مقالات
شماره : 46427
: //
زندہ یاد ابو شہیدین آیت اللہ آغا سید مصطفی موسوی سے بچھڑے 15 سال گذر گئے

ابو شہیدینؒ 2 فروری 1924 ء مطابق 26 جمید الثانی 1342ھ ق کوکشمیر میں مکتب محمد و آل محمد تشیع کے بانی مبلغ حضرت میر سید محمد شمس الدین  بن سلطان ابراہیم بن سلطان علی بن صدر الدین بن شاہ صفی الدین اردبیلی  کے علم خاندان علم و سیادت اور شیعہ مراجع کرام آیات اعظام حضرات سید ابوالحسن اصفہانی و شیخ عبدالکریم حائری کے وکیل مطلق سلمان التقی حضرت آيت اللہ آغا سید احمد محمد موسوی  کے گھر   میں پیدا ہوئے اور کم سنی کے عالم میں جب آپ نے ابھی 15 ہی بہار دیکھے تھے کہ آپ کے سر پر سہرا باندھا گیا اور 16 سال کی عمر میں آپ نے باپ بننے کا تجربہ حاصل کیا اور22 سال کی عمر میں سایہ پدری سے محروم ہوئے اور آخر الامر خود بدھوار 12 جمید الثانی 1423  مطابق 31مرداد 1381 ہجری شمسی مطابق 21 اگست 2002 عیسوی عصر 6 بجکر 20 منٹ پرغربت کے عالم میں 79 سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔اناللہ و انا الیہ راجعون۔

بسم اﷲ الرحمن الرحیم

از قلم:ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی

زندہ یاد ابو شہیدین آیت اللہ آغا سید مصطفی موسوی سے بچھڑے 15 سال گذر گئے

کشمیر میں ولایت کے علمبردار ابوشہیدین حضرت آیت اللہ  آغا سید مصطفےٰ بن احمد بن محمد بن مہدی موسوی کشمیری قدس سرہ شریف، جنکی زندگی مجاھدت، صبر و ایثار اور عرفان سے لبریز ہے کی پندرہویں برسی کی مناسبت سے چند سطرین صحیفہ روزگار پر منعکس کرنا مقصود ہے۔

ولادت:ابو شہیدینؒ 2 فروری 1924 ء مطابق 26 جمید الثانی 1342ھ ق کوکشمیر میں مکتب محمد و آل محمد تشیع کے بانی مبلغ حضرت میر سید محمد شمس الدین  بن سلطان ابراہیم بن سلطان علی بن صدر الدین بن شاہ صفی الدین اردبیلی  کے علم خاندان علم و سیادت اور شیعہ مراجع کرام آیات اعظام حضرات سید ابوالحسن اصفہانی و شیخ عبدالکریم حائری کے وکیل مطلق سلمان التقی حضرت آيت اللہ آغا سید احمد محمد موسوی  کے گھر   میں پیدا ہوئے اور کم سنی کے عالم میں جب آپ نے ابھی 15 ہی بہار دیکھے تھے کہ آپ کے سر پر سہرا باندھا گیا اور 16 سال کی عمر میں آپ نے باپ بننے کا تجربہ حاصل کیا اور22 سال کی عمر میں سایہ پدری سے محروم ہوئے اور آخر الامر خود بدھوار 12 جمید الثانی 1423  مطابق 31مرداد 1381 ہجری شمسی مطابق 21 اگست 2002 عیسوی عصر 6 بجکر 20 منٹ پرغربت کے عالم میں 79 سال کی عمر میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔اناللہ و انا الیہ راجعون۔

تحصیلات:آپ نے کشمیر میں ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی ،سلمان التقیٰ حضرت آغا سید احمد موسوی ؒ اور عارف وارستہ حضرت حاجی امان صاحب ہونزوی ؒ  اور اپنے عمو جان اور والد نسبی حضرت آغا سید یوسف موسوی سے حاصل کی نیز  ایران کے شہرہ آفاق عارف ربانی حضرت الحاج آقای سید ابو الحسن مشہدیؓ سے روحانی علوم کو حاصل کیا اور والد گرامی کی وصیت کے مطابق انکی وفات کے بعد عازم اتبات عالیات عراق ہوئے۔وہاں مدرسہ طباطبائی محلہ ہویش میں  اپنے والد مرحوم کے رفیق اور معتمد خاص مرجع عالیقدر ابو الشہدا حضرت آیت اﷲ العظمیٰ الحاج آقای سید محسن حکیم طباطبائیؓ کی نظارت و کفالت میں کسب فیض کرتے رہے اور انکے خواص میں جانے جاتے رہے ۔ بزرگوں سے سنا گیا ہے کہ جب کبھی نماز یا کسی دوسری مناسبت کے حوالے سے حضرت آیت اﷲ العظمیٰ حکیمؓ کے ارد گرد لوگوں کا ہجوم ہوا کرتا تھا تو آپ کو دیکھ کر اپنے زانو ی مبارک سمیٹ کر اپنی قربت عطا کرتے تھے۔

