16‏ جون‏، 2013

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500

قدرت گرفته از سایت ساز سحر