»
یکشنبه 30 مهر 1396

باسمہ تعالی 

ہندوستان میں پر امن سماجی زندگی کی حصولیابی کی تدبیریں

باھمی پر امن سماجی زندگی کی عقلی اساس اور بقائے باھمی کے فلسفه اور اس کی حصولیابی کی تدبیر


پر امن سماجی زندگی کی حصولیابی کی تدبیریں کئ ہو سکتی ہیں البتہ میرے نزدیک پر امن سماج کا تصور تمام ادیان کے عقیدتمندون کے عقاید کا عملی طور احترام کرنے میں مضمر ہے ۔ یعنی اخلاق کی بالا دستی اور با اخلاق معاشرہ ۔ 

ہندوستان جیسے ملک میں اس موضوع پر فکر کرنے اور راہیں تلاش کرنے کی اشد ضرورت ہے کیونکہ ہندوستان دنیا بھر کے ادیان کا گہوارہ ہے، جہاں نہ صرف گمنام ترین دین سے لیکر مشہور ترین ادیان کے ماننے والے پائے جاتے ہیں، بلکہ یہاں بے دین لوگوں کی بھی خاصی تعداد موجود ہے ۔ اس لئے ہندوستان میں پر امن سماجی زندگی کے مصداق کو ڈھونڈنے اور قائم کرنے میں پر امن عالمی سماج کا تصور ایک مطلوب امر ہے ۔ 

اس سلسلے میں میرا ماننا ہے کہ اس مقصد کو پانے کے لئے ایک طریقہ کار یہ ہو سکتا ہے کہ ایک ایسا مرکز قائم کیا جائے جو اس سلسلے میں ایک جامع تحقیقی کام آغاز کر سکے ۔ جسے میں پر امن سماج کیلئے منصوبہ بندی کیلئے مقدماتی دور کا نام دیتا ہوں۔ اس مقدماتی دور کو پہلے تین مراحل کو بشرح ذیل طے کرنا ہوگا۔(یہاں پر ایک اور بات اضافہ کرنا چاہوں گا کہ تمام ادیان سے مراد ایک دین اور مذہب کے اسکی ذیلی فرقوں اور شاخوں کی تفصیل کے ساتھ معلومات کی جمع آوری ہے خاص کر اس شاخ کی تفصیلات جس کے ماننے والے ہندوستان میں موجود ہوں) ۔ 

۱۔پہلا مرحلہ:ادیان کے اصولوں کا مطالعہ 
پہلے مرحلے کے لئے چاہئے کہ ہندوستان کے سبھی ادیان کے اصولوں کا مطالعہ کرنے کا منصوبہ بنایا جائے اور ہر دین سے چند مخصوص محققوں کا انتخاب عمل میں لایا جائے جو اپنے اپنے دین کے اصولوں اوران دینی تعلیمات کی گل چینی کی جائے جو دوسروں کے ساتھ دوستی اور خوش اسلوبی کے ساتھ زندگی گزارنے کی سفارش کرتی ہوں، مستند طریقے کے ساتھ تحریر میں لائیں اور ان معلومات پر مشتمل ایک جامع فہرست تیار کی جائے ۔ اس دوران ادیان کے ماننے والوں کے عمل پر کوئی بحث نہ کی جائے کہ مثال کے طور پر مسلمانوں کی اصولی تعلیم مسالمت آمیز مشترک زندگی کے محور پر مبنی ہے کہ انفرادیت صرف ایک ذات واحد سے خصوص ہے اور باقی کی بقا اجتماع میں مضمر ہے لیکن اس کے باوجود عالم اسلام سب سے زیادہ متفرق اور بکھرا پڑا ہے وغیرہ ۔ایسی ہی حالت تقریبا ہر ایک دین کی ہے اس لئے اس مرحلے میں چاہئے کہ صرف معلومات کی جمع آوری عمل میں لائی جائے ۔ اس بیچ کسی قسم تجزیہ کاری نقد و بررسی یا تبصرہ نہ کیا جائے بلکہ صرف مستندات کی جمع آوری تک محدود رکھا جائے ۔
 