جمہوری اسلامی ایران کے سابق چیف جسٹس حضرت آیت اﷲ العظمی الحاج آقای سید عبدالکریم موسوی اردبیلی عراق میں ابو شہیدین کے ہم حجرہ اور ہم مباحثہ تھے دونوں آپس میں گہرے دوست تھے جو تمام عمر جاری و ساری رہی ۔

اساتید:نجف اشراف عراق میں امام سید محسن الحکیم، آقا بزرگ تھرانی، فاضل لنکرانی، عبداللہ شاہرودی ،محمد ہادی میلانی جیسے بزرگوں سے کسب فیض کیا جبکہ اپنے دور کے قریب 20 مراجع تقلید  از جملہ آیات عظام  سید محسن الحکیم، سید بروجردی، آغا بزرگ تھرانی،ھادی میلانی، مرعشی نجفی، عبداللہ شیرازی،اور امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین جیسے فقہا شامل ہیں کی طرف سے وکالت حاصل تھی کہ جن استجازات کو دیکھ کر دور  حاضر کے فقہاء تعظیم کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے۔

ابو شہدین ؒ کمالات روحانی سے مالا مال تھے،آپ کی کرامات زبان زد عام ہیں۔علم جفر میں حضرت الحاج آقای سید ابو الحسن مشہدیؓ جو کہ رسولخدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آٹھویں وصی حضرت علی ابن موسیٰ رضا علیہ آلاف تحیت والثناء کے جوار میں مدفون ہیں آپکے استادرہے ہیں۔

درجہ اجتہاد:مرحوم آیت اللہ موسوی اردبیلی  ابوشہیدین  کے اجتہاد کو سراہتے تھے اور عبادات میں اکثر علماء موصوف کے اجتہاد کے قائل تھے جبکہ خود موصوف عمل بہ احتیاط پر کابند تھے جو کہ اجتہاد سے زیادہ سخت سمجھا جاتا ہے۔

تدریس:عراق سے واپسی کے بعد ابوشہیدین نے جامعہ باب العلم میں تدریس کا کام شروع کیااور نائب صدر،جنرل سیکٹری انجمن شرعی شیعیان اور مدیر اعلیٰ مجلہ الارشاد جامعہ باب العلم کی مسؤلیت نے زیادہ دیر تدریس کے کام کو متاثر کیا۔

عارف ربانی حضرت آغا سید احمد موسوی ؒ کی رحلت کے بعد علاقائی  روایات کے رو سے آپکے ؒ ؒ فرزند ارشد حضرت آغا سید مصطفےٰ موسوی ؒ کو آپؒ کا جانشین قرار پانا تھا لیکن اس عارف وارستہ نے اقتدار اور اقتدار کے علاقائی ضوابط کو ٹھکرا  کراپنی تعلیم و تربیت  کا مظاہرہ پیش کرتے ہوئے کہ ملکیتی وراثت اور ولایتی وراثت کا موضوع ایکدوسرے سے بلکل مختلف ہونے کے رو سےعموی والا مقام معتمد مراجع تقلید حضرت آیت اﷲ آغا سید یوسف موسوی ؒ کواپنے والد کا ولایتی وارث تسلیم کرتے ہوئے تمام امانات تقدیم کرکے عرفان کی تصویر ترسیم  کی ہے۔

