مکالمہ
شماره : 48396
: //
ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی کی ہدایت ٹی وی کے ساتھ گفتگو:
عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ہفتہ وحدت اور جملہ مذہبی تقاریب منانا مسلمانوں کے طاقت کا مظہر ہے

قرآن کے الفاظ عوام کو سمجھنے کیلئے ہیں،اشارات خواص کو سمجھنے کیلئے ہیں،لطائف قرآن  اولیاء کو سمجھنے کیلئے ہیں اور حقائق انبیاء کو سمجھنے کیلئے ہیں۔اسلئے صرف مجتہد جامع الشرائط اور مفتی اعظم ہی اپنی تحقیق بیان کرنے کا جواز رکھتے ہیں جو کل روز قیامت جوابدہی کی صلاحیت رکھتے ہیں باقی کو ان کی رہنمائی میں چلنا ہے ۔کیونکہ مولا امیرالمؤمین علی علیہ السلام کے بقول : یا عالم بنو یا طالبعلم اس سے ہٹ کر کوئي اور نہ بنو۔جو مفتی اعظم میلاد جایز نہیں سمجھتا  وہ کل اپنے پیرو کے ساتھ جواب دیں گے۔اور جو جائز سمجھتا ہے وہ بھی کل اپنے پیرو کے ساتھ جواب دیں گے۔یہ صلح کے موضوعات ہیں لڑائي جگڑے کے نہیں۔

ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی کی ہدایت ٹی وی کے ساتھ گفتگو:
عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ہفتہ وحدت اور جملہ مذہبی تقاریب منانا مسلمانوں کے طاقت کا مظہر ہے

قرآن کے الفاظ عوام کو سمجھنے کیلئے ہیں،اشارات خواص کو سمجھنے کیلئے ہیں،لطائف قرآن  اولیاء کو سمجھنے کیلئے ہیں اور حقائق انبیاء کو سمجھنے کیلئے ہیں۔اسلئے صرف مجتہد جامع الشرائط اور مفتی اعظم ہی اپنی تحقیق بیان کرنے کا جواز رکھتے ہیں جو کل روز قیامت جوابدہی کی صلاحیت رکھتے ہیں باقی کو ان کی رہنمائی میں چلنا ہے ۔کیونکہ مولا امیرالمؤمین علی علیہ السلام کے بقول : یا عالم بنو یا طالبعلم اس سے ہٹ کر کوئي اور نہ بنو۔جو مفتی اعظم میلاد جایز نہیں سمجھتا  وہ کل اپنے پیرو کے ساتھ جواب دیں گے۔اور جو جائز سمجھتا ہے وہ بھی کل اپنے پیرو کے ساتھ جواب دیں گے۔یہ صلح کے موضوعات ہیں لڑائي جگڑے کے نہیں۔

ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی کی ہدایت ٹی وی کے ساتھ گفتگو:

عیدمیلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ، ہفتہ وحدت اور جملہ مذہبی تقاریب منانا مسلمانوں کے طاقت کا مظہر ہے

نیوزنور:  قرآن کے الفاظ عوام کو سمجھنے کیلئے ہیں،اشارات خواص کو سمجھنے کیلئے ہیں،لطائف قرآن  اولیاء کو سمجھنے کیلئے ہیں اور حقائق انبیاء کو سمجھنے کیلئے ہیں۔اسلئے صرف مجتہد جامع الشرائط اور مفتی اعظم ہی اپنی تحقیق بیان کرنے کا جواز رکھتے ہیں جو کل روز قیامت جوابدہی کی صلاحیت رکھتے ہیں باقی کو ان کی رہنمائی میں چلنا ہے ۔کیونکہ مولا امیرالمؤمین علی علیہ السلام کے بقول : یا عالم بنو یا طالبعلم اس سے ہٹ کر کوئي اور نہ بنو۔جو مفتی اعظم میلاد جایز نہیں سمجھتا  وہ کل اپنے پیرو کے ساتھ جواب دیں گے۔اور جو جائز سمجھتا ہے وہ بھی کل اپنے پیرو کے ساتھ جواب دیں گے۔یہ صلح کے موضوعات ہیں لڑائي جگڑے کے نہیں۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنورکی رپورٹ کےمطابق لندن میں دائرہدایت ٹی کے "صبح ہدایت" پروگرام کے عالمی منظر  میں میزبان سید علی مصطفی موسوی نے بین الاقوامی تجزیہ نگار اور نیوزنور کےبانی چیف ایڈیٹر حجت الاسلام سید عبدالحسین موسوی[قلمی نام ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی] سےآنلاین مکالمے کے دوران " عید میلادالنبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ہفتہ وحدت " کے حوالے سے لیے گئے انٹرویو کو مندرجہ ذیل قارئين کے نذر کیا جا رہا ہے:

