پيشنهاد سردبير

سایت شخصی ابوفاطمہ موسوی عبدالحسینی

جستجو

ممتاز عناوین

بایگانی

پربازديدها

تازہ ترین تبصرے

۰

مسلح افواج سیاسی دڑ بندیوں سے خود کو پاک رکھیں

 اردو مقالات انقلاب اسلامی ایران مذھبی سیاسی محضر امام خمینی رہ

 امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کا الہی سیاسی وصیت نامہ /قسط13

مسلح افواج سیاسی دڑ بندیوں سے خود کو پاک رکھیں

نیوزنور: امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کا الہی سیاسی وصیت نامہ /قسط13/ مسلح افواج سیاسی دڑ بندیوں سے خود کو پاک رکھیں/  ان آخری لمحات میں مسلح افواج سے بالعموم میری برادرانہ وصیت یہ ہے کہ اے عزیزو!تم جو اسلام کے عاشق ہو اور لقاء اللہ کے عشق کے ساتھ سرحدوں پر اور  ملک بھر میں فداکاری  کے ساتھ اپنے ارزشمند کام کو انجام دے رہے ہو، بیدار رہیں اورہوشیار کیونکہ سیاسی کھلاڑی اور مغرب ومشرق نواز پیشہ ور سیاستداں اور پردے کے پیچھے جنایتکاروں کے خفیہ ہاتھوں میں انکی خیانت اور جنایتکاریوں کے تیزدھار اسلحوں کا رخ ہر طرف اور ہر گروہ سے زیادہ آپ عزیزوں کی جانب ہے۔

عالمی اردو خبررساں ادارے نیوزنور ؛گذشتہ سے پیوست امام خمینی رضوان اللہ تعالی علیہ کے الہی سیاسی وصیت نامے کی  تیرہویں قسط اگلے سے پیوست ملاحظہ فرمائیں:

مسلح افواج کی طرف خصوصی توجہ کی ضرورت

ل:

فوج،سپاہ ،ژاندارمری(مضافاتی پولیس) اور شہربانی(شہری پولیس)سے لے کر انقلابی کمیٹیاں ،بسیج اور عشائر تک مسلح افواج مخصوص اہمیت رکھتی ہیں۔یہ اسلامی جمہوریہ کے طاقتور اور مضبوط بازو   اور سرحدوں کے نگہبان  اور راستوں ، شہروں اور دیہاتوں کے محافظ ہیں اور  بہرحال یہ امن و سلامتی کو یقینی بنانے اور ملت کیلئےباعث اطمینان ہیں،اسلئے  ملت ، حکومت اور  مجلس (پارلمنٹ) کو ان کا خاص خیال رکھنا چاہئے۔ اور انہیں اس بات کو مدنظر رکھنا چاہئے کہ دنیا میں  بڑی  طاقتوں اور تخریبی سیاستوں سے فائدہ اٹھانے کیلئے  سب سے زیادہ جس گروہ سے  کام لیا جاتا ہے وہ مسلح افواج ہے۔مسلح افواج ہی ہے کہ جو سیاسی کھیل سے بغاوتوں  ، حکومتوں کی تبدیلی اور  اقتدار کا تختہ پلٹنے کا کام انجام دیتے ہیں؛اور دغل باز سود جو ان کے بعض سربراہوں کو خریدتے ہیں اوران کے ذریعے اور فریب خوردہ کمانڈروں کے ذریعے ملکوں کو ہاتھ میں لیتے ہیں،اور مظلوم اقوام پر اپنا تسلط جماتے ہیں اور ملکوں کی آزادی و خودمختاری سلب کرلیتے ہیں۔ اور اگر  قیادت پاکدامن کمانڈروں کے ہاتھوں ہو تو ممالک کے دشمنوں  کی طرف سے بغاوت یا ملک پرقبضہ کرنے کا امکان کبھی بھی پیش نہیں آ سکتا اور اگر پیش بھی آئے تو  متعہد کمانڈروں کے ہاتھوں ناکام ہو کےرہ جائے گا  ۔ اور ایران میں بھی اس دور کا یہ معجزہ  ملت کے ہاتھوں انجام پایا ہے، جس میں متعہدمسلح افواج اور  ملک دوست پاکدامن کمانڈروں کا کردار عمدہ رہا ہے۔

