»
دوشنبه 20 آذر 1396

ہردعا مستحب لیکن ’’اھدنا الصراط المستقیم ‘‘کہنا واجب ہے

سنگ بازی صرف گولہ باری کے مقابلے میں مظلومانہ عمل ہے:عبدالحسین کشمیری

سرینگر:23مئی2014:ہندوستان کے آئین کے تحت کشمیر کی آزادی کیلئے حقیقی اور حقوقی تحریک آغاز کرنے کیلئے بارہ مولا پارلمانی امیدوار حجت الاسلام آغا سید عبدالحسین موسوی کشمیری نے 23مئی 2014 کو گلمرگ حلقہ انتخابات کے کئی علاقوں کے بعض سرگرم کارکنوں کے ساتھ ملاقات کے دوران کہا ہم جس مذہبی سیاست کی بات کرتے ہیں اس سے مراد ظلم اور خدمت کرنے کیلئے مرنے کے بعد سزا اور جزا حاصل ہونے کا عقیدہ رکھنا ہوتا ہے نہ کہ پاکستان یا ہندوستان سے سزا یا جزا حاصل کرنا ہے اور سیاست و عبادت کے حوالے سے مسلمانوں کیلئے ایک واضح منشور ہے کہ ہر دعا کرنا مستحب ہے لیکن یہ کہنا کہ اے اللہ ہمیں سیدھے راستے کی ہدایت فرما’’اھدناالصراط المستقیم‘‘ کہنا واجب ہے۔ یعنی انسان کو ہر لمحے کیلئے ہدایت کی ضرورت ہے اور جب انسان قرآنی ادبیات کی روشنی میں غلط کام کرتا ہے غلط ہے صحیح کام کرتا ہے صحیح ہے چاہے اسکا عقیدہ جو کچھ بھی ہو۔ ایسے میں ہندوستان نے کشمیری سماج کو ایسی تہذیب کے ساتھ تربیت کرنا اپنا مشغلہ بنایا ہے جس سے یہاں کی تہذیبی ادبیات کے مفہوم ہی بدل گئے ہیں۔ خدمت کے نام پر ظلم روا رکھا جا رہا ہے اور انصاف کے نام پر ظلم کرنا اپنا مشغلہ بن چکا ہے۔

حجت الاسلام آغا سید عبدالحسین کشمیری نے اپنی انتخابی سرگرمیوں کے دوران سنگ بازی کے حملے میں سب سے زیادہ شدید زخمی ہوئے ملہ بچھن گلمرگ سے وابستہ کارکن محمد قاسم کی ہسپتال سے واپسی پر ایک بار پھر عیادت کے دوران کہا :یہاں ایک نہ ایک دن اس بات کا اعتراف سب کو کرنا ہوگا کہ انصاف کی تحریک کو ظلم کے ساتھ آگے نہیں بڑھایا جاسکتا ہے اگر آگے بڑ بھی جائے تو انصاف کے نام پر ظلم ہی حاکم رہے گا۔ سنگ بازی تب جواز رکھتی ہے جب طرف گولی چلائے اور گولی کا مقابلہ سنگ بازی سے کیا جائے جس طرح فلسطین کی مظلوم عوام اسرائیل کی گولیوں کے مقابلے میں انجام دیتے ہیں نہ کہ بزدلوں کی طرح چھپ کر پیچھے سے حملہ کرنا۔ اور یہی وجہ ہے کہ میں نے اپنے 25 روزہ انتخابی سرگرمیوں کے دوران تین بڑے سنگ بازی کے حملوں کا نوٹس نہیں لیا جن میں نہ صرف مجھے مالی نقصان ہوا بلکہ محمد قاسم جیسے کئی شریف انسان شدید زخمی ہوئے اور تینوں حملوں میں پانچ جوانوں کی نشاندہی کے باوجود انکے خلاف کوئی ایف آئی آر درج نہیں کیا ہے کیونکہ انکی کوئی غلطی نہیں ہے انہیں یہ سمجھایا گیا ہے کہ یہی جہاد ہے اور یہ بھی جاری تہذیبی جارحیت کا حصہ بن چکا ہے جسے سمجھنے اور روکنے کیلئے عملی تدبیر بروی کار لانے کی ضرورت ہے۔


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500

قدرت گرفته از سایت ساز سحر