»
چهارشنبه 22 آذر 1396

ھفتہ وار محفل مذاکرہ درس اسلام کی پانچویں محفل کی پہلی نشست:

صحابہ (رض)کے درمیان اختلافات ہونے کے باوجود امت کی خیر وصلاح کیلئے متحد رہتے تھے

تنا (TNA) برصغیر بیورو

کشمیر بیورو , 1 شهريور 1391 گھنٹہ 21:27

اسلامی مسالک کے درمیان قربت اور یکجہتی کی اسلامی ثقافت کو فروغ دینے اور امت اسلامی کے دشمنوں کی سازشوں سے عوام کو باخبر کرنے کے حوالے سے درس اسلام کے عنوان سے کشمیر میں عالمی مجلس برای تقریب مذاہب اسلامی کے نمایندے نے ٹی پر محفل مذاکرہ کا سلسلہ شروع کیا ہے جسکی پانچویں محفل کی پہلی نشست کی گفتگو قارئین کے نذر ہے۔


بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ۔قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ۔اللَّهُ الصَّمَدُ۔لَمْ يَلِدْ وَ لَمْ يُولَدْ۔وَ لَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدُ: درس اسلام کو لیکر اس کی پانچویں محفل کی پہلی نشست کا آغاز کلام اللہ مجید سے:
میزبان عبدالحسین:آیات الہٰی کی روشنی میں جس طرح یہ سلسلہ چل رہا ہے۔آج درس اسلام کو لیکر اس کا آغاز ان الفاظ سے کرتے ہیں کہ بارالہٰا ان ایام (ماہ مبارک رمضان) کے صدقے امت محمدی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو قرآن پہ عمل کرنے کی توفیق فرما۔ اور اپنی دورو و رحمت اپنے حبیب محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کے اہلبیت علیہم السلام اور اصحاب منتجبین رضوان اللہ تعالی علیہ پرعنایت فرما۔ 

پچھلی بحث میں آیات قرآن کی روشنی میں علماء نے جس موضوع کو لیکر قرآن کے اس پیغام کو عام فہم الفاظ میں ہمارے سامنے رکھا کہ مسلمانوں کواس اتحاد اور اُس یکجہتی کا مظاہرہ اسی طرح کرنا چاہئے جس طرح وہ حج میں مسجد الحرام میں کرتے ہیں مناسک حج میں کرتے ہیں ۔ اگر واپس آکے وہ مسلکی رنگ کو اختلافی اور افتراق کا رنگ دیتے ہیں اس سے اجتناب کیا جانا چاہئے۔ اور اس دوران یہ بھی بات سامنے آئی کہ ہمیں یہ بات سمجھنی چاہئے کہ اختلاف اچھی چیز ہے اگرعلمی ہو ۔ مگر جس کی اسلام اور قرآن مذمت کرتا ہے وہ تفرقہ ہے اور ہمیں اس سے بچنا چاہئے۔

 
آج کی نشست میں ہمارے شریک گفتگو جس طرح آپ سب واقف ہیں کہ میر واعظ وسطی کشمیر مولانا سید عبد الطیف بخاری صاحب امام جمعہ مسجد جامع بیروہ، یہ تو پہلے سے ہی اس درس تقریب میں شریک گفتگو رہے ہیں۔ آج ہمارے شریک گفتگو ایک معروف عالم دین اور امام جمعہ جامع مسجد امام اعظم ابو حنیفہ بٹہ مالو جناب مولانا سید شریف الحق بخاری صاحب ہیں ہم ان کو آج کے اس بحث میں خوش آمد کہتے ہیں۔ 

جناب مولانا میر واعظ صاحب میں آپ سے اس بارے میں جاننا چاہوں کا کہ قرآن سورہ حجرات میں یہ جو بسم اللہ الرحمن الرحیم"إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ"( مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادیا کرو۔)یہاں دو باتیں سامنے آتی ہیں ۔ ایک تو یہ کہ مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اس بات کو تو کافی حد تک لوگوں نے سمجھا ہے اور ہر بات پہ ہم کہتے ہیں کہ بھئی مومن آپس میں بھائی ہیں، مسلمان آپس میں بھائی ہیں۔ مگر اس کا جو مفہوم ہے"فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ"( دو بھائیوں میں صلح کرادیا کرو) یہاں پہ یہ بات سامنے آتی ہے وہ یہ کہ بھئی ضرور ان بھائیوں میں کوئی ناچاکی موجود ہے ، اختلاف ہے ، غلط فہمی ہے ، اس کو دور کرنے کی ضرورت ہے۔ ان بھائیوں کے درمیان آپ اس غلط فہمی کو دور کریں ۔ تو اس سے یہ بات جو سامنے آتی ہے ، ایک یہ کہ بھائی اپنا عنوان نہیں کھوتا ہے اگر اس کے ساتھ ناچاکی بھی ہو ، بھائی پھر بھی بھائی رہتا ہے۔وہ دشمن نہیں بنتا۔ یہا ں پر سوال پیدا ہوتا ہےکہ پھر ہم اپنے بھائیوں کو دشمن کے صف میں کیوں لا کھڑا کر دیتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ جہاں پر دوریاں ہوں وہاں پر صلح و صفائی کرنا ہر کسی کا فریضہ ہے،لیکن عملی طور پر ایسا دیکھنے کو نہیں ملتا۔ اس کے لئے کیا کچھ عوامل کارفرما ہیں کس میں کوتا ہی رہی ہے۔ 

میر واعظ وسطی کشمیر و امام جمعہ مسجد جامع بیروہ بڈگام: یہ محمد رسول اللہ (ص) کا بہت بڑا احسان ہے ۔ اسلام سے پہلے یہ سمجھا جارہا تھا کہ بھائی وہ ہوتا ہے جس سے خون کا رشتہ ہو۔ لیکن ہمیں اسلام نے ایک نئی قدر دی ہے کہ ایک اور رشتہ بھی بھائیوں کا ہوسکتا ہے اور وہ ایمان کا رشتہ ہے۔ ایمان کی بنیاد پر ہم سب بھائی بھائی ہیں۔ اور اس لئے کہا گیا ہے کہ "إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ" کہ تمام مسلمان آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ تو یہ ضروری بات ہے کہ جب انسان سماج میں رہتا ہے تو سماج سے انسان کو بہت سے فائدے بھی ملتے ہیں لیکن دوسروں کے ساتھ رہنے سے کبھی آپس میں شکایتیں بھی پیدا ہوتی ہیں ، کبھی آپس میں رنجشیں بھی پیدا ہوتی ہیں تو کبھی مفادات کا ٹکراو بھی پید اہوتا ہے۔ تو اس قرآن کی آیت کا مقصد یہ ہے کہ اگر کہیں کوئی رنجش پیدا ہوجائے ، کہیں کوئی اختلاف پیدا ہوجائے تو ہر مسلمان کا فرض ہے کہ "فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ" کہ ہم اس اختلاف کو دور کریں ، ہم اس اختلاف کو تنازعہ بننے نہ دیں، اس اختلاف کو تفرقہ بننے نہ دیں۔ تو یہ سب مسلمانوں پر فرض عائد ہوتا ہے کہ "فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ"یعنی یہ خدا کا حکم ہے ۔ اسلئے یہ فرض ہے کہ اگر کہیں بھی ہمیں یہ لگے کہ مسلمان آپس میں لڑتے ہیں ، جھگڑتے ہیں، ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں، ایک دوسرے سے دوری اختیار کرتے ہیں تو ہمیں فوراً یہ کوشش کرنی چاہئے کہ ہم ان کے جو حالات ہیں ان کو ایک دم سدھار لیں۔ ان کو آپس میں بھائی بھائی بننے دیں اور اخوت کا جو رشتہ ہے اس کی آبیاری کریں ، اس کو مضبوط کریں اس کے لئے تو ہمیں کام کرنا ہے۔ 