اور آج جبکہ امریکہ اور دوسری طاقتوں کے حکم اور مدد سے صدام تکریتی کے ذریعے مسلط کردہ لعنتی  جنگ میں تقریبا دو سال بعد جارح بعثی فوج اس کے طاقتور حامیوں اور ان کے زر خریدوں کو سیاسی اور فوجی شکست کا سامنا ہے، ایک بار پھر مسلح افواج ،نظامی و انتظامی، سپاہی اور عوامی فوج نے سرحدوں اور محاذوں پر ملت کی بے دریغ حمایت سے اس بڑے افتخار  کو سر کرلیا اور ایران کو سربلند کردیا؛ اور اسی طرح ملک کے اندر  شرارتوں اور سازشوں کہ جو مغرب او ر مشرق  کے ہاتھوں بنے کھلونوں کی طرف سے اسلامی جمہوریہ  کو ختم کرنے کیلئے متحرک  کیا گیا تھا کو انقلابی کمیٹیوں، پاسداران بسیج اور پولیس جوانوں کے طاقتور ہاتھوں اور غیرتمند ملت کی مدد سےکچلا گیا۔یہی فداکار عزیز جوان ہیں جو راتوں کو بیدار رہتے ہیں تاکہ کنبے کے افراد اپنے گھروں میں آرام سے سوئیں ۔ خدا ان کا ناصر و مددگارر ہے۔

مسلح افواج کی پارٹی بازی سے گریز کرنے کی ضرورت

لہذا عمر کے ان آخری لمحات میں مسلح افواج سے بالعموم میری برادرانہ وصیت یہ ہے کہ اے عزیزو!تم جو اسلام کے عاشق ہو اور لقاء اللہ کے عشق کے ساتھ سرحدوں پر اور  ملک بھر میں فداکاری  کے ساتھ اپنے ارزشمند کام کو انجام دے رہے ہو، بیدار رہیں اورہوشیار کیونکہ سیاسی کھلاڑی اور مغرب ومشرق نواز پیشہ ور سیاستداں اور پردے کے پیچھے جنایتکاروں کے خفیہ ہاتھوں میں انکی خیانت اور جنایتکاریوں کے تیزدھار اسلحوں کا رخ ہر طرف اور ہر گروہ سے زیادہ آپ عزیزوں کی جانب ہے؛اور وہ چاہتے ہیں کہ آپ عزیزوں سے کہ جنہوں نے  اپنی جانفشانی کے ساتھ انقلاب کو کامیاب اور اسلام کو زندہ  کردیا  استعمال کرکے اسلامی جمہوریہ کا اکھاڑ پھینکیں؛اور آپ کو اسلام  اور قوم و ملت کی خدمت  کے نام پر اسلام اور ملت سے الگ کرکے دو جہانخوار  قطبوں کی جھولی میں ڈال دیں،اور آپ کی زحمتوں اور فداکاریوں پر سیاسی مکاری کے ساتھ اور بظاہر اسلامی اور ملی صورت میں اسکا خاتمہ کر دیں گے۔

میری تاکیدی وصیت مسلح افواج سے یہ ہے کہ جس طرح  سیاسی پارٹیوں، دڑہ بازیوں اور جماعتوں میں فوج کی عدم مداخلت فوجی قواعد و ضوابط میں سے ہے اس پر عمل پیرا رہیں؛ مسلح افواج مطلقا،نظامی ہوں یا انتظامی ،پاسدارو بسیج وغیرہ  کوئی بھی کسی بھی سیاسی جماعت یا دڑے میں شامل نہ ہوں اور خود کو سیاسی کھیل سے دور رکھیں۔اس طرح اپنی فوجی طاقت کی حفاظت  اور پارٹیوں کے داخلی اختلافات سے محفوظ رہ سکتے ہو۔ اور کمانڈروں پر لازم ہے کہ اپنے زیر کمان افراد کو  سیاسی پارٹیوں میں شامل ہونے سے روکیں۔ اور چونکہ اس انقلاب کا تعلق پوری ملت سے ہے  اور اسکی حفاظت سب کو کرنی ہے،حکومت و ملت،شورای دفاع اورمجلس شورای اسلامی کا شرعی اور وطنی وظیفہ ہے کہ  اگر مسلح افواج  کے اعلی کمانڈر ہوں یابڑے درجے یا نیچے درجے کے  کمانڈر اسلام اور ملکی صوابدید کے خلاف کوئی کام انجام دینا چاہیں گے یا سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کرنا  چاہیں گے- جوکہ یقینی طور پر نقصاندہ - اور یا سیاسی کھیل میں کودنا چاہیں گے، پہلے ہی مرحلے میں ان کی مخالفت کریں۔اور رہبر اور شورای رہبری کو چاہئے کہ سختی کے ساتھ اس کا روک تھام کریں تاکہ ملک نقصان سے محفوظ رہے۔

