»
یکشنبه 30 مهر 1396

تحریر:عبدالحسین

ولایت فقیه/ دینی و مذھبی حاکمیت


باسمہ تعالی 

ولایت فقیہ کا نظریہ مغربی سیکولر ازم نظریہ کا بالکل برعکس ہے کہ جس میں دین و مذہب محور ہے جبکہ مغربی سیکولرازم میں مذہب اور سیاست دو الگ الگ میداں ہیں جن کا آپسی کوئی تال میل نہیں ہے۔لیکن ولایت فقیہ سے مراد مذہب اور سیاست کا ایکدوسرے کا مکمل ہونا ہے۔

موضوع کو آگے بڑھانے سے پہلے یہاں پر اس بات کی وضاحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ برصغیر میں رائج سیکولرازم کی اصطلاح کو مغربی سیکولرازم سے جدا کرنا ضروری ہے کیونکہ اگر ہندوستانی سیکولرازم کو ہندوستانی قدیم اصول "سرو دھرم سمبھاو" کو سیکولرازم کا اصل و اصول مان کے چلیں تو مغربی سیکولرازم کا ہندوستانی سیکولرازم سے کافی مختلف ہے۔

ولایت فقیہ کی اصطلاح اگر چہ بظاہرنئی نظر آتی ہے کہ جسے امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے پیش کیاہے لیکن اس کا منبع الہی ہے اوردینی اسناد کے رو سے انبیاء کے زمانے میں نبی کی ولایت رہی اور ائمہ معصومین کے زمانے میں امام کی ولایت اب چونکہ دور حاضر کا امام (عج) پردہ غیب میں ہیں اور انکی نیابت فقیہ جامع الشرایط انجام دیتے ہیں۔ فقیہ جامع الشرائط کا کام اللہ اوراسکےرسول کی تعلمیات اور شرعی حدود و قیود کا بیان کرنا ہے اور ان میں سے جو شرعی احکامات کو نافذ کرکے دکھاتا ہے وہ ولی فقیہ کہلاتا ہے۔دوسرے الفاظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ جب ایک مجتہد شرعی تھیوری بیان کرتا ہے تومرجع تقلید کہلاتا ہے اورجو مجتداسی تھیوری کو حکومتی سطح پر پریکٹکلی نافذ کرانے والا ولی فقیہ کہلاتا ہے۔

امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ خود ولایت فقیہ کے بارے میں فرماتے ہیں:"ولایت فقیہ کا موضوع کو ئی نئی بات نہیں ہے صدیوں سے شیعہ حوزہ ہای علمیہ اورفقہی کتابوں میں بحث ہوتا رہا ہے ۔ولایت فقیہ ایک ایسا موضوع ہے جسکا تصور اسکی تصدیق بن جاتا ہے اور اسکے لئےزیادہ استدلالوں کی ضرورت نہیں ہے "(ولایت فقیہ از امام خمینی ص۶)

جہاں تک اصطلاحات کا سوال ہے ایسے موضوعات کو آسانی سے علمی مراحلوں سے عبور دینے کیلئے لازمی امرہے ۔ولایت فقیہ نظریے کو چونکہ ایک اسلام شناس ماہر استاد اور فقیہ جامعہ الشرائط نے پیش کرکے عوامی حمایت کے ساتھ کامیابی کے ساتھ نافذ کرکے دکھایا ہے اس لئے فرد واحد کی حاکمیت کی بات آتی ہے ممکن ہے کہ مستقبل میں ولایت فقیہ شورای میں تبدیل ہو جائے۔چونکہ ولایت فقیہ سے مراد صرف اور صرف دینی حاکمیت ہے۔اصطلاحات کو اصل محور بنانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے جس طرح کہ ایک طرف شیعہ امام معصوم کی امامت کے فلسفے کو بیان کرتا ہے وہاں دوسری طرف سنی اسی امام معصوم کو امام نام دینے کے بجائےبزرگ صحابی یا اہلبیت پیغمبر کے نام سے یاد کرتا ہے اور جب نتیجہ تک پہچنا چاہیں تو دونوں کی منزل و مقصول ایک ہی ہوتی ہے یعنی اللہ اور اسکے رسول کی اتباع۔اسی طرح عالم اسلام میں کئی ایسے اصطلاحات موجود ہیں جو کہ بظاہر اختلاف سے بھرے نظر آتے ہیں لیکن وہ فرق زاویہ نگاہ اور علمی استدالال کے سبب وجود میں آئے ہیں اور ہر ایک کا مدعی اور مقصد اللہ اور اسکے رسول کی اطاعت کرنا ہے۔اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ولایت فقیہ کو صرف اصطلاح تک محدود رکھنے کے بجائے اسکے مقاصد کو مد نظر رکھ کر اسے سمجھا جائے تاکہ صحیح ثابت ہونے پر اسکی حمایت اور غلط ثابت ہونے پر اس سے اپنی برائت اظہار کیا جا سکے۔