عبدالحسین:بہت عمدہ ۔ میں اب جناب مولانا سید شریف الحق بخاری صاحب آپ سے یہ جاننا چاہوں گا کہ جس طرح میر واعظ صاحب نے بھی اشارہ کیا کہ"فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ"اس میں چونکہ بنیاد تو ایمان ہے بھائی تو ہے۔ اب ہم اس تناظر میں دیکھیں کہ اسلام میں جو پانچ فقہی مسالک ہیں ان میں کبھی یہ دیکھنے کو ملتا ہے کہ جعفری، حنفی، حنبلی، شافعی، مالکی یہ ایک دوسرے سے بہت دور ہیں ، ایک دوسرے سے ناراض ہیں۔ تو ہمیں اس آیت کی روشنی میں ان ناچاکیوں کو دور کرنے کے لئے کیا کچھ عملی طریقہ اختیار کرنا ہو گا۔
مولانا سید شریف الحق بخاری امام جمعہ و جماعات جامع مسجد امام اعظم ابوحنیفہ بٹہ مالو سرینگر: بسم اللہ الرحمٰن الرحیم ۔ قرآن سے ثابت ہوتا ہے کہ" وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَميعاً وَ لا تَفَرَّقُوا" اس لحاظ سے قرآن مجید کو مدِ نظر رکھکر اور سنت مصطفیٰ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو زیرِ نطر رکھکر ہم کو ایسے مسائل کو بڑھا چڑھا کر پیش نہیں کرنا چاہئےجن سے اختلافات پیدا ہوتے ہیں۔ ہاں اگرنماز یا روزہ یا زکوٰۃ یا حج یا کلمہ توحید جیسے بنیادی مسائل پہ تضاد ہو وہاں اختلاف ضرور رہنا چاہئے،البتہ فروعی مسائل میں اختلاف کو دور کرنے کیلئے لئے سب سے زیادہ علماء کو محنت کرنی ہے علماء کرام کو چاہئے وہ حنبلی ، حنفی ،مالکی، شافعی یا جعفری ہوں گے۔ سب کو مل بیٹھ کر ان مسائلوں کو حل کرنا چاہئے ۔ 

عبدالحسین:وہی تو ہم جاننا چاہیں گے کہ اسکے لئے کیا طریقہ کار ہوسکتا ہے۔ جس طرح کہ بھائیوں میں کبھی میراث کو لیکر، کبھی کسی اور موضوع کو لیکرآپس میں اختلاف ہوتا ہے۔ اپنے والدین سے ناچاکی رہیی ہے مگر اس کے باوجود وہ ایک ہی کنبے کے افراد کہلاتا ہیں۔انکے اکٹھے جمع ہونے کے مواقع بھی آتے ہیں۔جیسے خوشی یا غم وہاں رشتے کے اعتبار سے ایک جگہ جمع ہوتے ہیں اور اس وقت ان کے درمیان ناچاکی کوئی معنیٰ نہیں رکھتی۔ وہ رشتے میں سارے مسائل کو بھول کے وہاں پر وہ یہ بتاتے ہیں کہ ہم ایک ہی درخت کے شاخیں ہیں ، اسکے میوے ہیں ۔ ہمیں جوڑے رکھنے کی کم سے کم اور اقل ترین صورتحال موجود تھی جس نے ہمیں ایک جگہ جمع کردیا۔کیا مسجد مسلکوں کے درمیان اس رشتے کے مانند ہمیں ایک دین کے پھول ،پتے اور شاخیں ظاہر کرنے کیلئے متحد کرنے کیلئے کافی نہیں ہے۔اسکے لئے مسجدوں میں اس کا اہتمام کیسے کیا جاسکتاہے۔ جس طرح ہم نے پچھلے درس میں بھی مسجد الحرام کی مثال دی کہ بھئی مسجد الحرام میں ہم نماز امام کے پیچھے پڑھتے ہیں کوئی تو اس کو عادل بھی نہیں سمجھتا ہے، کوئی تو اس کو امام جماعت ہونے کے قابل نہیں سمجھتا ، کوئی تو اس کے مسلک سے اختلاف رکھتا ہے وغیرہ لیکن وہاں ہر دلیل سے آنکھیں چرا کےقربۃ الا اللہ کا عملی مظاہرہ کرتا ہے ۔ مجھے تو اللہ کے لئے نماز پڑھنی ہے، مجھے مسلک کے لئے تو نہیں پڑھنی ہے، مجھے تو اس امام صاحب کے لئے نماز تو نہیں پڑھنی ہے۔ مگر جب وہ واپس آتے ہیں تو وہ الہی رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے۔ اس کے لئے کیا کیا جانا چاہئے۔ 