س) بارہ ربیع الاول سے سترہ ربیع الاول تک بحکم امام خمینی ہفتہ وحدت کا انعقاد  ہو رہا ہے، اس کے کیا سیاسی ثمرات ہیں؟

اَعُوذُ بِاللّهِ منَ الشّيطانِ الرَّجيم

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ؛

اللَّهُمَّ ‌و‌ أَنْطِقْنِي بِالْهُدَى ، ‌و‌ أَلْهِمْنِي التَّقْوَى ، ‌و‌ وَفِّقْنِي لِلَّتِي هِيَ أَزْكَى۔

اَللّهُمَّ اِنّی اَسئلُکَ وَاَتَوَجَّهُ الَیکَ بِنَبِیِّکَ نَبِیّ الرَّحمَةِ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللّهُ عَلَیهِ وَالِهِ یا اَبَاالقاسِم یا رَسوُلَ اللّهِ یا اِمامَ الرَّحمَةِ یا سَیِدَناوَ مَولانا اِنا تَوَجَّهنا وَستَشفَعنا وَ تَوَسَّلنا بِکَ اِلیَ اللّهِ وَ قَدَّمناکَ بَینَ یَدَی حاجاتِنا یا وَجیهاً عِندَاللّهِ اِشفَع لَنا عِندَاللّه۔

عید میلادالنبی خاتم الانبیاء والمرسلین حبیب الہ العالمین  بارگاہ خاتم الاوصیاي رسول اللہ قائم آل محمد امام المنتظر المہدی عجل اللہ تعالی فرجہ الشریف  کی خدمت میں اور آپ کے نائب ولی فقیہ امام خامنہ ای و جملہ مراجع عظام تقلید ، علمای اعلام ، حجج الاسلام ،مروجین دین مبین، مفتیان عظام،مسلمین و مسلمات کی خدمت میں دل کی عمیق گہرائيوں سے مبارکباد عرض کرتا ہوں۔

تاریخ میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حوالے سے اسلام کی دو تفاسیر شیعہ اور سنی کے درمیان دیگر کئي علمی مسائل کی طرح اختلاف ہے۔ سنی اسناد کے اعتبار سے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت 12 ربیع الاول کو ہو ئی اور شیعہ اسناد کے اعتبار سے آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ولادت 17 ربیع الاول کو ہوئی ہے۔

اور جب نیت خدائی ہو تو  ذرہ برابر تبدیلی کے بغیر بھی اختلاف  اتفاق میں بدل سکتا ہے۔ جس کی مثال ہفتہ وحدت کے عنوان  سے واضح ہو جاتی ہے۔

میں یہاں پر ولی فقیہ حضرت امام خامنہ ای کے تین اقوال نقل کرتا ہوں جو انہوں نے ایک 17/10/2011 دوسرا 21/02/2003 اور تیسرا 06/11/2000 میں بشرح ذیل بیان فرمایا ہے ۔( کہ جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کا انقلاب یونہی کامیاب نہیں ہوا وہ پہلے سے ہی اپنی خوبی اور خامیوں کو پرکھنے کی صلاحیت رکھتے تھے تبھی جاکے وہ منزل مقصود کو کامیابیوں کی منزلوں کی چوٹیوں کو سر کرتے ہمیں نظر آرہے ہیں ۔ وہ انقلاب سے پہلے کے بارے میں اس حوالے سے بات کرتے ہوئے بیان فرماتے ہیں کہ:

جلا وطنی کے زمانے میں سب سے پہلے ہفتہ وحدت کی تشکیل

"مسلمان قوموں کے درمیان اختلاف ڈالنے  کا دشمنوں کے پاس ہمیشہ کام آنے والا ہتھیار  شیعوں اور سنیوں کے درمیان مذہبی اختلاف  وغیرہ تھا۔جھگڑا کھڑا کرتے ہیں ، اختلاف پیدا کرتے ہیں ، بھائیوں کو ایک دوسرے سے لڑاتے ہیں  اختلافات کو بڑا کرتے ہیں  اجاگر کرتے ہیں اتحاد اور اشتراک کے موارد کو کمزور کرتے ہیں  ان کا رنگ پھیکا کرتے ہیں۔بات کا بتنگڑ بناتے ہیں اس کو نمایاں کرتے ہیں  اتنے سارے مشترکات جو شیعہ سنی کے درمیان ہیں  ان کو چھوٹا اور کمزور کرتے ہیں  یہ کام ہے جو ہمیشہ ہوا ہے اور آج بھی ہو رہا ہے۔

 جمہوری اسلامی پہلے روز سے ہی اس سازش کے سامنے ایستادہ ہے ؛وجہ یہ ہے کہ ہم کسی کا لحاظ نہیں کر رہے ہیں ،یہ ہمارا عقیدہ ہے  اسلامی نظام کی تشکیل سے پہلے  ہمارے بھائی ، تحریک کے بڑے افراد ،اس زمانے میں بڑے انقلابی مجاہد ،کہ ابھی جمہوری اسلامی اور حکومت اسلامی کا نام ونشان تک نہیں تھا،شیعہ سنی کے درمیان اتحاد کے لیے کوشاں تھے۔ میں خود بلوچستان میں جلا وطن تھا ۔ اس وقت سے لیکر آج تک  بلوچستان ، ایرانشھر ، چا بھار ، سراوان ،اور زاہدان کے سنی علماء کے ساتھ ان لوگوں کے ساتھ جو بحمد اللہ زندہ ہیں ہم دوست ہیں قریب ہیں اور صمیمی ہیں۔

میں وہاں جلا وطن تھا حکومت نہیں چاہتی تھی ہم وہاں کوئی جدوجہد کریں  اس کے با وجود ہم نے کہا : آو اس شھر میں شیعہ اتحاد کا مظاہرہ کریں، تب یہ ہفتہ وحدت  جو اہل سنت کی روایت کی بنا پر ۱۲ ربیع الاول   پیغمبر کی ولادت ہے اور شیعوں کی روایت کے مطابق ۱۷ ربیع الاول ہے  کا درمیانی ہفتہ ہمارے ذہن میں آیا  اور ایرانشھر میں ہم نے اس پر عمل کیا یعنی ۱۲ سے ۱۷ ربیع الاول تک ہم نے جشن منایا یہ ایک گہری فکر تھی جو آج اور کل کی فکر نہیں تھی ۔"

(یعنی یہاں اس پر امام خامنہ ای اس سیاسی ثمر کو بیان کرتے ہیں کہ جو ایک تال میل رہا مثلاً اس کے حاشیے میں یہ عرض کروں کہ جب آقائے خامنہ ای اس وقت انقلاب سے پہلے ایک سرگرم کارکن تھے تو انہوں نے امام خمینی ؒ کو جب سنی علاقوں میں اس تاثر کے بارے میں بتایا کہ نہیں وہ ہو نہ ہو اسی پہ وہ اسرار کرتے ہیں کہ آنحضور ؐ کی ولادت بارہ کو ہی ہوئی اس طرح ہم سترہ ربیع الاول پر تاثر رکھتے ہیں کہ نہیں سترہ  ربیع الاول کو ہی ہوئی  تو امام خمینی ؒ نے فرمایا کہ: اس میں جھگڑے کی تو بات ہی نہیں ہے کیا آنحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا یہ میلاد  پورے کا پورا ہفتہ ہم نہیں منا سکتے  ۱۲ سے ۱۷ تک۔ تو اس طرح یہ ہفتہ وحدت کے نام سے مشہور ہوگیا۔اور اسی حوالے سے دوسری جگہ امام خامنہ ای فرماتے ہیں:

  اسلامی اتحاد کی فکر کوئی زود گذر فکر نہیں ہے

"اسلامی اتحاد کی فکر کوئی تازہ یا زود گذر نہیں ہے بلکہ یہ ہمارے دل کی گہرائیوں سے اٹھتی ہے سنی اپنی جگہ پر سنی ہیں اور شیعہ بھی اپنی جگہ پر شیعہ ہیں دونوں کے اپنے عقائد اور اعمال ہیں اور کوئی دوسرے کو مجبور نہیں کرتا کہ تم میری طرح وضو کرو یا دوسرے اعمال انجام دو حقیقت یہ ہے کہ دونوں ایک خدا ایک قبلے ایک پیغمبر  ایک طرح کے مقاصد اور اقدار اور ایک اسلام کے معتقد ہیں ہم ان چیزوں کو کیوں بھول جائیں ؟!

  میں انہیں دنوں میں کہ جب جلا وطن تھا ۔آقائےمولوی قمر الدین جو یہاں بیٹھے ہیں ۔میں نے ان کو پیغام دیا ،میں خود ان کی مسجد میں گیا اور کہا کہ آئیے کہ ۱۷ ربیع الاول کے درمیان ۔کہ ہم شیعہ ۱۷ ربیع الاول کو پیغمبر کی ولادت کا دن مانتے ہیں اور جشن مناتے ہیں ۔اور ۱۲ ربیع الاول کو ۔کہ  آپ سنی حضرات پیغمبر کی ولادت کا دن مانتے ہیں ۔جشن منائیں ہم بھی جشن منائیں آپ بھی جشن منائیے ۔

اتفاق سے پہلے اور دوسرے دن ہی ایران شہر میں سیلاب آگیا جس نے ہر چیز کی بساط الٹ دی ہم لوگوں کی امداد کے کام میں جٹ گئے اور کچھ بھی نہیں کر سکے ان چیزوں پر آپ حضرات دھیان رکھیں  بہت خوب ، طبیعی ہے کہ ہر شخص اپنے عقائد کے احترام اور ان کی قدر و قیمت کا قائل ہے لیکن اگر زید اپنے عقیدے کا احترام کرتا ہے تو کیا اس کا لازمہ یہ ہے کہ وہ عمر و کے عقیدے کی اہانت کرتا ہے ؟!یا اگر عمرو اپنے عقیدے کا احترام کرتا ہے تو کیا اس کا لازمہ یہ ہے کہ وہ زید کی توہین کرتا ہے ؟!کیوں ؟! دشمن یہی چاہتا ہے اور یہ آگ عجیب ہے اگر بھڑک جائے۔ اس وقت آپ دیکھیں ہماری سر حد کے پڑوس میں ہی اختلاف اور تفرقہ کے ہاتھ شیعوں اور سنیوں کو بھڑکا رہے ہیں انہی اختلافات کی وجہ سے ایک دوسرے کو کافر فاسق اور اور ایسا ویسا مانتے ہیں اور قتل کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ میں ان چیزوں پر زور دیتا ہوں اور یہ بنیادی نکتہ ہے جی ہاں میں اپنے دوستوں اور عزیز علماء کا شکر گذار ہوں کہ جنہوں نے اس سلسلہ میں کو ششیں کی ہیں لیکن ان کو ششو ں کو مزید گہرا کریں اور دوستیوں میں گہرائی پیدا کریں ہر شخص اپنےمذہب پر ثابت قدم رہے علمی اور فکری بحثیں بھی اپنی جگہ پر محفوظ رہیں یہ بہت اچھا ہے اور اس میں کوئی مانع نہیں ہے لیکن اختلاف سے ہوشیار رہیں لوگوں پر نظر رکھیں اور دشمن پر نگاہ رکھیں ۔"

