»
دوشنبه 20 آذر 1396

بسمہ تعالی

امام خامنہ ای کی" اذان" سے دیکھنا ہے کون مسجد کا رخ کرتا ہے

تحریر:عبدالحسین

نیوز نور:اسلامی جمہوری ایران میں ۱۷ ستمبر۲۰۱۱ کو پہلی بین الاقوامی اسلامی بیداری کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے قائد انقلاب اسلامی حضرت امام خامنہ ای نے جسطرح امت اسلامی کیلئے قرآن کے رہنما اصول کی تفسیر اور تشریح کرکے ہر ایک مسلمانوں کیلئے زمہ داریوں کی واضح نشاندہی کی ہے، جسے اگرحکم جہاد سے تعبیر کیا جائے مبالغہ نہ ہوگا، لیکن مسلحانہ جہاد نہیں بلکہ تقوی کا لباس پہن کر تدبیراور حکمت کے جہاد کا حکم ہے ۔

امام نے سورہ احزاب کی پہلی تین آيتوں کو اپنی گفتگو کا محور قرار دیتے ہوئے تاکید کے ساتھ بیان فرمایا کہ اگر چہ بظاہر یہ آیتیں نبی آخر الزمان (صلی اللہ علیہ وآلہ) سے مخاطب ہیں لیکن ہم سب سے خطاب ہو رہا ہے اور اس پر عمل کرنا ہم سب پر فرض ہے۔سورہ احزاب کی ان تین آيتوں کا ترجمہ :"اے نبی اللہ سے ڈریں اور کفار اور منافقین کی اطاعت نہ کریں، اللہ یقینا بڑا جاننے والا ، حکمت والا ہے ۔اور آپ کے پروردگار کی طرف سے آپ کی طرف جو وحی کی جاتی ہے اس کی اتباع کریں، اللہ ہمارے اعمال سے یقینا خوب با خبر ہے ۔ اور اللہ پر توکل کریں اور ضامن بننے کے لئے اللہ کافی ہے۔" اس الہی منشور کے ساتھ "امام" نے مسلمانوں میں انقلابی لہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اسے مصر، عراق ، ایران ، ہندوستان ، مشرق زمین اور افریقی ممالک میں پچھلے ڈیڑ سو سالوں سے عظیم اسلامی مفکروں کی مجاہدت سے اس مرحلے تک آ پہنچا ہے۔

امام خامنہ ای نے فرمایا کہ پچھلے پانچ ، چھے دہایوں میں کئی ممالک میں انقلابات رونما ہوئے وہاں کی حکومتوں میں اپنی ضرورت کے حساب سے مادی آیڈیالوجی کے افکار کا غلبہ رہا جس سے وہ مغربی استکباری اور استعماری قوتوں کی چنگل میں پھنس کر رہ گئے۔

امام نے دنیا بھر کے انقلابوں کا اسلامی انقلاب کے ساتھ موازنہ کرتے ہوئے حقائق کو سنجیدگی کے ساتھ غور و فکر کرنے کی دعوت دی کہ کون سا انقلاب روشن مستقبل کی طرف رواں دواں ہے اور کون سا زول کی طرف بڑ رہا ہے۔

امام نے مندرجہ ذیل تین نکات پر مشتمل انقلابوں کا تجزیہ کرتے ہوئے مسلمانوں کے سامنے امت اسلامی کو امت اسلامی کے حقیقی سانچے میں ڈھلنے کی نشاندہی کی:
۱. موجودہ انقلابی تحریکوں پر اجمالی نظر
۲. موجودہ انقلابی تحریکوں کے در پیش خطرات کی نشاندہی
۳. موجودہ انقلابی تحریکوں کو خطروں اور نقصانات کا علاج کی نشاندہی