مولانا سید شریف الدین بخاری: دیکھئے آغا صاحب اختلاف آج کل کی بات نہیں ہے۔ صحابہ میں بھی بڑے بڑے اختلافات تھے۔ آپ جانتے ہیں آپ عالم ہیں ماشاء اللہ۔ یہاں میر واعظ صاحب بھی بڑے عالم ہیں، مفکر ہیں اور آجکل کے نوجوان بھی یہ جانتے ہیں۔ کیونکہ ہر ایک کے پاس کتابیں ہیں اور مطالعہ بھی اچھی طرح سے کرتے ہیں۔ اگر ہم تاریخ کو لینگے تو ہم دیکھتے ہیں کہ صحابہ میں کتنا بڑا اختلاف تھا۔ ہر ایک صحابی کو دوسرے صحابی کے ساتھ اختلاف رہا کرتا تھا۔ مگر ایک بات ہے کہ ہم اس دور میں زیادہ اختلاف کی طرف دھیان دیتے ہیں ۔ میرے پیچھے جعفری مسلک کے بہت سے لوگ نماز پڑھا کرتے تھے اور آج بھی پڑھتے ہیں۔ جب میں لالچوک جامع مسجد امیر حمزہ میں بارہ سال تک میں وہاں امام و خطیب رہا تو ماگام سے یا سرینگر سے بہت شیعہ فرقہ کے لوگ میرے پیچھے نماز پڑھا کرتے تھے۔اسطرح جس بات کی طرف آپ اشارہ کررہے تھے وہ کسی حد تک سماج میں موجود ہے۔ میں نے ایک روز بیان کیا انہوں نے کہا مولانا یہ بات ہمیں بہت پسند آئی کہ آپ نے کہا قرآن ایک ہے، خدا ایک ہے، نبی ایک ہے، قبلہ ایک ہے۔ اب اختلاف ہم کرینگے تو کرینگے کس بات پر۔ اختلاف تو ائمہ نے بھی کئے۔ آپ جانتے ہیں کہ حضرت امام ابو حنیفہ (رہ) ان کے دو مشہور شاگرد حضرت امام محمد اور امام یوسف اور امام یوسف وقت کے قاضی القضاء تھے۔ لیکن اختلاف کرتے ہیں ایک جگہ حضرت امام اعظم کے ساتھ۔ مثال کے طور اگر مجھے ظہر کی نماز پڑھنی تھی تو جماعت قائم ہوئی ، سب لوگوں نے جماعت شروع کی تھی تو اب یہ آخر میں آئے تو اس کو تو فرض ہی ادا کرنی ہے ۔ فرض کے لئے اٹھا تو جب اس نے فرض ادا کی ۔ امام اعظم ابو حنیفہ علیہ الرحمۃ کا فتویٰ ہے کہ اسکے بعد سنت کو ادا کریں، دو سنت ، دو سنتوں کے بعد پھر چار جو اس سے چھوٹ تھی انہیں ادا کریں۔ لیکن صاحب نے فتویٰ اس پر نہیں دیا صاحب نے دی ترتیب۔ انہوں نے فرمایا پہلے ہم چار پڑھیں اس کے بعد دو۔ لیکن اس پر ائمہ اور علماء کسی نے اعتراض نہیں کیا۔ انہوں نے اس کو اپنی ہی جگہ پر رکھا۔ اب یہاں تو ہم روزانہ ہم لوگ حنفی ہوں، حنبلی ہوں، مالکی ہوں ، شافعی ہوں یا جعفری حضرات ہو ں ہر نماز کے بعد سنت یہ حلف ہم اٹھاتے ہیں "رضینا باللہ تعالیٰ رباً وباسلام دیناً وبمحمد (ص) نبییاً و رسولا وبالقرآن اماماً وبالکعبۃ قبلۃً وبالصلوٰۃ فریضۃً وبالمومنین اخوانا وبحضرت صدیق وبحضرت فاروق وبعثمان وبحضرت مرتضیٰ ائمہ رضوان اللہ تعالیٰ اجمعین’’۔ اب کس بات کا اختلاف ہونا چاہئے۔ 
محفل مذاکرہ درس اسلام کی پانچویں محفل کی دوسری نشست میں گفتگو جاری ہے


موضوع نمبر: 106664

موضوع کا ایڈرس: http://taghribnews.com/vdcceeqs02bqxe8.c7a2.html

تقريب خبررسان ايجنسی (TNA)

  http://taghribnews.com

 

ھفتہ وار محفل مذاکرہ درس اسلام کی پانچویں محفل کی دوسری نشست:

امام اول و خلیفہ چھارم علی علیہ السلام امت کو جوڑنے کے نقطہ مشترک ہیں

تنا (TNA) برصغیر بیورو

تنا کشمیر , 2 شهريور 1391 گھنٹہ 10:18

اسلامی مسالک کے درمیان قربت اور یکجہتی کی اسلامی ثقافت کو فروغ دینے اور امت اسلامی کے دشمنوں کی سازشوں سے عوام کو باخبر کرنے کے حوالے سے درس اسلام کے عنوان سے کشمیر میں عالمی مجلس برای تقریب مذاہب اسلامی کے نمایندے نے ٹی پر محفل مذاکرہ کا سلسلہ شروع کیا ہے جسکی پانچویں محفل کی دوسری نشست کی گفتگو قارئین کے نذر ہے۔


محفل مذاکرہ درس اسلام کی پانچویں محفل کی دوسری نشست:
عبدالحسین:پہلی نشست میں اشارہ ہوا کہ صحابہ میں بھی اختلاف موجود تھے۔ جناب میر واعظ صاحب جس طرح مولانا سید شریف الحق بخاری صاحب نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ خلفاء راشدین کے درمیان بھی اختلافات موجود تھے۔ اور اس میں ہم جو ایک ایسا نمونہ عالم اسلام کو پیش کرسکتے ہیں وہ مولا امیر المومنین علی ابن ابیطالب علیہ السلام کی ذات گرامی ہے کہ امام اول ہوتے ہوئے، چوتھے خلیفہ ہوتے ہوئے بھی خلفاء راشدین کے ساتھ ان کا اختلاف تھا۔ مگر ہمیں ایک بھی ایسا واقعہ نہیں ملتا کہ جس میں انہوں نے خلفاء راشدین کی اہانت کی ہو۔ انہوں نے ایسا کوئی موقف اختیار کیا ہو جس سے امت بکھر جائے۔ تو اس حوالے سے کہا جاتا ہے کہ علی مرتضیٰ علیہ السلام کی ذات گرامی امت کو متحد کرنے والی ذات گرامی ہے۔ اس حوالے سے کیونکہ آج (اکیس رمضان المبارک)مولا کی شہادت بھی ہے آپ سے یہ جاننا چاہوں گا کہ علی مرتضیٰ علیہ السلام کی عملی سیرت کو دیکھ کے امت کو اس سے کیا سبق سیکھنا چاہئے۔؟ 