جب آل مھدی ؒ کے سلسلہ کو دیکھا جائے ہر زعیم کی  اپنے زمانے کے شرایط کے مطابق اپنی اپنی ادا رہی ہے ہر ایک نے اپنے زمانے کے تقاضے کے مطابق اپنے سلیقے کا سکہ منوایا۔جب حضرت آغا سید مصطفےٰ موسوی کی خواہش اور اسرار پر حضرت آغا سید یوسف موسویؒ انجمن موسوی کی صدارت اور تولیت اوقاف قبول کی اپنے برادر ارشد حضرت آغا سید احمد کے کاموں کو جدید باز تاب عطا کیا جس میں امام بارہ اور جامع مسجد بڈگام،آستانہ آیت اﷲ آغا سید مھدی کی توسیع و تکمیل تعمیر،مدرسے کو عروج دے کر اسے جامعہ باب العلم سے موسوم کرکے عربی اورینٹل کالیج بناکر اور انجمن موسوی کو انجمن شرعی شیعیان نام دینا قابل ذکر ہے۔اس طرح آل مھدی ؒ کا درخشان چہرہ حضرت آغا سید یوسف موسویؒ کی ذات محسوب ہوتی ہے۔آپؒ نے دیانت ،عدالت،خدا پرستی کے ایسے نقوش رقم کئے جنہیں سرزمین کشمیر رہتی دنیا تک یاد کرے گی۔آپؒ ولایت فقیہ کے شیدائی اور جمہوری اسلامی ایران کے بانی حضرت آیت اﷲ العظمیٰ الحاج آقای سیدروح اﷲ موسوی خمینیؓ کے قلمی دوست تھے اور آپ دونوں حضرات کا آپسی خط و کتابت زبان زد عام ہے۔آیت اﷲ آغا سید یوسف موسوی ؒ کی رحلت کے بعدحضرت حجت الاسلام والمسلین الحاج آغا سید مصطفےٰ موسوی اپنی انجمن کی ریاست پر تمام مزایا کے ساتھ باتفاق فتویٰ ولایت فقیہ حضرت امام خمینیؓ اور عوامی اکثریت کی حمایت اور رائے سے اس منصب پر فائز ہوئے۔اور یہ ابوشہیدین کی زندگی کا سب سے اہم اور انقلابی پہلو ہے کہ انکی صدارت پر فائز ہونے میں ولایت فقیہ حضرت امام خمینیؓ کا کلیدی عمل دخل رہا ہے جس پر حاسدین حسد کا شکار ہوئے۔

ابو شہیدینؒ حضرت حجۃ الاسلام والمسلمین الحاج آغا سید مصطفےٰ موسویؒ اس زمانے میں منصب زعامت پر فائز ہوئے جب حضرت امام خمینیؓ کی قیادت میں انقلاب اسلامی کے نور سے ،عالم اسلام منور ہونا شروع ہو رہا تھا، اسطرح آپ کی پوری زندگی انقلابی رہی ہے ۔