ولایت فقیہ دین کی حاکمیت کا نام ہے یعنی ہر مکتب فکر جو آخرت اور جنت و جہنم ،ثواب و عذاب کا عقیدہ رکھتا ہے وہ دیندار کہلاتا ہے اس طرح ہر دینی مکتب اپنے دینی عقیدے کی روشنی میں ایک اصطلاح پیش کرسکتا ہے۔اگر ہندوستان کا ہندو اپنے دین کی حاکمیت کا فلسفہ پیش کرنا چاہے گا اسے اپنے اصول کو لے کر اپنا نظریہ پیش کرنا پڑے گا۔ہندو ازم کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ :"ہندوازم خدا محوری کا دین ہے اور دیگر ادیان پیغمبری محوری کے ادیان ہیں" تو ہندو ازم اگر دین اور سیاست کو ایکدوسرے کا مکمل سمجھ کر نظریہ پیش کرے گا تو اسکا خدا محور ہونا ضروری ہےتب انکی حکومت ،ولایت خدا محوری کہلائے گی۔اسی طرح باقی غیر اسلامی ادیان اس موضوع میں شامل ہوسکتے ہیں غرض اصطلاح مقصود نہیں بلہ مقصد مقصود ہے۔مغربی سیکولر ازم نے دین کو سیاست سے جدا کیا ہے اور ولایت فقیہ نے دین اور سیاست کو ایکدوسرے کا مکمل ثابت کردکھایا۔مغربی سیکولرازم نے عوامی حکومت جمہوریت کے نام پر اقتدار کیلئے ہر حربے کو آزادانہ طور استعمال کرنے کا منصوبہ پیش کیا جس سے جس کی لاٹھی اس کا بھیس والا قانون دنیا پر حاکم ہو گیا اور ظالم طاقتور ہوتا گیا اور مظلوم ناکس و بے کس بنتا گیا۔ اور ولایت فقیہ نے مردم سالاری دینی پیش کرکے دوکھہ دہی اور ہوس اقتدار کا سلسلہ روک کر مظلوم کی یاوری اور ظالم کی ذلت کا سامان فراہم کیا ہے۔

جب سے ولایت فقیہ حکومت نے اسلامی تعلیمات کی عملی شکل سامنے رکھی تب سے امریکا اور اسرائیل جیسے ظالموں اور جابروں اور انکے ہمنواؤں میں بے چینی طاری ہوئی ہے۔کیونکہ وہ ہر کسی سے بہتر جانتے ہیں کہ جو وہ انسانی حقوق کے تحفظ اور جمہوریت کے دلفریب نعرے دیتے ہیں اس میں کس قدر صداقت موجود ہے۔وہ تو انسان صرف اپنے آپ کو تصور کرتے ہیں اور جہاں کنہی بھی اپنے حقوق کو خطرے میں پاتے ہیں حقوق انسانی کے نام پر انسانی حقوق کے تحفظ پر اپنا رونا روتے ہیں اور جمہوریت سے مراد سرمایہ دارانہ نظام کے جمہوری اہداف سمجھتے ہیں اسطرح سرمایہ دارانہ نظام کی آبیاری کرنے والی ہر حرکت کی بھر پور حمایت کرتے ہیں اور ان اہداف کی آبیاری نہ کرنے والی ہر حرکت کے خلاف سینہ سپر ہو جاتے ہیں۔مگر شیطان کی چالیں دیر پا نہیں ہوتی ۔"إِنَّ كَيْدَ الشَّيْطانِ كانَ ضَعيفاً "۔

امام خمینی (رہ) نے استکباری طاقتوں کے زوال کی پیشن گوئی کرتے ہوئے تیس سال قبل فرمایا ہے: "میں اطمنان کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ اسلام بڑی طاقتوں کو ذلیل و خوار کرکے چھوڑے گا؛اسلام اندر اور باہر کی رکاوٹوں کو ایک ایک کرکے برطرف کرتے ہوئے دنیا کے بنیادی چوٹیوں کو فتح کر لے گا۔" تیس سال پہلے کی یہ بات آج دنیا آہستہ آہستہ اسکا مشاہدہ کر رہی ہے۔اور اسلامی بیداری لہرکامیابی کے ساتھ بڑ رہی ہے۔