میر واعظ مولانا سید عبدالطیف بخاری: حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ اور خلفاء راشدین کے درمیان اختلافات ہوتے تھے وہ رائے کا اختلاف ہوتا تھا۔ یہ بدقسمتی ہے کہ ہم اختلاف اور تفرقہ میں فرق نہیں کر پاتے ہیں۔ اگر کہنی رائے کا اختلاف ہو تو یہ مذہب میں جائز ہے ۔ رائے کا اختلاف تو صحابہ کے درمیان بھی تھا۔ لیکن رائے کا اختلاف نہ تو تفرقہ پر ختم ہوتا تھا نہ لڑائی جھگڑے پر۔ بہت دفعہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کسی معاملے کے بارے میں کوئی رائے رکھتے تھے تو پھر حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ سے رائے دریافت کرتے تھے۔پھر ان کو لگتا تھا کہ حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کی رائے زیادہ صحیح ہے تو اس وقت وہ کہا کرتے تھے "لولا علی لھلک العمر" اگر علی نہ ہوتے تو عمر ہلاک ہوجاتا۔ تو اسی طرح جو یہ اخوت کی بات ہے ۔ جب ہم دیکھتے ہیں کہ جب مدینہ میں مسلمان آگئے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مسلمانوں کے درمیان اخوت کا رشتہ قائم کیا۔ تو جو حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ تھے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے تو ہر ایک کو دوسرے کا بھائی بنایا مجھے تو کسی کا بھائی آپ نے نہیں بنایا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے اُن سے فرمایا "انت اخی فی الدنیا والآخرہ" تم تو دنیا میں بھی میرے بھائی ہو اور آخرت میں بھی میرے بھائی ہو۔ یعنی جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کے درمیان جو اخوت کا رشتہ ہے یہ نمونہ ہے اس کی تو ہمیں تقلید کرنی چاہئیے کہ جب انہوں نے اخوت کا رشتہ قائم کیا اور اس کی بنیاد ایمان تھی، ایمان کی بنیاد پر وہ رشتہ قائم تھا۔
 
تو یہی بات تھی کہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ ابن ملجم (لعین) نے جب حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کو شہید کیا ، ان پر حملہ کر دیا تو اس نے اس وقت پانی مانگا کہا مجھے پیاس لگی ہے مجھے پانی دیا جائے تو یہ حضرت علی مرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کی یہ وسیع القلبی دیکھنی ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ ان کو پہلے پانی پلاؤ۔ اپنے قاتل کو بھی وہ شربت پلا رہا ہے، پانی پلا رہا ہے۔ یہ تو قرآنی کردار ہے۔ ہم تو تھوڑا اختلاف بھی برداشت نہیں کر پاتے۔ مگر حضرت علی مرتضیٰ (علیہ السلام) اپنے قاتل کو شربت پلا رہے ہیں۔ تو اس سے ہمیں ایک سبق لینا چاہئے ۔ 

بنیادی بات یہ ہے کہ جو اختلاف کے دائرے ہیں ہمیں ان کو سمجھنا چاہئے اور ہم کو چاہئیے کہ جس طرح صحابہ میں اگر کئی اختلاف رائے بھی تھا تو اس کے باوجود وہ ایک ہی جماعت تھی جن کے بارے میں قرآن میں ہے کہ " رُحَماءُ بَيْنَهُمْ " ان کے درمیان رحمت کا تعلق تھا ، محبت کا تعلق تھا، شفقت کا تعلق تھا ۔ بدقسمتی یہ ہے کہ ہم اسوہ صحابہ کو بھی ایک طرف ڈال دیتے ہیں۔ خلفاء راشدین کے اسوہ کو بھی ایک طرف ڈال دیتے ہیں ۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر ہم آپس میں لڑتے ہیں، جھگڑتے ہیں ، ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں ۔ 

عبدالحسین :جی ،نامعقول اختلاف رکھنانہ صحابہ کی تعلیم ہے، نہ قرآن کی تعلیم ہے اور نہ اسلام کی تعلیم ہے۔مولانا شریف الحق صاحب میں آپ سے یہ جاننا چاہوں گا کہ جس طرح میر واعظ صاحب نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ مولا امیر المومنین (ع) اپنے قاتل کے بارے میں کہتے ہیں کہ بھئی اس کو شربت پلاو کیونکہ قرآن یہ درس دیتا ہے"ما عِنْدَكُمْ يَنْفَدُ وَ ما عِنْدَ اللَّهِ باق" جب یہ قاتل کے ساتھ ایسا سلوک کرنا ہمیں اسلام اور اسلامی رہنما ہمیں سکھاتے ہیں ۔ پھر مسلمان کیونکر اسے غافل ہوجاتا ہے۔ اور یہ جہاں پر اختلاف کی بات کی جاتی ہے ۔
 
فرض کریں شیعہ سنی کے درمیان اختلاف امامت اور خلافت پر ہے۔ اگرچہ اصطلاحی مفہوم میں دونوں کا معنیٰ اور مفہوم ایک ہے لیکن جب یہ خلافت راشدہ کا سلسلہ چل پڑا اُس سے امامت اور خلافت کے معنی اور مفہوم الگ ہوئے۔ علی مرتضیٰ علیہ السلام اس وقت بھی امام تھے جب جناب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پہلے خلیفہ بنائے گئے اور اس وقت بھی حضرت علی علیہ السلام امام تھے جب دوسرے خلیفہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور اسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب وہ تیسرے خلیفہ منتخب ہوئے اس وقت بھی حضرت علی علیہ السلام امام تھے۔ اور اس کے بعد امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام ، پھرامام حسین علیہ السلام اور یہ سلسلہ بارہویں امام قائم آل محمد عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف تک جاری ہے۔ مگر اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ امت کو متحد بنائے رکھنےکے خاطر انہوں نے ہر عملی تدبیر انجام دی ہے یہاں تک کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں علی مرتضی علیہ السلام ،حسنین علیماف السلام کو ان کی کمانڈ میں بھیجتے ہیں۔ 
غرض کہ اپنی ذاتی مسائل سے بڑھ کر اُمت کےمسائل کا لحاظ رکھا ہے۔ اور ہمیں امت کے تشخص کو ، ہم امت کے اتحاد کو باقی رکھنے کے لئے جس طرح علی مرتضیٰ علیہ السلام جیسی شخصیت نے بہت بڑی قربانی دی ہے۔ تو ہمیں اس طریقے سے آپ یہ بتائیے کہ آج کل کے دور میں اس اتحاد کو باقی رکھنے کے لئے کیا کرنا چاہئے؟ 

مولانا سیدشریف الدین بخاری: بہر حال" اختلاف امتی رحمۃ" حضور پاک صلی اللہ علیہ وآلہ کا ارشاد مبارک ہے میری امت کے اختلافات جو ہیں یہ رحمت ہے۔ لیکن جس طرح ہم اختلاف کرتے ہیں یہ تو نہیں ۔ہم ایک دوسرے پر تلوار اٹھاتے ہیں۔ مسائل میں تو اختلاف ہے۔ آپ جانتے ہیں آپ عالم ہیں ماشاء اللہ حضرت امیر المومنین علی ابن ابیطالب (علیہ السلام) کے بارے میں جب چہ می گوئیاں صحابہ نے کی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو جب اسکی خبر ملی تو حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غضب ناک ہوکر آئے اور فرمایا "من کنت مولا فھٰذا علی مولا" جس کا میں ولی ہوں اس کا علی بھی ولی ہے۔ تو اختلافات تھے اور رہینگے بھی، کیونکہ یہ دعا بھی قبول نہیں ہوئی۔ اب ہم کو ایک ہونا چاہئے ان اختلافات کو یکسو رکھکر بس متحد ہونے کی ضرورت ہے، فروعی مسائل کی طرف ہمیں دھیان نہیں دینا چاہئے۔ 