(یہ میں نہیں بلکہ امام خامنہ ای فرماتے ہیں۔جب ہی ایرانی مسلمان اس  اتحاد کی نفاست کو اور اس کی نزاکت کو اسلامی انقلاب کی بدولت سمجھ گئے ہیں تبھی ایران اتنا مقتدر نظر آتا ہے۔ اسی حوالے میں ایک اور قول پڑھ کے سناتا ہوں تاکہ بحث کھل کے آگے چل پڑے کہ امام خامنہ ای فرماتے ہیں:

   علماء نے ندائے وحدت کا مثبت جواب دیا

"انقلاب کے شروع میں سب سے پہلی جگہ کہ جہاں امام نے ایک جماعت بھیجی میرے خیال میں وہ بلو چستان تھی امام نے مجھے بلایا اور ایک حکم بھی لکھا کہ جس کو ریڈیو سے نشر کیا گیا میں ایک جماعت کے ساتھ چل پڑا اور بلوچستان پہونچا ۔مرحوم مولوی عبدالعزیز ساداتی ملا زھی اس وقت زندہ تھے میں گیا اور سراوان میں ان کے ساتھ ملاقات کی ۔

 غرض  علاقے کے بہت سارے دوست علماء تھے کہ جنہوں نے ندائے وحدت کا مثبت جواب دیا اس سے بڑھ کر کہیں خود ان کے دل میں حقیقت میں یہ ندا موجود تھی اسلامی اور ایرانی معاشرے کو اس اتحاد کا فائدہ ہوا انقلاب کے شروع میں کچھ ناپاک افراد کو استعمال کرتے ہوئے ایران شہر اور دوسرے مقامات پر کچھ لوگ چپقلشیں پیدا کرنے میں کامیاب ہوئے لیکن وہ اپنے مقصد تک نہیں پہونچ پائے اور جیسا اختلاف وہ چاہتے تھے خدا کا شکر ہے کہ وہ پیدا نہیں ہو ا۔

 میں خود اس سفر میں کہ جب میں ایران شہر پہونچا تو میں نے تمام قبیلوں کے سرداروں کو جمع کیا اور ایک جلسے میں ان کے ساتھ گفتگو کی تو میں نے ان سے کہا کہ نظام جمہوری اسلامی ایران پورے ملک میں واقعی عدل کو عملی جامہ پہنانا چاہتا ہے لہذا ظلم زور زبردستی اور امتیازی سلوک کو صوبوں اور ملک کے قبیلوں کے درمیان برداشت نہیں کرے گا اور آپ اس کام میں مدد کریں میں نے ان سے کہا کہ یہ نظام گذشتہ نظام سے کہیں زیادہ طاقت ور ہے چونکہ وہ نظام سیکیوریٹی اور جاسوسی اداروں اور ہتھیاروں پر اعتماد کرتا تھا لیکن یہ نظام لوگوں کے جذبات ان کے دلوں اور ان کی امنگوں پر بھروسا کرتا ہے ۔ "