یہ بات غور طلب ہے کہ عالم اسلام میں ایک ہی ملک اسلامی جمہوری ایران ہے جہاں ولایت فقیہ کی قیادت میں قرآن اور اسلام کی حاکمیت ہے اور ہر دین و مذہب کا پیرو کار اس ملک میں اپنے حقوق محفوظ تسلیم کرتا ہے۔اسلامی قیادت کی جو تصویر امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ نے اور اب حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی نے دنیا کے سامنے مومن عوام کی حمایت کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کیا ہے اس سے کسی کے لئےبھی عالم اسلام کا روشن مستقبل تصور کرنا کوئی مشکل کام نظر نہیں آتا ہے۔

مغربی اور استعماری طاقتوں نے ولایت فقیہ کو شیعہ انقلاب کہا، ایرانی انقلاب کہا، تاکہ اسے عالم اسلام سے جدا کرکے پیش کر سکیں اور کبھی سنی اور شیعہ کے دو محاذوں کے طور پر پیش کرتے آئے ہیں اور سنی شیعہ مسلمانوں کے اندر شعوری یا غیر شعوری طور پر ان مقاصد کو پورا کرنے والے افراد بھی انکے آلہ کار بنے رہے لیکن آہستہ آہستہ بات عام و خاص کیلئے واضح ہوتی جا رہی ہے کہ ولایت فقیہ اسلام کی حاکمیت کا نام ہے جسے نہ شیعوں کی جاگیر اور نہ سنیوں کی جاگیر سمجھنا ہے بلکہ یہ اسلام اور مسلمانوں کی میراث ہے۔الحمدللہ ایران نے بھی اسلامی انقلاب کی کامیابی کے ساتھ ہی اس جذبے کو عملی طور پر ثابت کردکھایا ہے۔

اگر ولایت فقیہ کو شیعہ حکومت تک محدود کر کے دیکھیں تو حضرت علی علیہ السلام کی حکومت کے بعد پہلی شیعہ مذہبی حکومت اقتدار میں آ گئی ہے تو بظاہر ولایت فقیہ حکومت میں شیعہ مذہب کی برتری اور خاصا امتیازملنا چاہئے تھا لیکن ایسا نہیں ہے۔جس کی عمدہ مثال ایران کا آئین اساسی ہے۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد جب ایران کا آئین لکھنا شروع کیا گیا اور سرکاری مذہب بیان کرنے کا مرحلہ آیا تو رسمی مذہب کی جگہ "مذہب حق جعفری" لکھنا تھا لیکن حق کے بجائے سرکاری مذہب ،مذہب شیعہ اثناء عشری "لکھا گیا تاکہ دوسرے اسلامی مذاہب کے ماننے والے اسےاپنے مذہب کی توہین تصور نہ کریں کہ اگر شیعہ مذہب حق ہے تو کیا ہم باطل پر ہیں جس سے اسلامی اتحاد اور یکجہتی کی کلیدی حکمت عملی بھی سامنے آتی ہے۔


ولایت فقیہ کی حمایت رسول اللہ کی حمایت اور قرآن کی اتباع ہےجس سے اسلام اور مسلمین کی عزت شوکت و ظفر کا سامان فراہم ہوتا ہے اوراسلام و مسلمین کی سازشوں کا پردہ چاک ہو کر حق اور باطل کے درمیان نمایاں فرق آشکار ہوجاتا ہے۔
 
آئيں عہد کریں کہ ولایت فقیہ کی قیادت میں امت اسلامی کے تحفظ اور دنیا میں ظلم کے خاتمے کا مقدمہ فراہم کرسکیں تاکہ خدا کے حکم سے منجی عالم بشریت ظہور کرکے دنیا کو عدل و انصاف سے پر کردے۔ چونکہ اسلام معجزہ محور دین نہیں بلکہ عمل محور دین ہے اسلئے عمل سے اسلامی بشارتیں بھی بتدریج شکوفا ہوتی ہیں اگر چہ وہ عمل کتنا ہی کم ہو لیکن نتیجہ عظیم حاصل ہوتا ہے۔الہم عجل لولیک الفرج
والسلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
عبدالحسین  کشمیری

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
قدرت گرفته از سایت ساز سحر