»
چهارشنبه 22 آذر 1396

کشمیریوں کا کشمیریعنی شاہ ہمدان کا کشمیرنہ کہ تکمیل پاکستان

(ایس پی کالج سرینگر میں پیس فاونڈیش کی طرف سے 7جولائی 2012 مطابق 17 شعبان المعظم 1433 ہ کومنعقدہ سمینار میں حاج آقای سید عبدالحسین کی تقریر)

السلام علیکم ورحمۃ اللہ

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

درود و سلام نبی رحمت اور آپ کی آل پر اور اصحاب منتجبین پر۔

سب سے پہلے میں مرحوم کے ایصال ثواب کے لئے یہ کہنا چاہوں گا کہ یقیناً مرحوم نے کوئی ایسا کام ضرور کیا ہے کہ جس کے لئے انہوں نے جو مذہب کا لب لباب فلسفہ ہے اُس کو اپنا مشعل راہ قرار دیا ہے۔ امن اسلام کی فلسفی تعبیر ہے ۔ جہاں کہی بھی امن ہو وہاں پر اسلام ہے۔ جہاں کہی بھی سلامتی ہو وہ اسلام ہے۔ جو کوئی امن کی بات کرتا ہو ، وہ اسلام کی بات کر رہا ہے۔ وہ مسلمان ہو یا غیر مسلمان۔ کیونکہ ہر مذہب نے خوبیوں کا درس دیا ہے۔ مگر ہر مذہب میں ہمیں کچھ خاص خاص گنی چنی خوبیاں ملتی ہیں۔ مگر جو تمام خوبیوں کا گلدستہ ہے وہ نبی رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دیا ہے جسے اسلام کہتے ہیں۔ اور جہاں تک اس رسول رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیغام کو عام کرنے کے لئے مرحوم نے جو ایک قدم اٹھایا ہے اللہ کی بارگاہ میں دعا کرینگے اُن کی ان کاوشوں کو قبول فرمائیں اور اُن کو اعلیٰ علیین میں جگہ فرمائے۔

رہا سوال یہ کہ اس ادارے"پیس فاؤنڈیشن" کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ سیاسی نہیں ہے۔  اگر سیاسی نہیں تو مذہبی لباس پہنے عبد الحسین جیسےمسلمان  کا اس میں کیا کام کیونکہ مسلمان کیلئے خاص کر علماء اور طالبعلموں کیلئے مذہب اور سیاست ایکدوسرے سے جدانہیں ہیں ۔ کیوں مسلمان بذات خود ایک سیاسی انسان ہے۔ ہمیں ایک فلسفے اور آئیڈیالوجی کے تحت اس جملہ (سیاست) کو ایک منفور اور ناپسندجملہ کے طور پر ذہن نشین کرایا جا رہا ہے ۔یہ جو سیاست کو سیکولرازم ڈاکٹرین عنوان کے تحت خوش اسلوبی کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے یہ حماقت ہے یہ(سیکولر ازم)  ادیان و مذاہب کی تحقیر ہے ، صرف اسلام کی نہیں ہےبلکہ ہر مذہب کی ۔ ہندوں کو کہا جاتا ہے کہ تمہارا مذہب تمہارے مندر میں ٹھیک ہے، مگر تمہارے سماج میں یہ بھلائی کا کام نہیں کر سکے گا۔ سکھ کو کہتے ہیں کہ تمہارا مذہب تمہارے گردوارے میں ٹھیک ہے، تمہارے سماج میں یہ کوئی خدمت نہیں کر سکتا ہے۔کرسچن(عیسائی) کو کہا جاتا ہے کہ تمہارا مذہب تمہارے چرچ میں گھرجا گھر میں ٹھیک ہے، تمہارے سماج میں یہ امیکیبل  اور قابل عمل نہیں ہے۔ مسلمان کو کہتے ہیں کہ تمہارا مذہب تیری مسجد میں صحیح ہے، تیرے سماج میں یہ ٹھیک نہیں۔ یہ ادیان  و مذاہب کی حقارت نہیں تو کیا ہے۔ [افسوس کا عالم یہ ہے کہ ] ہم بھی بڑے فخر سے کہتے ہیں کہ ہم" سیکولر" ہیں۔اس طرح  ہم رسول رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نعوذ بااللہ تو کسی کام کے نہیں آپ نے تو حکومتوں کو چلانے کیلئے کچھ سکھایا ہی نہیں(نعوذ بااللہ) کہ جس سے ہم ایک صالح معاشرے کو دنیا میں قائم کر سکتے !۔اور کہنے والے بڑی فخر سے کہتے ہیں۔ شاید ہمیں نہیں معلوم کہ  اپنے آپ کوسیکولرازم کا ترجمان ظاہر کرنے سے ہم رسول رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی کتنی توہین کرتے ہیں۔