تو یہاں دو پیغام ہمیں ملتے ہیں کہ آنحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی برکت سے ہم اُس طاقت کی طرف بڑھ رہے ہیں کہ جس کی بشارت ہمیں قرآن نے دی اور یہ تبھی ممکن ہے کہ جب ہم اس حقیقت کو سمجھیں نہ شیعہ کو سنی ہونا ہے اور نہ سنی کو شیعہ ہونا ہے ۔ اپنے عقائد پہ ڈٹے رہنا ہے مگر دوسرے کے عقائد کی توہین نہیں کرنی ہے۔ تو اگر ہم یہ سمجھنے میں کامیاب ہوئے جہاں جس طریقے سے ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایران ایک عظیم قوت بن کے ابھرا ہے وجہ یہی ہے کہ یہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیغام کو سمجھے ہیں ۔ آپ یہاں کے شیعہ کو دیکھئے یا سنی کو دیکھئے آپ حقیقت میں پائیں گے کہ یہ مسلمان ہیں۔ جو سنی ہے وہ متعصب سنی ہے اپنے عقیدے پر، جو شیعہ ہے وہ متعصب شیعہ ہے اپنے مذہب پر ، مگر آپ دیکھیں کہ ان میں کتنی مودت ہے ان میں ہر طرح سے جو اسلامی جو کہیں گے کہ ان میں مسلمانی رنگ ہے وہ حاکم ہے وہ دیکھنے کو ملتا ہے ۔ اسی سے اسلام کے دشمن ڈرتے ہیں ۔ وہ نہیں چاہتے ہیں کہ مسلمان ایسی طاقت بن کے ابھرے۔ اور اگر ہم عید میلاد النبی ؐ کی برکت سے اس بات کو سمجھیں کہ ہمارا نبی ایک ہے اور ہم اسی نبی کے امتی ہیں  کیونکہ ہمیں آنحضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے حضور کل جواب دینا ہے اس کیلئے اپنا عقیدہ ہے مگر اگر ہم اسلام کی بالادستی چاہتے ہیں اُس کیلئے ہمارا متحد ہونا متفق ہونا لازمی ہے۔

میلادمنانا جائز ہے یا ناجائز؟

س) میلاد کے سلسلے میں دشمن کی طرف سے جو میٹھا میٹھا زہر دیا جاتا ہے کہ میلاد تو کسی صحابہ نے نہیں منایا، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود اپنا نہیں منایا... ایسی باتیں کی جاتی ہیں ، اس بارے میں کیا کہیں گے آپ؟

ج)  میلاد منانا جائز ہے یا ناجائز ہے ۔یا کسی بھی مذہبی سوال کے جواب دینے کی ذمہ داری اس ہر مسلک کے اپنے امام کا ہے کیونکہ ہر کوئی کل قیامت کے دن اپنے اپنے امام کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ سورہ الإسراء آیه:71میں ارشاد ہوا ہے:

یوْمَ نَدْعُو كُلَّ أُنَاسٍ بِإِمَامِهِمْ

اور اللہ نے جہاں قرآن بھیجا وہاں قرآن کو سمجھنے کا طریقہ بھی سیکھایا۔ سورہ انبیاء آیت 50 میں فرمایا :

وَهَذَا ذِكْرٌ مُبَارَكٌ

یعنی قرآن ذکر ہے ۔

اور سورہ غاشیہ آیت 21میں فرمایا:

إِنَّمَا أَنْتَ مُذَكِّرٌ

اے میرے حبیب تمہے اس ذکر کو بیان کرنا ہے۔

یعنی ہدایت کی بات وہی کرنے کا حق رکھتا ہے جس کی تائيد خدا کرے۔گویا ہدایت  اور ہدایت کرنے والا دونوں ایکدوسرے کی تکمیل ہو۔

اور قرآن کے الفاظ عوام کو سمجھنے کیلئے ہیں۔اشارات خواص کو سمجھنے کیلئے ہیں،لطائف قرآن  اولیاء کو سمجھنے کیلئے ہیں،اور حقائق انبیاء کو سمجھنے کیلئے ہیں۔

اسلئے صرف مجتہد جامع الشرائط اور مفتی اعظم ہی اپنی تحقیق بیان کرنے کا جواز رکھتے ہیں جو کل روز قیامت جوابدہی کی صلاحیت رکھتے ہیں باقی کو ان کی رہنمائی میں چلنا ہے ۔کیونکہ مولا امیرالمؤمین علی علیہ السلام کے بقول : یا عالم بنو یا طالبعلم اس سے ہٹ کر کوئي اور نہ بنو۔