عبدالحسین: جہاں پر ہمیں اتنا عمدہ اختلاف موجود ہو علی مرتضیٰ اور خلفاء راشدین کے درمیان مگر اس کے باوجود بھی امت کے خاطر وہ اتحاد کا مظاہرہ کرتے تھے، شانہ بہ شانہ رہتے تھے۔ 

مولانا شریف الحق:جی،تاریخ کے حوالے سے میں یہ بات کرتا ہوں ابن خلدون کے حوالے سے،وہ یہ کہ ایک روز حضرت امیر المومنین علی ابن ابیطالب کرم اللہ تعالی وجہ ایک راستے سے تشریف لےرہے تھے تو وہاں سے حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ تشریف لارہے تھے تو حضور علی علیہ السلام نے دوسرا راستہ لینا شروع کردیا اس پر حضرت ابو بکر صدیق نے آواز دی یا علی (ع)۔ حضرت علی (ع) نے ان کی طرف دیکھا اور فرمایا کیا بات ہے۔ کیا آپ ہم سے ناراض ہیں۔ کہا ناراض تو ہیں۔ پوچھا کیوں۔ حضرت علی (ع) نے فرمایا اس بات پر کہ ہم اہلبیت کو یہ حق نہیں بنتا تھا کہ جب آپ نے خلیفہ مقرر کیا ہم کو خبر تک کیوں نہیں رکھی۔ آپ نے ہم کو کیوں نہیں بُلایا۔(اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ) کہا اےعلی (ع) آج یہ جو آپ کے دل میں کینہ ہے یہ نکل جائے گا ۔ اے علی میں جانتا ہوں آپ کی عظمت کیا ہے، آپکی فضیلت کیا ہے۔ میرے نبی (ص) آپ کی تعریف کیاکر تے تھے، آپکی عظمت کو بیان کر رہے تھے، آپ کے لئے رسول (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)نے فرمایا اے علی (ع) آپ کو میرے نزدیک وہ قرب حاصل ہے ، وہ عظمت حاصل ہے جو حضرت ہارون کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے نزدیک تھی لیکن میرے بعد نبی نہیں ہے۔"جمسک جمسی، لحمک لحمی و دمک دمی" تو حضور (ص) آپ کے بارے میں بہت تعریفیں کرتے تھے۔ مگر اے علی (ع) جب آپ(آنحضرت کے) تجہیز و تکفین میں مشغول تھے، عباس (رہ) آپ کے ساتھ ، ان کا فرزند آپ کے ساتھ ، حضرت عبد اللہ بن عباس آپ کے ساتھ، آپ بھی، حسنین کریمین بھی سب مشغول تھے۔ لیکن اے علی (ع) جب ہم مسجد نبوی (ص) میں گئے ہمیں انصار نے کہا اب ہمیں امیر المومنین بنانا چاہئے ، اب خلیفہ ہم میں سے بننا چاہئے کیونکہ ہم نے آپکوتعاون دیا۔ آپ مکہ سے آئے ہم نے آپ کا مدد کی۔ تو ایک صحابہ نے حضرت عمر پر ہاتھ اٹھایا۔ حضرت علی (ع) نے فرمایا نہیں خلیفہ ہم میں سے ہونا چاہئے تو حضرت ابوبکر صدیق (رہ) نے یہ حدیث مبارک بیان فرمایا"سمیت عن نبی الائمۃ من القریش" تو صحابہ متفق ہوئے بہ اتفاق رائے اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو انہوں نے اپنا خلیفہ بنایا۔ تو حضرت علی (ع) نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو گلے سے لگایا۔ یہ وہی علی ہیں ۔ ہم تفرقہ ڈالتے ہیں لوگوں کو فتنہ اور فساد میں مبتلا کرتے ہیں۔ حضرت علی علیہ السلام نے اپنے قاتل کو ابن ملجم لعین کو اور اپنے فرزند سے فرمایا کہ میرے قاتل کو معاف کرنا اس کو سزا نہیں دینا۔ یہ دور اندیشی ہے۔ 

عبدالحسین:انہوں نے یہ کہا کہ اگر میں اس ضرب سے بچ گیا تو پھر میں جانتا ہوں کہ میں اس کے ساتھ کیسا سلوک روا رکھوں لیکن اگر میں اس ضرب سے نہیں بچا تو پھر اس پہ ایک ہی وہ ضرب مارا جائے جو اس نے مجھ پہ مارا ہے اس سے زیادہ نہیں۔ یہاں پر بھی عدل و انصاف کا قرآنی درس دیتے ہیں۔ 

محفل مذاکرہ درس اسلام کی پانچویں محفل کی تیسیری نشست میں گفتگو جاری ہے


موضوع نمبر: 106680

موضوع کا ایڈرس: http://taghribnews.com/vdcaain6w49nwi1.zlk4.html

تقريب خبررسان ايجنسی (TNA)

  http://taghribnews.com

 

ھفتہ وار محفل مذاکرہ درس اسلام کی پانچویں محفل کی تیسری نشست:

حسنین کریمین نے صلح اور جنگ کرکے اسلام کی حفاظت کا طریقہ کار سیکھایا ہے

تنا (TNA) برصغیر بیورو

تنا کشمیر , 2 شهريور 1391 گھنٹہ 11:44

اسلامی مسالک کے درمیان قربت اور یکجہتی کی اسلامی ثقافت کو فروغ دینے اور امت اسلامی کے دشمنوں کی سازشوں سے عوام کو باخبر کرنے کے حوالے سے درس اسلام کے عنوان سے کشمیر میں عالمی مجلس برای تقریب مذاہب اسلامی کے نمایندے نے ٹی پر محفل مذاکرہ کا سلسلہ شروع کیا ہے جسکی پانچویں محفل کی تیسری نشست کی گفتگو قارئین کے نذر ہے۔