پہلے موضوع کی روشنی میں امام نے فرمایا کہ یہ انقلابی تحریکیں ، عوامی تحریکیں ہیں جن کا مقایسہ کسی بھی فوجی یا عسکری جماعتوں کی طرف سے چلائی گئی تحریک سے نہیں کیا جاسکتا ہے۔ اور عوامی تحریک کو ابھرنے میں اگرچہ دیر لگتی ہے لیکن اسکا اثر گہرا اور پائیدار رہتا ہے۔ جسکا مصداق "خدا"نے "قرآن" میں ارشاد فرمایا ہے ۔(سورہ ابراہیم /۲۴)ترجمہ:"کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ اللہ نے کیسی مثال پیش کی ہے کہ کلمہ طیبہ شجرہ طیبہ کی مانند ہے جس کی جڑ مضبوط گڑی ہوئی ہے اور اس کی شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں ؟"۔ امام نے مصری انقلاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا:"ایران میں اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد دنیا بھر میں جسقدر ہل چل مچ گئی اور اس بیچ مصر کے انقلابی شخصیتوں اورعظیم مجاہدوں کی مجاہدت کے پیش نظر مصر میں پہلی انقلابی تحریک ابھر کے سامنے آنے کی توقع کرتے تھے ۔آخر کار وہ گھڑی آ ہی گئی اور جب میں نے ٹی وی پر مصری انقلابی عوام کا جوش و خروش دیکھا مجھے اطمنان ہو گیا کہ مصری انقلاب کامیاب ہو کے رہے گا۔" دوسرے ممالک کا حال بھی ایسا ہی ہے ۔ اب اسلامی تحریکیں کامیابی کی منزل پا کر رہیں گے۔البتہ استعماری طاقتوں خاص کر امریکا اور نیٹو فورسسز کے جال سے بچنے کیلئے چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ لوگ اور ان کے قائدین آپس میں سرجوڑ کر خود اپنے مستقبل کی راہ کو ہموار کریں، انشااللہ کامیابی ان کے قدم چومے گی۔

دوسرے موضوع کی روشنی میں امام نے فرمایا کہ خطرات اور مشکلات کا سامنا ہے البتہ ان سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے ، آپکے دشمنوں کو ڈرنا ہےکیونکہ انکا منصوبہ کمزور ہے۔(سورہ نساء/۷۶کی طرف اشارہ)ترجمہ:"شیطان کی عیاریاں یقینا ناپائیدارہیں"۔پھر سورہ آل عمران کی آيت ۱۷۳ کی تلاوت فرماتے ہوئے صدر اسلام کے مجاہدوں کی مجاہدت اور چیلنجوں پر روشنی ڈالی ۔ مذکورہ آیت کا ترجمہ:"جب کچھ لوگوں نے ان (مومنین) سے کہا:لوگ تمہارے خلاف جمع ہوئے ہیں پس ان سے ڈرو تو(یہ سن کر) ان کے ایمان میں اور اضافہ ہوا اور وہ کہنے لگے: ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کار ساز ہے"۔امام نے فرمایا کہ خطروں کو سمجھنے کی ضرورت ہے تاکہ پریشانی میں مبتلا نہ ہوجائيں بلکہ چارہ جوئی اور اسکے علاج کی تدبیر کریں۔تمام مشکلات کے باوجود ایران میں اسلامی انقلاب کی ترقی کا راز بھی یہی الہی رہنما اصول رہے ہیں۔

امام خامنہ ای نے خطروں اور مشکلات کو دو قسموں میں تقسیم کرکے بیان فرمایا:ایک قسم کا خطرہ وہ خطرہ ہے جو ہماری اندرونی کمزوریوں کے سبب سے وجود میں آتے ہیں،جس پر دشمن منصوبہ بندی کرکے اس سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔ جنگ احد کا حوالہ دیتے ہوئے مسلمانوں کی کمزوری سے دشمن کا فائدہ اٹھانے کی تلخ حقیقت کو ہمیشہ یاد رکھنے اور اس سے عبرت حاصل کرنے پر زور دیا۔

امام نے دوسری قسم کے خطرے کی نشاندہی کرتے ہوئے فرمایا: دوسرا خطرہ یہ ہے کہ امریکا اور مغرب کو مسلمانوں کا خیر خواہ جاننا ہے۔اگر ان دو خطروں کو مسلمان بخوبی سمجھنے میں کامیاب رہتے ہیں تو انکی کامیابی اور انکے دشمنوں کی ناکامی یقینی ہے۔

