»
چهارشنبه 22 آذر 1396

گیلانی صاحب کے نام عبدالحسین کا کھلا خط سے اکتباس:

کیا علیحدگی پسندوں کو امام حسین علیہ السلام کے ساتھ کوئی خاص قسم کی دشمنی ہے؟

یقینا بظاہر نہیں ہے! تو پھر ہندوستانی منصوبے کو توڑ کرنے کی کوئی پہل کیوں نہیں کی گئی ؟ جب 1990 ء میں ہندوستان نے شیعہ سنی کو ایکدوسرے کو جدا کرنے کیلئے سرینگر کے تاریخی عاشورا جلوس پر پابندی لگائی یہ کہہ کر کہ علیحدگی پسند اس میں شرکت کریں گے تو آپ حضرات نے بظاہر عید کیوں منائی چلو شیعوں کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پرسہ دینے کی رسم پر پابندی لگائي گئی ۔اگر ایسا نہیں توکشمیر بھر میں جہاں جہاں شیعوں کو عزاداری کے جلوس برآمد کرنے کی اجازت دی جاتی ہے آپ حضرات وہاں شرکت کیوں نہیں کرتے؟

میرا ماننا ہے کہ سرینگر میں عاشورا پر پابندی کا نسخہ ہندوستان کا نسخہ نہیں ہو سکتا ہے کیونکہ وہ تو ہندوستان بھر میں عزاداری کے جلوس نکالنے کیلئے مثالی خدمات پیش کرتا ہے اسلئے لگتا ہے کہ یہ اسرائيل کا نسخہ ہے جس نے کشمیر میں علیحدگی پسند تحریک کا امتحان لینے کیلئے عائد کیا ہے تاکہ وہ اس تحریک کا نبض دیکھ سکیں کہ کیا اس میں امام حسین علیہ السلام کی قیادت یا رنگ شامل ہے کہ نہیں۔اور آپ حضرات نے 1990ء سے لیکر آج تک دانستہ یا نادانستہ طور ثابت کردیا کہ ہماری تحریک کیلئے امام حسین علیہ السلام کیلئے کوئی جگہ نہیں ہے۔یہاں پر بہت ہی ظریف اور حساس نکات کو بیان کرنا ضروری ہے لیکن شیعہ سنی اتحاد کو کسی کیلئے نقصان پہچانے کا بہانہ نہ بن جائے اسلئے یہاں پر انہیں بیان کرنا نہیں چاہوں گا البتہ اگر  پوچھا گیا تو تفیصلات کے ساتھ جواب دے سکتا ہوں ۔بہر حال یہاں شیعہ سنی اتحاد کو عملی طور سرفہرست قرار دینا لازمی امر ہے جس کی اہمیت کے بارے میں شیعہ سنی اتحاد کے عظیم داعی لبنان کے جلیل القدر شیعہ فقیہ حضرت علّامہ سید عبدالحسین موسوی شرف الدین قدس سرہ شریف  کا قول نقل کرنا چاہوں گا کہ انہوں نے فرمایا: «فَرَّقَتْهُما السیاسة، فَلْتَجْمَعْهُما السیاسة»یعنی شیعہ اور سنی کو سیاست نے ایک دوسرے سے الگ کیا ہے اور اب سیاست ہی ان کو ایک دوسرے کے ساتھ متحد کرے گی۔عبدالحسین/پیر12جون 2017


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500

قدرت گرفته از سایت ساز سحر