 جسے اللہ نے تمام عالمین کے لئے رحمت بنا کے بھیجا ہے مگر ہمارے کردار سےاس کا تعبیر اور تفصیل  زحمت  ہو جاتا ہے۔ اسی لئے تقریب مذاہب اسلامی کا جو نعرہ ہے کہ اسلام مسلمانوں کے پاس امانت ہے ۔ اس اسلام کی اس قدر امانت داری کرنی ہے تاکہ غیر مسلموں تک اسلام کا پیغام پہنچ جائے۔ لیکن ہمارے کردار میں کمی ہے۔

ابھی میں اس اعتبار سے بھی مرحوم میر واعظ جنوبی کشمیر مفتی صاحب کو خراج عقیدت پیش کروں گا کہ نیمہ شعبان پر شب برات سے مصادف بحسن اتفاق ہوا کہ آج اُن کی برسی منائی جارہی ہے کہ جو پندرہ شعبان مصلح کل کی ولادت کا دن ہے جو ظہور کرکے پوری کائینات پر عدل و انصاف جاری و ساری کرنے والے ہیں جسے قائم آل محمد امام مھدی (عج) کہتے ہیں۔ آپ (عج) اللہ کے حکم سے ظہور کرکے پوری دنیا سے ظلم کا خاتمہ کرینگے، نا انصافی کا خاتمہ کرینگے۔ وہ صرف مسلمانوں کے لئے نہیں آئینگے پوری دنیا کے لئے۔ اور پیس فاؤنڈیشن یعنی امام زمانہ (عج) کا مشن پورا کرنا ہے، اور وہ کیسے کرنا ہے ۔ اس میں شیعہ سنی اور مسلمان اور غیر مسلمان کا کوئی مسئلہ ہی نہیں ہے۔ شیعہ سنی سب کہتے ہیں۔ شیعہ کہتے ہیں کہ رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے گيارہویں وصی حضرت امام حسن عسکری (ع) کا بیٹا ہے اور آج گیارہ سو اٹھہتر سال کا ہے ، مگر اہلسنت کہتے ہیں کہ نہیں ہونگے تو فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے اولاد میں سے ہی مگر ابھی ان  کی ولادت واقع نہیں ہوئی ہے۔ مگر انہی کو قیام کر کے عالم میں ایک اسلامی حکومت قائم کرنی ہے۔ غرض مسلمان دونوں طریقے سے منتظر ہے کہ آئینگے اور ایک امن کی حکومت قائم کرینگے۔ غیر مسلمان سکھ بھی کہتا ہے کہ کوئی آئے گا۔ ہندو بھی کہتا ہے کہ کوئی آئے گا۔ عیسائی بھی کہتا ہےکہ کوئی آئے گا۔ نام الگ الگ ہیں مگر ہر ایک مذہب کو اُس آنے والے کا انتظار ہے کہ جو ظلم کا خاتمہ کرے گا۔ تو ظلم کا مکمل  خاتمہ کرنے والے کی آمد سے پہلے ہمیں  ایسا کرنا ہوگا کہ ہمارے ہاتھوں سے کوئی ظلم نہیں ہونا چاہئے ۔ اس حوالے سے ہمیں مسلمانوں اور غیر مسلمانوں کے درمیان کوئی فرق نہیں کرنا ہے ، ہمیں رسول رحمت(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ترجمان بننا ہے۔ جہاں بھی جائیں وہاں ہمیں رحمت بن کے جانا ہے زحمت بن کے نہیں، یہ ہمارا وظیفہ ہے ۔کیوں ابھی مسلمانوں کو دہشت گرد کہتے ہیں ۔ یہ ایک اُسی نظریہ کے خلاف بات چلتی ہے کہ آپ جس آئینے کو دیکھتے ہیں، جس مستقبل کو دیکھتے ہیں ، جہاں ظلم کا خاتمہ ہوگا آپ ایک اسلامی انقلاب کے منتظر ہیں ، آپ اسلامی آفاقی حکومت کے منتظر ہیں ۔ اسلئے اسلام اور مسلمان سے خوف طاری ہونے کے لئے آپ کو دہشت گرد ثابت کیا جاتا ہے۔