تیسرے موضوع کی روشنی میں امام نے فرمایا: اگر چہ ہر مسلمان ملک اور قوم کے مسائل ایک جیسے نہیں ہیں البتہ ان سبھی کیلئے ایک ہی رہنما اصول موجود ہے وہ "خدا" پر توکل اور اعتماد، اور قرآن میں بیان کامیابی کیلئے تاکید کے ساتھ "الہی" وعدوں کے نسبت حسن ظن کے ساتھ شجاعت اور حوصلے کے ساتھ عقل اور تدبیر کو استعمال میں لاکر کامیابی کے ساتھ منزل کو حاصل کرنا ہے۔ اسلئے ضروری ہےکہ ہمیشہ اپنے آپ کو میدان میں تصور کرنا ہوگا۔ ارشاد ہوتا ہے:"لہذا جب آپ فارغ ہو جائيں تو نصب کریں"(شرح/۷)۔ اسکے ساتھ ہی خدا کو حاضر اور مددگار ماننا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے"اور اپنی رب کی طرف راغب ہو جائيں"(شرح/۸)۔لیکن خیال رکھنا ہوگا کہ اپنی کامیابی پر مغرور نہیں ہونا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے"جب اللہ کی نصرت اور فتح آجائے۔اور آپ لوگوں کو فوج در فوج اللہ کے دین میں داخل ہوتے دیکھ لیں۔تو اپنے رب کی ثنا کے ساتھ اس کی تسبیح کریں اور اس سے مغفرت طلب کریں یقینا وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے۔(سورہ نصر)۔ یہ وہ رہنما اصول ہیں جو کہ ایک مومن قوم کیلئے ریڑ کی ہڑی کے مانند ہے۔

امام نے مذید فرمایا:اسلامی انقلاب کےاصول کو ہمیشہ دہراتے رہنا ہے۔ اپنے نعروں کو بنیادی اسلامی محکمات کے ساتھ تطبیق دینا ہوگا۔ استقلال ، آزادی ، انصاف، استبداد اور استعمار کو قبول نہ کرنا ، قومی ، نسلی اور مذہبی نابرابری کو مسترد کرنا، صہیونیزم کو یکسر مسترد کرنا ،یہ سب اسلامی تحریکوں کے بنیادی ارکان ہیں جنکا منبع قرآن اور اسلام ہے۔

امام خامنہ ای نے فرمایا : اپنے اصولوں کو لکھیں اور انکی مذکورہ میعار کی روشنی میں حفاظت کریں۔ایسا نہ ہو کہ آپکے دشمن آپکے مستقبل کا مسودہ تیار کریں۔ ایسا نہ ہو کہ وقتی منفعت کے پیش نظر آپ اسلامی اصولوں کو قربان کریں۔تحریکوں کا رخ بدلنے کیلئے نعروں کا رخ موڑ دیا جاتا ہے۔ امریکا ، نیٹو اور برطانیہ ، فرانس ، اور اٹلی جیسی جنایتکار حکومتوں پر ہر گز بھروسہ نہ کریں جو آپکی سرزمینوں کو تقسم اور غارت کرنا چاہتے ہیں ان پر اعتماد نہ کریں۔ انکے نسبت سوء ظن رکھیں ، انکی میٹھی باتوں اورمسکراتے چہروں پر یقین نہ کریں۔ ان مسکراہٹوں اور وعدوں کے پیچھے سازش اور خیانت پوشیدہ ہے۔اپنے مسائل کا حل اسلامی منبع سے سرشار رہنمائی سے خود تلاش کریں اور غیروں کی طرف سے تیار کردہ راہ حل کو ٹھکرا کر انہیں واپس کریں۔

امام نے تاکید کے ساتھ سفارش کرتے ہوئے فرمایا: مذہبی ، قومی ، قبائلی ، نسلی ، اور سرحدی اختلاف سے پرہیز کریں۔ایکدوسرے کے بیچ اختلاف نظر کو رسمیت کے ساتھ قبول کرکے اسکی مدیریت کریں ۔ مذاہب اسلامی کے درمیان تفاہم نجات کی چابی ہے ۔ جو لوگ مذہب کی آڑ میں ایکدوسرے پر کفر کا فتوی صادر کرکے تفرقہ بازی کا بازار گرم کرتے ہیں اگر خود نہیں سمجھتے ، وہ جان لیں کہ وہ شیطان کے مزدور اور کارندے ہیں۔

امام نے اسلامی انقلابی تحریکوں کے مدیروں سے مخاطب ہوکر کہا کہ آپ کا سب سے عمدہ کام حکومت سازی کا ہے۔ یہ نہایت ہی پیچدہ اور مشکل کام ہے۔ ایسا نہ ہوکہ مغربی سیکولرازم، لبرل ازم ، افراطی نیشنل ازم یا لیفٹ مارکسیسٹ کی طرف راغب نظام آپ پر تھوپ دیا جائے۔شرق اور غرب کا سورج ڈوبنے والا اور اسلام کا سورج طلوع کرنے والا ہے۔