۲۔ دوسرا مرحلہ دین کے اصول کا عمل سے موازنہ
دوسرے مرحلے میں تمام ادیان کے اصولوں کی جامع فہرست تیار ہونے کے بعد، دین کے اصول کا دیندار کی عملی زندگی میں کھوجنا شروع کیا جائے ۔ مثال کے طور پر دیکھنا ہو گا کہ اسلام نے مسالمت آمیز زندگی گزارنے کے لئے کیا اصول بیا ن کیا ہے اور کس قسم کی تعلیم دی ہے اور مسلمان اس اصول اور تعلیم کو اپنی زندگی میں کیسے اپناتا ہے ۔ عیسائیت کے اصول اور تعلامدت کیا بتاتے ہیں اور عیسائي کیا کرتے ہیں ۔ ہندوازم کی تعلیمات اور اصول اس سلسلے میں کیا سیکھاتے ہیں اور ہندو اسے کیسے اپناتے ہیں وغیرہ ۔اس قسم کی جامع تفصیلات کی جمع آوری عمل میں لائی جائے ۔ 

۳۔ تیسرا مرحلہ ادیان کے حساس پیغامات اور تعلیمات کی تدوین
اور تیسرے مرحلے میں ہندوستان کے تمام ادیان کے کلیات میں سے حساس پیغامات اور تعلیمات کو تدوین کیا جائے کہ کون سا دین اپنے عقیدے کے کس موضوع پر زیادہ حساس ہے ۔ان کی نشاندہی کرنی ہوگی اور یہ عمل سب سے زیادہ مہم اور کلیدی ہے اس لئے ضروری ہے کہ ہر دین کی تمام ذیلی شاخوں اور برگوں کا باریک بینی کے ساتھ مطالعہ عمل میں لایا جائے اور ایک ایک مذہب کے حساس نکات کی فہرست مرتب کی جائے ۔تیسرے مرحلے کا کام پہلے دو مرحلوں سے وسیع ہونا چاہئے وہ اس اعتبار سے کہ اس مرحلے میں ہندوستان میں رہ رہے بے دینوں کی بات جاننے کے لئے اقدام کیا جائے ۔ اگر چہ یہاں پر با اخلاق معاشرے کے تحقق کے لئے مجاہدت کرنا مقصود ہے اور بے دین لوگو کا عمدہ اصول اخلاقی ضوابط سے آزاد معاشرے کا حصول ہے پھر بھی بے دین مادہ پرستوں کے انجمنوں سے رابطہ عمل میں لایا جائے اور وہاں سے اخلاقی معاشرے کے لئے مفید نکات تلاش کرنے کی جائے اور انہیں فوق الذکر معلومات کے سات ضمیہ کیا جائے ۔ 

آخر میں ایسے معلومات پر مبنی مسودہ ہر ایک دین سے وابستہ معتبر مراکز کے نام تجزیہ اور رائے کے لئے روانہ کیا جائے جو اپنے اپنے سفارشات درج کرکے واپس ارسال کریں ۔آرا اور سفارشات دریافت کرنے کے لئے ایک خاص وقت معین کیا جائے کہ مثلا فلاں مہینے کی پہلی تاریخ سے پچیس تاریخ تک آرا اور سفارشات موصول ہونی چاہئے ۔ تاکہ منظم طریقے کے ساتھ اخلاقی معاشرہ یا پرامن سماجی زندگی کی راہ ہموار کرنے کے لئے پہلا قدم آگے بڑھایا جائے ۔ 

اخلاقی معاشرے کی حصولیابی کی طرف پہلا قدم 
اگر مذکورہ تین مراحل طے کرنے کی مجاھدت ہوتی ہے اور رخنہ نہیں پڑتا تو میرا عقیدہ ہے کہ ایک پر امن سماجی زندگی کی راہ خاکہ تیار ہو گیا اور اس پر راہ کی تعمیر اور پر امن سماجی زندگی کی حصولیابی کی تدبیر عملی میدان میں داخل ہونے کے لئے تیار ہے ۔اس راہ سازی کے پہلے قدم پر ایک اور مرحلہ طے کرنا ہوگا وہ یہ کہ تمام ادیان کے ان محققوں کے مشوروں سے منتخب نکات کو عوام میں پیش کیا جائے اور میڈیا کے ذریعہ عوامی آراء اور پیشنہادات کو دریافت کیا جائے اور پورے مسودے کو ہندوستان کے ہر ایک قانون ساز اسمبلی کے لئے روانہ کیا جائے اور ان سے مسودے کا مطالعہ کرکے اپنی ریاست کی ترجیحات کو بیان کرنے کے ساتھ وہاں کے عوامی نمایندوں کی رائے اور مشورہ اس پر اضافہ کرنے کی صورت میں ہر ایک ریاست کے لئے اسے رسمی طور ہندوستانی پارلمنٹ کے لئے مباحثہ اور آخری شکل دینے کے لئے بھیجا جائے اور پارلمنٹ میں مذکورہ معلومات کے بنیاد پر قانونی شکل دی جائے جسے ہندوستان کا ہر ایک شہری اپنا دین و مذہب سمجھ کر تسلیم کرے۔اور ان اصولوں کی پاسبانی کرنا تسلیم و رضا کے ساتھ عملانے کے لئے عہد کرے ۔ 