محفل مذاکرہ درس اسلام کی پانچویں محفل کی تیسری نشست:
میزبان عبدالحسین:میر واعظ صاحب ابھی مولانا سید بخاری صاحب نے اشارہ کیا کہ علی مرتضیٰ علیہ السلام اور خلفاء راشدین کے درمیان اختلافات تھے لیکن امت کے عظیم مفادات کا بھی بھر پور لحاظ رکھتے تھے ۔یہاں پر میں یہ کہنا چاہوں گاکہ ہم اس بات کو سمجھیں کہ جو شیعہ سنی اختلاف ہے وہ اسی خلفاء راشدین کی خلافت اور علی مرتضیٰ کی امامت کو لیکر ہے۔اورجب ہم یہ قبول کرتے ہیں کہ علی مرتضیٰ علیہ السلام نے چوتھا خلیفہ بننا قبول کیا ہے۔ وہ عالم اسلام کے چوتھے خلیفہ ہیں۔ تو پھر اختلاف کی گنجائش ہی نہیں رہتی ہے۔ اگر کوئی اس خلافت راشدہ اور امامت کے بارے میں اختلاف کرتا ہے اسے سمجھنا ہوگا کہ اس اختلاف کو علی مرتضیٰ علیہ السلام نے خود ختم کردیا ہے اور خلافت راشدہ اور امامت کو دو اصطلاح میں الگ کردیا ہے۔ مگر کچھ لوگ ایسے ہیں جو غلط طریقے سے ان کی شکلیں پیش کرتے ہیں۔ فرض کریں کہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے بارے میں چونکہ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام دوسرے امام اور پانچویں خلیفہ تھے اور امیر شام کہ جس نے چوتھے خلفیہ کے خلاف بغاوت کی اورخلافت کے خلاف بغاوت کا سلسلہ شروع کیا ۔ مگر اس کے باوجود امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اُن سے صلح کرتے ہیں، کیوں؟، امت کے اتحاد کے لئے ۔لیکن امت کے اتحاد اور یکجہتی کیلئے انکی قربانیوں کا چہرہ مسخ کرکے پیش کیا جاتا ہے کہ جناب وہ نرم مزاج کے تھے۔انکی دوسو، تین سو بیویاں تھیں ، جب وہ اس دنیا سے رحلت کر گئے پھر وہی قافلہ نکلا ان کی بیویوں کا ، وہ بہت سر پیٹ رہے تھے وغیرہ۔ 
تو اس طریقے سے ان کا چہرہ مسخ کیا جاتا ہے کہ وہ امام حسن مجتبیٰ نعوذ باللہ دنیا پرست تھے۔ اور انہوں نے اعتدال کی زندگی بسر کی ۔ اور ان کے مقابلے میں امام حسین علیہ السلام کو شدت پسند کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جاتی ہے مگر جو حقیقت میں اتحاد کا اصلی پیغام ہےقرآن جس کی تعلیم دیتا ہے اور ائمہ معصومین اسکی حفاظت کرتے آئے ہیں اُس کو مسخ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایک کی تصویر ایک، دوسرے کی تصویر کچھ اور تصویر۔ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام اور امام حسین علیہ السلام کو ایک متضاد تصویر کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ 
مگر اصل میں جو حقیقت ہے کہ وہ جس پر قربان ہوئے ہیں وہ قرآن ہے۔ امام حسین علیہ السلام نے اس لئے یزید کے ساتھ اختلاف کیا کیونکہ قرآن کی تعلیم مسخ ہوتی تھی ، قرآن کی جو تصویر مسلمان کے سامنے پیش کرنی تھی وہ تو مسخ ہورہی تھی ۔
 
مگر جہاں پر امیر شام کی بات اور امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے صلح کی بات تھی کم سے کم امیر شام تو ظاہر میں اسلام رعایت کرتا تھا اور وہاں پر اتحاد کی گنجائش تھی۔ یعنی یہاں پر ہمیں یہ حسنین کریمین یہ سبق دیتے ہیں کہ جہاں پر آپ کو امت کے مسائل ہیں آپ دیکھئے کم ترین نقطے کو لیکر آپ اتحاد کریں۔ 
مگر جب آپ کو ایسا نقطہ ملے کہ جو بالکل قرآن کو مسخ کرنا چاہتا ہے اُس پہ آپ اتحاد نہ کریں۔ اس حوالے سے آپ امت سے کیا توقع رکھتے ہیں کہ اہلبیت سے کیا درس اتحاد سیکھا جاسکتا ہے؟۔ 

میر واعظ وسطی کشمیر مولانا سید عبدالطیف بخاری: امام حسن مجتبیٰ اور امام حسین علیہم السلام یہ ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں۔ جب ہم دیکھتے ہیں امام حسن مجتبیٰ (ع) نے امیر شام سے امیر معاویہ سے صلح کر لی تو اس میں یہی پیش نظر تھا کہ جو امت ہے یہ کسی خانہ جنگی کا شکار نہ ہوجائے۔ تو جو وسیع تر مفادات تھے امت کے ان کو نظر میں رکھکر انہوں نے صلح کرلی۔
 
تو اس سے ہمیں یہ درس ملتا ہے کہ جہاں امت کا مجموعی مفاد ہو وسیع تر مفادات کے لئے ہمیں چھوٹے چھوٹے مفادات قربان کرنے چاہئیے اور ہمیں ملت کے مفاد کو سب سے زیادہ ترجیح دینی چاہئیے۔ تو آجکل کیا ہوا ہے کہ جتنے بھی اسلامی ممالک ہیں وہ تو ملکی مفاد کو ملت کے مفاد پر ترجیح دیتے ہیں۔ آجکل یہ دیکھنے میں آرہا ہے ۔
 
اسی طرح جو ہمارے مسلکی مفادات ہیں، گروہی مفادات ہیں اُن کو بھی ہم ملت کے مفادات پر ترجیح دیتے ہیں۔ جب تک ہم اس طریقے کو نہ بدلیں تب تک ہم دنیا میں طاقتور قوم بنکر نہیں رہ سکتے۔ 
جہاں تک امام حسین علیہ السلام کا تعلق ہے تو انہوں نے جو جہاد کا طریقہ اختیار کیا وہ اسلئے کیا کہ صلح کے باوجود جو اسلام کی صورت تھی وہ مسخ ہوتی جارہی تھی۔ تو ان کو یہ لگا کہ قربانی دینے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں ہے۔ یہ بات جو ہے یہ حالات کے پیش نظر ہے۔ امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے سامنے ایک حالت تھی اور امام حسین علیہ السلام کے لئے دوسری۔ 

عبدالحسین:حالات کے علاوہ میں یہاں پہ کہنا چاہوں گا کہ جب امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام نے صلح کی کیا امام حسین علیہ السلام ان کے ساتھ نہیں تھے یعنی وہ امام حسین علیہ السلام نے بھی صلح کی۔ کیونکہ وہاں پر امام زمان امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام تھے اس لئے امام حسین علیہ السلام ان کے تابع تھے۔ اور انہوں برابر اس پہ عمل کیا۔ 

میر واعظ: دراصل امام حسین علیہ السلام نے کوئی جنگ نہیں کی اس نے قربانی دی۔ ہم اس کو غلط طریقے سے پیش کرتے ہیں اگر ہم کہیں کہ انہوں نے جنگ کی۔ میرا خیال ہے کہ انہوں نے جنگ نہیں کی انہوں نے قربانی دی۔ قربانی سے اسلام کو زندہ کیا۔ 