جو مفتی اعظم میلاد جایز نہیں سمجھتا  وہ کل اپنے پیرو کے ساتھ جواب دیں گے۔اور جو جائز سمجھتا ہے وہ بھی کل اپنے پیرو کے ساتھ جواب دیں گے۔یہ صلح کے موضوعات ہیں لڑائي جگڑے کے نہیں۔

کیونکہ ہر کسی کو اپنے امام کے ساتھ ہی محشور کیا جائے گا۔ ہر کسی کو اپنے نقطہ نظر بیان کرنے کا حق ضرور ہے  مگر موضوع دیکھنا لازمی ہے جس طرح قرآن کا ادبیات ہے جہاں پر ’’یا ایھا الناس ‘‘ کہا گیا ہے پتہ چلتا ہے کہ مخاطب کون ہے اور جہاں پر ’’یا ایھا الذین آمنو‘‘ کہا گیا ہے پتہ چلا کہ مخاطب کون ہے ، جہاں پر کہا گیا  کہ ’’یا ایھا الرسول‘‘ وہاں پر پتہ چلا کہ مخاطب کون ہے۔ مخاطب دیکھنا لازمی ہے کہ آپ اپنے عقائد کے جو کوئی اپنے عقائد کی بات کرتا ہے اس کا قطعی یہ معنیٰ نہیں نکالنا چاہئے کہ وہ دوسرے مکتب کی توہین ہوتی ہے ہاں  جہاں پر  بلا فاصلہ توہین کی جائے تو اس کی قطعی اجازت نا دیں ۔ جوان  ایسے مبلغین کا  استقبال نہ کریں جو دوسرے کے عقائد کی توہین کرتے ہوں۔

س) ٹھیک ہے یہ بات تو سمجھ میں آتی ہے مگر کیا اس کو عقائد کہا جائے گا یا یہ کسی کو صرف شرارت کی بنیاد پر ہوتا  ہے؟

ج) یہ ہمارے معاشرے میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو نکال باہر کرنا چاہتے ہیں ۔ یہ تو اول سے ہی اسلام دشمن طاقتوں کی کوشش رہی تھی۔ جب یزید نے امام زین العابدین (علیہ السلام) سے کہا کہ وہاں(کربلا میں) کون جیتا کون ہارا؟ کہا کہ: ٹھہرو نماز کا وقت ہوجائے گا وہاں  پتہ چلے گا کہ (کربلا میں )کس نے جیتا۔ تو وہ پہلے سمجھا نہیں ،تو جب اذان ہوگئی تو "اشھد انّ محمد رسول اللہؐ" کی صدا گونجی۔ تو کہا: یہ ہے  کہ کس نے جیتا ۔ یعنی کربلا اس لئے وجود میں آیا  کہ "اشھد انّ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)" زندہ رہے۔ اور یہ لوگ میلاد نا منائیں، شہادت نا منائیں کیوں کہتے ہیں؟ ۔ کیونکہ میلاد میں ہم کیا کرینگے؟ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بات کرینگے ، شہادت میں کیا بات کرینگے شہادت کی بات کرینگے ۔ اور یہ ولادت اور شہادت جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی  بیان نہ ہو تو لوگ غافل ہوں گے ۔