آخر میں امام خامنہ ای نے دو اہم نکات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: جن اقوام نے انقلاب لایا اور کامیاب ہوگئے ان پر پوری قوم کو ساتھ لے کرچلنے اور انکے ووٹوں کی صحیح مدیریت کرنا ہے ، چونکہ لوگ اسلام پر ایمان رکھتے ہیں اسلئے انکا مقصد"نظام مردم سالاری اسلامی" (عوامی دینی حکومت) ہے۔ یعنی حکام عوام کے ووٹوں سے منتخب ہوں گے اور عوام پر حکومت دین کے اصول اور شریعت اسلامی کے رو سے ہونا ہے۔جسکی شکلیں مختلف ممالک میں مختلف ہو سکتی ہیں۔لیکن اس بات کا حساسیت کے ساتھ خیال رکھنا ہوگا کہ ایسی جمہوریت کو مغربی جمہوریت کے ساتھ مخلوط نہ کیا جائے۔سیکولر جمہوریت اور مغربی غیر مذہبی جمہوریت کا اسلامی جمہوریت کے ساتھ دور کا بھی واسطہ نہیں ہے۔

دوسری بات یہ کہ اسلامی رنگ کو تحجر اور قشری گری ، جاہلانہ تعصب اور افراط گری کے ساتھ نہیں لینا ہے بلکہ ان دونوں کے بیچ کی سرحدوں کو واضح اور الگ کرنا ہے ۔ مذہبی افراط جوکہ زیادہ تر اندھے جگڑوں کے ساتھ ہوتا ہے، انقلاب کے مقاصد کو اپنی منزل سے دوری کا سبب ہوتا ہے اور نتیجہ کے طور لوگ اس سے الگ اور دور ہونا شروع ہوتے ہیں اس صورت میں آخر کار انقلاب ناکا ہو جائے گا۔

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ امام خامنہ ای کی اس "اذان" کو سن کر کون ،کون مسجد کا رخ کرتا ہے۔مصرجوکہ اسلام کا قلعہ ہے لیکن ہمیشہ اسلام دشمن عناصر کیلئے محفوظ مقام بن کر رہ گیا ہے۔اب جبکہ عوام نے انقلاب برپا کیا اور فرعونوں کو چھوڑ کر خدا کے احکامات کی روشنی میں زندگی بسر کرنے کا فیصلہ سنایا ہے جس سے مصر اسلام کا قلعہ ہونے کا حق ادا کرسکے، لیکن کچھ مسلمان سیکولر جمہوریت کے دعویداروں نے سر پیٹنا شروع کیا ہے کہ اسلام اور قرآن کی باتین کہنے کیلئے ٹھیک ہیں عمل کرنے کیلئے نہیں ہے۔فرعونوں کا کام حکومت کرنا ہے خدا کا نہیں۔ابھی چند روز قبل ہی ترکی کے وزیر اعظم نے مصر ٹی وی کے ساتھ گفتگو کے دوران مصری عوام کو سیکولرازم کے سایے تلے زندگی بسر کرنے کی سفارش کی ہے۔ اور یہی عالم دوسری تحریکوں کو منحرف کرنے کیلئے دیکھا جاسکتا ہے۔

اگرچہ امام کی فرمایشات کی روشنی میں ہر ملک میں اسلامی تحریکوں کا بخوبی تجزیہ کرکے ان باتوں کی نشاندہی کی جاسکتی ہے لیکن چونکہ خود کشمیری ہوں کشمیر کی تحریکوں کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں کہ کیا یہاں کی تحریکیں اس "اذان" کو سن پائی ہیں ؟۔جبکہ میرا ایمان کہتا ہے کہ امام نے کشمیر مسئلے کا دائمی حل سامنے رکھا ہے ۔ اے کاش کشمیری قیادت اس پر غور و فکر کرکے عمل میں لانے کا ارادہ ظاہر کرتے۔

اے اللہ ہمیں امام خامنہ ای کی نصیحتوں اور رہنمائی کو سمجھنے کی توفیق عطا فرما۔آمین

 

           


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500

قدرت گرفته از سایت ساز سحر