اگر ہندوستانی ادیان پر طائرانہ نظر ڈالیں تو معلوم پڑتا ہے کہ ہر ایک دین پر امن سماج کے قیام کی تلاش میں ہیں اور اخلاق سیکھاتے ہیں ۔ ہندوستان میں ۹۹% فیصد سے زائد لوگ دیندار ہیں{ ہندوازم(۸۲%)؛ بدھ ازم (۰.۷%)؛ سیکھ ازم (۲%)؛ اسلام (۱۲%)؛ مسیحیت (۲.۵%)؛ جین ازم(۰.۵%)؛ زرتشت پارسی (۰.۰۱%)} اور ایک فیصد سے کم لوگ بے دین اور مادہ پرست ہیں اور کوئی بھی ایک دین نہیں پایا جاتا جو اخلاقی تعلیم نہیں دیتا ہے بلکہ بے دین سماج اخلاقیات کی وکالت نہیں کرتا ہےاور افسوس کا عالم یہ ہے کہ ہندوستان جیسے ایسے عظیم اور مذہبی اور مذہب پرور ملک میں حقیر ترین تعداد میں رہ رہے بے دین لوگ پورے ہندوستان کو اخلاقیات اور دینی تعلیمات سے دور رکھنے کی دن رات کی محنت میں کوشاں رہتے ہیں اور کامیاب بھی نظر آتے ہیں جن کے مقابلے میں دیندار سماج بے بس اور لاچار نظر آتے ہیں ۔ آخر کیوں؟ کیونکہ ہندوستان میں رہ رہے ایک فیصد سے کم بے دیندار مادہ پرست لوگ منظم اور باہمی تعاون کے ساتھ کام کررہے ہیں اور ۹۹فیصد سے زائد مذہبی لوگ صرف آپس میں دست بہ گریباں ہیں اس لئے ناکام ہیں ۔ جبکہ ہر ایک مذہب دوستی پیار محبت سے زندگی کرنے کا درس دیتا ہے ۔
 
ہندوازم(۸۲%
ہندوازم کے بارے میں خود ہندو تعلیمات میں درج ہے کہ ہندو ازم کا مؤسس کوئي ایک شخص نہیں ہے ۔ جیسے کہ سوامی وویکا نندا نے لکھا ہے "۔ ۔ ۔ یہ(ہندوازم) اصول بتاتا ہے اشخاص نہیں "۔ اگر ہندوازم کی تعلیمات میں سے اسی ایک بات کو لیں تو تعاون اور تعامل کا بہترین نعرہ ہے ۔ اسی طرح ہندوازم کے بارے میں جو تعارف دیا جاتا ہے اس میں بتایا جاتاہے کہ ہندوازم خدا محوری کا دین ہے اور دیگر ادیان پیغمبری محوری کا دین ہے ۔تو معلوم ہوتا ہے کہ ہندو ازم میں تعامل اور تعاون کا مادہ موجود ہے جنہیں ہم الہی ادیان کہتے ہیں انہیں وہ پیغمبر محوری کہتے ہیں ۔ اس طرح ہندوازم کا الہی ادیان از جملہ عیسائیت اور اسلام کے ساتھ تعاون کرنے کی دعوت موجود ہے ۔
 
بدھ ازم (۰.۷%
بدھ ازم کا مؤسس سدھارتھا گوتما بدھا ہیں جنہوں نے نہ خود کو خدا کا درجہ دیا نہ ان کے ماننے والے ان کو خدا مانتے ہیں بلکہ اسے ایک محنت کش مفکر کہ جس نے زندگی کے صحیح اسرار کو سمجھا اور جانا تھا ۔ بدھ ازم کی تعلیمات میں بتایا جاتا ہے کہ بدھ ازم کا ماننا ہے کہ انسان کی مشکلات کا حل اس کے اندر ہے نہ کہ اسکے باہر ۔اور یہ بات بظاہر ہندازم کے مانند پر امن سماج کھوجنے کی ترغیب دیتا ہے ۔ 

سیکھ ازم (۲%
سیکھ ازم کا موسس گرو گوبند سنگھ ہیں اور سیکھ ازم کی تعلیمات میں ملتا ہے کہ اس میں اندویشواس نہیں ہے اور ایک جمہوری مذھب ، امید اور خوشحالی کی کرن ہے ۔ 