میلاد و شہادت منانا اصلاح کا سبب اور اتحاد کا مظاہرہ

 آپ اگر دیکھیں گے کہ ہمارے معاشرے میں الحمد اللہ مکتب اہلبیت ؑ میں اسی شہادت کی برکت سے اگر کسی بچے کو بھی دیکھیں گے کہ اگر وہ خدا نخواستہ سال بھر غفلت میں رہے گا مگر جب وہ عزاداری کی محفل میں آتا ہے وہ خود اعتراف کرتا ہے کہ میری اصلاح ہوگئی ۔ میلاد منانا اصلاح کا وسیلہ ہے اور دشمن نہیں چاہتا ہے کہ اصلاح ہوجائے ۔ عزاداری اصلاح کا وسیلہ ہے مگر دشمن نہیں چاہتا ہے کہ اصلاح ہوجائے معاشرے میں ۔  اسلئے یہ ولادت اور شہادت کو منانے کیلئے بہانہ بناتے ہیں کہ اس میں روک پیدا کریں تاکہ مسلمان اسلام کی اصالت سے خالی ہوجائے ، ان کا مکتب نہ رہے، ان کا درس نہ رہے کہ جس میں ولادت اور شہادت قرآن کی روشنی میں ، رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت کی روشنی میں بیان کیا جائے۔ تو ہر زمانے نے ثابت کردکھایا کہ اس ولادت اور شہادت کے جذبے سے منعقد ہونے والی تقاریب سے ہی مسلمانوں نے دین کا دفاع کیا ہے وفا کیا ہے اس سے دشمن کے منصوبے ناکام ہوگئے ہیں۔

آپ دیکھیں کہ ان اہلسنت بھائیوں میں جمعے کو کس طرح تقسیم کیا گیا ،کیونکہ پوری تاریخ میں اہلسنت نے ہی حکومت کی ہے شیعوں کی تو  مولا امیر المومنین (علیہ السلام) کے بعد ابھی بااصطلاح  ولایت فقیہ کے عنوان سے شیعہ حکومت وجود میں آئی۔ مگر اہلسنت کا حکومت کرنے کا سلسلہ تو رکا ہی نہیں  اور  ان کے درمیان جو ہماری سیاسی عبادت نماز جمعہ ہے  دیکھئے اسے کس طرح بکھر کر ررکھدیا  کہ آپ ہر نماز کی طرح نماز جمعہ کو بھی  ہر محلے میں پڑھ سکتے ہیں وغیرہ، مگر شیعوں کے درمیان ایسا نہیں وہی بنیادی حکم ہے کہ ہرشہر میں ایک ہی جمعہ ہونا چاہئے۔ تو وہاں پر بھی ان کے صفوں میں اہلسنت صفوں کو کاٹنے کیلئے  اب دشمنوں نے اُن کو جمعہ سے دور رکھنے کی کوشش  شروع کی  ہے اور بہت سارے جمعہ ہوگئے ہیں۔ اب جب شیعوں کے درمیان  سیاسی طاقت بھی آگئی اب شیعہ جمعہ کو زیر سوال لانے کی کوشش کی جاتی ہے ایسی شازشیں ہیں  اب شیعوں کے درمیان بھی رچی جاتی ہے اور سنیوں کے درمیان بھی رچی جاتی ہے ۔

ایسے میں آج کل کے زمانے میں نئی پود،نئی نسل کو ان چیزوں کو پرکھنا چاہئے کہ جو کچھ ہم کررہے ہیں اس سے ہم کس کے مقاصد کو پورا کرتے ہیں ۔ اگر کوئی عالم نما شخص ہے وہ اگر کوئی بات کرتا ہے اس کا آوٹ پُٹ کیا ہے رزلٹ کیا ہے  اس کا کیا نتیجہ ہے۔اسے سمجھیں، تو اگر یہ بات جوان سمجھنے میں کامیاب ہوگئے تو اس کو آرام سے یہ سمجھ میں آجائے گا کہ یہ کہنے والا جو تعصب کی باتیں کررہا ہے کیا یہ شعوری یا غیر شعوری طور پر دین کی خدمت کرتا ہے یا دین کے دشمن کی خدمت کرتا ہے۔

بہت شکر گذار ہیں بہت ہی  عمدہ ،ماشاء اللہ ، بہت مشکور ہیں بہت ممنون ہیں کہ آپ نے اپنا قیمتی وقت بہترین موضوع کے تحت ہدایت ٹی وی کو دیا۔ والسلام علیکم ورحمۃ اللہ                                                                                                            

©2011 . all rights reserved**