»
چهارشنبه 22 آذر 1396

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سبھی طلاب و علماءمطیع ولی فقیہ اور نمایندہ ولی فقیہ کے زیرسایہ سرگرم عمل ہیں

کئی دنوں سے میری ایک پرانی تحریر سے منقول  اقتباس سوشل میڈیا پر گشت کر رہی ہے ۔تحریر بالکل صحیح اورعین عبارت ہے لیکن سرخی"عمران رضا انصاری کو حضرت آيت اللہ العظمی سیستانی مدظلہ کی طرف سے بھی منہہ توڑ جواب" بالکل غیر منصفانہ ہے یہ ان دنوں کی تحریر ہے کہ جب میرے عزیز بھائي جناب عمرا ن  رضا انصاری صاحب  حوزوی مسائل سے دور تھے اور یہ مباحثہ ان کے والد مرحوم کے ساتھ جمعہ 12 ذیحجہ 1423 ھ ق مطابق 14فروری 2003ء کو جڈیبل میں ایک مجلس ترحیم کی ذیلی نشست میں حوزوی سطح کے مباحثے کے مانند تھی لیکن جب میرے خلاف تحریری طور پر فتوی صادر ہوا تو میں نے موضوع کی مزید وضاحت کرنے کے لئے حضرت آیت اللہ العظمی سید سیستانی مدظلہ العالی کی خدمت میں استفتاء کیا انہوں نے پہلے استفتاء میں ولی فقیہ اور زنجیر زنی  کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے بارے میں فرمایا:" فقیہ عادل مقبول کا حکم تمام مؤمنین کے ساتھ ساتھ باقی مجتہدین پر بھی نافذ العمل ہے" اور  پھر مولوی صاحب کی تنظیم کے  سیکریٹری کی طرف سے ایک پوسٹر نکالا گیا جس میں میرے استفتاء کو "بددیانتی فعل کا ارتکاب" اور" مذہبی و ذہنی دیوالیہ پن" کے القاب سے نوازتے ہوئے ولی فقیہ اور قمہ زنی کے موضوع کے حوالے سے اپنا موقف واضح کیا گيا تھا کہ مولوی صاحب "زنجیر زنی کو جایز سمجھتے ہیں اور ولی فقیہ کے قائل ہیں لیکن  نفوذ کے حدود کے بارے میں اختلاف رکھتے ہیں" ۔ جس کے تناظرمیں ،میں نے پھر استفتاء کیا اور جواب میں کہا گیا کہ :" جو خود مجتہد نہ ہو اس کا فتوی دینا حرام ہے اور اسکے کہے پر عمل کرنا بھی حرام ہے "۔اور جب میں نے مولوی صاحب سے اس پوسٹر کے بارے میں گلہ کیا تو انہوں نے کہا کہ میری طرف سے ایسا کوئي پوسٹر نہیں نکلا ہے۔ تو  اب اس تحریر کو 14 سال سے زائد عرصے کے بعد اسوقت برادرگرامی مولوی عمران رضا انصاری صاحب جو کہ اب اپنے والد مرحوم کی جگہ پر فائز ہیں اور عوامی حمایت کے پیش نظر مرحوم مولوی صاحب کے مانند قابل احترام ہیں سے نسبت دینا  نا انصافی ہو گی ۔ جہاں تک مجھے معلوم ہے عمران صاحب کو ولی فقیہ کے " نفوذ کے حدود کے بارے میں  کوئی اختلاف "نہیں ہے اور وہ میرے والد کے ایک فرزندعالیجناب آغا سید حسن صاحب کے مانند ولایتمدار ذمہ دار شخصیت ہیں۔اور الحمدللہ اس دور میں دنیا بھر کے بیدار ضمیر لوگ بلاتفریق مذہب و ملت  ولی فقیہ کی منزلت سے دیانت اور سیاست کی نئي روح سمجھتے ہیں۔ جمہوری دیندار عوامی تحریک کی حقیقی  تصویر سمجھتے ہیں یعنی  جس سے عقیدہ امامت کی تفسیر ہوتی ہے اور اسی لئےصرف بڑے شیطان امریکہ اور اسکے ناجایز اولاد اسرائیل کو ولی فقیہ کی منزلت اور وجود سے تکلیف ہے کیونکہ وہ بخوبی سمجھتے ہیں کہ ولی فقیہ کا تعلق ایران سے نہیں ہے بلکہ پورے دنیا سے پوری انسانیت سے ہے اور یہی ولی فقیہ انسانوں کو آخری انقلاب ظہور منجی عالم بشریت حضرت امام زمان عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف کے انقلاب سے جوڑنے کی کڑی ہیں اور اس انقلاب کی کامیابی یعنی استکباری اور استعماری طاقتوں کا مکمل زوال یعنی شیطان اور شیطان صفتوں کی مکمل ہار ہے ۔اسلئے ان کو ولی فقیہ کی روح انسانوں کے قلب و جگر میں رسوخ کرنے سے ہر طرح سے روکنے کی کوشش کرنا ہے جو کہ وہ تمام تر قوت سے کررہے ہیں۔رہا سوال کشمیر میں ولی فقیہ کے حوالے سے شیعہ علماء کا اتفاق یا اختلاف ہونے کا موضوع اس پر کسی بھی انفرادی رائے زنی کا  کوئی شرعی  جواز پیدا نہیں ہوتا کیونکہ ولی فقیہ  حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی نے اپنی طرف سے اپنا حَکَم اور نمایندہ(نمایندہ ولی فقیہ) عوام کے درمیان منتصب  کیا ہوا ہے اسلئے  جب تک نہ ایسے موضوعات سے متعلق ولی فقیہ  حضرت امام خامنہ ای مدظلہ العالی کے اس تام الاختیار نمایندے اور مراجع تقلید کے معتمد خاص جناب حجت الاسلام والمسلمین حاج آقای شیخ مہدی مہدوی پور دامت برکاتہ کے جانب تحریری سند حاصل نہ ہو کسی کو حامی یا مخالف کی مہر لگانا عقل و انصاف سے دور ہے۔

عبدالحسین

25/10/2017


آپ کی رائے
نام:  
ایمیل:
عبارت:  500

قدرت گرفته از سایت ساز سحر