کشمیر کا یہ شیعہ مکتبی خاندان حضرت میر شمس الدین عراقی/اراکی سے لے کر دور حاضر تک سیکولرسیاست کا شکار رہا ہے  جس میں حضرت میر شمس الدین عراقی ، علامہ آغا سید محمد مھدی اور آغا سید محمد حسین مصطفی کو امام حسن علیہ السلام کی سم جفا کی میراث میں مل گئی اور شہید میر سید علی دانیال، اور  شہید سید علی شمس الدین ثانی اورآغا سید مہدی مصطفی کو امام حسین علیہ السلام کے مقتل کی شمشیر میراث میں مل گئی   اور بحمدللہ پوری تاریخ میں ائمہ معصومین علیہم صلوات کے نعرے " بِسْمِ اللَّهِ وَ بِاللَّهِ وَ عَلَى مِلَّةِ رَسُولِ اللَّهِ "کو صدا بہار رکھنے میں کوشاں رہنے کے امتحان میں سربلند رہے لیکن اب اس امتحان میں سربلند نکلنا مشکل نظر آ رہا ہے۔ جس طرح آغا سید یوسف نےاپنے برادر مرحوم کی خدمت میں نئی روح پھونک دی ٹھیک اسی طرح آغا سید مصطفی نے صدارت سنبھالتے ہی اس مکتبی تحریک میں نئی روح پھونک دی اور یقینا حضرت میر شمس الدین عراقی کے دور کے بعد اب وقت آ پہنچا تھا کہ یہ مکتبی تحریک اپنے معراج کو حاصل کرلے کیونکہ اب کا دور ولایت فقیہ کا دور ہے اسلام کی حاکمیت کا دورشروع ہو چکا ہے اس میں اگرچہ امتحانات بھی سخت ہونگے لیکن محنت رایگان ہونے کا بھی امکان نہیں ہے اور اس امتحان میں آغا سید مصطفی ولایت کے ممتاز سپاہی ثابت ہوئے ۔ صدارت سنبھالتے ہی کشمیر میں شیعوں کو خاندانوں میں تقسیم کرنے کی روایت ختم کردی ، ڈوگررہ راج دربار کی تخلیق "فرقہ جدید "اور "فرقہ قدیم" نامی شیعوں کے درمیان نفرت کی دیوار کو منہدم کرکے شیعہ جماعتوں کی شناخت کی حفاظت کی ضمانت فراہم کرتے ہوئے ایک اتحاد قائم ہوا اور دوستی دشمنی کا معیار ولایت فقیہ قرار پایا کہ جو کوئی ولایت فقیہ کا حامی ہوگا وہ دوست کہلائے گا اور جو ولایت فقیہ کو نقصان پہچانے والا ہو وہ دشمن کہلائے گا چاہے وہ شیعہ ہو یا سنی ، مسلمان ہو یا غیر مسلمان۔اسطرح ایک نئي فضا نے جنم لیا، کشمیر کی تمام چھوٹی بڑی تنظیمیں جماعتیں متحرک ہو گئی اور ہر ایک ایکدوسرے کو اپنا حریف سمجھنے کے بجائے حلیف سمجھنے لگا۔ نماز جمعہ کی تحریک نے بڈگام سے لے کر سرینگر تک نیا رخ اختیار کیا ، حسن آباد سرینگر کی نماز جمعہ میں آغا سید محمد حسین کی امامت میں شیعہ متحدہ محاذ کی تصویر پیش کرنے لگا اور اور  آغا سید مصطفی کی امامت میں نماز جمعہ بڈگام شیعہ سنی اتحاد کا مظہر بننے لگا۔انجمن شرعی شیعیاں کہ جسے آغا خاندان کی جاگیر سمجھا جا رہا تھا کے خد و خال کو  شفاف ترین ممکن شکل میں ظاہر کیا کہ اس میں آغاخاندان کا عمل دخل صرف امام باڑہ بڈگام اور جامعہ باب العلم کی تولیت سے ہے  اور  انجمن شرعی شیعیان کی صدارت و زعامت اور اسکے تحت اشراف اوقاف حاکم شرع (ولی فقیہ) سے مربوط و مشروط ہے۔یہی وجہ ہے کہ اگر ایک طرف  حکمران جماعت آغا خاندان کو توڑنے میں کامیاب ہوئی لیکن  ولایت فقیہ کی اطاعت کی برکت سےمن حیث مجموع شیعہ قوم متحد ہوئی اور قدیم و جدید کی نفرت کی دیوار کو منہدم کر لیا گیا اور روشن مستقبل کی نوید سنائی گئی۔    آغا سید مصطفی چونکہ خود ولایت فقیہ کے معتقد سپاہی تھے اور امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے وفات کے بعد جب امام خامنہ ای مدظلہ العالی کو نیا ولی فقیہ منتخب کیا گیا ٹھیک اسی دن سےامام خامنہ ای کو رہبرکبیر ثانی کہنے لگے کیونکہ خود امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کو رہبر کبیر کہا جاتا تھا اس طرح آغا سید مصطفی اعلان کرتے رہتے تھے کہ مجھے امام خامنہ ای اور امام خمینی رہ کے درمیان ذرہ برابر بھی فرق نظر نہیں آتا بجز یہ کہ امام خمینی رہ پہلے اور امام خامنہ ای دوسرے ہیں جبکہ حال حال میں بعض علماء اس عقیدے کے قائل نظر آتے ہیں۔