محفل مذاکرہ درس اسلام کی پانچویں محفل کی چوتھی نشست میں گفتگو جاری ہے


موضوع نمبر: 106690

موضوع کا ایڈرس: http://taghribnews.com/vdcb90b8grhbg0p.kvur.html

تقريب خبررسان ايجنسی (TNA)

  http://taghribnews.com

 

ھفتہ وار محفل مذاکرہ درس اسلام کی پانچویں محفل کی چوتھی نشست:

نماز جمعہ میں مسلکی رنگ سے بڑھکر قرآنی حکم کو لبیک کہتے ہوئے عملی اتحاد کا مظاہرہ کیا جاسکتا ہے

تنا (TNA) برصغیر بیورو

تنا کشمیر , 2 شهريور 1391 گھنٹہ 11:57

اسلامی مسالک کے درمیان قربت اور یکجہتی کی اسلامی ثقافت کو فروغ دینے اور امت اسلامی کے دشمنوں کی سازشوں سے عوام کو باخبر کرنے کے حوالے سے درس اسلام کے عنوان سے کشمیر میں عالمی مجلس برای تقریب مذاہب اسلامی کے نمایندے نے ٹی پر محفل مذاکرہ کا سلسلہ شروع کیا ہے جسکی پانچویں محفل کی چوتھی نشست کی گفتگو قارئین کے نذر ہے۔


محفل مذاکرہ درس اسلام کی پانچویں محفل کی چوتھی نشست:
میزبان عبدالحسین: جب ہم اسلام کے بزرگوں کی بات کرتے ہیں امعلوم ہوتا ہے کہ اُن کے لئے سب سے بڑا مفاد جو رہا ہے وہ قرآن رہا ہے، سب سے بڑا مفاد جو رہا ہے وہ اسلام رہا ہے۔ تو ہم اس زمانے میں اس بات کو لیکے کہ بھئی خلافت خلفاء میں یہ بات ہے ، تاریخ میں وہ واقعہ رونما ہوا، ان پر مجادلہ کرنے کے بجائے ان سے درس لینے کی کوشش کرنی چاہئے وہ کہ جنہوں نے صدر اسلام سے جس حقیقت کیلئے اپنی جان مال اورہر چیز قربان کردی ہے وہ دین مقدس اسلام رہا ہے۔ اس وقت تونہ خلفاء راشدین ہیں نہ علی مرتضیٰ ہیں نہ امام حسن مجتبیٰ ہیں نہ امام حسین علیہ السلام ہیں مگر قرآن تو ہے۔ ہمیں قرآن کو دیکھنا ہے کہ قرآن ہمیں کیا کہتا ہے۔ 

میر واعظ مولانا سید عبدالطیف بخاری: تاریخ کو ہم نہیں دوہرا کر سکتے۔ اب ہم جو تاریخ میں ہے اس کو ایک طرف چھوڑ دیتے ہیں۔ لیکن اس وقت جو ہمارے پاس قرآن ہے، ہمارے پاس احادیث محمد رسول اللہ (ص) ہیں۔ اسی طرح ہمارے پاس صحابہ کا بھی اسوہ ہے، اہلبیت طاہرین کا بھی اسوہ ہے۔ اگر ان کو ہم پیش نظر رکھیں تو میرا خیال ہے کہ یہ امت گمراہ نہیں ہوجائے گی۔ جیسا کہ نبی کریم (ص) نے فرمایا "ترکت فیکم ثقلین" میں تم میں دو چیزیں چھوڑ رہا ہوں ایک قرآن اور دوسرا میری عترت یعنی اہلبیت۔ یعنی جو اہلبیت تھے ان کی تربیت خود رسول اللہ (ص) نے فرمائی تھی۔ تو جن کی تربیت خود رسول اللہ (ص) نے فرمائی ہو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کا جو کردار تھا وہ اسلامی کردار تھا، ان کا اخلاق اسلامی اخلاق تھا، ان کا برتاؤ اسلامی برتاؤ تھا۔ تو اسلئے اگر ہم اس کی پیروی کریں تو اس دور کے جو فتنے ہیں ان سے ہم محفوظ رہ سکتے ہیں۔
تو دوسری بات یہ ہے کہ جو ہمارا یہ سماج ہے اسلام کے پیش نظر اسلام کوئی انفرادی مذہب نہیں ہے بلکہ ایک اجتماعی مذہب ہے۔ اگر ہم اسلام کی تعلیمات پر غور کریں تو ہر جگہ جو ہمارے سماجی تعلقات ہیں چاہئے ہمسایہ کے تعلقات ہوں، ماں باپ کے ساتھ رشتہ ہو، یعنی جتنے بھی حقوق مقرر کئے گئے ہیں ، حقوق العباد مقرر کئے گئے ہیں تو اس سے لگتا ہے کہ جو اسلام ہے یہ ایک سماجی مذہب ہے۔ اور اسلام کے پیش نظر یہ بات ہے کہ ایک ایسا سماج بنایا جائے، ایک ایسا معاشرہ بنایا جائے جس میں ہر کوئی دوسرے کا مددگار ہو، ہر کوئی دوسرے سے محبت کرے، ہر کوئی ایک دوسرے کا ہمدرد ہو، ہر کوئی ایک دوسرے کے ساتھ ایثار کا معاملہ کرے، ہر کوئی دوسرے کا خیر خواہ ہو، یعنی اس معاشرے کو بنانا جیسے ماضی میں ضروری تھا اس وقت بھی ضروری ہے۔ تو اس وقت ہمارا کام یہی ہونا چاہئیے ، تمام علماء کا کام یہی ہونا چاہئیے کہ ایسے معاشرے کو تعمیر کریں ، نفرت کی دیواروں کو مٹائیں ،محبت کے پیغام کو عام کریں ، شفقت کے پیغام کو عام کریں اور ایک دوسرے کے ساتھ مل جائیں ، اپنا اپنا مسلک اپنی جگہ رکھیں ۔ 
مگر اس کے باوجود جو بنیادی باتیں ہیں اُن بنیادوں پر ایک ہوجائیں تب ہم جو سامراجی قوتیں ہمارے خلاف جو حربے کرتے ہیں ، سازشیں کرتے ہیں ان کا مقابلہ ہم تب کرسکتے ہیں ۔ ہمارے پاس اتحاد کے سوا کوئی ہتھیار نہیں ہے۔ ٹیکنالوجی میں تو ہم پچھڑ چکے ہیں، سائنسی علوم میں ہم پچھڑ چکے ہیں۔ 