اسلام (۱۲%
اسلام عقاید اور احکام کا ایک ایسا مجموعہ ہے جو ہر مرحلے میں انسان کے تمام ضروریات کا جواب دیتا ہے ۔ اس طرح اسلام پر امن سماج کی نہ صرف وکالت کرتا ہے بلکہ صف اول میں کھڑا ہے ۔ 

مسیحیت (۲.۵%
عیسائی تعلیمات میں ملتا ہے کہ انسان اور انسانیت کی خدمت کرنا انسانیت کا فریضہ ہے ۔یہاں پر بھی ہمیں پر امن سماج کی وکالت موجود ملتی ہے ۔ 

جین ازم(۰.۵%
جین ازم گرچہ بودھ ازم کے مانند ہے کہ جسے مہاویرا نے تاسیس کیا تھا ۔جہاں بودھ ازم پرامن سماج کی وکالت کرتا ہے وہاں جین ازم نہ صرف وکالت کرتا ہے بلکہ اسے بنیادی اصول کے طور پر اپنا دین اور عقیدہ ماننتا ہے ۔ 

زرتشت (۰.۰۱%
زرتشتی کہ جنہیں ہندوستان میں پارسی کہا جاتا ہے ۔ ان کے عقاید میں برے اور اچھے کے درمیاں جنگ کی بحث ہے کہ اگر نیک کام کئے جائیں تو نیکیوں کی طاقت حاوی ہو جاتی ہے اور اگر برے کام کئے جائیں تو برا طاقت حاوی ہو جاتا ہے ۔ اس اس مذہب میں بھی نیکیوں اور نیک کاموں کی ترغیب کی دعوت موجود ہے ۔ 

غرض ہندوستان میں موجود ادیان کی تعلیمات اخلاقیات کے ایک اعتبار سے ایک محور کے گرد گومتے ہیں اگر چہ انداز بیان جداگانہ ہے جو کہ فطری اور معقول نکتہ ہے ۔اب اگر ہندوستان کے مذاہب کے ذیلی شاخوں میں کی طرف نظر ڈالیں۔جیسے ہندوازم میں سے اسکے ذیلی شاخیں جیسے: شیو ازم ، ویشنوازم ، شکتی ازم اور سمرت ازم وغیرہ۔ سیکھ ازم سے اسکے ذیلی شاخیں جیسے نرنکاری ، دھمدری ،اور جٹھ وغیرہ، اور اسلام میں شیعہ امامیہ ، حنفی ، شافعی ، حنبلی ،مالکی، وھابی وغیرہ اسی طرح باقی ادیان کے اور ان کے ذیلی شاخوں میں اختلاف ہونا قابل انکار نہیں ، البتہ یہ امر بھی قابل انکار نہیں کہ ان سبھوں میں مشترکات بھی موجود ہیں ۔ایک مذہب کا اسکے ذیلی شاخوں کے ساتھ مشترکات بہت زیادہ ہیں اور دوسرے مذہب کے ساتھ کم ہیں لیکن ہر مذہب اور دین میں ایک اصول مشترک ہے جو ہر ایک دین و مذہب پر اسکے شاخ و برگ کے ساتھ حاکم ہے وہ اخلاقیات ہے ۔ جسقدر اخلاقی اقدار کا بول بالا رہے گا اتنا ہی پر امن سماجی زندگی یقینی بن جائے گا ۔ جسکا ہندوستان جیسے مذہبی اور مذہب پرور ملک میں اشد ضرورت ہے ۔ بلکہ ہر درد کی دوا ہے ۔ 

اللہ کی بار گاہ میں دست بدعا ہوں کہ اس کرہ خاکی پر رہنے والے ہر بندہ خدا کو پر امن سماجی زندگی نصیب فرمائے ۔ خاص کر ہندوستان کو مذہبی تعلیمات کی نعمات کو سمجھنے اور اسے استعمال میں لا کر بر صغیر میں امن و سلامتی کے دروازے کھولنے کا سہرا نصیب فرمائے ۔ اور ہمیں ظلم کا خاتمہ کرنے والے انصاف پسند انسان اور حکام کا ہاتھ بانٹنے اور مدد کرنے توفیق عطا فرمائے ۔ آمین یا رب العالمین ۔ 
.............
مقالہ نگار بر صغیر ھند کیلئے بین الاقوامی خبررساں ایجنسی "تقریب"کے بیرو چیف اور تقریب نیوز اردو سائیٹ اور نیوز نور کے چیف ایڈیٹر ہیں۔

 

 

           


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
قدرت گرفته از سایت ساز سحر