»
سه شنبه 2 آبان 1396

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سن1989 کا مقالہ؛عسکریت تحریک آزادی کشمیر کے لئے مفید یا نقصاندہ؟

 

میں نہیں جانتا کہ میرا قلم عسکریت کی ثقافت کی تاریخ رقم کرنے کے کس پہلو سے گذر کر کس حد تک حقائق کی نشاندہی کرنے میں کامیاب ہوجائے گا ، ہاں اتنا ضرور کہوں گا کہ میری فکروادی کشمیر کے حالات پر مرکوز ہے ۔ چونکہ میری ذہن آج کل ایک عجیب سی الجھن میں گھیری پڑی ہے ممکن ہے کہ وہ کسی دوسرے کشمیری سے بھی مختلف نہ ہو ، البتہ جہاں تک میری کم سنی اور کند ذھنی کا تقاضا ہے ہو سکتا ہے کہ میری باتوں میں بھی بچپنا ظاہر ہوتا ہو، البتہ سوال ضرور ہے کہ جسکا جواب ڈھونڈنے کی کوشش کرنے جارہا ہوں وہ یہ کہ ہم لوگ جو ایک حسین خواب کے سہارے "حق خود ارادیت "،" آزاد فضا" ،" آزاد ملک" ،" اپنے وجود اور تشخص کی بازیابی" کے نعرے  کو بلند کررہے ہیں کنہی صرف خواب بن کر نہ رہ جائے۔

 اس وقت ہم جس جذبے اور ایثار  کا مظاہرہ کر رہے ہیں کنہی وہ  سراب بن کے صرف راکھ کے ڈھیرے میں تبدیل نہ ہو جائے۔ جبکہ یہاں کے فلک شگاف نعرے"اللہ اکبر" لا الہ الا اللہ" بلند ہوتے رہتے ہیں ۔ چونکہ صرف اسلامی نعرے ہیں اسلامی رہنمائی نہیں ہے آیندہ نہایت تاریک لگتا ہے۔

اسوقت کشمیری عوام ظلم کے ہاتھوں بھی شکار  اور اقتصادی حالات سے بھی دوچار ہیں ۔ ان سب حالات کے ساتھ ہم[وادی کشمیر کے باشندے] مقابلہ کرنے کیلئے تو بلکل تیار ہیں مگر جس ہتھیار کو ہم نے نجات کا سبب سمجھا ہے  ایسا نظر آرہا ہے کہ وہ ہمیں دردناک عذاب کی طرف لیتا جارہا رہاہے ۔ یہاں نوجوانوں نے اپنی جان پر کھیل کر سرحد پار کرکے وہاں سے کلاشنکوف وغیرہ لا کر کشمیر کی فضا کو گھن گرج سے توبھر دیا ہے اور کلاشنکوف ثقافت کا بول بالا ہونے لگا ہے، جبکہ اسی کلاشنکوف کو حاصل کرنے میں نہ جانے کتنے شہیدوں کا خون بہا ہوگا، اسکی حفاظت کرنے میں بہا ہوگا، اسکے استعمال سے بہا ہوگا ، اس پر اعتماد سے بہا ہوگا وغیرہ ۔ ۔ اور یہ کلاشنکوف جو اس وقت مجاہدوں کے ہاتھوں میں ہوتا ہے ان کو اسے کوئی کھلونہ نہیں سمجھنا چاہئے بلکہ اسکی حفاظت اور اسکا استعمال نہایت سوچ کر کرلینا چاہئے اور خیال رکھنا چاہئے کہ سرحد سے آتے وقت یا جاتے وقت کتنے مجاہدوں کی قربانیاں دینی پڑھتی ہے ۔ اور جان لینا چاہئے کہ اس ہتھیار کو آپ یہاں اس لئے لاتے ہیں کہ  اس کے بدولت آزادی حاصل کرلیں گے اور اپنا حق حاصل کرکے رکھیں گے البتہ اسی موضوع پر میری ذہن میں کئ سوالات امڑ پڑتے ہیں کہ :

کنہی یہ آزادی کی جنگ ہمارے لئے بربادی کا سبب نہ بن جائے ؟

کنہی  ہم آزاد فضا دیکھنے کے بجائے تاریکیوں کی بند کوٹھریوں میں نہ رہ جائیں ؟

کنہی ہم لوگ اپنا حق ڈھونڈنے کے غرض سے اپنے ہی حقوق پامال نہ کر جائیں ؟

کنہی ہم جنت بے نظیر میں رہنے والے جہنم کے پتلے نہ بن جائیں ؟

کنہی جوکشمیر، اپنے جن امتیازات کے اعتبار سے اپنی مثال آپ ہے صرف تاریخ کا  ایک باب کے ساتھ جہل اور جمود کا مجسمہ بن کر نہ رہ جائے ؟

 کنہی  جس کشمیر کے بارے میں کیا خوب کہا گیا ہے کہ :

اگر     فر د و س     بر و ی   ز مین    ا  ست/ہمین است ، ہمین است و ہمین است۔کے بجائے " اگر فردوس بروے زمین بود / کشمیر بود کشمیر بود و کشمیر بود  بن کر رہ جائے؟