سائنس اور ٹیکنالوجی کی صنعت میں خود کفائی حاصل کرنے کی ضرورت

اور اس خاکی زندگی کے آخری ایام میں جملہ مسلح افواج سے میری مشفقانہ وصیت ہے کہ اسلام جوکہ خودمختاری اور حریت پسندی کا اکلوتا مکتب ہے اور خداوند متعال اس کے نور ہدایت کے ذریعے سے سب کو اعلی انسانی اقدار کی طرف دعوت دیتا ہے ،چنانچہ آج آپ اس کے وفادار ہیں،تو اس وفاداری میں ثابت قدم رہیں کیونکہ یہ آپ کو اور آپ کے ملک و ملت کو ان  طاقتوں کی وابستگیوں اور پیوستگیوں کی ذلت سے نجات دلاتا ہے جو آپ سب کو  اپنا  غلام بنانے  کےسوا اور کچھ نہیں چاہتے ہیں اور آپ کے اپنے عزیز ملک و ملت کو پسماندہ رکھ کر  اور آپکے ملک کو اشیائے صارفین کا بازار  تک محدوداور ستم پذیری کی ذلت بار سایے میں رکھنا چاہتے ہیں سے نجات دلاتا ہے،اور   آپ کوبا وقار انسانی زندگی گذارنے ہر چند غیروں کی ذلت بار غلامی  اور حیوانی رفاہ کے مقابلے میں سختیوں کے ساتھ ہونے کو ترجیح دیں؛ اور آپ کو جان لینا چاہئے  جب تک ترقی یافتہ صنعتی ضرورتوں کیلئے دوسروں کے سامنے اپنا ہاتھ پھیلاتے رہیں گے اور زندگی گذارنے کی بھیک مانگتے رہیں گے آپ میں ایجادات و اختراعات اور پیش رفت  کی صلاحیت پیدا نہیں ہوگی۔اور آپ نے اچھی طرح  عملی طور پر دیکھا کہ اقتصادی ناکہ بندی کے بعد اس تھوڑے سے عرصے میں وہی لوگ جو ہر چیز بنانے سے خود کو عاجز سمجھتے تھے اورانہیں کارخانے چلانے سے مایوس کیا جارہا تھا نے اپنی فکر و صلاحیت کو استعمال میں لاکرافواج کی اور کارخانوں کی بہت سی ضروریات کو پورا کردیا۔اور یہ جنگ  ، اقتصادی  پابندیاں اور غیر ملکی ماہرین کا اخراج  ایک الہی تحفہ تھا جس سے ہم غافل تھے ۔ آج اگر حکومت اور فوج خود ہی عالمی لٹیروں کی مصنوعات کا بائیکاٹ کریں اور خلاقیت و ابتکار کی راہ میں تلاش و کوشش جاری رکھیں ، امید ہے کہ ملک خود کفیل ہو جائے گا اور دشمن کے آگے ہاتھ پھیلانے سے نجات حاصل ہو سکے گی۔

اور یہاں پر  یہ بھی اضافہ کروں کہ اس پوری مصنوعی پسماندگی  کے باوجود ہمیں غیرملکوں کی بڑی صنعتوں کی ضرورت ہے جو غیر قابل انکار حقیقت ہے۔ اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہمیں پیشرفتہ سائنس میں دو قطبوں میں سے کسی ایک سے وابستہ ہو جائیں۔ حکومت اور فوج کو چاہئے کہ متعہد طالبعلموں کو ان ممالک میں بھیجیں جو ترقی یافتہ بڑی صنعتوں کے مالک تو ہیں لیکن استعمار و استحصال کے خو گر نہیں ہیں اور امریکہ ، سویت یونین یا ان دیگر ممالک میں جو ان دو بلاکوں کے راستے پر ہیں طالب علم بھیجنے سے پرہیز کریں، مگر یہ کہ ان شاءاللہ ایک دن ایسا آجائے یہ دونوں طاقتیں اپنی غلطی کی طرف متوجہ ہوں اور انسانیت ، انسان دوستی ، نیز دوسروں کے حقوق کے احترام کا راستہ اختیار کرلیں؛ یا ان شاءاللہ مستضعفین عالم، بیدار قومیں اور متعہد مسلمین انہیں انکی اوقات بتادیں ۔ ایسے دن کا انتظار ہے ۔


تبصرے (۰)
ابھی کوئی تبصرہ درج نہیں ہوا ہے

اپنا تبصرہ ارسال کریں

ارسال نظر آزاد است، اما اگر قبلا در بیان ثبت نام کرده اید می توانید ابتدا وارد شوید.
شما میتوانید از این تگهای html استفاده کنید:
<b> یا <strong>، <em> یا <i>، <u>، <strike> یا <s>، <sup>، <sub>، <blockquote>، <code>، <pre>، <hr>، <br>، <p>، <a href="" title="">، <span style="">، <div align="">
تجدید کد امنیتی