 ہٹلر نے کیا کچھ  نہیں کیا لیکن انہیں تو کسی نے مذہب کے نام سے یاد نہیں کیا۔ تو کوئی بھی جسکا کوئی کردار نہ ہو اُس کی حرکت سے اسلام کو نسبت دیتے ہیں۔کس اسلام سے نسبت  دیتے ہیں جس کا قائد رسول رحمت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہیں۔ اور اسلام نے دکھایا کہ اسلام کا ترجمان کیسا ہونا چاہئے ۔ امام حسین علیہ السلام نے کیوں سب کچھ لٹا دیا کہا کہ میرے رسول رحمت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ترجمان یزید نہیں ہوسکتا:" وَ عَلَی الإسلام السَّلامُ إذْ بُلِیتِ الأُمَّةُ بِراعٍ مِثْلَ یزیدَ"ایسے اسلام کی  خدا حافظی جس اسلام کا ترجمان یزید جیسا ہو۔ "مثل یزید" یعنی کوئی خاص شخص نہیں بلکہ یہ( یزیدی) کردار جو اپنے اقتدار کی حفاظت کرنے کیلئے قرآن کے اصولوں اور تعلیمات کو پاؤں تلے روندتا ہو۔ تو اس  اسلام اورمسلمان کی شناخت بچانے کے لئے حسین علیہ السلام نے اپنی جان ، اپنے عزیزوں کی جانیں قربان کرتے ہیں کہ کوئی یہ نہ کہے کہ اسلام یعنی یزید۔ نہیں بلکہ اسلام وہ دین اور مذہب ہے جس پر حسین(علیہ السلام) اور حسین علیہ السلام کے جیسے اصحاب فدا ہوتے ہیں، قربان ہوتے ہیں۔ وہاں پتہ چلنا چاہئے کہ اسلام کتنی عزیز، عظیم اور مقدس اور فلسفی تحریک ہے جس کے لئے حسین (علیہ السلام ) جیسی شخصیت اپنے آپ کو اس طرح مٹا دیتے ہیں تاکہ اسلام پر آنچ نہ آجائے۔ اگر اسلام کے اصول پر کام کرنا ہے تو میں عبدالحسین خادم ہوں ۔ سیاست یہی کہ سیکولر سیاست نہیں بلکہ اسلامی سیاست  ہوتو ہم اس کے خادم ہیں۔

رہا سوال یہ جو ہندوستان اور پاکستان کا مسئلہ ہے۔ یہ بھی انہی لوگوں کی بات ہے۔ ہندوستان تین ہزار سال پہلے سے کہہ رہا ہے"سروا دھرما ساما بھاوا"[Sarva Dharma Sama Bhava]  کہاں پر ہے ۔ کس علاقے میں آپ ہندوستان کے دیکھتے ہیں کہ"سروا دھرما ساما بھاوا" نافذ ہے۔ انڈین ریپبلک کہتے ہیں کہاں ہے ریپبلک۔ جس ڈاکو کو ، جس کرکٹر لیس غنڈے کو پاور دینا ہوتا ہے تو پاور دیتے ہیں۔ جسے کھینچنا ہوتا ہے کھینچ لیتے ہیں۔ پاکستان اسلام کے نام پر بنا تو ابھی تک کوئی ایک  عالم دین وہاں کا حاکم  نہیں بنا۔ وہاں قرآن کے ایک مفسر اسلام شناس کا حاکم ہونا چاہئے تھا۔ ایک قرآنی اور دینی استاذ وہاں کا حاکم ہونا چاہئے۔ نہیں ہے۔ اسلام دشمن طاقتوں کی سازشوں کے تحت مسلمانوں کو اور دینداروں کو آپس میں لڑایا جارہا ہے۔ کوئی مذہب اس کی اجازت نہیں دے گا ۔ نہ ہندوں اجازت دیگا مذہب کے نام  پرمسلمان کو مارا جائے نہ مسلمان مذہب کے نام پر اجازت دیگا کہ ہندو کو مارا جائے۔ قطعاً نہیں! ۔ جس مسلمان کو کہا گیا ہے قرآن نے کہا:

مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْياهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيا النَّاسَ جَمِيعًا (المائدة/32)

 جس نے ایک بے گناہ کا قتل کیا گویا اُس نے پورے عالمین کو قتل کیا۔ " وَمَنْ أَحْياهَا " جس نے ایک شخص کی جان بچائی گویا اُس نے پورے عالم کو بچایا ہے۔ تو جس مسلمان کے پاس ایسا منشور ہے وہ کس دلیل سے خون نا حق جاری کرنے کی اجازت دیگا۔ معلوم ہوتا ہے کہ اسلام اسکی  قطعاً اجازت نہیں دیگا نہ کسی مذہب کی توہین کرنے کی، نہ کسی مسلک کی توہین کرنے کی، نہ کسی کو  بے گناہ قتل کرنے کی۔ لیکن اسکے باوجود کتنا اس کا مسخ شدہ چہرہ سامنے لایا جاتا ہے۔ جو یہاں پر قتل و غارت ہورہا ہے ، مظلوموں کا خون بہایا جارہا ہے یہ غیر اسلامی اور غیر مذہبی سیاست کا نتیجہ ہے ۔ کشمیر ہمیشہ مذہبوں کا تقدس اور انسان کو انسانیت کی بہبودی چاہتا رہا ہے اس لئے شاعر نے کہا تھا:

کان الکشمیر لسکانھا – جنات عدن  ھی للمومنین

قد کتب علی بابہا- من دخل کان من آمنین

کشمیر اورکشمیری امن و آشتی کا مظہر ہے  یہاں  کےجنت نما باغات کہہ رہے ہیں کہ اس کے دروازے پر لکھا ہوا ہے کہ جو یہاں داخل ہوا اسے امن و امان مل گیا۔ 

 تو کہاں  ہیں ہم ،کس کشمیر کو کیا بنایا گیا ، یہ تو جہنم نما بن گیا ہے اور یہ جہنم  مذہبوں نے نہیں بنایا۔

 آخر پر ایک ذاتی بات کروں گا کہ یہ جوتین فریقین(پاکستان ہندوستان اور کشمیر) کی بات  کی جاتی ہے اس کے بارے میں میرا سوال ہے کہ سہ فریقی مذاکرات میں  آپ کا کیا کام ہے  کیونکہ  ہندوستان اور پاکستان جب بات کرینگے  تو وہ اپنے ایجنڈے پر بولیں گے، آپ کے ایجنڈے کو نہیں  ۔تو ایسے میں آپ اس کے تیسرے فریق بن کے  کیا کرینگے ، تیسرا فریق بن کے آپ نے یا پاکستان یا ہندوستان کی ہاں کرنی ہے یا نا کرنی ہے۔ اس کے ایک پوائنٹ کو لینا ہے یا اس کے دو پوائنٹ کو لینا ہے تو اسطرح انہی کے کسی ایجنڈے کو تکمیل کرنی ہے۔ تو ایسے میں کشمیر کا یجنڈا کہاں رہا ۔ اسلئے میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ آپ اپنا ایجنڈا لیکے سامنے آجائیں ۔ جوکہ  ہمارا ایجنڈا کہلائے کشمیریوں کا ایجنڈا کہلائے کہ ہندوستان پاکستان کو منظور ہو نہ ہو،ہمیں وہ کشمیر چاہئے جسے حضرت بلبل شاہ نے آباد کیا ہے، ہمیں وہ کشمیر چاہئے جسے میر سید علی ہمدانی نے آباد کیا ہے۔یعنی  ہم اُس کشمیر کی بات کرینگے ، ہم اُس کشمیر کی احیاء چاہئے گے جس میں ہندوں بھی راضی تھا ، جس میں سکھ بھی راضی تھا ، مسلمان کا ہر مسلک و مذہب راضی تھا، ہم اُس کشمیر کی ترجمانی کرینگے۔ اگر ایسا ہے  تومیں بھی خدمت کے لئے حاضر ہوں۔

آپ کا زیادہ وقت نہ لیتے ہوئے میں آپ لوگوں کا بہت شکریہ کرتا ہوں کہ آپ نے تحمل سے میری بات سُنی ۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ۔   


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500

قدرت گرفته از سایت ساز سحر