الغرض اس وادی جنت نظیر  کی اپنی مثال آپ  ہونے کی حیثیت اور اس کی بقا کا بھر پور خیال ہم نوجوانوں کو رکھنا ہوگا۔ ہر ممکن طریقے سے اسکی عظمت کی حفاظت کرنے میں کسی قسم کی کوتاہی نہ ہونے پائے !مگر افسوس ہم لوگ دل میں تو ایک نیک تمنا رکھتے ہیں مگر اس پر عمل نہیں کرتے ۔ ہم سب لوگوں کی یہی تمنا ہے کہ ہم کشمیر کو ہندوستان کے زنجیروں کو توڑ کر ایک آزاد فضا قائم کریں گۓ ۔ کشمیر کا ہر خود دار فرد ڈاکٹر اقبال کے اس ارشاد کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے کہ جسے انہوں نے اپنی قوم کو پیغام دیا تھا کہ :خودی   کو   کر   بلند   ا  تنا کہ   ہر تقدیر       سے پہلے/خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے ۔

اور انشااللہ کشمیر کی خودار عوام کے  سر پر خودی اور خود اعتمادی کا تاج بلند رہے گا ۔ مگر میں جس افسوس اور ر نج کا ذکر کرنے جا رہا ہوں وہ یہ ہے کہ جس ہتھیار کو ہم نے اپنے خوابوں کا شرمندہ تعبیر سمجھا ہو کہنی صرف معکوس فائدہ نہ دے جائے ۔!

میرے کہنے کا مطلب یہ ہے کہ یہ ہتھیار اور عسکری جدوجہد اب غلط انداز اختیار کرنے لگی ہے ۔ اور کشمیر کی یہ تحریک اب تخریب کی طرف بڑھنے لگی ہے اب ذاتی مسائل بھی کلاشنکوف کے ذریعے حل ہونے چلے ہیں ۔ اب ذاتی دشمنی کی بڑھاس بھی کلاشنکوف کے ذریعے نکالی جانے لگی ہے ، اور کیا نہ کیا ہونے چلا ہے یہاں پر ذکر کرنا مناسب نہیں سمجھتا ۔یہاں تک کہ قتل عام بھی شروع ہوا ہے ۔قتل عام، وہ قتل عام نہیں جو آپ کی ذہن میں مجسم ہوا ہوگا یعنی جو ہندوستان کے ناپاک ہاتھوں سے کشمیری مظلوم عوام کاقتل اور خون ریزی جاری ہے  ، یہ تو ہماری تحریک کا حصہ ہے جبکہ عام کہاوت بھی ہے کہ کچھ پانے کیلئے کچھ کھونا بھی پڑتا ہے ۔ مگر اس کے برعکس ایک اور قتل عام ہو رہا ہے وہ قتل عالم اپنوں کے ہاتھوں اپنوں کا قتل ہے ۔کشمیر کی ثقافت اور تاریخ کا قتل۔ یہ بات قابل غور ہے کہ اگر کلاشنکوف کشمیری نوجوان نے اپنی جان پر کھیل کر اپنے قوم کی سربلندی اور حقوق کی بازیابی کیلئے حاصل کیا ہے تو  پھر کیوں اسکے شکار اصلی دشمن کو چھوڑ کر فرعی مسائل کو بہانہ بنا کر اپنے قوم اور اپنوں کا خون بہانے چلا ہے ، کیوں ،کشمیر کی عوامی تحریک روز بہ روز مظلوم بنتی جارہی ہے کنہی ہم خود ہی کسی سیاست کے شکار تو نہیں ہو چلے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگر مجھ جیسا طفل مکتب احساس کر سکتا ہے کہ ہو نہ ہو اس میں سامراج کا ہاتھ ضرور ہو سکتا ہے تو ہمارے لیڈر صاحبان کیوں نہ سمجھتے ہوں گے۔ نا منظم اور غیر سنجیدہ طریقے کے ساتھ آزادی کی تحریک چلانے کا مطلب صرف شعوری طور سامراج کا آلہ کار ہونا ہے یا غیر شعوری طور اس کے عزائم کو پورا کرنا ہے۔ جس کا جواب قیادت کو دینا ہوگا ، کیونکہ موجودہ صورت حال  سے استعمار خاص کر اسرائیل اور امریکا کا فائدہ ہے کہ تحریک اسلام کے نام پر چلائی جائے لیکن اسے اسلامی تعلیمات کی روح سے بے خبر رکھا جائے ۔ کیونکہ وہ اسلام کی طاقت اور عظمت کو مسلمانوں سے بہتر جان گئے ہیں ۔ یہ لوگ یہ بھی جانتے ہیں کہ اگر مسلمان اسلام کی عظمت کو چھو گئے تو دنیا کے تمام مسلمان ایک ہو کر ان کے اقتدار کو حقیر بنا کے چھوڑ دیں گے ۔ اس لئے ہر مستکبر قوت مسلمانوں کو  یا تو آپس میں لڑاتے ہیں یا ان کو ایسی راہ کی طرف ھدایت کرتے ہیں جس سے ان کا مستقبل تاریک بنتا چلا جائے اور آخر کار اپنی نجات کیلئے استکباری قوتوں سے رجوع کرکے ان کے ہر منصوبے کو بروی کار لائیں ۔کیا کشمیر کی آزادی کی تحریک بھی شعوری یا غیر شعوری  طریقے سے استکبار اور استعمار کا آلہ کار بنی ہے اگر بنی ہے تو اس سے بیزاری کا کیا طریقہ ہے اگر نہیں ہے تو اسلامی تعلیمات کی روح ہماری تحریک میں کیوں کر گم نظر آرہی ہے ۔

والسلام

عبدالحسین عبدالحسینی

نوٹ: یہ مقالہ  میں نے بچپن میں لکھا ہے  جب  کہ عسکری تحریک اپنے ابتدائی مراحل طے کرنے جارہی تھی۔ جسکی تاریخ تحریر 17اکتوبر 1989 درج ہے ۔

 


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500
قدرت گرفته از سایت ساز سحر