عبدالحسین: انشاء اللہ وہ سب ہم واپس لائینگے لیکن جب ہم ایک ہوجائیں گے۔ میں آخر میں ایک سوال مختصر الفاظ میں دونوں حضرات سے کرنا چاہوں گا کہ قرآن ہم نے ابھی کہا کہ صحابہ کرام ، ائمہ معصومین علیہم السلام صرف قرآن ان کے لئے مقدس تھا ، ابھی بھی ہمارے درمیان قرآن موجود ہے ۔ ہم قرآن کی اتباع میں جس طرح آپ لوگوں نے بھی اس آیت کی " وَ اعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَميعاً وَ لا تَفَرَّقُوا" اتحاد کو بنائے رکھنا ہے یا جب اختلاف ہو" فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ" توبھائیوں کے درمیان مسلمانوں کے درمیا ن،مسلکوں کے درمیاں اصلاح کرنی ہے۔ تو آپ مختصر الفاظ میں بتائیے کہ اگر ہمیں قرآن جمعہ کے دن پکار رہا ہے "بسم اللہ الرّحمٰن الرّحیم۔ يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلى‏ ذِكْرِ اللَّهِ وَ ذَرُوا الْبَيْعَ ذلِكُمْ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ" اور اس جمعہ کواُس اسلامی جمعہ میں زیادہ سے زیادہ ایک سیاسی، مذہبی اور سماجی جو اتحادی نمونہ ہے اُس کو کیسے یقینی بنایا جا سکتا ہے؟۔ 

مولانا سید شریف الحق بخاری:جیسے کہ آپ اور میر واعظ صاحب ابھی فرما رہے تھے کہ ہماری کامیابی کا راز قرآن میں ہے اور سنت محمد رسول اللہ (ص) میں ہے۔ اگر ہم کہیں کہ خالی قرآن کو لیجئے تو یہ ہدایت نہیں ہے۔ کیونکہ حضور (ص) کا فرمان ہے جہاں حضور (ص) نے یہ بھی فرمایا:"علیکم سنّتی و سنّتی خلفاء راشدین المھدیین" وہاں تو حضور (ص) نے یہ بھی فرمایا "یا ایّھا النّاس انی تارک فیکم الثّقلین کتاب اللہ و عترتی اھلبیتی ما ان اخرجتم لن تضلوا "اسی کے ساتھ دوسرا حدیث بھی فرمایا "یا ایّھا النّاس انی تارک فیکم الثقلین ما ان خرجتم لن تضلو کتاب اللہ و سنّتی" قرآن ، سنت اور خلفاء راشدین ہمارے لئے بہترین راستہ ہے کہ جو تمام اختلافات ہیں یہ انشاء اللہ دور ہوجائیں گے۔ 

میر واعظ سید عبدالطیف: ابھی آپ یہ جو فرما رہے تھے کہ قرآن کی پکار ہے" يا أَيُّهَا الَّذينَ آمَنُوا إِذا نُودِيَ لِلصَّلاةِ مِنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلى‏ ذِكْرِ اللَّهِ "تو یہاں پر جو خطاب ہورہا ہے یہ تو مومنوں سے ہورہا ہے، یہ مسلک والوں سے نہیں ہورہا ہے، جس نے بھی کلمہ "لااله الااللہ" پڑھا ہو اُسے کہا جارہا ہے کہ " فَاسْعَوْا إِلى‏ ذِكْرِ اللَّهِ" مسجد کی طرف دوڑو ۔ تو اس کا مطلب ہے کہ ہمیں مسلکی بنیاد پر الگ الگ مسجدیں بنانے کا کوئی جواز نہیں جمعہ کا جو اجتماع ہے۔ 

عبدالحسین :اگر ہم الگ الگ مسجدوں میں نماز پڑھیں مگر کم سے کم جمعہ کے دن تو اجتماعیت کا مظاہرہ کریں۔اخوت کا مظاہرہ کریں۔ 

میرواعظ:جی،اگر ہم ان باتوں کو سمجھیں کہ اجتماعیت ہمارے لئے کتنی ضروری ہے ، اتحاد اور اتفاق ہمارے لئے کتنا ضروری ہے۔ اگر ہمیں اس کا فہم پیدا ہوجائے تو میرا خیال ہے کہ پھر ہم الگ الگ مسجدیں نہیں بنائیں گے۔ 

عبدالحسین: بہت بہت شکریہ ابھی آپ نے دیکھا علماء نے اس بات پہ روشنی ڈالی کہ ہمیں جو قرآن درس دیتا ہے کہ"إِنَّمَا الْمُؤْمِنُونَ إِخْوَةٌ فَأَصْلِحُوا بَيْنَ أَخَوَيْكُمْ"( مومن تو آپس میں بھائی بھائی ہیں۔ تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کرادیا کرو۔) قطعاً بھائیوں میں اختلاف ہوسکتا ہے اُن کو اصلاح کی ضرورت ہے اور اصلاح کرنے کا طریقہ بتایا کہ کس طریقے سے ہمیں بھائیوں میں اصلاح کرنی چاہئیے، مومنوں کے درمیان اصلاح کرنی چاہئیے۔ اور جہاں اسلام کے بزرگوں کی بات آئی ، خلفاء راشدین کی بات آئی یا اہلبیت اطہار ،ائمہ معصومین علیہم السلام کی بات آئی تو ہم نے دیکھا کہ اُنہوں نے جو کچھ بھی کیا انہوں نے کلمۃ اللہ کے لئے کیا ہے، انہوں نے جو قربانیاں دی ہیں امت کے لئے دی ہیں۔ اور سب سے جو مقدس منشورہے اگر اس وقت خلفاء راشدین نہیں ہیں اس وقت ہمارے درمیان قرآن و سنت موجود ہے ہمیں اس کی اتباع کرنی ہے۔ اور جس پیغام کو انہوں نے ہمارے لئے چھوڑا ہے اور قرآن نے اس کی تلقین کی ہے وہ اتحاد اور اتفاق ہے جسکا کم سے کم ہمیں ہفتے میں ایک بار عملی مظاہرہ کرنے کا موقع ملتا ہے وہ نماز جمعہ ہے۔ ہمیں چاہئیے کہ نماز جمعہ میں اجتماعی طور پر مسلکی رنگ سے ہٹ کر صرف قرآنی اس آواز کو لبیک کہتے ہوئے اس نماز جمعہ کو پُر رنگ طریقے سے ، پُر زور طریقے سے مسلمانوں کے سیاسی اور مذہبی طاقت دکھانا ہے اور پوری دنیا کے لئے اپنے امت واحدہ ہونے کا مظاہرہ کرنا ہے۔
ان ہی الفاظ کے ساتھ آپ سے اجازت لینگے والسّلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔


موضوع نمبر: 106691

موضوع کا ایڈرس: http://taghribnews.com/vdccoeqss2bqxe8.c7a2.html

تقريب خبررسان ايجنسی (TNA)

  http://taghribnews.com


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500

قدرت گرفته از سایت ساز سحر