اس افکار اور انداز میں مرحوم آغا سید مصطفی اکیلے نہیں تھے بلکہ ان کی ولایتمدار ٹیم جن میں علامہ حکیم شیخ علی جلال الدین غازی میثم جیسے مغز متفکر اور آغا سید محمد حسین جیسے امام خمینی رہ کے شاگرد سر فہرست تھے جن کی کاوشوں میں انقلاب اسلامی کا پرتو میدانی صورت میں کشمیر میں نظر آنے لگ ہی رہا تھا کہ  آغا سید مصطفی  کے فرزند ارشد حضرت حجت الاسلام والمسلمین  الحاج آغا سید محمد حسین مصطفی موسوی کو زہر دے کے شہید کیا گیا  ،صبح اقامہ جمعہ کے لئے گھر سے روانہ ہوئے اور جب لوٹے تو آپکا جنازہ موصول ہوا اور جمعہ 17 فروری 1984 کو داعی اجل کو لبیک کہہ کر 42 سالہ بابرکت عمر میں شہید محراب کا تمغہ حاصل کرنے کی سعادت حاصل کرلی اور جناب شبیب رضوی صاحب نے قطعہ تاریخ یوں لکھا کہ "سرگرم امر واعتصموا بہر مؤمنین-خدمت گزار جمعہ ربّ مجید رفت/شد سرنگوں اجل پے تاریخ رحلتش-سید حسین سوئے حسین شہید رفت"۔اور اسطرح آغا سید مصطفی کے ولایت مدار خیمے کا مرکزی کھنبا 1984 میں ٹوٹ گیا اور اس حادثے کے بعد 1977 کا جنتا کارڈ متحرک ہو گیا اور آغا سید مصطفی کے ارد گرد ولایتمدار لوگوں کو ہٹانے کا سلسلہ شروع ہوا اور پہلی فرصت میں اس ولایتمدار خیمے کا  دوسرا کھنبا علامہ حکیم شیخ علی جلال الدین غازی میثم کو1991 میں جامعہ باب العلم سے ذلیل کرکے نکالا گیا اور پھر انجمن شرعی شیعیان کے جنرل سیکریٹری راجہ محبوب صاحب کو استعفی دینے پر مجبور کیا گیا اسی طرح دیگر صالح افراد کو دور کیا جاتا رہا اس بیچ قدیم جدید اتحاد کو بھی توڑ دیا گیا ، قواعد وضوابط کے برخلاف ایک طرف حوزہ علمیہ جامعہ باب العلم کو امام باڑے  میں منتقل کیا گیا  تو دوسری طرف خود حوزہ علمیہ جامعہ باب العلم کی عمارت میں سیکولر ضوابط پر مبنی انگلش میڈیم اسکول قائم کیا گیا آغا مصطفی مخالفت کرتے رہے ان سے کہا جاتا تھا کہ مراجع تقلید کے دفتر سے سفارش ہے اور مراجع تقلید کے دفتر سے کہا جاتا کہ یہ سب آغا مصطفی کے حکم سے کیا جاتاہے وغیرہ ۔اس طرح آغا سید مصطفی کی سرپرستی میں قائم ولایتمداری کا خیمہ قصر شام کا رنگ اختیار کرنے لگا۔اورآخر الامر1998 میں عملی طور پر آغا سید مصطفی سے تمام تر اختیارات چھین لئے گئے اور صرف دکھاوے کے صدر انجمن شرعی ٹھہرے اور جب 3اکتوبر 2000ء کو  آپ کے ایک اور فرزند آغا سید مھدی  ماگام میں مجلس حسینی میں خطاب کرنے کے لئے جاتے گلمرگ نیشنل ہائے وے کے مازہامہ کے مقام پر دہشتگردوں  کی طرف سے بچھائی گئي ماین کی زد میں آکر شہادت کے درجہ پر فائز ہوئے تو اس صدمے نے آپ کو زمین گیر کرکے رکھدیا اگرچہ ولی فقیہ حضرت آیت اﷲ العظمیٰ الحاج آقای سید علی حسینی خامنہ ای مدظلہ العالی  انکی شہادت پر انکے سوگ کو بیٹھے اور ابو شہیدین کو تسلیت کہنے کیلئے  دعوت دے کر ایران بلاکر حضوراً تسلیت و مبارکبادی پیش کی،مگر آغا سید مصطفی اس حادثے  کے بعد زیادہ دیر زندہ نہ رہ سکے اور بدھوار 12 جمید الثانی 1423  مطابق 31مرداد 1381 ہجری شمسی مطابق 21 اگست 2002 عیسوی عصر 6 بجکر 20 منٹ پرغربت کے عالم میں داعی اجل کو لبیک کہہ گئے۔اناللہ و انا الیہ راجعون۔

اﷲ کی بارگاہ میں دست بہ دعا ہیں کہ مرحوم ؒ کو اپنے معشوق حضرت امام حسین ؑ کے ساتھ محشور فرمائے اورامام زمان [عج ]کے ظہور تک ولی فقیہ حضرت آیت اﷲ العظمیٰ امام خامنہ ای کو جمیع اعوان و انصار کے ساتھ مؤید و منصور فرمائے۔ آمین

 

©2011 . all rights reserved**